- الإعلانات -

بھارت کی جارحانہ پالیسیاں خطے میں امن کےلئے خطرہ

پوری دنیا اس وقت کورونا وائرس کے خلاف نبردآزما ہے ،یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایسی وباء ہے جس کامقابلہ کرنا انسان کے بس کی بات نہیں البتہ اگر اللہ رب العزت چاہے اور وہ انسان کے کرتوتوں کومعاف فرمائے تب وہ ہی اس وباء کو ختم کرنے پرقادرمطلق ہے ، مگر انسان اس زمین پرناخدابن بیٹھا ہے ،وہ یہ سمجھتا ہے کہ سب کچھ اس کے ہاتھ میں ہے ،ایک طرف پوری دنیا اوردوسری طرف بھارتی چیرہ دستیاں ۔ نامعلوم ایسی کون سی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے پوری دنیانے نریندرمودی کی دہشت گردیوں پرآنکھیں موندرکھی ہیں ، پاکستان ہرموقع پربین الاقوامی برادری کے ضمیر کوجھنجھوڑتارہتاہے چاہے وہ اقوام متحدہ کا اجلاس ہو، چاہے ٹرمپ وزیراعظم ملاقات ہو، چاہے سارک کاپلیٹ فارم ہو،چاہے دنیا کے کسی بھی ہم منصب سے وزیراعظم کی ملاقات ہو،ہرلمحے اورہرموقع پرمسئلہ کشمیرسرفہرست ایجنڈا ہوتا ہے ۔ گوکہ دنیا تسلیم کرتی ہے کہ کشمیریوں کو اُن کاحق ملناچاہیے لیکن اس تمام کے باوجود کہیں پربھی عملی اقدامات نہیں دکھائی دیتے ۔ یہی اس دنیا کاسب سے بڑاظلم ہے وادی میں نہتے کشمیریوں کی زندگی کوبھارتی قابض فوج نے اجیرن بناکے رکھاہواہے ۔ تمام بنیادی سہولیات ناپیدکردی گئی ہیں ،زمین کوبے گناہ انسانی خون سے رنگین کیاجارہاہے ،کسی ماں بہن بیٹی کی عزت محفوظ نہیں ، کسی جوان کی زندگی محفوظ نہیں ، کسی بزرگ کی حرمت محفوظ نہیں ۔ بھارتی فوج نے ریاض احمدنیکوسمیت متعدد نہتے کشمیریوں کوشہید کردیا ۔ رمضان المبارک کے مہینے میں یہ خون کی ندیاں بہاناسراسرظلم کے مترادف ہے لیکن پھربھی دنیاتماشائی بنی ہوئی ہے ۔ وزیراعظم عمران خان ہرموقع پراپنافرض نبھارہے ہیں انہوں نے پھرٹوئیٹ کے ذریعے دنیا کی توجہ بھارتی ظلم کی طرف دلاتے ہوئے کہاکہ بھارت حملے کے بہانے ڈھونڈ رہا ہے ، پاکستان پر الزام تراشی اور کنٹرول لائن پر فائرنگ اسی لئے ہے، ، مقبوضہ کشمیرکی تحریک مزاحمت بھارتی قبضے اور عوام پر ظلم و بربریت کا براہ راست نتیجہ ہے، عالمی برادری بے عملی ترک کرکے کارروائی کرے، آر ایس ایس اور بی جے پی کی مشترکہ حکمت عملی اور بھارت کی جارحانہ پالیسیاں خطے کے امن اور سلامتی کو تباہ کرسکتی ہیں ، بھارت کی فاشسٹ پالیسیاں سنگین خطرات پر مبنی ہیں ، کشمیریوں کی تحریک مزاحمت ہندوستانی قبضہ اور کشمیریوں پر ظلم و بربریت کا براہ راست نتیجہ ہے،بین الاقوامی برادری کو بھارت کی غیرذمہ دارانہ چالوں سے قبل جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی کو خطرے میں ڈالنے سے قبل مداخلت کرنا چاہئے، میں دنیا کو بھارت کے فالس فلیگ بھارتی جعلی آپریشن کے بہانے سے متعلق متنبہ کررہاہوں ،بھارتی جارحانہ چالیں خطے کے امن و سلامتی کو تباہ کر سکتی ہیں ۔ عالمی برادری کو بھارتی جارحیت سے پہلے نوٹس لینا ہوگا، کشمیریوں کی تحریک مقامی اور بھارت کے ظالمانہ اقدامات کیخلاف ہے،بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن پردراندازی کے الزامات بے بنیاد ہیں ،دراندازی کے حالیہ الزامات بھارت کے خطرناک ایجنڈے کا حصہ ہیں ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان سے ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلی جنس( آئی ایس آئی) لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے ملاقات کی جس میں قومی سلامتی سے متعلقہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان سے وفاقی وزیربرائے بحری امور علی زیدی ، معاون خصوصی نیشنل سیکورٹی ڈویژن ڈاکٹر معید یوسف ، چیئرمین حبیب بینک سلطان علی الانہ ، ایم ڈی پی ایس او سید محمد طحہ اور چیئرمین بورڈ پی ایس او ظفر اسلام عثمانی نے ملاقاتیں کیں ۔ چیئرمین حبیب بینک سلطان علی الانہ نے وزیراعظم کو کورونا وائرس کی صورتحال کے تناظر میں عوام الناس کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے موجودہ حکومت کی جانب سے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا معاشی پیکیج دینے پر خراج تحسین پیش کیا ۔ حکومت پوری طرح کوشاں ہے کہ اس لاک ڈاءون کے حالات سے کسی نہ کسی طرح نمٹاجاسکے اوراسی کو پیش نظررکھتے ہوئے عوام کے لئے تاریخی معاشی پیکج کا اعلان بھی کیاگیا ۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ یہ پیکج صاف اورشفا ف اندازسے مستحقین تک پہنچے تب ہی اس کے ثمرات حاصل ہوسکیں گے ۔

سی پیک،پاکستان کی ترقی کاضامن

پاک چین دوستی کے لئے سی پیک ایک ایساتحفہ ہے جس سے پاکستان کی معیشت دن دگنی رات چوگنی ترقی کی راہ پرگامزن ہوگی اوراس سلسلے میں معاون خصوصی برائے اطلاعات اورچیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کی خدمات گراقدرہیں انہوں نے اس حوالے سے کہاکہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ ایک حقیقت ہے، اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے،سی پیک قومی منصوبہ ہے، اس کا دوسرا مرحلہ نہایت اہم اور جلد شروع ہوگا ۔ چاروں صوبوں میں اقتصادی زونز فعال کرنا ترجیح ہے ۔ پاکستانی طلبہ کیلئے بڑی خوشخبری پر کام ہو رہا ہے، 20 ہزار سکالرشپس پر چین جائینگے جس کا اعلان جلد کیاجائے گا،گوادر کی ترقی کے منصوبے بھی دوسرے مرحلے میں شامل ہیں ۔ پاک، چین مشترکہ تعاون کمیٹی کا اجلاس جلد منعقد ہوگا ۔ سی پیک کے تحت تمام خصوصی اقتصادی زونز پر کام تیزی سے جاری ہے ۔ فصلوں کو بیماریوں سے مقابلے کے قابل بنانے کیلئے بیجوں کا معیار بہتر بنایا جائے گا ۔ اس کے علاوہ پاکستانی طلبہ کےلئے سی پیک میں بڑی خوشخبری پر کام ہو رہا ہے ۔ 20 ہزار پاکستانی طلبہ سکالرشپس پر چین جائیں گے، اس منصوبے پر بہت پیش فت ہو چکی، جلد اعلان ہوگا،وزارت اطلاعات اور میڈیا میں بہتری لانے کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے بھرپور کوششیں کروں گا ۔ خنجراب سے گوادر تک کے دونوں روٹس کی تیز رفتار تکمیل کےلئے منصوبہ بندی کر لی ہے ۔ آنے والے چند ماہ میں رہ جانے والے حصوں کی سڑکوں کی تعمیر کے بڑے منصوبے شامل ہیں ۔ منصوبے کے دوسرے مرحلے میں زرعی، صنعتی، تجارتی، سائنس اور ٹیکنالوجی شعبوں پر توجہ مرکوز ہے ۔ سی پیک کامنصوبہ زندگی کے دیگرشعبہ ہائے جات کے حوالے سے بھی انتہائی اہمیت کاحامل ہے اوراس سلسلے میں بھی انتہائی اہم اورکلیدی کرداراداکرے گا ۔ معیشت کے ساتھ ساتھ تکنیکی ترقی کو بھی ملحوظ خاطررکھاگیاہے ۔

ایس کے نیازی نے2010ء میں ہی اٹھارہویں ترمیم چیلنج کردی تھی

پاکستان گروپ آف نیوزپیپرز کے چیف ایڈیٹراورروزنیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے2010ء میں ہی 18ویں ترمیم کوسپریم کورٹ میں چیلنج کردیاتھا اوراس سلسلے میں سترہ رکنی بنچ کے سامنے متعددبار اِن پرسن بھی پیش ہوتے رہے،ان کی درخواست بھی منظورکرلی گئی تھی، آج دس سال بعد ان کاموقف درست ثابت ہوا اوریہی ایک کہنہ مشق صحافی کی پہچان ہے کہ اس کا آنیوالے وقت کی نبض پرہاتھ ہوتاہے اورایس کے نیازی اس خاصے سے لبریز ہیں انہوں نے ہمیشہ ہی بروقت اورقبل ازوقت اپنے قارئین اورناظرین سمیت حکومتی ایوانوں کوبھی آگاہی سے روشناس کرایا ۔ سپریم کورٹ ;200;ف پاکستان میں درخواست دائرکی گئی جس کامتن تھا کہ18ویں ترمیم عوامی مفادکےخلاف ہے،18ویں ترمیم کے بعد وفاق کمزور ہوا ہے، قومی مفاد میں 18ویں ترمیم کوکالعدم قراردیاجائے ۔ ایس کے نیازی نے عوامی ،ملکی مفاد میں متعددبارعدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹاتے رہتے ہیں ،ایس کے نیازی متعدد بارعوام کی خاطرعدالت ;200;تے رہتے ہیں ۔ سابق چیف جسٹس افتخارمحمدچوہدری نے ایس کے نیازی کی سماجی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا ۔ دوسری جانب چیئرمین پبلک اکاوَنٹس کمیٹی رانا تنویرنے پروگرام’’سچی بات‘‘ میں ایس کے نیازی کے موقف کی تائیدکردی ،انہوں نے کہاکہ ایس کے نیازی صاحب 18ویں ترمیم پراچھے پروگرام کررہے ہیں ،ایس کے نیازی صاحب18ویں ترمیم پرمزیدپروگرام کریں ،اخبارات میں ایشو کو اٹھائیں ۔ ماہرقانون عارف چوہدری نے پروگرام سچی بات میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ ایس کے نیازی صاحب قوم کے سفیر ہیں ، 18ویں ترمیم کے بعدوفاق اورصوبے ایک پیج پرنہیں ۔ ایس کے نیازی نے 10 سال پہلے ملکی،قومی مفادکیلئے آوازاٹھائی ۔ قوم 10سال بعدایس کے نیازی کے موقف کی تائیدکررہی ہے ۔