- الإعلانات -

سپرے پالیسی پر عمل کیا جائے

لکھنا تو میں نے لاک ڈاءون میں نرمی کے بعد بازاروں ،مارکیٹوں میں خریداروں کے بے ہنگم رش کے بارے تھا کہ کس طرح ہمارے بہادر اور بے خوف عوام ہر قسم کی پابند یوں اور حفاظتی تدابیر کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کچھ اس طرح سے خریداریوں میں مصروف ہیں کہ جیسے ہر چیز مفت مل رہی ہو لیکن روزنامہ پاکستان اسلام آباد کے صفحہ اول کی ایک تین کالمی خبر نے مجھے اپنی طرف متوجہ کر لیا کہ جس میں روز نیوز کے ہر دلعزیز پروگرام سچی بات ایس کے نیازی کے ساتھ کو بنیاد بناتے ہوئے اپنے مشورہ گریز حکمرانوں کو بتانے بلکہ سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ لاک ڈاءون کی وجہ سے جہاں دیگر کمزور طبقے شدید مالی مشکلات کا شکار ہوئے ہیں وہاں ملک بھر سے اسی ہزار سے زائد اخبار فروش بھی ان میں شامل ہیں جنھیں پیٹ کی بھٹی کو ایندھن فراہم کرنے کیلئے جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں پاکستان گروپ آف نیوز پیپرزکے چیف ایڈیٹر اورروز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی کا شمار بلا شبہ ملک کے کامیاب اور نامور صحافیوں میں ہوتا ہے وہ جتنے خوبصورت ہیں اس سے زیادہ خوبصورتی انکی صحافتی سر گرمیوں میں جھلکتی ہے وہ کتابیں بھی لکھتے ہیں ٹیلی ویژن پر سچی بات پروگرام بھی کرتے ہیں اور قومی و بین الاقوامی حالات پر بھی انکی گہری نظر ہوتی ہے او رگزشتہ کئی دہائیوں سے اپنے اخبارات کے ذریعے عوام کو با خبر رکھنے کا فریضہ بھی انجام دے رہے ہیں خبر کے مطابق انھوں نے حکمرانوں کو تجویز دی ہے کہ اخبار فروشوں کو ٹائیگر فورس میں شامل کیا جائے ایسا ہونے کی صورت میں ان اخبار فروشوں کو اگر کچھ معاوضہ ملے گا تو انکے معاشی حالات بھی بہتر ہونگے او راسکے ساتھ ساتھ ٹائیگر فورس کے وہ مقاصد بھی بھر پور طریقے سے پورے ہونگے اور ساتھ وزیر اعظم نے اپنے انتخابی منشور میں جو کمزور طبقوں کو اوپر لانے کا وعدہ کر رکھا ہے اسکی بھی تکمیل ہوسکے گی اخبار فروش بڑا دلیر محنتی اور بہادر طبقہ ہے جو ہر قسم کے موسمی حالات سے لڑتا آدھی رات کے بعد اخبار ات وصول کرنے سے لیکر انھیں صبح سویرے عوام تک پہنچانے کے عمل میں شریک ہوتا ہے تب جا کر عام آدمی کو آنکھ کھلتے ہی یا پھر ناشتے کی میز پر دنیا بھر کے حالات سے آگاہی ملتی ہے جب میں یہاں تک پہنچا ہوں تو مجھے پھولنگر کے سفید پوش اخبار فروش سعید قیصر کی پھندے پر جھولتی ہوئے نعش والی خبر دیکھنے کو ملی سعید قیصر طویل عرصے سے اخبار فروشی کیساتھ اخبار نویسی کر کے بھی جب اپنی سفید پوشی کا بھر م قائم نہ رکھ سکا تو اس نے اضافی محنت کے طور پر ٹھیلہ ،ریڑھی لگا کر حالات سدھارنے کی بھی کوشش کی اور جب اس میں بھی کا میاب نہ ہوا تو ساری عمر لوگوں خبریں اور اخبار دیتا خود گزشتہ روز اخبارات میں دو کالمی خبر بن کر اخباری اداروں سے لیکر اخبار نویسوں تک او راخبار بینوں سے لیکر معاشرے کے متمول لوگوں تک ایک ان کہی خونی داستان چھوڑ گیا بات سچی بات کی خبر سے شروع ہوئی تھی جس میں علاقہ کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کی ترقی و خوشحالی کیلئے وہاں صاف پانی کی فراہمی اور چھوٹے ڈیمز تعمیر کرنے کا ذکر ہے اور آبی امور کے ماہر ارشد عباسی نے حکمرانوں کو بتانے بلکہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ بھارت نے پانی کے معاملے میں اپنی آبی دہشت گردی والی پالیسی پر عمل شروع کر رکھا ہے اسکے تناظر میں بلوچستان اور دیگر ایسے علاقوں میں چھوٹے ڈیمز کی تعمیر میں ہی پاکستان کی بقا ہے لیکن حکمرانوں کو کون بتائے کہ فیلڈ مارشل صدر جنرل محمد ایوب خان کا دور اس حوالے سے ہمیشہ قابل تعریف رہے گا کہ جنہوں نے 1960 میں وارسک ڈیم 1961 میں منگلا ڈیم 1962 میں سملی ڈیم اور راول ڈیم 1963 میں حب ڈیم 1968 میں تر بیلا ڈیم اور 1969 میں خانپور ڈیم کی تعمیر کے بعد ایک طویل خاموشی کے بعد اب جا کر مو جودہ حکومت نے ڈیمز بنا نے پر توجہ دی ہے اور دیامر بھاشا ڈیم اور دیگر پر پیش رفت ہو رہی ہے ورنہ سابقہ حکمرانوں کی خامو شیاں ہر سال بر ساتی موسم میں ہمارا کروڑوں کیوبک فٹ قیمتی میٹھا پانی جو ہماری صنعت و زراعت سے لیکر انسانوں کی بقا کیلئے بہت ضروری تھاڈیمز نہ ہو نے کی وجہ سے سمند ر میں چلا جاتاہے ۔ خبر میں سینئر صحافی ٹکہ خان اور پرو فیسراسلم خان کی باتیں بھی شامل ہیں کہ جن میں بتا یا گیا ہے کہ بارہ ہزار اخبار فروشوں کی فہر ست انتظامیہ کو ارسال کر دی گئی ہے اور یہ کہ عوام کی مالی حالت کو دیکھر کر لاک ڈاءون ختم ہوا لیکن عوام نے اگر ایس او پیز پر عمل نہ کیا تو حالات مزید خراب ہو نے پر ہ میں دوبارہ لاک ڈاءون کی طر ف جانا بھی پر سکتا ہے پروفیسر اسلم خان کے مطابق ملک میں کورونا سے اموات کی شرح دو فیصد سے بھی کم ہے جبکہ ابھی تک آٹھ ہزار سے زائد لوگ اس بیماری سے صحت یاب بھی ہو چکے ہیں انہوں نے اس حقیقت سے بھی پردہ اُٹھایا ہے کہ باقی امراض کا شکا رمریض کو رونا کی وجہ سے ہسپتالوں کا رُخ نہیں کر رہے اس تین کالمی خبر کو کمال مہارت سے آرٹ ایڈیٹر نے وزیراعظم کی اعلیٰ سطحی اجلا س کی تصویر کے نیچے پیسٹ کر کے خبر کی ضرورت اور اہمیت کو اجاگر کر نے کی کوشش تو بہت کی ہے کہ شاید وزیراعظم یا اُنکا کو ئی خاص آفیسر اس تصویر کر دیکھنے کے ساتھ ساتھ خبر بھی دیکھ لے اور بات اُن کانوں اور دماغوں تک پہنچ سکے کہ جنہوں نے ملک کو بھاگ دھوڑ سنبھال ر کھی ہے اسی خبر کہ اوپر شہ سُرخی کے ساتھ سپہ سالارجنرل قمر جاوید باجوہ کے حوالے سے آئی ایس پی آر کی خبر میں بھی بلو چستان کے مسائل تر جیحی بنیادوں پر حل کر نے پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بلو چستان میں پاکستان کا روشن مستقبل ہے جسے ہر حالت میں ترقی یا فتہ علاقوں کی سطح پر لانا وقت کی اہم ضرورت ہے میرے بہت سے پیار کر نے ،چاہنے اور پڑھنے والوں کا سوال ہے کہ حکومت جتنی سختی لاک ڈاءو ن میں دیکھا رہی ہے اگر اس سے آدھی سختی روزانہ کی بنیادوں پر شہری علاقوں میں سپرے کرانے پر لگائے تو بیماری ختم بھی ہو سکتی ہے اوربقول وزیراعظم لاک ڈاءون بیماری کاحل نہیں اس سے دیہاڑی دار اور دو کا ندار جیسے طبقے شدیدمالی مشکلات کا شکار ہیں اگر وزیراعظم کی بات مان لی جائے تو بیماری سے بچاءو کا حل بازاروں میں سینٹائزر گیٹ نصب کر کے عوام کو مفت ہینڈ سینٹائزر ،گلوز فراہم کر کے بھی تو احتیاطی تدابیر پر عمل ہو سکتا ہے اور یہ کام بہت سے ملکوں میں انجام دے کر اپنے عوام کو بچایا ہے لیکن ہماری حکومت اس خر چے والے پروگرام کی بجائے ڈنڈے والے پروگرام پر عمل کر کے عوام سے نا انصافی کر رہی ہے جس سے غربت ،بیروز گاری اور افلاس جس تیزی سے پھیل رہا ہے ہو سکتا ہے کہ آئندہ انتخابات میں یا اس سے پہلے ہی حکمران پارٹی کیلئے کو ئی امتحان کھڑا کر دے اسلئے کہ چولہے ٹھنڈے جیبیں خالی اور بچتیں ختم ہو چکی ہیں اور جب چولہے ٹھنڈے ہو نے لگےں تو پیٹ کی بھٹی ایندھن لینے کیلئے اندھی ہو کر کچھ بھی کر نے کو تیار ہو جاتی ہے ۔