- الإعلانات -

ہندوستان میں کرونا کیوں بڑھ رہا ہے

بھارتی حکومت نے کورونا وبا سے نمٹنے کے لیے جو اقدامات کیے ہیں وہ انتہائی غیر یقینی اور نا کافی ہیں ۔ اسی لئے مودی نے ریڈیو کے ذریعے عوام سے خطاب کرنے والے اپنے پروگرام ;39;من کی بات;39; میں ملک گیر لاک ڈاوَن سے عوام کو جو پریشانی ہوئی اس کے لیے معافی مانگی ۔ تو کیا وزیر اعظم کا معافی مانگنا کافی ہے;238; معافی تو مانگ لی مگر اس کے باوجود متعدد ایسے سوالات ہیں جن کا جواب دینا ضروری ہے جیسا کہ حکومت غریب مزدوروں کے بارے میں اتنی لاپروا کیوں تھی;238;بڑے شہروں اور دیہات کی جانب نقل مکانی تبھی شروع ہوگئی تھی جب وزیر اعظم نریندر مودی نے کورونا وائرس سے لڑنے کےلئے 24 مارچ کی رات 8 بجے پورے ملک میں 21 دن کے لاک ڈاوَن کا اعلان کیا تھا ۔ دراصل بھارتی حکومت نے بغیر زمینی حقائق دیکھے صرف ترقی پسند مغربی ممالک کی نقل کی اور لاک ڈاوَن کا اعلان کردیا ۔ دیگر ممالک میں ہوسکتا ہے کہ انھیں طبی انتظامات، ٹیسٹنگ کٹس کی کمی اور دیگر مسائل کا سامنا ہو لیکن ان کے یہاں غریب مزدوروں کی اتنی بڑی تعداد نہیں ہے جو دیہاڑی کما کر اپنا گزر بسر کرتے ہیں ۔ 2017 کے اقتصادی سروے میں کہا گیا ہے کہ 2011 سے 2016 کے درمیان تقریباً 90 لاکھ لوگ ایک ریاست سے دوسری ریاست روزگار کی تلاش میں گئے ۔ لاک ڈاوَن کے بعد ان دیہاڑی دار مزدوروں کے روزگار چھوٹ گئے ۔ تعمیراتی شعبے اور دیگر شعبوں میں کام بند ہوجانے کی وجہ سے انہیں اپنے اپنے گھروں کا رخ کرنا پڑا ۔ حکومت نے غربا عوام کےلئے ان کے بینک اکاوَنٹ میں کیش ٹرانسفر اور راشن دینے کا اعلان کیا ہے لیکن متعدد مزدروں کے پاس نہ تو بینک اکاوَنٹ ہیں اور نہ ہی راشن کارڈ ۔ جب حالات بگڑے تو حکومت کو ان ساری باتوں کا دھیان آیا ۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس طرح کے سخت فیصلوں کے نفاذ سے پہلے ان کے نتاءج کے بارے میں کیوں نہیں سوچا جاتا ۔ بھارتی حکومت نے کیش ٹرانسفر کےلئے جو 31000 کروڑ روپئے مختص کیے اس کے تحت ہر غریب کے کھاتے ہیں ہر ماہ 500 روپئے جائیں گے ۔ یہ سکیم صرف تین ماہ کےلئے ہے ۔ کسی بھی عام خاندان کے لیے 500 روپئے ماہ میں گزر بسر کرنا ناممکن ہے ۔ اور جن مزدورں کے پاس راشن کارڈ نہیں ہیں یا جن کا بینک اکاوَنٹ ہی نہیں ہے ان کی مدد کس طرح سے کی جائے گی جن کی تعداد کروڑوں میں ہے ۔ بھارتی معیشت کو یوں بھی سست رفتاری کا سامنا تھا اور لاک ڈاوَن کی وجہ سے جہاں مختلف صنعتوں کو زبردست مندی کا سامنا ہے وہیں بے روزگاری میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ۔ تقریبا تمام بڑے شہروں میں فیکٹریاں اور کارخانے بند ہوگئے ہیں اور آجرین ملازمین کو کمپنیوں سے نکالنے لگے ہیں ۔ ایسے بیشتر افراد کے پاس نہ تو رہنے کی جگہ ہے اور نہ ہی کھانے کا بند و بست ہے ۔ دور دراز علاقوں سے شہروں میں آکر کام کرنےوالے افراد لاک ڈاوَن سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں جن کے پاس بنیادی سہولیات کا بھی فقدان ہے ۔ یو پی، بہار اور مغربی بنگال جیسی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے ایسے لاکھوں افراد اپنے گاؤں واپسی کے لیے بے چین ہیں ۔ بسں ، ریل اور نقل و حمل کے دیگر ذراءع بند پڑے ہیں جس کی وجہ سے بہت سے لوگ اپنے گھروں تک پہنچنے کےلئے سینکڑوں میل کا سفر پیدل طے کرنا شروع دیا ہے ۔ لاک ڈاوَن کا مقصد تھا کہ لوگ اپنے گھروں میں رہیں اور بھیڑ کا گروپ میں نہ رہیں ۔ لیکن ٹرانسپورٹ بند ہونے سے جو لاکھوں مزدور پیدل چل کر اپنے اپنے گھر جارہے تھے وہ ایک بھیڑ تھی اور اس کے بعد جب حکومت کی جانب سے انہیں بسوں میں لے جایا گیا ان بسوں میں انہیں بھوسے کی طرح بھرا جارہا تھا ۔ یہاں تک کہ بسوں کی چھتوں پر بھی لوگوں کو بیٹھا دیکھا جاسکتا تھا ۔ یہ بھی کہا گیا کہ اپنی اپنی ریاستوں پر پہنچنے پر وہاں کی حکومتیں ان مزدروں کو قرنطینہ کریں گی لیکن قرنطینہ کےلئے ہر شخص کو علیحدہ کمرے میں رکھنا ضروری ہوتا ہے لیکن وہاں اس طرح کا کوئی انتظام نہیں تھا ۔ بھارت میں کٹس کی کمی سے یہ معلوم ہوا ہے کہ یہاں جس سطح پر ٹیسٹ ہونے چاہیے وہ ہو ہی نہیں رہے ہیں ۔ شروعات میں آئی سی ایم آر نے یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن اور یورپی سی ای سرٹیفیکیشن والی ٹیسٹنگ کٹ کی منظوری دی، اس میں چینئی کی ٹراءوٹرون ہیلتھ کیئر جیسی بھارتی کمپنیوں کو شامل نہیں کیا گیا ۔ آئی سی ایم آر کے لیب میں کرائے جانے والے کووڈ 19 ٹیسٹ کا خرچ تقریبا 4500 روپے ہے جو غریبوں کےلئے ایک بڑی رقم ہے ۔ بھارت میں کتنے ٹیسٹ کرنے کی سہولت دستیاب ہے کوئی پتہ نہیں ۔ کوئی ڈیٹا نہیں ۔ ٹیسٹ کٹس کی کمی کی وجہ سے ٹیسٹ کرنے کا معیار سخت ہے ۔ صرف ان لوگوں کا ٹیسٹ کیا جارہا ہے جو یا تو اس وبا سے متاثر ممالک سے لوٹے ہیں یا اس وائرس سے متاثرہ مریضوں کے رابطے میں رہے ہیں ۔ ڈبلو ایچ او کی سفارش کے ہر 1000 شخص پرایک ڈاکٹر ہو اس کے برعکس بھارت میں فی 10000 شخص ایک ڈاکٹر موجود ہے ۔ اپنے خطاب میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ حکومت نے کورونا وائرس سے لڑنے اور ملک کے طبی ڈھانچے کو بہتر بنانے کےلئے 15000 کروڑ روپے کا پیکج مختص کیا ہے ۔ اس رقم سے ’ٹیسٹنگ کٹ، پرسنل پروٹیکٹو اکیپمنٹ یعنی پی پی آئی، ائسولیشن بیڈ، آئی سی یو بیڈ، وینٹی لیٹر اور دیگر طبی آلات کی تعداد میں اضافے میں مدد ملے گی ۔ وفاقی وزارت صحت کے مطابق بھارت میں پبلک سیکٹر کے صرف 8432 وینٹیلیٹرز ہیں ، جبکہ پرائیوٹ سیکٹر کے پاس 40000 وینٹیلیٹرز ہیں ۔ ٹاٹا موٹرز، مہندرا اور مہندرا، ہوندئی موٹر انڈیا، ہونڈا کارس انڈیا، اور ماروتی سزوکی انڈیا سے وینٹیلیٹر بنانے کی کوشش کرنے کےلئے اب کہا جا رہا ہے ۔ لہٰذا کاریں بنانےوالی کمپنیاں وینٹی لیٹر بنانے میں مصروف ہیں اور اب ان کو بنانا ایک بڑا چیلنج ہے ۔