- الإعلانات -

دعوت دین اورداعی

دین اسلام بنیادی طور پر دعوت الی اللہ کادوسرا نام ہے،اگرپوچھا جائے کہ امت مسلمہ کی من حیث الامہ اصل ذمہ داری کیا ہے توجواب ہے دعوت وارشاد،اگرکوئی پوچھے دنیا کا مشکل ترین کام کونسا ہے تو جواب ہوگا دعوت حق کا کام،اگر کوئی سوال پوچھے کہ سب سے زیادہ ذمہ دارانہ کام کونسا ہے پھر بھی جواب ہوگا دعوت الی اللہ کاکام ،اگریہ سوال کیا جایے کہ مسلمان اوردیگر اقوام کے درمیان کیا تعلق ہے توکہا جائے گا داعی اور مدعوکا،دوسری اقوام کی فلاح ونجات کا انحصار اس پر ہے کہ وہ دعوت دین کو اپناتی ہیں کہ نہیں جبکہ امت مسلمہ کی کامیابی،فوزو فلاح کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ دعوت دین کو دوسروں تک پہنچاتی ہے کہ نہیں ،دعوت وارشادکے میدان سے بھاگ کراوراس ذمہ داری سے اغماض برت کر،امت مسلمہ کسی دوسرے شعبے اور میدان میں جتنے مرضی بڑے بڑے کارنامے دکھائے ایک سے بڑھ کرایک ایجادات سامنے لائے نام تو بن جائے گا کام نہیں بنے گاکیونکہ امت کی نجات اور کامیابی دعوت حق کو پھیلانا اوراقامت دین کیلئے سنجیدہ جدوجہد میں ہی ہے یہاں تک نماز روزہ حج عمرہ بھی اس کی نجات کےلئے کافی نہیں ہے ۔ یاد رکھیں دعوت وارشاد میں خفیف سی بے اعتنائی وقت کے بڑے بڑے صالحین کےلئے بھی باعث عتاب ٹھہری ۔ اللہ تعالیٰ کواس سلسلہ میں تھوڑی سے کوتاہی بھی پسند نہیں ہے ۔ مسلمانوں کو دور جدید کے تقاضوں کو سمجھنا ہوگا ہر علم و فن کے میدان میں آگے بڑھنا ہوگا ۔ معاشی، معاشرتی، سیاسی، مضبوطی حاصل کرکے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو اقامت دین اوردعوت دین کےلئے وقف کرنا ہوگا،قرآن و سنت کے عمیق مطالعہ سے یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کے ساتھ تمام تروعدے اسی جدوجہد سے مشروط کئے ہیں ، اگر امت کی سطح پر اس ذمہ داری کا احساس اور شعور اجاگر نہ کیا گیا تو اس کے ہاں یہ امت بھی سابقہ امتوں کی طرح بے وقت اور بے قیمت ہو جائےگی،اس کے علاوہ کسی دوسرے میدان میں کامیابیوں کے چاہے جتنے بھی ماءونٹ ایورسٹ اور کوہ ہمالیہ کھڑے کر لئے جائیں ۔ دعوت حق کی موثر ابلاغی جدوجہدکے بغیر یہ سب کچھ،کچھ بھی نہیں ہے ۔ دعوت حق کا کام جتنا بڑا اور عظیم کام ہے افسوس یہ کام اتنا ہی ان لوگوں کے ہتھے چڑھا ہوا ہے (الاماشا اللہ)بزعم خویش داعین کی اکثریت قوموں کے عروج وزوال کی داستانوں اور ملت کے نشیب وفرازکے معاملات سے ;200;گاہی نہ عصر حاضرکے تقاضوں کا شعوررکھتی ہے ۔ طرفہ تماشہ کہ اس جہالت ولاعلمی کو وہ درویشی اور خلوص کانام بھی دیتے ہیں ۔ اس اہم ذمہ داری کی ادائیگی کےلئے مسلم ممالک میں حکومتی سطح پر افراد سازی کا کام توصدیوں سے ٹھپ پڑا ہے ۔ امت محمدیہ کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی زندگی کو دین دار بنایے,اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی گزارے ۔ اس کی دوسری اہم ذمہ داری ہے کہ وہ دوسری اقوام تک اس دین حق کی دعوت کوبحسن وخوبی پہنچائے ۔ اس دعوت کے داعی کو کن اوصاف کا حامل ہونا چاہئے یہ باقاعدہ ایک مکمل مضمون ہے مگر ہم یہاں اختصار سے چند چیزیں نذر قارئین کرتے ہیں ۔ نمبر1 ۔ ایک داعی حق کو اپنے مشن میں کمال درجے کا مخلص اور سنجیدہ ہونا چاہئے ۔ 2 ۔ قول وفعل بڑا ہی متوازن اور واضح ہونا چاہئے ۔ 3 ۔ ایک سچے داعء کو وقرث انبیا ہونے کی بنا پر دردمندی ، دلسوزی، خیرخواہی اور غمگساری کے جذبات سے سرشار ہونا چایئے درشتی، تلخی، بدکلامی، اکھاڑبچھاڑ، ماردھاڑکا تو تصور ہی نہیں ہوتا ہاں اسکے پاس دلیل، علم، حکمت، برداشت اور جراَت ہوتی ہے ۔ 6 ۔ اسلوب دعوت بالکل سادہ، ;200;سان اور سنجیدہ ہونا چاہئے، خالصتاً علمی ومجلسی موشگافیوں اور جگت بازیوں سے مکمل اجتناب کرنا چاہئے ۔ 6 ۔ ایک داعی کو دل گہرائیوں اور سچائیوں کے ساتھ اپنے مشن سے لگاءوں ہو بڑی سے بڑی رکاوت کو عبور کرنے کا جذبہ ہو حتیٰ کہ اس راہ میں کبھی موت کو بھی گلے لگانا پڑے تو ذرانہ ہچکچائے ۔ 7 ۔ اپنے مخالطبین وسامعین کی زبان میں بات کرے اور انکی عقل وشعور کی سطح کے مطابق بات کرے ۔ 8 ۔ اپنے علاقے اور دور کی جدید اور لوگ جن اصطلاحات سے مانوس ہوں وہ اصطلاحات استعمال کرے ۔ 9 ۔ اپنی دعوت کو فوکس کرنا بھی بڑا ضروری ہے دنیا میں اچھا یا برا انقلاب وہی لوگ لیکر ;200;ئیں ہیں جنہوں نے اپنی ساری قوت ومحنت کو ایک متعین رخ دیا اور پھر اسی پہ ہی فوکس رکھا10;58; ۔ گفتگو میں طوالت سے اجتناب کیا جائے اختصار کو ملحوظ رکھا جائے ۔ 11 ۔ ;200;پ علیہ السلام نے باقاعدہ نصیحت فرمائے کہ لوگوں کو خوشخبری سناءو متنفرنہ کرو اور جب نصیحت کرو تومختصر کرو ۔