- الإعلانات -

ایس او پیزپرمکمل عمل درآمدکیاجائے

کوروناوائرس تھمنے کانام ہی نہیں لے رہا، روزنئی اموات بھی ہورہی ہیں اورمریضوں کی تعداد میں اضافہ بھی جاری ہے ۔ حکومت اپنی طرف سے بہت اقدامات کرچکی ہے ۔ اب وزیراعظم باربار یہی کہتے ہیں کہ لاک ڈاءون اس مسئلے کاکوئی حل نہیں کیونکہ لاک ڈاءون سے مسائل بڑھ رہے ہیں ۔ ایک طرف لاک ڈاءون تو دوسری طرف بھوک کامقابلہ کرنا بہت مشکل کام ہیں ۔ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں سے مشاورت کے بعدلاک ڈاءون میں نرمی کافیصلہ کرتی ہے اورتمام صوبوں کی تجاویز کے بعد لاک ڈاءون میں نرمی کی جاتی ہے ۔ حکومت نے آہستہ آہستہ مختلف شعبوں میں لاک ڈاءون نرم کیا مگر زیادہ رش والے شعبے ابھی بھی بند ہیں ۔ اسی حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے کورونا ریلیف فنڈ کے ذریعے پیر سے بیروزگاروں کو پیسہ منتقل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ لاک ڈاءون میں نرمی ہماری مجبوری ہے، ان لوگوں کو روزگار دینانہ شروع کیا تو ان کے بھوک سے مرنے کا خدشہ ہے، اس سال وائرس کے ختم ہونے کے امکانات کم ہیں ، ہمارے ڈاکٹرز، نرسز کورونا کیخلاف جہاد لڑرہے ہیں ، ڈاکٹرز،پیرامیڈیکس عملے کی مشکلات کا حکومت کو پوری طرح احساس ہے ، اگر 3ماہ میں لاک ڈاءون سے کورونا ختم ہوجاتا تو اس سے بہتر کچھ نہ ہوتا، طبی ماہرین ،سائنسدان کہہ رہے ہیں اس سال کوئی ویکسین نظرنہیں ;200;رہی، اس سال اگر ویکسین نہیں ;200;تی تو اس کا مطلب ہے کورونا کہیں نہیں جارہا، لاک ڈاءون کا مطلب یہی ہے کہ لوگوں کو جمع ہونے سے روکا جاسکے، لاک ڈاءون سے وائرس کو پھیلنے سے روکا جاسکتاہے لیکن کیا وائرس ختم ہوجائے گا، جہاں جہاں کیسز کم ہورہے تھے وہاں دوبارہ کیسز سامنے ;200;رہے ہیں ، لوگوں کو جب دوبارہ لاک ڈاءون سے ریلیف ملتا ہے تو وائرس پھر پھیلنے لگتاہے، اس سال تو ہ میں اس کورونا وائرس کا مقابلہ کرنا ہے ، اس سال وائرس کے ختم ہونے کے امکانات کم ہیں ، پاکستان نے مشکل سے 8ارب ڈالر کا پیکج دیا، امریکا نے 2200ارب ڈالر کا پیکج ،جاپان نے بھی ایک ہزارارب ڈالر کا پیکج دیا، پہلے دن سے موقف ہے یورپ ، چین کی طرز پر لاک ڈاءون نہیں کرسکتے، ہمارے یہاں یورپ ،چین سے زیادہ غر بت ہے ، لاک ڈاءون کی وجہ سے ا ڑھائی کروڑ لوگ گھروں میں چلے گئے ہیں ،اڑھائی کروڑ لوگوں کے پاس اور کوئی کمانے کاذریعہ نہیں ہے، پاکستان میں 15کروڑ لوگ کورونا لاک ڈاءون سے متاثر ہیں ۔ لاک ڈاءون نرمی پر ایس اوپیز پر عملدر;200;مد کرنے کی شہریوں پر بڑی ذمہ داری ہے ، حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ 15کروڑ لوگوں کا دھیان رکھ سکیں ،جب تک عوام خود احتیاط نہیں کریں گے حکومت کچھ نہیں کرسکتی ۔ یہ بھی خدشہ ہے کہ انٹرڈسٹرکٹ ٹرانسپورٹ کھلنے سے وائرس تیزی سے پھیلے گا ۔ دوسری جانب پنجاب حکومت نے لاک ڈاوَن میں مزید نرمی کرتے ہوئے شاپنگ مالز کھولنے اور پبلک ٹرانسپورٹ کی اجازت دینے کا بھی فیصلہ کرلیا ہے ۔ ٹرانسپورٹ کی بندش سے متعلق وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ بند ہونے سے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہوا اور مجبوری کے باعث عوام مہنگے داموں کی پرائیویٹ گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں لہٰذا ٹرانسپورٹ شعبہ کو ریلیف کےلئے اجازت ضروری ہے ۔ ادھر وزیر اعلیٰ کے پی کے محمود خان نے ٹوءءٹ میں کہا کہ کاروبار زندگی کو مکمل طور پر بند رکھنا کورونا وبا کا مستقل حل نہیں ، محفوظ ماحول میں معیشت کا پہیہ چلانا ہوگا ۔ اس نازک توازن کو بر قرار رکھنا ضروری ہے کیونکہ وباء اور غربت دونوں کا مقابلہ کرنا ہے جبکہ سندھ حکومت نے وزیراعظم کی جانب سے صوبوں سے پبلک ٹرانسپورٹ کھولنے کی اپیل مسترد کردی ہے ۔ کورونا وائرس سے متعلق وزیراعظم کی گفتگو پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سندھ کے وزیر ٹرانسپورٹ اویس شاہ نے کہا کہ وزیراعظم کے حکم کا احترام مگر پبلک ٹرانسپورٹ نہیں کھول سکتے کیونکہ روزانہ کیسز میں اضافہ ہورہا ہے ۔ صوبائی حکومت کے تحفظات اپنی جگہ مگر عوامی مسائل کا ادراک بھی ضروری ہے کیونکہ ٹرانسپورٹ کاشعبہ نہایت اہمیت کاحامل ہے جس سے لاکھوں افراد کاروزگاروابستہ ہے اور ان میں اکثریت دیہاڑی داروں کی ہے ۔ اس میں بہت سے افرادایسے ہیں جودیہاڑ ی پرروزگارکماتے ہیں ۔ بہتر یہی ہے کہ ٹرانسپورٹ کاشعبہ کھولنے کےلئے مکمل ایس اوپیزپرعمل درآمدکرایاجائے تاکہ عیدالفطرکے موقع پرلوگ اپنے پیاروں کے ساتھ عیدکی خوشیاں منا سکیں ۔ حکومت کی کوششوں اور کاوشوں کو کامیاب بنانے کےلئے ہر فرد کو آگے آنے کی ضرورت ہے ۔ یہ کوئی اتنی سنگین بیماری نہیں ہے ، بس احتیاط لازم ہے ۔ حالات جو بھی ہوں ان کا مقابلہ کرنا زندہ قوموں کی علامت ہے ۔

اسٹیٹ بینک کی نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان

اسٹیٹ بینک کی جانب سے مانیٹری پالیسی کا اعلان کیا گیا جس کے مطابق شرح سود ایک فیصد کم کرکے 8 فیصد مقرر کردی گئی ہے ۔ شرح سود کم کرکے لاک ڈاءون کی وجہ سے معاشی سست روی کو روکنا بھی ممکن نہیں ہوگا جبکہ شرح سود کم ہونے سے کرونا کی وبا پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، کرونا کی وبا کے باعث پیدا ہونے والی معاشی صورتحال مانیٹری پالیسی کےلئے چیلنج ہے ۔ شرح سود میں مزید 100 بیسس پوائنٹ ایک فیصد کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق رواں برس مہنگائی کی شرح 11 سے 12 فیصد رہنے کا امکان ہے، اگلے مالی سال مہنگائی کی شرح 7 فیصد سے 9 فیصد رہنے کا امکان ہے ۔ کرونا کے باعث اچھوتے چیلنج کا سامنا ہے کیونکہ وبا ء کی نوعیت غیرمعاشی ہے، شرح سود میں کمی معاشی سست روی ختم نہیں کرسکتی لیکن رقم کی قلت کا مسئلہ حل کرسکتی ہے ۔ مارچ اور اپریل میں ٹیکس آمدن میں 15 فیصد کی بڑی کمی ہوئی ۔ رواں مالی سال کی چوتھی سہ ماہی میں خسارے میں بڑے اضافے کا خدشہ ہے، چیلنجز کے باوجود کرنٹ اکاءونٹ خسارے قابو میں رہنے کا امکان ہے ۔ واضح رہے اسٹیٹ بینک17 مارچ سے16اپریل تک شرح سود425 بیسزپوائنٹس کم کرچکاہے اور 2بار ہنگامی اجلاس بلاکر مارچ شرح سود 75 بیسز پوائنٹس کم کر کے 12;46;50 فیصد مقررکی گئی ۔ 24 مارچ کومانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود میں مزید 150 بیسس پوائنٹس کمی کا اعلان کیا جبکہ 16 اپریل کو شرح سود مزید 200 بیسز پوائنٹس کم کرکے9فیصدرکھی گئی تھی ، ایف پی سی سی ;200;ئی نے شرح سود میں 400 بیسز پوائنٹس کمی کامطالبہ کیا تھا ۔

کشمیر بارے یورپی پارلیمنٹری ریسرچ سروس کی رپورٹ

یورپی پارلیمنٹری ریسرچ سروس کی ایک رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر کے محاصرے پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے ۔ یورپی پارلیمنٹ کی ریسرچ سروس کی رپورٹ میں بھارت کی مودی سرکار بی جے پی اور ;200;ر ایس ایس کو نسل پرستانہ واقعات اور کشمیر میں مظالم اور ابتر صورتحال کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے ۔ بھارت نے گزشتہ سال سے مقبوضہ کشمیر کا محاصرہ کیا ہوا ہے ۔ اس دوران وادی میں متعدد لوگ گرفتار کئے جا چکے ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ سمیت مواصلاتی نظام بھی معطل ہے ۔ نئے متنازعہ شہریت قانون سے بھارت میں تشدد بڑھا ۔ بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں میں خوف پایا جاتا ہے ۔ خراب معاشی حالات سے توجہ ہٹانے کیلئے مودی سرکار نے یہ رویہ اپنایا ۔ مودی کے دوبارہ برسراقتدار ;200;نے کے بعد سے 53 مسلمانوں کو نسلی اور مذہبی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا جس سے بھارت کے سیکولر نظام کو شدید نقصان پہنچا ۔ یورپی پارلیمنٹری ریسرچ سروس کی ایک رپورٹ مقبوضہ کشمیر کے گھمبیر حالات اور بھارت میں اقلیتوں پر ہونےوالے تشدد پر ایک چشم کشا رپورٹ ہے ۔ بھارت نے پچھلے سال سے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے وہاں کا محاصرہ کر رکھا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں بڑی تعداد میں گرفتاریاں کی گئیں ۔ انٹرنیٹ و دیگر مواصلاتی نظام معطل کیا گیا ہے ۔ مسلمان اقلیت میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے ۔ بھارت کی خراب معاشی صورتحال سے توجہ ہٹانے کیلئے مودی حکومت ایسا رویہ اپنا رہی ہے ۔ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں اقلیتوں کا نوٹس لے اور اسے بند کرانے کیلئے حکومت پر ڈالے ۔ ادھر امریکہ نے بھی بھارت میں مسلمانوں پر ہونےوالے مظالم پر ایک بار پھر اظہار تشویش کیا ہے ۔ امریکی سفیر برائے مذہبی ;200;زادی سیموئل براءون بیک نے کہا کہ کورونا پر بھارت میں مسلمانوں کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے ۔ بھارت میں کورونا وائرس پر مسلمانوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے ۔ مسلمانوں سے متعلق جھوٹ بھی پھیلایا جا رہا ہے ۔