- الإعلانات -

انسانی حقوق کی دھجیاں اڑاتا بھارت !

پوری دنیا کرونا وائرس سے لڑائی میں مصروف ہے اور ایسے اقدامات زیر غور ہیں جن سے اس جان لیوا وائرس کو شکست دی جا سکے، اب عالمی ادارہ صحت نے اس خدشے کا بھی امکان ظاہر کیا ہے کہ شاید ایچ آئی وی وائرس کی طرح اس وائرس کا بھی خاتمہ ممکن نہیں اور یہ کسی نہ کسی شکل میں ہمیشہ موجود رہے گا ۔ دوسری جانب بھارت شاید دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں کرونا وائرس کی آڑ میں بھی سازشیں جاری ہیں اور تہہ در تہہ سازشوں کا ایسا جال بچھایا جا رہا ہے کہ الامان الحفیظ ۔ یاد رہے کہ بھارت کی مودی سرکار معروف اسلامی سکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کو بھارت لانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے، اب بھارت کی جانب سے باقاعدہ ملائشیا کی حکومت کو ایک خط لکھا گیا ہے جس میں ڈاکٹر ذاکر نائیک کی حوالگی کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بھی بھارت کی جانب سے ملائشیا پر ڈاکٹر ذاکر نائیک کی حوالگی کیلئے دباؤ ڈالا جاتا رہا ہے ۔ سبھی جانتے ہیں کہ بھارت مذکورہ مذہبی سکالر سے اس لئے پریشان ہے کہ ان کی جانب سے یہ تجویزدی گئی ہے کہ تمام اسلامی ممالک ایسے غیر مسلم افراد کا ڈیٹا بیس بنا لیں جو مسلمانوں کیخلاف زہر اگلتے رہتے ہیں ، جیسے ہی یہ افراد کسی مسلم ملک کی سرزمین پر قدم رکھیں ، انھیں گرفتار کر لیا جائے اور ان کیخلاف مقدمات چلائے جائیں ۔ اس کے علاوہ بھی ڈاکٹر ذاکر نائیک بھارت میں بسنے والے مسلمانوں سے ہونیوالے امتیازی سلوک پر مسلسل آواز اٹھاتے رہے ہیں ، ان کی جانب سے آئے روز ویڈیوز جاری کی جاتی ہیں جن میں ہندوستانی مسلمانوں اور دلتوں پر ہونے والے مظالم کی جانب اسلامی دنیا کی توجہ دلائی جاتی ہے ۔ ایک روز قبل ڈاکٹر ذاکر نائیک نے ایک پیغام جاری کیا جس میں افسوس ظاہر کرتے مسلم ممالک سے اپیل کی گئی کہ جو ممالک بھارت کو کروڈ اور پام آئل بیچ کر پیسے کمانے کے چکر میں رہتے ہیں ، انھیں بھارت میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایک ’’بیٹا فورس‘‘ قائم کرنی چاہیے جو بھارت میں 10 معصوم مسلمانوں کی گرفتاری پر 10 شر انگیز ہندوؤں کی گرفتاری کا مطالبہ کرے ۔ ان کی یہ راست گوئی بھلا انتہا پسند ہندوءوں کو کیسے ہضم ہو سکتی تھی اس لئے بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد سمیت بھارت کی کئی انتہا پسند ہندو تنظیموں نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کو قتل کی دھمکی دی ہے اور کہا ہے کہ جلد ہی اس ’’کام‘‘ کو سر انجام دے دیا جائے گا ۔ علاوہ ازیں مودی سرکار کی جانب سے کرونا وائرس کیلئے خصوصی طور پر بنائی گئی ایپ ’’آروگیہ‘‘ اپنے امتیازی آپشنز کی وجہ سے متنازعہ ہوتی جا رہی ہے، یاد رہے کہ مذکورہ ایپلیکیشن میں مسلمانوں کیلئے کوئی خاص خانہ ہے نہ ہی اس ایپ میں اردو زبان کا آپشن دیا گیا ہے جبکہ ہندی، گورومکھی اور انگریزی سمیت متعدد زبانوں کے آپشنز اس میں موجود ہیں ۔ اس حقیقت سے بھلا کون واقف نہیں کہ بھارت کی مسلم آبادی 23 کروڑ کے لگ بھگ ہے اور ان میں سے بہت بھاری اکثریت صرف اردو زبان لکھتی پڑھتی ہے ۔ بھارت کے کئی اعتدال پسند حلقوں کی جانب سے اس ایپ کے مخصوص آپشنز پر مودی سرکار کو ہدف ملامت بنایا جا رہا ہے ۔ ہندوستان کی اپوزیشن پارٹیاں بھی اس ایپ کے ذریعے ذاتی معلومات کے افشاء ہونے کا خطرہ ظاہر کر رہی ہیں ، اب بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج بی این شری کرشن نے کہا ہے کہ آروگیہ نام کی یہ ایپ مودی سرکار کے ہندو نیشنل ازم کو تقویت دینے کا ایک اور طریقہ ہے، یہ ایک طرح کا پیج ورک ہے جو لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کر دے گا، انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ بھارت کی کسی ایک مخصوص برادری سے اس درجہ امتیازی سلوک افسوس ناک ہے اس لئے اس ایپ میں اردو زبان کو بھی شامل کیا جائے ۔ بھارت کی داخلی صورتحال پر ایک نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پچھلے چھیانوے گھٹنوں میں آگرہ میں 25لوگ کرونا کی وجہ سے وفات پا چکے ہیں اور اسی وجہ سے آگرہ کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا مگر یہ امر تمام حلقوں کیلئے باعثِ حیرت و تشویش ہے کہ مرنے والے کرونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد صحتیابی کی جانب گامزن تھے اس لئے ان کی اموات کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی ۔ اتر پردیش کے چیف سیکرٹری کو فوری طور پر وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ نے انکوائری افسر مقرر کر دیا ہے اور یہ امر قارئین کیلئے دلچسپی کا باعث ہو گا کہ پچھلے پچاس دنوں سے مودی سرکار آگرہ شہر کو ماڈل کے طور پر پیش کر رہی تھی مگر مرنے والے قیدیوں کی موت کی کوئی ٹھوس وجوہات یوگی سرکار بیان نہیں کر پائی ۔ یہ حقیقت بھی آشکار ہوئی ہے کہ آگرہ میں مرنے والے 25افراد میں سے دو ہندو اور 23مسلما ن شامل ہیں جبکہ کرونا سے متاثر قیدیوں میں 90 فیصد مریض مسلمان ہیں ۔ واضح رہے کہ دنیا کا آٹھویں عجوبہ تاج محل بھی آگرہ میں ہی واقع ہے ۔ دوسری طرف بھارت کی بی جے پی سرکار مسلمانوں و دیگر اقلیتوں پر مقدور بھر مظالم ڈھانے اور شائننگ انڈیا اور میک ان انڈیا جیسی سکیموں کے بعد اب ’’خود کفیل بھارت‘‘ کے نعرے لگا رہی ہے ۔ دو روز قبل بھارت کی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے 20لاکھ کروڑ کے ریلیف پیکج کا اعلان کیا ، پریس کانفرنس میں بھارت کے نائب وزیر خزانہ (منسٹر آف سٹیٹ)انوراگ ٹھاکر بھی موجود تھے ۔ ماہرین کے مطابق مودی حکومت نے اس پیکج کا اعلان کرتے ہوئے ’’خود کفیل بھارت‘‘ کا نعرہ دیا اور یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس پیکج کے اعلان سے بھارت نہ صرف چین کی برابری تک آجائیگا بلکہ آنے والے کچھ عرصے میں چین کو بھی پیچھے چھوڑ جائیگا ۔ بھارت کے اس معاشی پیکج پر ابتدائی ردعمل ظاہر کرتے ہوئے راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گھلوت اور سابق وزیر خزانہ پی چدم برم نے کہا کہ سننے میں یہ باتیں کانوں کو اچھی لگتی ہیں لیکن زمینی حقائق سے شائد ان کا دور کا بھی واسطہ نہیں ۔ علاوہ ازیں بھارت کے صنعت کار اور یوگا کے ماہر بابا رام دیو نے کہا کہ چین کی تجارتی میدان میں برابری کرنے کی بات بھارت کی خواہش تو ہوسکتی ہے لیکن زمینی حقیقت نہیں ،یاد رہے کہ مذکورہ پیکج کا اعلان کرتے ہوئے بھارتی وزیر خزانہ اور ان کے نائب نے یہ بھی کہا کہ چین میں بننے والی دیوی دیوتوں کی مورتیاں خود بھارت میں بنیں گئیں کیوں کہ ہر سال دیوالی،ہولی اور دیگر مذہبی رسومات میں لاکھوں کی تعداد میں چین میں تیار کردہ مورتیوں کی بر آمد سے چین جو کروڑوں ڈالر کا زرمبادلہ کماتا ہے اس کو روکنے کیلئے آج سے بھارتی افواج اور پیرا ملٹری فورسز سے کہا جاررہا ہے کہ یہ مورتیاں وغیرہ بھارتی افواج کی صنعتوں میں تیار کی جائیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت میں مزدوروں کی زبوں حالی سے بھلا کون واقف نہیں ، گذشتہ روز ممبئی سے بڑی تعداد میں مزدور اپنے گھروں کی جانب پیدل مارچ کر رہے تھے کہ مہاراشٹر پولیس کی جانب سے ان مظلوموں پر لاٹھی چارج کیا گیا ۔ سبھی جانتے ہیں کہ بھارت میں غریب مزدور تمام سہولیات کی بندش کے باعث سینکڑوں کلومیٹر پیدل چل کر اپنے گاؤں پہنچ رہے ہیں اور ان مزدوروں کی اکثریت مسلمان اور اچھوت ہندوؤں پر مشتمل ہے ۔ ان مزدوروں کا کہنا ہے کہ اب ہمارے پاس کھانے کو بھی کچھ نہیں بچا، کام بھی نہیں اور لاک ڈاؤن کے دورانیے میں بھی اضافے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں ، ایسے میں ہم کریں تو آخر کیا کریں ، ہمارے لئے بھوکے مرنے سے اچھا ہے کہ ہم پیدل چل چل کر مر جائیں کیونکہ ایسی صورت میں کم از کم اپنے گھر پہنچنے کی امید تو ہے ۔ ان مظلوم و بے کس مزدوروں کو بھی مہاراشٹر پولیس کی جانب سے لگاتار تنگ کیا جا رہا ہے اور ان پر تشدد کے واقعات کے بھی سامنے آئے ہیں ۔ دوسری جانب اتر پردیش میں بھی یوگی ادتیہ ناتھ کی سربراہی میں مسلمانوں کیخلاف مقدور بھر اقدامات کئے جا رہے ہیں ، حالیہ دنوں میں اتر پردیش پولیس کا ایک ویڈیو وائرل ہوا ہے جس میں میرٹھ کے سرائے بیہلم علاقے میں پولیس اہلکار راستے میں آنے والے مسلم خوانچہ فروشوں کی ریڑھیوں کو نالی میں الٹتے جا رہے ہیں ۔ 40 سیکنڈ کے اس ویڈیو میں یو پی پولیس کے اہلکار ایک گلی سے گزر رہے ہیں جہاں تین ریڑھی فروش سبزی بیچ رہے ہیں ، ان میں سے مسلم خوانچہ فروش کی ریڑھی کو پولیس والے نالی میں الٹ دیتے ہیں جبکہ ہندو خوانچہ فروشوں کو کچھ نہیں کہا جاتا ۔ محض چند دنوں میں ان تمام واقعات کے باوجود اگر بھارتی حکمران ترقی و خوشحالی کے دعوے کریں تو اس پر کوئی تبصرہ نہ کرنا ہی بہتر تبصرہ ہو گا ۔