- الإعلانات -

’’پاکستان اور ترکی ۔ یک جان ویک قالب‘‘

بہت عجب سا محسوس ہوا ’’لبرلز‘‘کے ساتھ جب کسی نے’’نام نہاد‘‘کا لفظ چسپاں کردیا توہ میں خیال ہوا کہ کیا لبرلز بھی’’نام نہاد‘‘ ہوتے ہیں یعنی’’جعلی‘‘کئی چہروں والے،اْن کا اصل چہرہ نظرا;63;تا ہی نہیں ،اْن کا کون سا چہرہ اصلی ہے کون سا نقلی،کئی پردوں میں چھپے وہ روشن خیال بھی بنتے ہیں ،موڈریٹ بھی کہلاتے ہیں ،اصل میں اْنہیں ’’رجعت پسند‘‘کہا جائے تو بہترہے،قدیم رسم ورواج اور قدیم نظریات کے پیروکار، ایسےفنکار جو موقع ملتے ہی’’لبرلز‘‘کی شناخت اپنےنام کرنے میں ذرا دیرنہیں لگاتے،نام کے روشن خیال صرف پاکستان میں ہی نہیں ہوتے،دنیا کے کئی معاشروں میں ا;63;پ کو کئی چہروں والے یہ بکثرت مل جائیں گے،جب چاہئیں ان سے کسی کی مداح سرائی اور توصیف کرالیں ،تنقید تو ان کے لبوں پر ہمہ وقت پھوٹ پڑنے کےلئے بے چین رہتی ہے، ہمارے ہاں آج کل ویسے بھی’’اظہارخیال‘‘ یعنی ’’اظہاررائے کی آزادی‘‘کا سکہ راءج الوقت ہے اِن ہی نام نہاد لبرلزکی جانب سے ان دنوں پاکستان ٹیلی ویڑن پر دکھائی جانے والے عوامی مقبولیت کے چرچے لیئے ایک ترک ڈرامہ سیریز’’ارطغرل غازی‘‘ اردو زبان میں منتقل کرکے ٹیلی کاسٹ کیا جارہا ہے اِس ترک ڈرامہ پر بڑی تنقید اور لے دے ہورہی ہے اوریہ تابڑتوڑ تنقید وتنقیص’’لبرل طبقات‘‘کی جانب سے سوشل میڈیا کے ذریعے اور اخبارات کے کالموں میں ہورہی ہے اِن سب کا مطمعِ نظریہ ہے کہ ’’ہ میں اپنے ہاں کی کہانیوں پر ڈرامہ بنانا چاہیئے ہماری کہانیوں کی جڑیں ہماری زمین سے جڑی ہوئی ہونی چاہئیں باہر کے ڈراموں سے ہمارا کیا تعلق;238;یاد رہے ترک ڈراموں کو ملک میں دکھانے پر سیخ پا ہونے والے یہ وہ ’’لبرلز‘‘ہیں جو شدید نسیان یعنی بھولنے کی بیماری کے مریض معلوم دیتے ہیں ، بھول گئے وہ دن وہ زمانے غالباً دس برس پیشتر’’امن کی ا;63;شا‘‘ کے نام پر ملک بھر میں ایک زوردارثقافتی تحریک چلائی گئی تھی عوام کو اپنے دباو اور پریشر میں لایا جارہا تھا کہ ’’فن اورثقافت‘‘کی کوئی سرحد نہیں ہوتی چاہے سرحد کے اِس پاریا اْس پارایک ہی جیسا سماجی ماحول ہے مشرقی سرحد پارکے گیت ہمارے،ہماری جیسی موسیقی،ہمارا جیسا رہن سہن، ان’’لبرلز‘‘کووہ سب منظورتھا لیکن اس طرف اسلامی دنیا کے ہیرو جنہوں نے اپنی ملی حمیت کے میدان میں اگر کوئی کارہائے نمایاں انجام دئیے اوراسلامی تاریخی حمیت کے پرچم لہرائے آج وہ غیر اور اجنبی قرارپاگئے کیوں بھئی،تقسیم پند سے قبل غیر منقسم ہند میں انیس سواٹھارہ سے انیس سو پچیس تک بہت ہی ایمانی جوش اور جذبہ کے ساتھ سلطنت عثمانیہ کے حق میں چلائی جانےوالی تحریک خلافت کا تذکرہ کہیں سننے میں نہیں آتا کسی کو علم ہے کہ مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی جوہرکون تھے وہ بھی تو ہمارے ہیرو تھے اْن عظیم اور نابغہ روزگاراپنے زمانے کے سب سے ذہین اور فطین شخصیات دین داری اور ایمانداری شائد ہی کوئی اْن کے ہم پلے ہو;238; یہ بھی توہمارے ہیرو تھے ذرا ترکی میں جاکر کوئی ان شخصیات کا نام تو لے ترک مسلمان فوراً مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی جوہر کا نام سنتے ہی احتراماً جھک جاتے ہیں ترکی کے دانشورغیر منقسم ہند اوراب آزاد وخود مختارمسلم ریاست پاکستان کے مسلمانوں کو قدرومنزلت کی نگاہ سے جو احترام دیتے ہیں وہ دنیا سے خصوصاً امریکا،مغرب، اسرائیل اوربھارت سے ہضم نہیں ہورہا کاش! ہ میں ہماری ملی تاریخ صیحیح پڑھائی جاتی توہماری نئی نسل کو علم ہوتا یہاں اسی حوالے مشہورنومسلم مصنف ومترجم قرآنِ پاک محمد مارک ڈیوک پکتھال سابق ایڈیٹر ممبئی کرانیکل نے ڈاکٹر سید محمود کی کتاب’’خلافت اور اسلام‘‘کے دیباچہ لکھا ہے’’مذہب اسلام حیات انسانی تہذیب کا مکمل قانون ہے اور تہذیب و شائستگی کا مخزن ہے جو ابھی تک اپنے عروج کو نہیں پہنچا خدا کے قوانین جو بنی نوع انسانی پرکلیتاً حکمراں ہیں اوروہ قوانین جن کی پابندی پر انسانی زندگی کی اخلاقی ترقی مبنی ہے سوائے قرآن شریف کے اور کسی کتاب میں صراحتاً موجود نہیں ہے ۔ اسلامی تہذیب قوانین الٰہی پر مبنی ہے ۔ خلیفہ اس کا دینوی سردار ہے، خواہ اہل عرب ہوں یا غیر اہل عرب ۔ خواہ اس کا دارالحکومت بغداد ہو، مدینہ ہو یا قسطنطنیہ، اوراسلامی تہذیب اور ترقی کا مرکز’’مرکزِ خلافت‘‘ کے ساتھ ساتھ رہتا ہے‘‘ترکی کے صدر طیب اردگان دنیائے اسلام کے وہ واحد لیڈر ہیں جنہوں نے دشمنان اسلام کا ناطقہ بند کررکھا ہے ترکی کے صدرطیب اردگان نے بھارت کو شٹ اپ کال دی ہوئی ہے کہ وہ بھارت مسلمانوں کے خلاف اپنی معاندانہ روش تبدیل کرئے اور مقبوضہ کشمیر کے حق میں اْنہوں نے کسی لگی لپٹی کے بغیرمقبوضہ وادی کے مسلمانوں کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اعلان کیا یہ سب ممکنات باہمی ثقافتی میل جول کو وسیع تناظرکے پس منظرسے ہی بروئے کار لائی جاسکتی ہیں ترک ڈرامہ ’’ارطغرل غازی‘‘پاکستان کے لاکھوں مسلمانوں کو ہی اپنا دلدادہ نہیں بنایا بلکہ دنیابھر کے مسلمانوں نے اپنے ماضی کے شاندار نشا الثانیہ کے اس پْرجوش ایمانی جذبوں سے سرشارڈرامہ کے کرداروں کی تمثیلات کو اپنے ذہنی وفکری خیالوں میں اگر بسانا شروع کردیا ہے تو یقینا یہ ایک بڑی’’ثقافتی تبدیلی‘‘کے خوش آئند اثرات ثابت ہونگے ترکی پاکستان دوستی پر مزید کچھ کہنے سے قبل یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ آج اس عہد میں جہاں نفسانفسی کا ایک عالم ہے وہاں ہ میں ہر قسم کے تعصبات سے بالاتر ہوکر پہلے اپنے اندر سے بغض وعناد اورکھوٹ اور نفاق کو نکال کر اپنی شخصیت کو اس قدر بہتر بنانا چاہیے کہ ہم دیگر مسلم اقوام کے ساتھ باہم اتفاق، اخوت و بھلائی،بھائی چارے اورامن و سلامتی کے فروغ کےلئے اپنا اپناکردار ادا کرنے والے بن جائیں ، ترک اور پاکستانی عوام کے درمیان وفاداری، دیانتداری، سچائی اوراللہ تعالیٰ کی تابعداری اورزیادہ سے زیادہ مضبوط ومستحکم ہوجائے تو دونوں برادر اسلامی ملکوں کے عوام اس ملی رشتے کووقت کے ساتھ ساتھ مضبوط سے مضبوط تر کرنے کے سفرکو انشا اللہ ضرورطے کرلیں گے ’’ارطغرل غازی‘‘ کے ملکی معترضین کی خدمت میں عرض ہے ’’دیکھیں جناب ہم پاکستانی قوم شاعرمشرق علامہ اقبال کو اپنا قومی شاعر تسلیم کرتے ہیں جبکہ ترقی دانشور اور ماہرین تعلیم کا ماننا ہے کہ ’’علامہ اقبال پاکستان کے ہی نہیں بلکہ ترکی کے بھی قومی شاعر ہیں ترک عوام علامہ اقبال کو اپنا آئیڈیلسٹ اوراپنے شاندار مستقبل کے قائد کا درجہ دیتے ہیں جب شاعرایک تو پھر ثقافت بھی ایک ہوئی ترک دانشورکہتے ہیں کہ علامہ اقبال کے خیالات و تصورات بالکل ہم ترکوں جیسے ہیں یعنی جس طرح ہم لوگوں کا انداز فکر ہے جو احساسات اورولولے ہمارے دلوں میں ہیں ہ میں لگتا ہے علامہ صاحب کی شاعری بھی انھی کی ترجمانی کرتی ہے مثال کے طور پر اقبال نے جن خصوصیات کی وجہ سے’’شاہین‘‘ کو پسند کیا یعنی بلند پروازی، خودداری، اپنے مقاصد کو فوری طورپر پا لینے کا جذبہ اورسب سے بڑھ کر آزادی یہ سب خصوصیات ترک بھی اپنے اندر دیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں ’’ شاہین‘‘ کبھی شکست خوردہ نہیں ہوتا اور ترک بھی عام طور پر شکست برداشت نہیں کرتے اورحوصلہ نہیں ہارتے یہ سب وہ خصوصیات ہیں جو کئی صدیوں سے ہمارے اندر چلی آرہی ہیں ’’ارطغرل‘‘ ترکی کے دو لفظوں سے مل کر بنا ہے جس کے معنی ہیں ’’عقاب‘‘ اور’’عقاب‘‘ کبھی شکست کامنہ نہیں دیکھتا دنیا کو پیغام پہنچنا چاہیئے کہ ’’ پاکستان اورترکی یک جان ویک قالب ہیں ‘‘ ۔