- الإعلانات -

بھارت اور اسکے آرمی چیف ہوش کے ناخن کیوں نہیں لیتے

بھارتی عزائم خطے کی سلامتی اور امن کے لئے سخت خطرہ ہیں پاکستان نے عالمی برادری سے نوٹس لینے پر زور دیا ہے ۔ دفترخارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں بھارتی ;200;رمی چیف کے پاکستان مخالف بیانات اور دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس طرح کے بیانات بھارتی حکومت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال سے توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش ہے‘‘ ۔ یہ بات درست اور حقیقت پر مبنی ہے کہ مقبوضہ کشمیر بھارت کے گلے کا پھانس بنا ہوا ہے اور تحریک ;200;زادی کو بدترین لاک ڈاوَن سے بھی نہیں دبایا جا سکا ہے اور وہ کئی ہتھکنڈوں کے ذریعے تحریک ازادی کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ بھارت کشمیریوں کے جائز حق خود ارادی کو دہشت گردی سے جوڑنے میں ہمیشہ ناکام رہے گا ۔ ایک طرف کورنا وائرس سے کشمیریوں کو ڈرایا جا رہا ہے تو دوسری طرف ماروائے عدالت کارروائیوں سے کشمیریوں کے حوصلے پست کرنے کے حربے ;200;زمائے جا رہے ہیں ، جس سے کوروناوائرس کی وبا کے دوران بھارتی حکومت کا مسلم دشمن چہرہ مزید پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہوا ہے کیونکہ متاثر ہونے والے کشمیریوں کو طبی سہولیات سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کے علاوہ بھارت کے اندر دوسرے شہروں میں بھی مسلمانوں اور کشمیری طلبا کو کوویڈ 19 کے علاج کے لئے ضروری سہولیات میسر نہیں ہیں ۔ بھارتی سرکار کے قائم کردہ قرنطینہ سنٹرز میں مسلم شہریوں کے کورونا ٹیسٹ تاخیر سے کئے جاتے ہیں اور کورونا ٹیسٹ کروانے والے مسلمانوں کو ٹیسٹ کے نتاءج سے بھی ;200;گاہ نہیں کیا جاتا ۔ امریکہ نے بھی ہندوستان میں کوویڈ19 کے شکار مسلمانوں کے ساتھ حکومتی نا انصافی اور مسلمانوں سمیت دوسری اقلیتوں کے شہریوں کو ہراساں کرنے کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی ملک میں اقلیتوں کو کورونا وائرس کے پھیلاوَ کا ذمہ دار قرار دینا متعصبانہ پالیسی ہے ۔ واشنگٹن میں اعلیٰ امریکی عہدیدار نے ہفتہ کے روز میڈیا بریفنگ میں کہا کہ امریکہ کو کوویڈ 19کی وبا سے متعلق بھارتی حکومت کے بیان پر تشویش ہے کیونکہ ہندوستان سے ایسی خبریں مل رہی ہیں کہ وہاں پر مسلم اور اقلیتی کمیونٹی کے ساتھ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران شدید تعصب کا مظاہرہ کیا جارہاہے ۔ بین الاقومی مذہبی ;200;زادیوں کے لئے سفیر ایٹ لارج نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بھارت میں کورونا وائرس کے پھیلا وَکا ذمہ دار قرار دیکر مسلمانوں پر ہونے والے حملوں کی رپورٹوں پر بھی اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ۔ مقبوضہ کشمیر کے ضلع بڈگام کے علاقہ چڈوارا میں قرنطینہ سنٹر کے احاطہ میں گزشتہ روز بھی بھارتی پولیس کے اہلکاروں نے ایک مسلمان لڑکی کو زدوکوب کرکے زخمی کر دیا ۔ متاثرہ مریضوں کے لواحقین کا کہنا ہے یقینا وہ درست کہہ رہے ہون گے کہ بھارتی حکام جان بوجھ کر ہم مسلمان مریضوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھے ہوئے ہیں ۔ بھارتی حکومت کی متعصبانہ پالیسی کے خلاف احتجاج کرنے والی ایک مسلمان لڑکی پر پولیس اہلکاروں نے تشدد کیا ۔ تشدد کے اس وقوعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکی ہے جبکہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی دوسری ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ پولیس اہلکار کشمیریوں پر تشدد کرتے ہوئے ان کاپیچھا کررہے ہیں یہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد مقامی لوگوں نے مسلمانوں کے ساتھ جاری متعصبانہ روش کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی فورسز کی بربریت کےخلاف نعرہ بازی کی ۔ یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ بھارت میں سر عام مسلمانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے عالمی ادارے بھی اس امر کی نشاندہی کرا رہے ہیں لیکن مودی حکومت کی ہٹ دھرمی میں ’’ سرِ مو‘‘ کمی واقع نہیں ہو رہی ۔ مقبوضہ کشمیر میں کورونا وائرس کی بڑھتی ہوئی وبا کے بعد مقبوضہ کشمیر کا پورا خطہ حساس سمجھا جا رہا ہے جبکہ لاک ڈاوَن کی وجہ سے انٹرنیٹ کی بندش سے معلومات تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے مقبوضہ وادی کے لوگوں کو کورونا وائرس سے بچاوَ کےلئے ;200;گاہی بھی نہیں مل رہی ۔ اسی طرح سینکڑوں کشمیری ہندوستان کے دوسرے علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں جن کے انخلا میں بھارتی حکومت غیر معمولی تاخیر کررہی ہے ۔ کئی کشمیری طلبا دو ماہ سے مختلف یونیورسٹیوں میں اذیت سے دوچار ہیں اور وہ اپنے گھروں کو بھی واپس نہیں جا سکتے ۔ طلبا،اور اساتذہ بھارتی سرکار اور مقبوضہ کشمیر کے حکام سے اپنی واپسی کے انتظامات کرنے کی بار بار اپیل کر رہے ہیں ۔ پاکستان نے بھی بھارت سرکار سے بار بار مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں عائد مواصلاتی پابندیوں کاخاتمہ کرکے کورونا وائرس کے پھیلاوَ پر قابو پانے کے لئے فوری عملی اقدامات اور کشمیریوں کو درپیش مصائب کا تدارک اور مقبوضہ وادی میں عائد ناروا پابندیوں کو ختم کیا جائے ۔

ملک دشمن عناصرکسی رُو رعایت کے حقدار نہیں

پاکستان میں سرگرم بھارت کی خفیہ ایجنسی را نیٹ ورک کا نیٹ ورک بہت حد تک اکھاڑ پھینکا گیا ہے تاہم ابھی تک کچھ باقیات موجود ہیں جس کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں ۔ گزشتہ روز بھی ایف ;200;ئی اے کاوَنٹر ٹیررزم ونگ کراچی نے ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے اسپیشل برانچ پولیس کے اے ایس ;200;ئی کو گرفتار کر لیا ۔ ایف ;200;ئی اے کے مطابق اے ایس ;200;ئی مصور نقوی’را‘ سلیپرسیل کا اہم رکن ہے ۔ ملزم کراچی ایئرپورٹ پر سرویلنس یونٹ میں ڈیوٹی کر رہا تھا ۔ ملزم 1991 میں سندھ پولیس میں بھرتی ہوا اور محمود صدیقی کی ہدایت پر اسے رقم فراہم کی جاتی تھی ۔ ملزم 2008 میں ٹریننگ کے لیے انڈیا بھی جا چکا ہے اور ایئرپورٹ پر ساتھیوں کی ;200;مدورفت میں سہولت کاری کرتا تھا ۔ ملزم ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھی ملوث رہا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اس کا تعلق ایم کیوایم لندن سے ہے ۔ کراچی پولیس کا ایک اے ایس ;200;ئی پہلے بھی گرفتار کیا جا چکا ہے ۔ یوں اب تک ایسے ملک دشمن چھ مبینہ ملزمان گرفتار کیے جا چکے ہیں ۔ پاکستان کے سکیورٹی اداروں کی کامیاب کارروائیوں کا نتیجہ ہے کہ کراچی کا امن لوٹ آیا ہے اور دشمن کے عزائم ناکام ہو چکے ہیں ۔ تاہم اِکا دُکا سیلپر سیل محدود کارروائیوں کی کوشش کرتے ہیں جو کہ بروقت پکڑی جا رہیں ۔ بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے ،وہ اب بھی کوشش کررہا ہے کہ اس کا پھیلا یاگیا جال متحرک ہو ۔ ایسے عناصر کو اندورن ملک کے علاوہ بیرون ملک سے بھی مدد فراہم کی جاتی ہے ۔ اندورن ملک کئی ایسے عناصر اب موجود ہیں جو بھارت کی خفیہ ایجنسی کے سہولت کار ہیں اور انہوں نے مختلف روپ دھا ر رکھے ہیں ۔ بعض این جی اوز کے روپ میں بعض سیاسی لبادہ بھی اُڑھے ہوئے ہیں اور ان کام قبائلی علاقوں میں بدامنی پھیلانا ہے ۔

گلگت بلتستان میں سیاسی استحکام وقت کا تقاضا ہے

صدر مملکت عارف علوی نے گلگت بلتستان میں نگران حکومت کی تشکیل اور وہاں الیکشن ایکٹ 2017 میں توسیع کے لیے حکم جاری کردیا ہے ۔ صدراتی حکم میں کہا گیا کہ شفاف اور منصفانہ انتخاب کے انعقاد کے لیے گلگت بلتستان میں نگران حکومت بنانے کے لیے قوانین فراہم کرنا ضروری تھا ۔ صدراتی حکم کے ذریعے اس میں نیا ;200;رٹیکل 48 اے شامل کیا گیا ہے ۔ الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت پاکستان میں نافذ تمام قوانین گلگت-بلتستان میں بھی اپنائیں جائیں گے ۔ صدارتی حکم نامے میں کہا کہ اگر اس ;200;رڈر کی کسی شق کو عملی شکل دینے میں مشکل پیش ;200;تی ہے تو صدرِ پاکستان ;200;فیشل گزیٹ میں نوٹیفائی کرتے ہوئے ایسے دفعات بناسکتے ہیں جو وہ مشکل ختم کرنے کےلئے مناسب سمجھیں ۔ گلگت بلتستان اسمبلی کی 5سالہ مدت اگلے ماہ24 جون کو مکمل ہوجائے گی ۔ اب جی بی اسمبلی کے انتخابات وقت پر ہوں گے، نگران حکومت کی تشکیل کے بعد 2 ماہ کے اندر انتخابات کروائے جائیں گے ۔ جی بی میں جمہوری عمل کے تسلسل سے اس خطے کے مسائل میں روز بروز کمی آ رہی ہے ۔ گلگت بلتستان وہ علاقہ ہے جو اپنی جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے بھارت کو کھٹکتا ہے ۔ اور نت نئے سازشی پلان مرتب کر کے اس علاقے کے امن کو تہہ و بالا کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ دوسری طرف جب سے یہ علاقہ سی پیک کا روٹ بنا ہے بھارت کی تو جیسے دم پر کسی نے پیر رکھ دیا ہے ۔ اس لئے یہاں کا سیاسی استحکام پاکستان کو بہت عزیز ہے ۔