- الإعلانات -

قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا

ہاز میں جب تک سوراخ نہ ہو جائے اس وقت تک سمندر کا پانی اس کو ڈبو نہیں سکتا اس طرح اگر اپنے دل و دماغ کے دروازے مزموم خیالوں پر بند رکھے جائیں تو انسان کبھی رنج میں ڈوب نہیں سکتا جس قوم کو بھی تاریخ میں عروج حاصل ھوتا ھے اور جو قوم بھی پائیدار نقوش تاریخ کے صحرا میں ثبت کرتی ہے ۔ اس کے لیئے ضروری ہے کہ وہ اپنے مقصد کا عشق رکھتی ھو اس کے سامنے کوئی نصب العین ہو ، وہ عزم کی صفت سے بہرہ ور ھو ۔ انسانیت کی بھلائی اور خیر کے کاموں میں سبقت لے جانے والی قوموں نے دنیا میں عروج پایا ھے ایسے ادارے ، تنظی میں اور این جی اوز جو انسانیت کے لیئے نفع بخش اور فیض کے اسباب بناتی ہیں ان کا نام تاریخ میں ہمیشہ ;200;ب زر سے ہی لکھا جائے گا ۔ پاکستانی قوم کو اپنی فلاح و اصلاح کےلئے کوئی ایسا سربراہ نہیں ملا جو انہیں مصائب و ;200;لام کے سمندر سے نکال کر خوشحالی کے ساحل پر لے ;200;ئے ۔ مصیبت میں بھی ھوس پرستوں اور سیم و زر کے پجاریوں نے اپنی ذات کےلئے تجارتی بنیادوں پر نفع بخش کام کو ترجیح دی اور انہوں نے کسی کو بھی معاف نہیں کیا ۔ حالیہ کورونا وار کی ;200;ڑ میں جو راز مسیحاءوں کے لباس میں ملبوس بھیڑیوں کے افشا ہوئے ہیں اور انہوں نے مجبور و مظلوم مریضوں کو جس طرح دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے پاکستان کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی ۔ ایسا ہوس پرست مسیحا جس کے ان کارناموں کی صدائے باز گشت نے چنگیز و ہلاکو کی روحوں کو بھی قبروں میں شرمندہ کر دیا اور وہ بھی ایسا ظلم ایجاد کرنے والوں کو اپنا مسیحا مان گئے ہیں اور خراج تحسین پیش کر رہے ہیں کہ دامن پہ نہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ ۔ تم قتل کروہو کہ کرامات کرو ہو ۔ کورونا وار میں حفظان صحت کی سرحدوں پر اپنی جانیں ہتھیلیوں پر رکھ کر لڑنے والے مسیحاءوں کو پوری قوم سلام پیش کرتی ہے اور ڈاکٹر مہا نسیم ، ڈاکٹر یمنا ، ڈاکٹر انوار احمد بگوی ، ڈاکٹر سعید الٰہی اورہمارے مسیحائے ملت ستارہ امتیاز ڈاکٹر ;200;صف محمود جاہ ، اشفاق احمد ، جہانگیر اور فاروق تسنیم کی فرض شناسی کی بلائیں لینے کو جی چاہتا ہے جنہوں ;200;زمائش کی گھڑی میں قوم کو تنہا نہیں چھوڑا اور ;200;سائش کے سامان فراہم کیئے ۔ مگر اسی پیشہ سے تعلق رکھنے والے نجی شعبہ کے زر پرستوں نے ایک ایک سانس کی گراں بہا قیمت وصول کی ایسے ہسپتالوں کو سیل کر دینا چاہیے جہاں مجبوروں کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھایا جا رہاہے اور مسیحائی کی جو طرز ایجاد کی ہے وہ اس ہسپتال کی انتظامیہ کے بدتمیز اور ٹھنڈے چہرے پر ایک زناٹے کا طمانچہ ہے اور مریض گنگنا اٹھتا ہے ۔

کہ اپنے دیوانے کی یہ ;200;خری تدبیر بھی دیکھ

ملک الموت سے کہتا ہے کہ مسیحائی کر

ایک رونا کرونا کا ایکسپو سنٹر بھی رویا جا رہا ہے جہاں نوے کروڑ روپے کے اخراجات سے قرنطینہ مرکز ;200;راستہ کیا گیا ہے اور تین بار وہاں کورونا کے مریض شدید ترین احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں تک ;200; گئے ہیں ۔ ابھی ممتاز تجزیہ نگار صحافی حسن نثار نے روتے ہوئے ایکسپو کے اندر ہونے والی جبری کرونا لڑائی کا منظر پیش کیا ہے وہ بہت گبھرائے ہوئے تھے اور مظلوموں کی داد رسی چاہتے ہیں ۔ اس ظلم و زیادتی سے کون نجات دلائے گا ۔ وقار ندیم وڑاءچ جیسا باثر شخص بھی ڈی ایچ اے کے اس ہسپتال کے مسیحاءوں کے چرکوں سے نہ بچ سکا اور وہ ابھی تک اپنی خاندانی وجاہت اور اپنے گھر کے پانچ ڈاکٹروں کی موجودگی میں بھی اپنے بھائی کی چارہ سازی کی درست تصویر کا اندازہ نہ لگا سکے ۔ عام ;200;دمی اول تو وہاں سے گزرہی نہیں سکتا اگر وہ قابو ;200; گیا تو بس پھر گیا ۔ وقار ندیم وڑاءچ کے بھائی کو وہاں سترہ لاکھ روپے کی ادائیگی کے بعد رہائی ملی ۔ بہت اچھی حالت میں داخل ہوئے تھے بہت بری حالت میں ڈسچارج ہو کر بیدیاں روڈ پر ایک ہسپتال جہاں ہمارے دوست جاوید نواز صاحب کے بھائی ڈاکٹر خالد نواز کلیدی عہدے پر فائز ہیں ۔ ڈی ایچ اے کے اس ہسپتال میں جو وقار ندیم وڑاءچ صاحب کے خاندان پر بیتی اس کرب کو فاروق تسنیم نے جس شدت سے محسوس کیا اور اس نا انصافی پر انہوں نے وقار ندیم وڑاءچ کے حلق سے نکلی ہوئی شکایت اور دل سے نکلی ہوئی ;200;ہ کو خلق تک پہنچا کر فلک الافلاک تک پہنچا دیا ۔ ;200;پ سوشل میڈیا کے بہت بڑے مشاق اور ماہر ابلاغ عامہ کے حوالے سے معروف ہیں انہوں نے وقار ندیم وڑاءچ کی شکایات کو جدید عہد کے ابلاغی ویپنز کے ذریعے افلاک سے ;200;گے اس کی باز گشت سنا دی ہے ۔ یہ کمال کا ہنر خفیہ در خفیہ ظلم و زیادتی کو عریاں کر دیتا ہے ۔ اس ہسپتال میں ان ڈاکٹروں نے بھی فیس وصول کی جو گھروں میں خود حفاظتی تدابیر کے قلعوں میں محفوظ ہیں ۔ مریض کے لواحقین کو بے خبر رکھنے والا عملہ اصل حالت کے بارے میں نہیں بتا سکتا ۔ مجھے تو ایسا محسوس ہو رہا کہ پورا عملہ اس اجتماعی جرم میں ملوث ہے اور یہ بات ان کے چہروں سے ہویدا ہے ۔ کورونا کا رونا رونے والوں میں یہی لوگ صف اول میں خوف و ڈر کا ماحول تخلیق کر رہے ہیں ۔ لاک ڈاءون میں جو حشر سفید پوش طبقے کا ہوا ہے وہی صورت حال امرا و روسا کی ہسپتالوں میں ہو رہی ہے ۔ شعیب بن عزیز نے بھی اس نا انصافی پر ;200;واز بلند کی ہے اور وہ لوگ جو متاثرین میں ہیں ان کے بھی پرانے زخم تازہ ہو گئے ہیں ۔ اسی طبقے سے تعلق رکھنے والے سفید پوش لوگ روزانہ کنواں کھود کر پانی پی رہے ہیں اور دوسری طرف انسانی زندگیوں پر تجارت کرنے والے موت کے سوداگروں نے وباء کی ;200;ڑ میں خوفناک صورت حال پیدا کر رکھی ہے یہ وبا اسی صورت میں ٹلتی ہے جب تم مالی طور پر مضبوط اور اثر و رسوخ میں مربوط ہوں ۔ وقار ندیم وڑاءچ کے ہم سب ممنون احسان ہیں جنہوں نے خوبصورت چہروں کی سیرت کا رخ تاریک دکھا دیا

رخ روشن کا نہ کوئی پہلو روشن نکلا

میں جسے چاند سمجھتا تھا وہ جگنو نکلا

دریں اثنا سوشل میڈیا پر وقار ندیم وڑاءچ کی اس پوسٹ پر ایکشن لیتے ہوئے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن ;200;فس سے ڈاکٹر ریاض نے مزکورہ ہسپتال کے خلاف کازروائی کرنے پر زور دیا ہے ۔