- الإعلانات -

بلوچستان میں بھارت کا منافقانہ پروپیگنڈابے اثر

کاش!تھوڑی دیر کےلئے پاکستانی اگر تسلیم کرلیں مثلاًایسا ممکن ہوجائے تصور کرلیں کہ ’’امریکا،مغرب اوراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پریشر میں آکر بھارت کی سیاسی اورملٹری لیڈرشپ پاکستان کے ساتھ سرحدی مسائل بشمول مقبوضہ وادی میں حقِ استصوابِ رائے کے جائز مطالبہ کومان لے،کشمیری مسلمانوں کو اْن کا پیدائشی آزادی کا حق دینے پر رضامند ہوجائے،سرکریک اورسیاچن کے تنازعات پراپنی ہٹ دھرمیوں کوختم کردے،بامقصد امن مذاکرات کاسلسلہ شروع کردے پاکستانی دریاؤں کے پانی کوروکنے جیسے بہانوں کووہ ترک کردے،پاکستان اورپاکستانی فوج کےخلاف اپنے معاندانہ اورکہنہ رویوں سے تا ئب ہوجائے،پاکستان کے بارے میں اپنی ازلی وابدی دشمنیوں کو یکسرختم کرڈالے، نئی دہلی کے حکمران جنوبی ایشیا میں جغرافیائی سلامتی کے بنیادی انسانی حقوق کے حقائق کوتسلیم کرنے پرآمادہ ہوجائیں ایسے انسان دوست اور انسان پرورمنظرنامہ کو دیکھ کر کسی شخص کے پاس یہ ماننے اوریہ کہنے میں کوئی عارکوئی جھجک باقی رہ جاتی ہے کہ پاکستان اور بھارت جنوبی ایشیا کے دونوں پڑوسی ملکوں کو نئی دہلی کے ان اقدامات کے بعد ایک اچھے پڑوسی ممالک کی طرح سے پْراعتماد ہوکر رہنا چاہیئے یعنی علاقائی امن کے لئے پاکستان اور بھارت کو اورکیا چاہیئے;238;‘‘ بھارت کے اعلیٰ تعلیم یافتہ،روشن خیال،اعتدال پسند،ذات پات کی قیدوبند سے بالاتر سیکولرطبقات،انسانی احترام پرصدق دل سے یقین رکھنے والے دانشور،مفکرین اورتبصرہ وتجزیہ نگار امن وامان کے علمبردارجن کی تعداد بھارت میں بہت زیادہ ہے، لیکن وہ یکجا نہیں ہیں ایسے انسانیت پَرور ہمارے لئے کل بھی واجب ا لا احترام تھے ، آج بھی ہیں ہم پاکستانی یہاں یہ سمجھتے ہیں ایک آزاد وخودمختارریاست پاکستان اور بھارت کے مابین قیام پاکستان کے فوراً بعد جو مسئلہ پیدا ہوا تھا وہ صرف ایک مسئلہ کشمیر تھا ،گزشتہ ستراکہتر برسوں میں نئی دہلی میں یکے بعد دیگرے آنے والی سیاسی قیادتوں نے اس ایک’مسئلہ کشمیر‘ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی رْو سے حل نہ کرنے کے حیلے بہانوں میں دیگر سرحدی مسائل خود پیدا کردئیے یہی نہیں بلکہ نئی دہلی کی اسٹبلشمنٹ نے ’مسئلہ کشمیر‘ کے ساتھ کئی اقسام کے گنجلک اور پیچیدہ مسائل مزید الجھا دئیے کالم کے ابتدا میں راقم نے اپنے جن تصورات کا اظہارکیا جوقارئین نے پڑھ لیا کہ’’کاش! یہ سب کچھ ممکن ہوجائے‘‘ہمارا ماننا ہے پاکستان اور بھارت کے مابین ازلی وابدی دشمنیوں کا یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا کیونکہ وہ تو’تقسیم ہند‘کے طے شدہ فارمولے کو ماننے پر کل تیار تھے نہ آج اور نہ کبھی وہ تقسیم ہند کو ماننے پر آمادہ ہونگے بھارت کا جغرافیائی حدود اربعہ آپ کے سامنے ہے ،بھارت کے مقابل پاکستان کا جغرافیہ دیکھ لیں ‘قیام پاکستان سے اب تک پاکستانی سیاست‘معیشت اورسماجی وثقافتی ناطاقتی کے اتارچڑھاوَ کے مظاہرنے کسی ایک مقام پر پاکستان کو مستحکم ملک رہنے نہیں دیا اس میں چند فوجی طالع آزماؤں کا بھی حصہ ہے ،کہاں کہاں ہمارے ان زعماؤں نے غلط فیصلے نہیں کیئے بھارت کو اْس کی اوقات دکھانے کے کتنے مواقع ضائع کردئیے گئے، بھارت نے پاکستان کو اپنی ژ ولیدہ فکر،ذہنی اور فطری براہمن برتری کی انّا میں ابتدا سے ہی قبول نہیں کیا تھا وہ اپنے سازشی کارڈ برابر یکسوی سے کھیلتا رہا اور دسمبرانیس سواکہتر کو مشرقی پاکستان میں دخل اندازی کا مرتکب ہوا پاکستان کودولخت کردیا رہاسہا پاکستان کا یہ حصہ بھی اْس سے تاحال برداشت نہیں ہورہا ،بارہا بھی اور بین السطور بھی لکھا جاچکا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین تمام تصفیہ طلب مسائل طے ہوبھی جائیں ، اِن سب کے باوجود پاکستان نئی دہلی کی آنکھوں میں سخت کانٹے کی طرح ہمیشہ کھٹکتا رہے گا،لہذاہ میں ماننا ہوگا کہ ہندوقوم پرستی کے علمبرداروں نے تقسیم ہند کو جیسے تسلیم نہیں کیا اْن سے یہ توقع رکھنا عبث ہے بلکہ ہندووَں کے خیال سے تقسیم کا وہ عمل غیرتاریخی عمل تھا اوراشتعال انگیزبھی‘اس لئے کہ اس سے نت نئی پیچیدگیاں کل بھی پیدا ہوتی رہیں آئندہ بھی پیدا ہوتی رہیں گی، جو کبھی بھی نہیں سلجھ سکیں گی، جب تک ہندوقومیت جو برصغیر کی اپنے آپ کو سب سے بڑی واحد طاقت سمجھتی رہی ہے وہ اپنے موجودہ جغرافیائی حدود میں پْرامن طور پر زندگی گزارنے پر کبھی راضی نہیں ر ہے گی ہم کیسے مان جائیں کہ وہ اپنے توسیع پسندانہ مقاصد کو نظرانداز کرنے پرراضی ہوجائے گی مطلب یہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں بھارت نے تہیہ کیا ہوا ہے پاکستان کو ہم نے تسلیم نہیں کرنا اور جنوبی ایشائی مسلمانوں کو کسی نہ کسی صورت میں اپنے زیرنگیں رکھنا ہے بھارت کے اس مذموم اورناپاک مقصد کی راہ میں اگرکوئی قوت اپنا یقینی وجود رکھتی ہے تو وہ صرف اور صرف پاکستان کے علاوہ افواج پاکستان کی صورت میں ایک ایسی ناقابلِ تسخیرسیسہ پلائی رکاوٹ ہے جسے عبور کرنا بھارتیوں کے بس کی بات نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ وہ ’’مطمئن‘‘ہے، اب نئی دہلی نے باقاعدہ جنگ کی بجائے ’’ففتھ جنریشن وار‘‘کے ایک اہم ٹول ’’سوشل میڈیا‘‘ کا سہارا لیا ہوا ہے کشمیری اور بھارتی نژاد مسلمانوں پر بھارتی جبروستم کیخلاف پاکستان سے جب کوئی موثر اور جاندار آواز دنیا کے ضمیروں کو جھنجھوڑنے کےلئے بلند ہوتی ہے تو بھارت کا مین اسٹریم میڈیا اور اْس کے سوشل میڈیا کے گودی متحرک ہوجاتے ہیں اور سب یکا آواز ہوکر ’’بلوچستان‘‘کی دہائیاں دینے لگتے ہیں ، سوشل میڈیا مادر پدر آزاد ایسافورم جس کی ذمہ داری کوئی نہیں لیتا ،اْس کی اطلاعات بوگس‘خیالی اورتصورات پر مبنی ہوتی ہیں یہاں یہ واضح کردیا جائے کہ بلوچستان پاکستان کا بہت حساس صوبہ ہے جہاں چین کے تعاون سے ’’گوادر پورٹ‘‘کی تکمیل کے مراحل جاری ہیں گوادر سے وسطی ایشیائی ریاستوں تک‘افغانستان تا واہ خان پٹی سے عوامی جمہوریہ چین تک ’’سی پیک‘‘کا میگا ترقیاتی منصوبہ دنیا بھر کی کشش کا توجہ بناہوا ہے ایسے میں بھارت نے بلوچستان کے چند سرداروں کے اوباش اورنافرمان لڑکوں کو ’’را‘‘کے پے رول پر مغربی ممالک میں بیٹھایا ہوا ہے چند لڑکیوں کے نام بھی سامنے آ رہے ہیں یہ سب کے سب باہم یکا آواز ہوکر بلوچستان کے دوردراز اور پسماندہ علاقوں میں عوامی فلاح وبہبود کی سرگرمیوں میں مصرف عمل پاکستانی افواج پر بے بنیاد،لغو،من گھڑت اور واہیات الزاما ت لگاکربلوچی عوام کوپاکستانی فوج سے متنفرکرنے کی اپنی سی باطل واہی تباہی کی بے کار داستانوں کا اسیربنانے کی ناکام کوششیں کرتے سنائی دیتے ہیں ، سوشل میڈیا کی ایسی آوارہ مزاج خبروں کا سلسلہ نئی دہلی کی نئی منافقانہ چالوں میں سے ایک چال ہے جینوا میں ’’را‘‘کے حصار میں ایکٹویسٹ نائلہ بلوچ قادری نے اپنی ایک بہت ہی بہیودہ،فضول اور پوچ گفتگو میں بلوچستان میں انسانی ترقی کے امور میں مصروف پاکستانی فوج پر جوالزامات لگائے اْن کی قلعی امریکی سینٹرل کمانڈ(سینٹکام) نے اپنے ویڈیو پیغام میں کھول کررکھ دی ہے جس کے بعد دنیا کو معلوم ہوگیا ہے ’’بلوچستان میں علیحدگی کی کوئی تحریک نہیں چل رہی یہی نہیں بلکہ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان نے پالیسی بیان جاری کرتے ہوئے یہ اعلان کردیا کہ امریکی محکمہ خارجہ نے بلوچستان لبریشن آرمی کودہشت گرد تنظیم قراردے دیا ہے اب اس کالعدم تنظیم کی جو بھی معاونت کرے گا وہ دہشت گردوں کی معاونت کررہا ہوگا،یعنی کالعدم بی ایل اے کا سہولت کارتصورکیا جائے گا، پاکستانی فوج کا نام لے کر اپنی لغویات نما بکواسیات کرنے والوں کو فی الفور ہوش کے ناخن لینے ہونگے ۔