- الإعلانات -

عالمی برادری بھارتی جارحیت کانوٹس لے

بھارت نے کبھی بھی پاکستان کے ساتھ دوستی نہیں کی، ہمیشہ پاکستان کے خلاف سازشیں ہی بُنتارہاہے ۔ پاکستان کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ بھارت کے ساتھ ٹیبل پربیٹھ کرمعاملات طے کرے مگربھارت مذاکرات پرکبھی رضامندنہیں ہوابلکہ کشمیر میں اس نے سفاکیت کی تمام حدیں عبورکردی ہیں جس پرکئی ممالک اور عالمی تنظیموں نے بھارت کے چہرے کوبے نقاب کیا ہے اس کے باوجود بھارت کے کان میں جوں تک نہیں رینگی ۔ اسی خدشے کومدنظررکھتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے دنیا کو متنبہ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کیلئے مودی سرکارپاکستان کے خلاف جعلی فلیگ آپریشن کی تیاریوں میں مصروف ہے مقبوضہ کشمیر میں مودی کا آر ایس ایس سے متاثرہ نظریہ بہت واضح ہے، غیرقانونی الحاق سے کشمیریوں کو ان کے حق سے محروم رکھنا، طاقت کا بہیمانہ استعمال اور غیر انسانی سلوک اس کی مثال ہے ۔ اتوار کو اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ کشمیر میں بھارت سہ رخی سوچ پر عمل پیرا ہے جس میں کشمیریوں کے خلاف طاقت کا بہیمانہ استعمال کیا جا رہا ہے، خواتین اور بچوں کے خلاف غیر انسانی ہتھیارپیلٹ گنز استعمال کی جا رہی ہیں ۔ بھارت نے کشمیر کا غیر انسانی لاک ڈاون کر رکھا ہے ۔ کشمیریوں کو خوراک اور ادویات جیسی بنیادی ضروریات سے محروم رکھا ہوا ہے ۔ بڑے پیمانے پر نوجوانوں سمیت کشمیریوں کو قید رکھا گیا ہے اور مواصلات کے تمام ذراءع معطل کرکے کشمیر کو دنیا سے الگ تھلگ کر رکھا ہے، بھارت کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی قرار دینے کی کوشش کر رہاہے ۔ ایک اور بیان میں عمران خان نے کہا کہ مسلمان کی قوت اس کا ایمان ہے ۔ پاکستان کے ساتھ بھارت کا اولین اور بنیادی یہی تنازعہ ہے کہ اس کی تشکیل سے اس کے پورے خطہ پر غلبہ حاصل کرنے والے توسیع پسندانہ عزائم پورے نہیں ہو سکے ۔ دوسری جانب قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے منتظم شیر محمد عباس استنکزئی نے کہا ہے کہ بھارت نے افغانستان میں ہمیشہ غداروں کی مدد کی ہے ۔ بھارت کا افغانستان میں کردار ہمیشہ منفی رہا ہے ۔ اگر بھارت افغانستان میں مثبت کردار ادا کرے تو افغان طالبان کو کوئی مسئلہ نہیں ہو گا ۔ آج پوری دنیا کورونا کے باعث جمود کی کیفیت میں ہے ۔ اس وقت ہر ملک کی نظر اس موذی وائرس سے نجات اور اس کے تدارک پر ہے مگر بھارت اس نازک دور میں بھی پاکستان اور مسلمانوں کے ساتھ دشمنی اور کشمیریوں پر بربریت و سفاکیت سے باز نہیں ;200;رہا ۔ بھارت کے اندر مسلمانوں کو کورونا کے پھیلاءو کا ذمہ دار قرار دے کر ان سے امتیازی اور متعصبانہ سلوک کیا جا رہا ہے ۔ ادھر مقبوضہ وادی میں کشمیریوں کو کورونا سے بچانے کےلئے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے ۔ کشمیریوں کے انسانی حقوق بری طرح پامال کئے جا رہے ہیں ۔ اظہار رائے سمیت ان کی ہر قسم کی ;200;زادی سلب کر لی گئی ہے ۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور میڈیا نمائندوں کو وادی میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ۔ لوگوں کے لئے ہسپتالوں تک رسائی ناممکن بنا دی گئی ہے ۔ مرنیوالوں کو قبرستان تک بھی نہیں لے جانے دیا جاتا ۔ ایسی سخت پابندیوں کے باعث مقبوضہ کشمیر میں انسانی المیہ بدترین شکل اختیار کر چکا ہے جس میں کرونا وائرس مزیداضافے کا سبب بن سکتا ہے ۔ بھارت میں ایک طرف مسلمانوں کو تعصب کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تو دوسری طرف کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں بھارت کا ہمیشہ سے رویہ چور مچائے شور کارہا ہے ۔ پاکستان مسلسل عالمی برادری کو بھارتی عزائم سے ;200;گاہ کرتا چلا ;200; رہا ہے ۔ مودی نے گزشتہ سال 5 اگست کو بھارتی ;200;ئین کی دفعات 370 اور 35 اے پر کھلواڑ کیا جس کیخلاف دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑی اور سلامتی کونسل نے بھی کشمیر سے متعلق اپنی قراردادیں مودی سرکار کو یاد دلا ئیں ۔ چنانچہ اس عالمی دباءو سے بچنے کیلئے بھارت نے پینترا بدل کر پاکستان پر مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں ہونےوالی دہشت گردی کا ملبہ ڈالنا شروع کر دیا جو کشمیر کے حوالے سے اس کی شروع دن کی پالیسی ہے جس کی بنیاد پر وہ پاکستان پر دہشت گردوں کے سرپرست کا اقوام عالم سے لیبل لگوانا چاہتا ہے ۔ مگر اس کے تمام جنونی عزائم اب دنیا میں بے نقاب ہو چکے ہیں ۔ پاکستان نے ماضی میں متعدد بار بھارتی جھوٹ دنیا کے سامنے بے نقاب کئے ۔ اب بھارت کے جارحانہ رویوں کے باعث نوبت جنگ تک پہنچ سکتی ہے ۔ دو ایٹمی قوتوں کے مابین جنگ کرہ ارض کی تباہی کا باعث بھی بن سکتی ہے ۔ لہٰذا خطے اور عالمی امن کےلئے مسئلہ کشمیر کا پرامن حل ضروری ہے ۔

ٹرانسپورٹرز کے تحفظات دورکئے جائیں

حکومت پنجاب نے صوبے میں جمعۃ الوداع اور عیدالفطر کی نماز کیلئے مشروط اجازت دیدی، جبکہ 26 صنعتیں ، شاپنگ مالز اور پبلک ٹرانسپورٹ کھل گئی لیکن پنجاب کے ٹرانسپورٹرز نے حکومتی شرائط کے ساتھ بسیں چلانے سے انکار کردیا ہے،پبلک ٹرانسپورٹ فیڈریشن کا کہنا ہے کہ 50 فیصد مسافر اور 20 فیصد کم کرایہ کیساتھ بسیں نہیں چلا سکتے، پنجاب حکومت ہم سے مذاکرات کرے،ادھر خیبر پختونخوا میں پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت ہوگی جبکہ آزاد کشمیر میں عید تک ٹرانسپورٹ بند رہے گی، سندھ میں تاجروں نے صوبائی حکومت کی پابندیوں کو ماننے سے انکار کردیا ہے، تاجر رہنماءوں نے کہا کہ عید میں صرف 6دن ہیں ، کاروبار مکمل طور پر 24گھنٹے کھولنے کی اجازت دی جائے، جسے صوبائی حکومت نے مسترد کردیا جس پر تاجر رہنماءوں نے کہا کہ چاند رات تک تاجر کاروبار 24گھنٹے تک کرینگے، گرفتاری دینی پڑی تو دینگے، صوبائی وزیر سعید غنی کا کہنا تھا کہ ایس اوپیز کی خلاف ورزی ہوگی تو مارکیٹیں سیل ہونگی ۔ حکومت کی طرف سے عوام کو ایس او پیز پر عمل کرنے کی تنبیہ کی گئی مگر اس کے خاطر خواہ نتاءج سامنے نہیں ;200;ئے ۔ لاک ڈاءون نرم ہوتے ہی بازاروں اور مارکیٹوں میں رش ہو گیا مگر کہیں سے بھی ایسی بے احتیاطی کے سنگین حالات سامنے نہیں ;200;ئے ۔ اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ایس او پیز کی خلاف ورزی کو عوام معمول بنا لیں اور متعلقہ ادارے بھی خاموش رہیں ۔ لاک ڈاءون میں نرمی کے لئے جو قواعد وضع کئے گئے ان پر ہر صورت سختی سے عمل کرنا اور کرانا ہو گا ۔ ٹرانسپورٹ کے جو بھی تحفظات ہیں ان کوحل کیاجائے تاکہ ٹرانسپورٹ کاشعبہ بھی بحال ہو اورلوگ سفرکرسکیں ۔ حکومت عوامی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے مختلف شعبے کھول رہی ہے اس لئے کورونا سے نجات محض احتیاط ہی میں مضمر ہے ۔ اگر عوامی سطح پر حکومت کے جاری کئے گئے قواعد و ضوابط پر عمل نہ ہوا تو کورونا بے قابو ہو سکتا ہے جس کے باعث مکمل لاک ڈاءون کی نوبت ;200; سکتی ہے جس سے محفوظ رہنے کے لئے ہر شہری کو اپنا کردار ادا کرنا ہے ۔

افغانستان میں شراکت اقتدارکامعاہدہ خوش آئند

افغانستان کے صدر اشرف غنی اور ان کے سیاسی حریف عبداللہ عبد اللہ کے مابین شراکت اقتدار کے معاہدے پر دستخط ہوگئے ۔ معاہدے کے تحت عبداللہ عبداللہ، طالبان کے ساتھ مستقبل میں امن مذاکرات کی قیادت کرسکیں گے ۔ اشرف غنی کے ترجمان نے ٹوئیٹر پر کہا کہ عبداللہ عبداللہ امن مذاکرات کےلئے کونسل کی سربراہی کریں گے اور ان کی ٹیم کے ارکان کابینہ میں بھی شامل ہوں گے ۔ ترجمان کی جانب سے کہا گیا کہ مزید تفصیلات جلد پیش کی جائیں گی ۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے افغانستان میں حالیہ پیش رفت کو خوش آئند قرار دیا ہے ۔ فریقین قیام امن کیلئے اپنی کوششیں نئے سرے سے شروع کریں ۔ پاکستان نے کابل میں افغان سیاسی رہنماءوں کے درمیان حکومت اور قومی مفاہمت کی اعلیٰ کونسل کے قیام کیلئے طے پانے والے معاہدے پر دستخط کاخیرمقدم کیا ہے ۔ اس نازک موڑ پریہ انتہائی اہم ہے کہ تمام افغان قائدین مل کر تعمیری انداز میں افغان عوام کے مفاد کیلئے کام کریں اور کئی دہائیوں کے تشدد اور تنازعات سے متاثرہ ملک میں دیرپا امن و استحکام لانے میں مدد کریں ۔ پاکستان نہ صرف افغانستان کا ہمسایہ ہے بلکہ دونوں ملکوں میں مذہبی، ثقافتی اور تجارتی رشتے بھی ہیں ، اِس لئے پاکستان افغانستان میں قیامِ امن کی بھرپور حمایت کرتا ہے جس سے افغان حکومت کو بھی فائدہ اٹھانا چاہئے ۔