- الإعلانات -

کلام شیریں پر خامہ فرسائیک

ادبی جمالیات کے بحر بیکراں میں کراں تابہ بےکراں غوطہ زن رہا ہوں اور میرے ہاتھ ادبی شعری اور نثری فن پاروں کی ایک مالاہاتھ ;200; گئی ہے جس کا ہر دانہ گوہر یک دانہ ہے اور اس کی چمک و دمک ماہ چہاردھم کو شرما رہی ہے اور اس کی بلندی ہمالیہ کی رفعتوں سے زیادہ رفعتیں اور بلندیوں سے ہمکنار ہے میرے ادبی دوست مجھ سے دریافت کر رہے ہیں کہ یہ خزانے ;200;پ کے ہاتھ میں کیسے ;200; گئے جن کی گہرائیاں بحرالکائل کو شرمندہ کر رہی ہیں یہ گرانقدر سرمایہ مشرقی شعریات اور ہماری ادبی جمالیات کا شاہکار ہے اور میں جب اس شاعرہ کے نو کے قریب شعری مجموعہ جات پر نظر ڈالتا ہوں یا بہ نظرغائر جائزہ لیتا ہوں تو فکر و نگاہ کے کئی جہاں دریافت ہوتے چلے جاتے ہیں ذات سے لے کر کائنات تک کوئی ایسا گوشہ مجھے نظر نہیں ;200;تا جو ادبی فکر کے سرمائے سے خالی ہو زبان غزل میں جو باریکیاں بیان کی جا سکتی ہیں وہ کسی دوسری ادبی صنف میں ;200;پ کو نہیں ملیں گی ۔ غزل کا محل اور برمحل انسانی مشاہدے اور تجربات کا کفیل ہے انسانی جزبوں کی اس پناہ گاہ میں ;200;پ کو ذوق لطیف کی جنت نگاہ ادبی جمالیاتی خزانوں کی بستیاں ملیں گی جہاں اہل دل ہی ;200;باد ہوں گے ۔ کراچی میں مقیم شاعرہ کا کلام ہوا کے دوش پر خوبصورت ;200;وازوں میں سنتا رہا ہوں پچھلے دنوں لاہور کی ایک تقریب میں موصوفہ سے ملاقات بھی سرسری سی ہوگئی اور یہ ہمارے دوست جناب اسلم ندیم صاحب نے کرائی تھی کہ یہ پروفیسر شیریں عنبر لغاری ہے جن کے شاعری کے نو مجموعے منظرعام پر ;200; چکے ہیں ۔ شیریں طرز تکلم اور عنبر ، عنبرشمامہ شخصیت کے کلام کی خوشبو نے مشام جاں کو معطر کر دیا بقول پروین شاکر کے

کہ فضا میں پھیل چلی میری بات کی خوشبو

ابھی ہواں سے تو میں نے کچھ کہا ہی نہیں

شیریں لغاری فن اور شخصیت پر ایک مربوط مبسوط اور مستند مقالہ بھی منصہ شہود پر جلوہ افروز ہو چکا ہے میری زندگی ہے تواس شعری مجموعے نے دھوم مچا دی ہے ۔ بڑے بڑے شاعروں کا کلام ، شیریں کلام کے سامنے رقص کناں ہے اور اللہ نے جو جذباتی ، روحانی اور تہذیبی ذوق لطیف کی وسعت شیریں کو ودیعت کی ہیں وہ عصرحاضر میں مجھے نصف کائنات میں بہت کم نظر ;200;تی ہیں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ پروفیسر صاحبہ نے خاندانی وجاہت اور اپنی اعلی روایات کے اندر رہ کر شاعری کی ہے ۔ شہد و شیریں کی کشید شیریں کے کلام کا خاصہ ہے غالب کے اسلوب سخن کی پیروی کرتے ہوئے شیریں نے غالب سے بھی اس غزل پر داد وصول کی ہوگی یہ پوری غزل میں نے کئی بار پڑھی ہے اور قارئین کے ڈوق تفریح گاہ کی نظر کرتا ہوں

ہم کو محبتوں کا طلبگار دیکھ کر

وہ زخم دے گا ظرف دل زار دیکھ کر

گھر کی اداسیاں اسے ڈس لیں گی میرے بعد

روئے گا وہ بہت در و دیوار دیکھ کر

کس کو خبر تھی عارضی چہرے بدن پہ ہیں

میں خوش ہوئی تھی شہر کا بازار دیکھ کر

زہریلے زائقے ہیں دواں کے ان دنوں

چلیئے گا ہر گلی میری سرکار دیکھ کر

سب لوگ اس کے چاہنے والوں میں ہیں تو کیا

دے گا سزا ، وہ جرم گنہگار دیکھ کر

اب اس پہ بوجھ ہے میری ;200;وارگی بہت

کل مر مٹا تھا جو میری رفتار دیکھ کر

شیریں نے سر جھکا ہی دیا بے بسی کے ساتھ

دشمن کے ہاتھ میں نئی تلوار دیکھ کر

وہ کہا تھا ناں کسی نے قتل کردو یا جرم الفت بخش دو

لو کھڑے ہیں ہاتھ باندھے ہم تمہارے سامنے

بالکل اس طرح شیریں نے بھی اپنے جذبات و احساسات کے ہاتھوں مجبور ہو کر حاصل کیا ۔ حبیب جالب نے بھی اپنے عہد کے سماجی اور سیاسی مسائل کی بھرپور ترجمانی کی

کہاں قاتل بدلتے ہیں فقط چہرے بدلتے ہیں

عجب اپنا سفر ہے فاصلے بھی ساتھ چلتے ہیں

شیریں کے خیالات سرعرش بریں کی سیر کرتے ہوئے نعتیہ شاعری کی طرح پرواز کرجاتے ہیں اور موصوفہ نے عشق رسول میں ڈوب کر نعتیں کہی ہیں ۔ لفظوں کا انتخاب پھر کوثر و تسنیم کی موجوں سے ان کو باوضو رکھ کر نعتیہ کلام میں انہیں تقدس کا جامہ پہنا دینا شیریں کے خامہ عنبر شمامہ کا حصہ ہے بقول ڈاکٹر خالد عباس العسدی

لفظ جب تک وضو نہیں کرتے،ہم تیری گفگو نہیں کرتے

شیریں کا دامن نعت کی وسعت کا ہم اندازہ نہیں لگا سکتے یہ وہ بارگاہ ادب ہے جہاں ;200;پ بہت کچھ کہنے کی تمنا کرنے کے باوجودکچھ نہیں کہہ پاتے یہی وہ بارگاہ ہے جہاں ;200;پ جنید و بایزید نفص گم کردہ ;200;تے ہیں

لے سانس بھی ;200;ہستہ کہ نازک ہے بہت گام

;200;فاق کہ اس کار گہہ شیشہ گری کا

شیریں کے حریم دل کی گلی ذکر مصطفی صلی اللہ علیہ و ;200;لہ وسلم سے ;200;باد ہے اس کے خیال باوضو ہیں اور لفظ احرام باندھ کرجب نکلتے ہیں تو پھر شیریں کا خامہ عنبر شمامہ قرتاس پر موتیوں کی لڑیاں یوں بکھیر دیتا ہے جس طرح طشتری پر موتی جڑے ہوں حمدیہ شیریں ذوق ملاحظہ فرمائیں پھر نعتیہ کلام کی تاثیر میں ڈوب جائیں ،ہر شئے سے ماورا ہے،تو ہی میرا خدا ہے،تیری ہی نعمتیں ہیں ،تیری ہی رحمتیں ہیں ،تو،سب کو بانٹتا ہے،تو ہی میرا خدا ہے

پروفیسر شیریں لغاری نے حمدیہ اشعار میں جو انداز و اسلوب اختیار کیا ہے وہ بڑا ہی دلکش دلنشیں ہے ۔ نعتیہ اشعار ملاحظہ فرمائیں اور قلب و روح کو وجد کےلئے تیار کرلیں اپنی نظروں کو بھی با ادب کرلیں

سرور دوجہاں ذات ہے ;200;پ کی

چارہ بےکساں ذات ہے ;200;پ کی

رہبر عاجزاں ، رہبر کاملاں

ہادی انس و جاں ذات ہے ;200;پ کی

دشمنوں سے بھی جس نے کیا در گزر

کس قدر مہرباں ذات ہے ;200;پ کی

مدحت مصطفی میرے بس میں نہیں

میں کہاں اور کہاں ذات ہے ;200;پ کی

;200;پ کے نقش پا باعث روشنی

ضو فشاں ذو فشاں ذات ہے ;200;پ کی

;200;پ کی ذات ہے سائبان کرم

وجہ امن و اماں ذات ہے ;200;پ کی

;200;پ سے میرا ہر لفظ عنبر فشاں

حسن شیریں بیاں ذات ہے ;200;پ کی

محترمہ پروفیسر شیریں عنبر لغاری کی شخصیت اور فن پر جو مقالہ لکھا گیا ہے اس میں ;200;پ کی ادبی شعری خدمات کا احاطہ کرنے کی کاوش کی گئی ہے مگر شیریں پر اللہ کی اتنی نوازش ہے کہ ہماری کاوش بھی شیریں کے شیریں سخن اسلوب کی شیرینی سے زیادہ سے زیادہ شیریں ہو سکتی ہے ۔ عربی زبان میں ;200;فتاب اگر منٹ ہے تو ماہتاب مذکر ہے اس لیئے تذکیر و تانیث کو کوئی امتیاز حاصل نہیں ہے سوائے اس کے کہ اس کا کام بولتا ہے ۔ فنون لطیفہ کی ہر اصناف سے شیریں نے انصاف کیا ہے اور ;200;ج وہ دنیا میں استاد سے زیادہ شاعرہ کی حیثیت سے جانی جاتی ہے استاد تفصیلات کا استاد اور شاعر تفصیلات پر اختصار کو ترجیح دیتا ھے سمندر کو ہر قطرے میں انڈیلنے کا فن صرف شاعری ہی کی صنف میں موجود ہے شاعری خوبصورت چہروں سے لے کر تاریک غاروں تک محیط ہے اس میں ذرے سے لے کر ;200;فتاب تک کی حقیقتیں بیان کرنے کی گنجائش موجود ہے ۔ پروفیسر شیریں عنبر لغاری کی کتب کی تفصیلات ملاحظہ فرمائیں اور کتاب سے محبت کا انذازہ لگائیں روسی کہاوت بڑی مشہور ہے کہ جس گھر میں کتابیں رکھنے کی جگہ نہیں ہے اس گھر سے پانی نہ پیو کیونکہ وہ پانی کے بہانے ;200;پ کا وقت برباد کرے گا کتاب سے جس قدر محبت زیادہ ہوگی اس شخصیت کا احترام ;200;پ کے دل میں خود بخود پیدا ہوتا چلا جائے گا ۔ پروفیسر شیریں عنبر لغاری نے نہ صرف اپنی کتابوں کو بلکہ دنیا کے ادیبوں اور شاعروں کے مجموعہ کلام کو حرزجاں بنا رکھا ہے ۔ انسانی سوچ کی اس مصورہ کی فکری رعنایوں اور نظری ندرتوں کا تصور ;200;پ جب بھی کریں گے ;200;پ کو ایک گونہ مسرت اور دوگونہ ادبی ذوق کی حدت محسوس ہوگی ۔ یونہی تو کسی مغرب کے دانشور نے نہیں کہا تھا کہ شاعر اور شاہنشاہ روز روز پیدا نہیں ہوتے کیونکہ نوع انسانی کے اولیں استادشاعر ہی تھے اور اسی قول کو شیریں نے قول فیصل بنا لیا اور استاد ہونے کے باوجود وہ استادوں کے استاد منصب پر فائز ہیں شیریں کی شاعری نے نثر سے زیادہ فلسفہ اور تاریخ سے زیادہ جان ہوتی ہے ارسطو نے بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا تھا شیریں کی معنبر شاعری مشام جاں کو معطر کرتی ہے اور شیریں کا برجستگی میں ایک ساحری پائی جاتی ہے اور اس کا برجستہ شعر چلتا ہوا جادو اور بولتی ہوئی تصویر ہے ۔ پروفیسر شیریں عنبر لغاری کے بارے میں کوئی نہیں جانتا کہ وہ کس کالج کی پروفیسر ہے مگر ;200;پ کو امریکہ سے لے کر مکہ تک اور نیل کے ساحل سے لے کر کاشغر تک جدید دور کے ابلاغی ویپن استعمال کرنے والی نسل نو جانتی ہے کہ شیریں عنبر لغاری ایک جادو اثر شاعرہ ہے کیونکہ برناڈشا نے کہا تھا کہ تم اپنے بچوں کو اپنے عہد کی تعلیم نہ دو کیونکہ یہ تمہارے زمانے کےلئے پیدا نہیں کیئے گئے شا کا قول اس کے حلق سے نکلا خلق تک پہنچا اور ;200;ج وہ فلک پر پہنچا ہوا ہے اور ;200;ج وہ فلک پوش چوٹیوں کی رفعتوں سے ہمکنار ہے ;200;ج کے دس سال کے بچے کی دس انگلیوں کی دس پوروں پر پوری کائنات رقصاں ہے اس کا سینہ رازوں کا دفینہ ہے وہ معلومات عامہ کا خزینہ ہے پروفیسر شیریں عنبر لغاری کی شاعری پوری دنیا میں جہاں جہاں اردو بولی جاتی ہے پڑھی جاتی ہے اور حظ اٹھایا جاتا ہے ;200;پ کی شاعری میں ساحری ہے اور جادو ہے میرا تو ساٹھ اس کے ;200;ٹھ کو نہیں پہنچ سکتا شیریں کا شیریں کلام جتنا سریع الاثر ہے اتنا ہی سریع الحرکت ہے کیونکہ جدید عہد کے ابلاغی ویپن پر اکثر سنا دیکھا اور پڑھا جا رہا ہے لحن دای سے متصف گلوکاروں کی اکثریت کو شیریں عنبر لغاری کا کلام ان کے گلے کو راس ;200;گیا ہے اور محترمہ شیریں عنبر لغاری کی بےطلب فرمائش کو گلوکار گائیگی کے روپ والے جا کر وہ خود بھی حظ اٹھاتے ہیں اور سننے والا وجد میں ;200;جاتا ہے ۔ ;200;خر میں پروفیسر شیریں عنبر لغاری کی کتب کی فہرست حسب ذیل ہے ۔ 1 اسیر لکھنوی حیات و شاعری( مقالہ )2 ;200;بنائے درد(شعری مجموعہ) 3 میری یادیں سنبھال رکھنا(شعری مجموعہ)4 چپ کی جھیل(شعری مجموعہ) 5 ردائے خیال(نثری مجموعہ) 6 کرب احساس(شعری مجموعہ) 7 دیپ جلتا رہا (شعری مجموعہ) 8 کونجاں (پنجابی شعری مجموعہ) 9 جگنو جگنوحرف(شعری مجموعہ)10 احساس کا تپتا صحرا(شعری مجموعہ) 11شیریں لغاری فن اور شخصیت (مقالہ)12 میری زندگی ہے تو (شعری مجموعہ)13 امبر (شعری مجموعہ)