- الإعلانات -

ایسے بھی توبہ کر کے تو دیکھیں

اس کائنات کا آغاز ہوتے ہی بنی نوح انسان کا کردار بڑا اہم رہا ہے ۔ مثلاً انسان نے اپنے آپ کو پاک صاف رکھنے ، نہانے دھونے، بننے سنورنے کا آغاز کیا بلکہ اب تو صرف چند گھنٹوں کےلئے دلہن کی سجاوٹ کےلئے کئی کئی لاکھ روپے ادا کیے جاتے ہیں ۔ وہیں اگر دوسری طرف غور کیا جائے تو اس کائنات میں گندگی پھیلانے کا سبب بھی روز اول سے بنی نوح انسان ہی رہا ہے ۔ زیادہ دور جانے کی بات نہیں آپ کراچی کی آب و ہوا اور سمندر کے پانی کا اندازہ لگائیں اور گوادر کے سمندر کا پانی دیکھیں زمین و آسمان کا فرق ہے ۔ کراچی کا پانی گندہ اور بدبودار اور گوادر کے مقام سے دیکھیں تو ایسے محسوس ہوتا ہے کہ سورج ڈوبنے کے بجائے سمندر کے پانی میں اتر گیا ہے اور پانی کے اندر سے سورج کی شعائیں باہر روشنی پھیلا رہی ہیں ۔ آج بھی جن خطوں میں بنی نوح انسان کی ’’ترقی ‘‘ نے قدم نہیں رکھا وہ قدرتی دنیا ابھی تک آلودگی سے خود کو پاک رکھے ہوئے ہیں ۔ کبھی آپ نے غور کیا کہ قدرتی دنیا اس قدر صاف ستھری کیوں ہے;238; جنگل میں رہنے والے جانور جنگل میں ہی مر جاتے ہیں مگر پھر بھی جنگل صاف ستھرے کیوں رہ جاتے ہیں ۔ اگر ایک موسم بہار میں پیدا ہونے والی مکھیاں ہی زندہ رہ جائیں تو صرف اس ایک سال میں تمام دنیا مری ہوئی مکھیوں کے تہہ در تہہ انبار سے بھر جائے ۔ قدرت کسی شے کو ضائع نہیں ہونے دیتی کیونکہ ایک کی موت کسی اور کی حیات کی ابتداء ہوتی ہے ۔ مثلاً مر جانے والا ایک جسم تحلیل ہو کر مٹی کے ساتھ خاک ہو جاتا ہے ۔ عناصر پودوں میں شامل ہو جاتے ہیں ۔ یہ پودے بڑے ہو جانے کے بعد ایک برتر مقصد کی برآوری کے لئے جانوروں ، انسانوں ، درندوں اور حشرات الارض کی خوراک بن جاتے ہیں ۔ موت و حیات کا یہ چکر قدرتی دنیا کو پاک اور صاف رکھتا ہے ۔ بیکٹیریا اور کیڑے مکوڑے، ہوا، بارش اور تمام کامیاتی اجسام میں موجود آکسیجن ان تمام کے ذریعے کائنات میں صفائی کا ایک نہایت منظم اور مربوط نظام مصروفِ عمل ہے ۔ یہ صفائی یا خالص پاکیزگی کسی بہت ہی پاک وجود کی غمازی کرتا ہے ۔ اس کی جس کے صفاتی ناموں میں ایک خوبصورت وصف اس کی ذات کا مکمل پاک و صاف ہونا ہے ۔ حضرت آدم;174; اور حضرت حوا;174; کے بعد اربوں کھربوں انسانوں نے جنم لیا مگر ہر انسان ایک ہی جنیاتی انداز میں پیدا ہوا ۔ اپنے والدین جیسی خوراک استعمال کرنے اور نامیاتی اجسام کے ایک جیسے عضویاتی ڈھانچوں کے باوجود اپنے انفرادی خلیہ اور شکل و صورت کے حوالے سے ایک الگ انسان ہے ایسا کیوں ہوتا ہے ۔ جدید سائنس بھی اس کی وضاحت پیش نہیں کرسکتی اور نہ ہی اسے ڈی این اے کے ذریعے واضع کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ سلسلہ تو اس پہلے انسان تک چلا جاتا ہے جو دنیا میں پہلی بار اس وقت کے دوسرے انسان سے مختلف شکل و صورت لے کر پیدا ہوا تھا ۔ مزید برآں یہ فرق صرف حلیہ اور شکل و صورت تک ہی محدود نہیں بلکہ ہر انسان اپنی خواہشات، کردار، ارادوں ، حرکات و سکنات اور قابلیت وغیرہ جیسے انداز میں بھی دیگر انسانوں سے یکسر مختلف ہوتا ہے جبکہ انسانوں میں یہ بات نہیں جو تقریباً ایک جیسے ردِعمل کا مظاہرہ کرتے ہیں جبکہ بنی نوع انسان میں سے ہر انسان الگ الگ اوصاف اور اپنی ذات کی الگ الگ خصوصیات کا مظہر ہے ۔ یہ تمام انفرادی خصوصیات اس جل جلالہ کی الگ الگ پسند اور ہر شے پر اپنی مکمل مرضی کی شہادت دیتی ہے جو صرف اس کی ذات کا خاصا ہے ۔ بنی نوع انسان کو عموماً اچھائی اور برائی میں تمیز کرنے اور اپنی زندگی کی صحیح سمت میں رہنمائی کرنے کی سمجھ اور فہم عموماً سنِ بلوغت کی عمر میں حاصل ہوتی ہے مگر اکثر جانداروں کو ایسا علم و فہم ان کے پیدا ہوتے ہی حاصل ہو جاتا ہے مثلاً ایک بطخ کا بچہ پیدا ہوتے ہی پانی میں تیرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ شہد کی مکھی یا مکڑی کے بچے بڑی جلدی بالترتیب اپنے شہد کے چھتے بنانا اور مکڑی کا جال بننا شروع کر دیتے ہیں جو اپنی نفاست اور کاریگری کے حوالے سے اتنے حسین اور شاندار ہوتے ہیں کہ اسے بنی نوح انسان بھی اتنی نفاست کے ساتھ تیار نہیں کر سکتا ۔ یورپ کے دریاءوں میں پیدا ہونے والی بام مچھلیوں کو ہزاروں میل دوربرمودا کے جنوبی سمندر میں واقع اتھاہ گہرائیوں کا راستہ بتاتا ہے جو ان کے آباء و اجداد کا علاقہ ہے ۔ پرندوں کی نقل مکانی ابھی تک ایک پراسرار راز ہے، کون کہہ سکتا ہے یہ سب محض اتفاقاً ہو جاتا ہے نہیں یہ محض اتفاق نہیں ہے بلکہ حقیقت میں یہ اس عقلِ کل کا کام ہے جو ہر شے کا مکمل علم رکھتا ہے ۔ وہی جس کو ہر شے کا پتہ ہے ۔ وہی ہے جس نے کائنات اور کائنات کی تمام مخلوقات کے لئے موزوں ترین نظام زندگی ترتیب دیا ہے اور اس کی باقاعدہ ہدایات پر یہ تمام نظام جاری و ساری ہے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قدم قدم پر اپنے ہونے اور اپنی ذات کے کرشمے بنی نوع انسان پر ظاہر کیے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہم کچھ سیکھ نہ سکے ۔ جب سے دنیا میں نظامِ اسلام وجود میں آیا جب بھی کوئی ناگہانی آفات نے گھیرا ڈالا تو مسلمان اجتماعی اذانیں دیتے تو اللہ اس مصیبت، وباء کو ٹال دیتے ۔ ہم کورونا جیسی خطرناک بیماری یا وباء میں بھی اللہ تعالیٰ سے لاڈ کر رہے ہیں ۔ رات دس بجے ایک مولوی صاحب لاءوڈ سپیکر پر اذان دے کر گھر چلا جاتا ہے ۔ اس کا یہ طریقہ نہیں لاءوڈ سپکر پر اذان اس لئے دی جاتی ہے کہ نمازیوں کو متوجہ کیا جائے ۔ نماز کے لئے مسجد میں بلانا ہو ۔ اذان کا جو بھی وقت مقرر ہو اس پر تمام لوگ جہاں بھی ہوں اگر کوئی سڑک پر سفر کر رہا ہو کھڑا ہو جائے، گھر بستر پر ہو، صوفے پر بیٹھا ہو، اٹھ کر قبلہ رخ ہو کر اذانیں دینا شروع کر دے ۔ اذان کےلئے وضو شرط نہیں ۔ پوری کائنات میں ایک ارب مسلمان لوگ اذانیں دیں گے تو اللہ تعالیٰ اپنا فضل و کرم کر دے گا ۔ توبہ تائب ہونے کے لئے اجتماعی اذانیں دینا ہوں گی ۔ پوری مسلم امہ نہ بھی ایسا کام کریں ، سات آٹھ کروڑ مسلمان مردوں کو صرف پاکستان میں اس طرح اذانیں دینے دیں ۔ یہ کام بھی کر کے دیکھئے، مجھے یقین ہے رب اللعالمین ضرور اپنا کرم و فضل فرمائے گا ۔