- الإعلانات -

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی عدالت

چیف جسٹس اطہر من ا;203; نے سنگین جرائم کی تفتیش میں مشکلات اور انصاف میں تا خیر کی وجوہات کو جاننے والے کیس میں سماعت کے دوران جب انسپکٹر جنرل پولیس نے بتایا کہ تفتیشی افسر کو تفتیش کےلئے ایک کیس میں 350 روپے دئے جاتے ہیں جس پر چیف جسٹس صاحب نے کہا تفتیشی افسر کو ایک کیس میں 350 روپے دے کر سسٹم خود اسے کہتا ہے کہ کرپشن کرو ۔ یہ انصاف کی بڑی نا کامی ہے ۔ ہماری ترجیحات ہی غلط ہیں ۔ اگر انصاف اس ملک کی ترجیح ہوتی تو ہماری عدالتیں دوکانوں میں نہ ہوتیں ۔ اسلام آباد میں اپنی جیل نہیں ہے ۔ پراسسیکیوشن نہیں ہے ۔ بخشی خانے کا ذکر کرتے ہوئے کہاکیا اس میں کوئی انسان رہ سکتا ہے ۔ یہ وہ پوئنٹ ہیں جن کا ذکر کر کے جسٹس اطہر من ا;203;نے بتا دیا ہے کہ آپ جج ہی نہیں ایک درددل رکھنے والے انسان بھی ہیں ۔ خوشی ہوئی جو ڈیشری میں بھی آپ جیسے احساس طبع ججز موجود ہیں ۔ یہ سوالات ایسے ہیں جو نیدیں اڑانے کے لئے کافی ہیں لیکن نیندیں تو ان کی اڑتی ہیں جن کے اندر خدا خوفی ہوتی ہے ۔ کیا کسی کو یہ معلوم نہیں کہ ان چیزوں کا بھی حساب دینا ہو گا ۔ کیوں ہم سب بے بس دکھائی دیتے ہیں ۔ کیوں ہم ان ٹیٹری چیزوں کو سیدھا نہیں کر سکتے ۔ اگر انہیں مجبوریاں ایسے کرنے نہیں دیتی تھیں تو کرسی کیوں نہیں چھوڑدیتے ۔ بحرحال یہ جانیں اور وہ جانے ۔ اس ملک کے دو اہم شخصیات کوراقم اسلام آباد کچہری میں لے کر آیا تھا ۔ ان میں ایک شخصیت وزیراعظم ملک معراج خالد مرحوم کی تھی ۔ راقم نے ایف ایٹ کچہری کے چیمبر کا افتتاح کروانا ایک بہانہ تھا ۔ اصل مقصد ملک صاحب کو جوڈیشری کی حالت زار سے آگاہ کرنا تھا ۔ راقم نے ملک معراج خالد کو اپنے چیمبر کے افتتاح کے بعد سخت گرمی میں عدالت کا وزٹ کرایا ۔ عدلت بھری ہوئی تھی ۔ جج صاحب کو بتایا تو ملک صاحب کو آپ نے بھی خوش آمدید کہا ۔ ملک صاحب پسینے سے شرابور ہو کر جب کورٹ سے باہر نکلے تو کہا کاش تم مجھے اس وقت یہ سب کچھ دکھاتے جب میں نگران وزیراعظم تھا ۔ کہا یہ تو عدالتیں لگتی ہی نہیں کہا طلعت تم نے مجھے یہاں لا کر میری آنکھیں کھول دی ہیں ۔ آپ مجھے یہاں کا بتایا کرتے تھے مگر میں یقین نہیں کرتا تھا ۔ انشا ا;203; میں اس کےلئے کچھ کرتا ہوں ۔ اس دوران بار کا وزٹ بھی کرایا ۔ ملک صاحب نے بار کو دس لاکھ کی گرانت بھی دی ۔ لیکن اس کے بعد ملک صاحب بھی آخر میں بے بس دکھائی دئے ۔ کچھ نہیں کر سکے ۔ ایسی ہی ایک شخصیت موجودہ وزیراعظم عمران خان نیازی کی ہے ۔ راقم پہلی بار آپ کو اسلام آباد بار میں بار خطاب کےلئے لے کر آیا تھا ۔ اس وقت امجد اقبال قریشی بار کے صدر اور ذوالفقار علی عباسی جنرل سیکرٹری اسلام آباد بار تھے ۔ عمران خان نے اپنے بار کے خطاب میں کہا تھا کہ مجھے عدالتیں دوکانوں میں دیکھ کر شرم آرہی ہے ۔ یہ سوچا نہیں تھا پاکستان کے کیپیٹل کی عدالتیں د کانوں میں ہونگیں ۔ یہاں تو مثالی کورٹ کمپلیکس ہونا چائیے تھا ۔ مجھے افسوس ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے اس پر توجہ نہیں دی ۔ میں اقتدار میں آیا تو اس کا نقشہ بدل دونگا ۔ لیکن یہ عدالتیں آج بھی دکانوں میں ہی چل رہی ہیں ۔ انہیں عدالتوں سے اس ملک کے وزیراعظم ، منسٹر ، سینٹرز ،ایم این اے پارٹی لیڈران سبھی یہاں مقدمات میں پیش ہونے آتے ہیں مگر پھر بھول جاتے ہیں ۔ میرے ایک جاننے والے اپنے دوست جو برطانیہ کا شہری تھا اسے آپ میرے آفس لیکر آئے کہ ان کے پڑوسی نے اپنے صحن میں ہماری دیوار کے ساتھ لوہے کی سیڑھی لگا رکھی ہے ۔ جس سے ہماری پرائی ویسی متاثر ہو رہی ہے ۔ مجھے فیس بھی دیکر گئے وکالت نامے پر دستخط بھی کر دئے ۔ اسی شام کو میرا دوست انہیں ایف ایٹ کچہری کسی کام کے سلسلے میں لے کر گیا اور اسے بتایا کہ یہ عدالتیں ہیں ۔ یہاں آپ کا کیس چلے گا ۔ ان عدالتوں کو دیکھ کر وہ چیخ اٹھا کہ یہ عدالتیں تو خود قانون کی خلاف فرضی کئے ہوئے ہیں ۔ برآمدے بھی کمرے عدالت میں شامل کر رکھے ہیں ۔ یہ مجھے کیسا انصاف دیں گے ۔ پلیز اپنے دوست سے کہہ دو کہ وہ میرا کیس فائل نہ کرے ۔ مجھے ان سے انصاف کی کوئی امید نہیں ۔ پھر ایسے ہی ہوا ۔ جو سین معزز چیف صاحب نے بخشی خانے کا کھینچا ہے اس سے اور زیادہ اذیت ناک سین ان قیدیوں کی پولیس وین کا ہے ۔ جنہیں بھیڑ بکریوں کی طرح ٹھونس کر عدالتی تاریخ پر اڈیالہ سے اسلام آباد لاتے ہیں ۔ ان کا یہ سفر پچاس کلو میٹر آنے اور پچاس کلو میٹر جانے کا ایک سو کلومیٹر بنتا ہے ۔ قیدیوں کی یہ گاڑی لوہے کی ہیں ۔ اگرگاڑی کے باہر کا درجہ حرارت پچاس ہو تو اس گاڑی کے اندر کا درجہ حرات سو ڈگری ہوتا ہے ۔ اس میں کوئی پانی ،باتھ کا انتظام نہیں ۔ کیا ایسے میں سزا سے پہلے سزا نہیں دی جارہی ۔ چیف صاحب سے گزارش ہے کہ ہائی کورٹ میں کیس دائر کرتے ہوئے جن مشکلات کا سامنا سائل کو کرنا پڑتا ہے اس سے بھی نجات دلائی جائے ۔ بیمار سائل بوڑی عورتیں جن کے ہاتھوں پور گھس چکے ہیں انہیں مقدمہ دائر کرنے کےلئے خود آنا لازم قرار دے رکھا ہے کہ وہ خو د انگوٹھا لگائیں گیں ۔ یہ ابھی کچھ عرصے پہلے اس قانون کو نافذ کیا گیا ہے ۔ کہا جاتا ہے چیف صاحب نے دو نمبر کیس کو دائر ہونے سے روکنے کےلئے ایسا کیا ہے ۔ گزارش ہے کہ اگر کوئی دو نمبری کرتا ہے تو اسے آپ سخت سزا دیں ۔ اس سے پہلے یہ ذمہداری وکیل کی ہوتی تھی ۔ اب بھی وکیل پر انصار کیا جائے اور سائل کے انگوٹھے کے بغیر مقدمہ دائر کرنے کی اجازت دی جائے ۔ عوام پہلے ہی عدالتوں سے نالاں ہیں ۔ پلیزان کےلئے آسانیاں پیدا کریں ۔ ہ میں اپنی عدلیہ سے شکایت رہتی ہے کہ وہ بہت تاخیر سے فیصلے کرتے ہیں ۔ ایسی شکاتیں کسی ریڑھی والے کو ہی نہیں ، یہ شکاتیں اس ملک کے سپریم کورٹ کے وکلا بھی کر تے دکھائی دیتے ہیں ۔ وکلا کے پلاٹوں کا فیصلہ عرصہ چار سالوں سے عدلیہ کے ترازو میں پڑا ہے ۔ اب چار ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہونے کو ہے سپریم کورٹ کے لارجر بنچ اس کیس کو سن چکا ہے مگر ابھی تک کیس کا فیصلہ نہیں گیا ۔ اگر یہ قانون بنا دیا جائے کہ جب تک کسی کیس کا فیصلے بنچ سنا ئے گا نہیں اس وقت تک بنچ کے سامنے کوئی نیا کیس لگے گا نہیں ۔ خاص کر جب کیس کی بحث ہو چکی ہو تو اس کا فیصلہ فوری نہیں تو تین چار روز بعد سنا دیا کریں ۔ مگر ایسا نہیں ہو رہا ۔ اب ڈر ہے کہ اگر جج صاحب کسی کیس کا فیصلہ تین ہفتے تک نہیں سناتے تو اس کے بعد وہ جج صاحب سب کچھ بھول چکے ہونگے ۔ فی الحال بھولنے کی گنجائش چھ ماہ قانون میں رکھی گئی ہے اس کے بعد اگر فیصلہ نہیں لکھا جاتا تو پھر یہ مقدمہ کسی نئے بنچ میں لگتا ہے پھر ایسے میں نئے سرے سے کیس کی سماعت ہوتی ہے ۔ اب تو چھ ماہ کے عرصے کو کم کر کے تین ہفتے تک کر دیا جائے کیونکہ یاد رکھنے کا وقت اب تین ہفتے بھی زیادہ ہے اس کے بعد کسی کو بھی کچھ یاد نہیں رہتا ۔ بھولنے کی ایک وجہ عمر کا تقاضا ہے ۔ زیادہ دیر یاد نہیں رہتا اور دوسرا ناقص خوراک کا ہونا ہے ۔ اب اصلی خوراکیں تو رہی نہیں جو دماغ کو طاقت بخشا کرتی تھی ۔ ہر کھانے والی چیز میں ملاوٹ ہے ۔ لہٰذا ان حالات کو دیکھ کر سپریم کورٹ کے ججز کو چاہیے کہ ادھر کیس کو سنا کریں اور ساتھ ہی اس کا فیصلہ لکھوا دیاکریں ۔ زیادہ دیر سے صحت پر بھی برے اثرات مراتب ہوتے ہیں ۔ ججز سمیت ہم سب کو اس پر سوچ و بچار کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ دیر سے فیصلہ سنانے کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں ۔ کیا ججز صاحبان کی تنخواہیں مزید بڑھائی جائیں یا ججز کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ جلد فیصلے ہو سکیں ۔ یا کوئی ایسی پرابلم ہے جس کا حل کسی کے پاس نہیں ہے ۔ اگر تاخیر سے فیصلے ہونے کے نقصانات کا اندازہ لگانا چاہتے ہیں تو کہا جاتا ہے اس مظلوم فیملی سے پوچھیں جن کے فیصلے تاخیر سے ہوئے اور ان کے کیس کا فیصلہ انہیں مرنے کے بعد قبر میں سنایا گیا کہ سپریم کورٹ نے تمہیں اپیل میں با عزت بری کر دیا ہے ۔ یہ کوئی ڈرامہ کا سین نہیں بلکہ حقیقت میں ایسے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے میں ہو چکا ہے ۔ ظالموں نے اسے ہائی کورٹ کے آڈر پر ہی ملزم کو پھانسی پر لٹکا دیا تھا جبکہ کیس کی اپیل سپریم کورٹ میں ابھی سننا باقی تھی ۔ کہا جاتا ہے کہ اس ملزم کے وکیل اس دوران ہائی کورٹ کے جج بن گئے تھے جس کی وجہ سے کیس کی پیروی بعد میں کسی نے نہ کی اور کیس سرد خانے میں کئی سالوں تک پڑا رہا ۔ برے حالات ہیں ۔ قدرت کورونا وائرس جیسی بیماریوں سے ہم انسانوں کو سمجھانے کی کوشش کرتی ہے ۔ مگر ہم ہیں کہ مزید خراب ہوتے اور بگڑتے جا رہے ہیں ۔ اے ا;203; تو ہی ہم پر رحم فرما ۔ آمین