- الإعلانات -

مارکیٹیں اورشاپنگ مالزکھل گئے،ایس اوپیزپرعملدرآمد ضروری

کورونا کے حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان نے گوکہ چھوٹی مارکیٹیں اور شاپنگ مالز کھولنے کا حکم دیدیاہے تاہم اس کے لئے ضروری ہے کہ حکومتی ایس اوپیز پرعمل کیاجائے لیکن دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ ملک بھرکی بڑی بڑی مارکیٹوں میں رش کا ایک اژہام ہے ،بندے پربندہ سوار ہے، کوئی سماجی فاصلہ نہیں ، کوئی ماسک نہیں ، کوئی دستانے نہیں ، کوئی سینیٹائزرنہیں ، غرضکہ اگرکہاجائے کہ ایک رتی برابرعمل ہورہاہے تو وہ بھی کہیں دور دور نظرآتاہے ۔ اللہ تعالیٰ رحم فرمائے من حیث القوم کسی بھی رعایت کافائدہ اٹھانے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔ اگر حکومت یا عدالت عظمیٰ حالات کو دیکھتے ہوئے سہولیات دے رہی ہے تواس سے ہ میں فائدہ اٹھانا چاہیے ۔ سپریم کورٹ آف پاکستا ن نے ملک بھر میں کاروبار کھولنے کاحکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ کاروبار بند کرنا آئین کیخلاف ہے، عدالت نے سیل کی گئی دکانیں بھی کھولنے کا حکم دیا ہے، پاکستان میں کورونا وبا نہیں ، اس پر اتنی بڑی رقم خرچ کرنے کا کیا جواز ہے;238; صوبے پابندیوں پر عمل کرائیں ، سندھ شاپنگ مالز کھولنے کیلئے وفاق سے فورا اجازت لے، دکانیں نہ کھلیں تو لوگ بھوک سے مرینگے یا سڑکوں پر آئینگے، چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کیا وائرس نے وعدہ کر رکھا ہے کہ ہفتہ اور اتوار کو ہی آئیگا، وفاق اور صوبے دوسری بیماریوں پر بھی توجہ دیں ، ایس او پیز پر عمل کرانا ہے، لوگوں کو مارنا یا ڈرانا نہیں ، 5 سو ارب کورونا مریضوں پر خرچ ہوں تو ہر مریض کروڑ پتی ہوجائے، عوام وفاقی و صوبائی حکومتوں کے غلام نہیں ، عدالت عظمیٰ میں کورونا وائرس از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران ماسوائے سندھ حکومت تمام حکومتوں نے رپورٹ پیش کی ہے کہ وہ پیر کے روز سے ہی بڑے کاروباری مراکز (شاپنگ مالز)کو کھول دیں گی جس پر عدالت نے حکومت سندھ کو بھی صوبے میں شاپنگ مالز کھولنے کیلئے وفاقی وزارت قومی صحت سے رجوع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اجازت ملنے کی صورت میں صوبائی حکومت صوبے میں واقع شاپنگ مالز کھولنے میں رکاوٹ پیدا نہ کرے، ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ سپریم کورٹ کاحکم ہے جس پر عمل کرنے کے پابند ہیں ، عدالت نے وزیر اعظم عمران خان کی صدارت میں منعقد ہونے والے نیشنل کوآرڈی نیشن کمیٹی کے اجلاس میں ہفتہ اور اتوار کو کاروباری مراکز کو بند رکھنے کے فیصلے کو خلاف آئین قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیدیا ہے، عدالت نے تمام حکومتوں کو کرونا وائرس کے مرض کے ساتھ ساتھ دیگر امراض کے علاج معالجہ پر بھی توجہ دینے کی ہدایت کی ہے ۔ فاضل عدالت نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کورونا وائرس سے بچاءو سے متعلق خرچ ہونےوالی رقم کا جواز پیش کرنے کیلئے اٹارنی جنرل اور سیکورٹی افسران کو عدالت میں طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ملتوی کردی ۔ دوسری جانب پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روزنیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے معاملات کو دیکھا اورپھر فیصلہ کیا،کوروناوائرس سے بچنے کاواحد حل احتیاطی تدابیرہیں ،سوشل ڈسٹنس رکھیں ،صفائی کاخاص خیال رکھیں ۔ اب ہر پاکستانی پر فرض ہے کہ وہ حکومتی احکامات پر عملدر;200;مد یقینی بنائے اور کورونا کے خلاف جدوجہد میں بے خوف و خطر حکومت کا ممدومعاون بنے ۔ اس سلسلے میں حفاظتی تدابیر سمیت لیبارٹری ٹیسٹ اور قرنطینہ تک تمام ایس او پیز کی پابندی کرے ۔ اگر احتیاطی تدابیرپرعمل نہیں کیاگیاتو خدانخواستہ قوم پھر اچھی خبروں کی نویدنہ رکھے یہ سب ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم اس پابندی کو کہاں تک اور کب تک کھلارکھناچاہتے ہیں ۔ اگر حالات ایک ریوڑجیسے رہے تو پھرحکومت مجبورہوجائے گی کہ لاک ڈاءون مکمل طورپر نافذ کردیاجائے ۔ اگرخدانخواستہ کورونامتاثرین کی تعداد بڑھتی ہے تو ہمارا ملک اس بات کابھی متحمل نہیں ہوسکتا کہ وہ تمام مریضوں کوبروقت علاج کی سہولیات میسرکرسکے ۔

حکومت کا ایک اوراحسن اقدام

عمران خان نے کورونا وائرس کی وباکے باعث بے روزگار ہونے والے افراد کیلئے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کا باضابطہ اجراکردیا ۔ اس سلسلے میں پاکستان اسپورٹس کمپلیکس میں متاثرین میں 12 ہزار روپے فی کس ایمرجنسی کیش امداد کی تقسیم کےلئے تقریب کا انعقاد کیا گیا ۔ عمران خان نے کورونا وائرس کے باعث بیروزگار ہونے والے مختلف متاثرین سے ان کے مسائل دریافت کئے اور ان کے حل کی مکمل یقین دہانی کرائی ۔ نیزوزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کورونا ریلیف فنڈ میں اب تک 3 ارب روپے سے زائد کی رقم جمع ہوئی ہے حکومت نے ملک میں معاشی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کےلئے متعدد فیصلے کئے ہیں اور معیشت کے مختلف شعبوں کو کھول دیا ہے ۔ ہرایک روپیہ عطیہ کرنے پر حکومت کی جانب سے4 روپے فنڈ میں شامل کئے جائیں گے احساس لیبر پورٹل کے تحت اب تک 34لاکھ درخواستیں موصول ہو چکی ہیں ۔ عام ;200;دمی کو ریلیف دینے کےلئے حکومتی اقدامات تسلی بخش ہیں اور ان کے ثمرات بھی کافی حدتک عوام تک پہنچ رہے ہیں ۔ حکومت کی طرف سے پہلے غریبوں کی مدد کی گئی اب جو لوگ کوروناوائرس سے بے روزگارہوئے ہیں اُن کے لئے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے تحت مدد کی جارہی ہے ۔ اب حکومت کے مزید ریلیف اقدامات اسی صورت ہی ثمر;200;ور ہونگے جب مہنگائی ، بیروزگاری، ذخیرہ اندوزی اورمنافع خوری پر بھی اسی صورت ہی قابو پا ئے ۔ اب وقت ہے کہ کورونا پر قابو پانے، عوام کو بھوک سے بچانے کےلئے جو کچھ کر سکتے ہیں کر گزریں ۔

پاکستان کابھارت کودوٹوک پیغام

بھارت نے کوئی حماقت کی تو مناسب جواب کیلئے تیار رہے، پڑوسی ملک کسی بھی قسم کی محاذ ;200;رائی سے گریز کرے ، بعض اوقات عملی اقدامات الفاظ سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں ، بھارت نے فروری میں بھی حرکت کی تھی اور ان کو صحیح وقت پر بڑا مناسب جواب مل گیا تھا، ہم اپنی گفتگو سے کوئی اشتعال پیدا نہیں کرنا چاہتے ۔ ، پاکستان اور پوری دنیا کی خواہش ہے کہ تشدد میں کمی واقع ہو لیکن امن کے لیے ایک سازگار ماحول درکار ہے ۔ اس کوبرقراررکھنے کے لئے سب کو کردار ادا کرناہوگا لیکن بھارت کسی طرح بھی خطے میں امن قائم نہیں رکھناچاہتا، آئے دن ایل او سی پربلا اشتعال فائرنگ اورگولہ باری سے حالات کشیدہ ہوتے جارہے ہیں ۔ وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے قطعی طورپرواضح کردیاکہ بھارت کسی خا م خیال میں نہ رہے ۔ ادھر، کھوئی رٹہ سیکٹر میں بھارتی فوج نے گزشتہ روز بھی بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ بار ی کی جس سے ایک شخص زخمی ہوگیا ،پاک فوج کے منہ توڑ جواب سے دشمن کی گنیں خاموش ہو گئیں ۔ دریں اثناء دفتر خارجہ میں سینئر بھارتی سفارتکار کو طلب کرکے شدید احتجاج کیا گیا ، بھارتی قابض فوج ایل او سی اور ورکنگ باونڈری پر شہری آبادی کو آرٹلری اور بھاری ہتھیاروں سے مسلسل نشانہ بنارہی ہے، رواں برس 2020 میں بھارت نے 1081 مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے ،بھارت پر زوردیا گیا کہ یہ اقدامات 2003 کے جنگ بندی معاہدہ، بین الاقوامی انسانی حقوق و قوانین کی خلاف ورزی ہے ۔ مودی سرکار ان کٹھن حالات میں بھی اپنے توسیع پسندانہ ایجنڈے کی تکمیل کےلئے سفاکیت کی انتہا تک پہنچی نظر ;200; رہی ہے جس کے ایما پر بھارتی فوج نے نہ صرف مقبوضہ وادی میں مظالم کا سلسلہ دراز کر رکھا ہے بلکہ کنٹرول لائن پر بھی اس نے تسلسل کے ساتھ پاکستان سے چھیڑ چھاڑ کا سلسلہ روزانہ کی بنیاد پر جاری رکھا ہوا ہے ۔ اسے شایدغلط فہمی ہے کہ پاک فوج کی امدادی کاموں میں مصروفیت کے باعث اسے پاکستان کی سلامتی پر شب خون مارنے کا موقع مل جائے گا جبکہ پاک فوج دشمن کے ان عزائم کی بنیاد پر ہی امدادی کاموں میں حکومت کی معاونت کے ساتھ ساتھ سرحدوں پر بھی چوکس ہے اور گزشتہ سال ستائیس فروری کی سرخروئی کی طرح اب بھی بھارتی فوج کی ہر کارروائی پر اسے فوری اور مسکت جواب دے رہی ہے ۔ پیٹھ پیچھے وار کرنےوالی بزدل بھارت کی یہ سوچ اقوام عالم اور ان کی قیادتوں کےلئے بہرصورت لمحہ فکریہ ہے ۔