- الإعلانات -

وبا ء کے خاتمہ کیلئے ویتنام پالیسی لائیں

ویتنام غالبا ً ساٹھ کی دہائی میں اس وقت خبروں کا مرکز بنا جب امریکیوں نے اپنی جدید ٹیکنالوجی جنگی سازو سامان اور افرادی قوت کے زعم میں ویتنام سے پنگاہ لینے کی غلطی کی امریکیوں کا خیال تھا کہ اس غریب سے ملک کے یہ چھوٹے قد چپٹی ناک اور پیلے رنگ کے ویتنامی اپنے محدود وسائل کی وجہ سےامریکی حملے کے آگے ڈھیر ہو جائے گے اور ہم انہیں زیر کر کے خطہ کے دوسرے مما لک پر اپنی دھاک بٹھا کر اپنی سپر پاور ڈگری پر بہادری کا ایک اور تمغہ سجا کر خود کو ناقابل تسخیر ہو نے کا اعزاز اپنے ہی پاس رکھے گے لیکن ویتنامیوں میں اس جنگ میں گوریلا جنگی حکمت عملی اپنا کر امریکہ کووہ ناکوں چنے چبوائے کہ پوری دنیا کی افواج نے اس گو ریلاجنگی حکمت عملی کو اپنے نصاب میں رکھ لیا جبکہ امریکہ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود پے در پے شکست اور روزانہ کی بنیادوں پر اپنے بندے مروانے ہتھیا ر تباہ کروانے کے بعد اس سے جان چھڑا نا چاہتا تھا مگر یہ بھیگا کمبل چھوڑنے کو تیا ر ہی نہیں تھا اسی ویتنام کے بار ے میں ہنوئی سے خبر رساں ادارے آئی این پی نے کورونا وائرس وبا کا مقابلہ کرنےوالے اس دس کروڑ آباد ی والے جنوب مشرقی ایشائی ملک بارے ایک حیرت انگیز رپورٹ میں بتایا ہے کہ وبا کے گھر چین سے ایک ہزار کلو میٹر لمبائی والی زمینی سر حد کے باوجود ویتنام نے اپنے محدود وسائل مگر بہترین حکمت عملی اور بروقت فیصلوں اور اپنے طبی ماہرین کی مہارت اور اپنی عوام کے تعاون سے بغیر کسی جانی نقصان کے کورونا کے خلاف جنگ بڑی حد تک جیت لی ہے اور اس وقت ملک میں کورونا کے محض تین سو بارہ مریض ہیں رپورٹ میں بتا یا گیا ہے کہ اس سال جنوری میں کورونا کا پہلا مریض سامنے آتے ہی حکومت نے پوری دنیا میں وباء کی تباہکاریوں کو دیکھتے ہوئے ہائی الرٹ جاری کر دیا اور ساتھ ہی ہوائی اڈوں سے لیکر ریلوے اسٹیشنوں بس سٹا پوں اور پبلک مقامات پر اپنے طبی ماہرین اور عملہ کیساتھ مل کر اپنی ہی تیار کر دہ سستی کٹس کیساتھ معائنہ شروع کیا اور ساتھ جزوی لاک ڈاءون کر کے قانون نافذ کر نے والے اداروں کے زریعے لوگوں کی نگرانی شروع کر دی جبکہ مشکوک افراد اور مریضوں کو گھروں میں قرنطینہ کر کے وبا پر قابو پاتے ہی مئی کے وسط میں پچھتر فیصد کاروبار ارور معمولات زندگی کو بھی بحال کر کے کورونا کو شکست دینے والے ممالک کی صف اول میں کھڑا مسکرا رہا ہے میں نے اس رپورٹ کو متعدد بار پڑھا میرا خیا ل تھا کہ وہاں وبا کا مقابلہ کر نے کیلئے مرکز اور صوبوں میں شدیداختلاف کی کوئی بات ملے گی یا کورونا کو وہاں کی حکمران جماعت اور اپوزیشن میں فنڈز میں خرد برد قرنطینہ سینٹروں میں مریضوں کے ساتھ اچھوتوں والے سلوک کا کوئی زکر ہو گا وہاں لاک ڈاءون کامیاب بنانے کیلئے اسسٹنٹ کمشنر اپنے لاءو لشکر کے ساتھ اچانک بغیر اطلاع کے بازاروں میں نکل کر دوکانداروں چھابڑی ٹھیلہ والوں سے ہتک آمیز سلوک اور بلا جواز جرمانے کر کے کورونا سے اُجڑے کاروباریوں کو معاشی طور اور بد حال کر نے کے علاوہ مثال کے طور پر جیلوں اور تھانوں میں بند کر نے کا کوئی ہٹلر منصوبہ اپنایا گیا ہو گا لیکن مجھے ان جیسی کو ئی مثال نہ ملی تو مجھے عوام کی جان عمران خان کا خیال آگیا جو اپنے جلسے جلوسوں میں عوام کو یہ باور کر انے کی یقین دہانی کر ایا کرتے تھے کہ جب ہم حکمران ہو گے تو عام آدمی ریاستی ظلم و ستم اور سول افسروں اور اداروں کی زیادتیوں سے محفوظ عزت اور توقیر کی زندگی گزارے گے لیکن تقریباً دو سال سال کے عرصہ حکومت میں عوام جن مالی اور معاشی حالات کا شکار ہیں اور اوپر سے کورونا سے بچاءو پر متضا د حکومتی پالیسیوں نے خاص طور پر چھو ٹے دوکانداروں تاجروں درمیانے طبقے کے لو گوں کو جس حال میں پہنچا دیا ہے ایک محتاط اندازے کے مطابق مزید ڈیرھ سے دو کروڑ لوگ خط غربت سے نیچے جا چکے ہیں موجودہ حالات میں سول افسران جیسے اسسٹنٹ کمشنر صاحبان نے اپنے علاقوں میں وباء کو کنٹرول کے نام پر جو ظالمانہ کا لفظ استعمال کر نے کی بجائے سخت پر اکتفا کر رہا ہوں اختیار کر رکھا ہے وہ ان علاقوں کے ممبران اسمبلی اور حکومتی پارٹی کی عہدہ داروں کی سول افسران کے رویہ میں سرد مہری حکومت کیلئے مجھے خدشہ ہے کہ مقبولیت اور اعتبار کو کم کر نے میں خطرناک ثابت ہو سکتی ہے ابھی میں یہاں تک پہنچا تھا کہ اسلام آباد ڈیٹ لائن سے خبر رساں ادارے این این آئی انسٹیوٹ فار پبلک او پیین ریسرچ کی چاروں صوبوں میں لاک ڈاءون پر عوامی تاثرات سے متعلق پڑھنے کو ملی جس میں بتا یا گیا ہے کہ محض آٹھ فیصد لوگ لاک ڈاءون کو وباء سے بچاءو کیلئے ضروری سمجھتے ہیں جبکہ اڑتیس فیصد ناکام قرار دیتے اور اکتیس فیصد لاک ڈاءون کے فور ی خاتمے کے حق میں ہیں جبکہ اڑسٹھ فیصد کا خیال ہے کہ لاک ڈاءون میں معاشی حالات کو بد ترین کر دیا ہے جب میں یہاں پہنچا تو سوشل میڈیا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ میرے صحافی دوست افتخار احمد بٹ ،بابو حامد منظور ،پھول جی اور رانا شبیر آگئے اُنکا خیال تھا کہ انتظامی افسران نے اوپر بیٹھے افسران نے نمبر ٹانکنے کیلئے اختیارات کا وسیع استعمال شروع کر دیا ہے اور سول انتظامیہ وبا اور وبا سے معاشی متاثرین کو کوئی ریلیف دینے کی بجائے بھاری جر مانوں کی جو پالیسی اپنا چکی ہے اگر اسے فوری بند نہ کیا گیا تو آنے والے وقت میں حکومت اور حکو متی پارٹی کے کر تا دھرتاءوں کو اس کے منفی اثرات مقبولیت میں کمی یا عدم اعتماد کی صور ت میں مل سکتے ہیں دوست کہہ رہے تھے کہ وبا زدہ ممالک نے اسکے خاتمے کیلئے جس وسیع پیمانے پر روزانہ کی بنیادوں پر اسپرے کی حکمت عملی کو اپنایا ہے اسی سے وباء کے خاتمے میں مدد ملی ہے آخری بات فلور ملز کو گند م کی خریداری میں حکومتی رکاوٹی پالیسی سے فلو ر ملز مالکان نے بیس کلو آٹا کا تھیلا بیس روپے مہنگا کر دیا ہے اور آنےوالے دنوں میں گندم کا آٹا مزید مہنگا ہو کر حکومت کیلئے پریشانی کا سبب بن سکتا ہے اور فلور ملز مالکان ہڑتا ل پر بھی جا سکتے ہیں اور دوسری بات کہ بازاروں میں رش کم کر نے کیلئے خریداری ٹائم میں اضا فہ اور ایس ا و پیز پر عمل کر تے ہوئے چھٹیاں ختم کر دینے سے رش خودبخود نارمل ہو سکتا ہے ۔