- الإعلانات -

جدوجہد آزادی کشمیریوں کی اپنی تحریک ہے

بھارتی فوج کے ناردرن آرمی کے سابق کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ)ڈی ایس ہوڈانے اعتراف کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مسلح تحریک عوام کی حمایت سے چل رہی ہے ۔ ایک جانب تیز رفتار انٹرنیٹ بند ہو اور دوسری جانب مخالف مواد کا توڑ نہ ہو تو بات نہیں بن سکتی ۔ لوگوں کی حمایت کے بغیر کہیں کوئی مسلح شورش 30 برسوں تک باقی نہیں رہتی ۔ سابق بھارتی فوجی کا کہنا تھا کہ عموماً بھارتی سیاستدان ، میڈیا اور متنازعہ اینکر ز الزام تراشی کرتے ہیں کہ مقبوضہ جموں و کشمیر تنازعہ پاکستانی افواج کے تربیت یافتہ دہشت گردوں کی وجہ سے ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ بھارتی جانب کے علیحدگی پسندوں اور راشی سیاستدانوں کے حمایت یافتہ ‘پراکسی وار’، جس کے تحت کچھ گمراہ اور بنیاد پرست مقامی کشمیری نوجوانوں نے بندوق اٹھائی ہے ۔ لیکن اس سے کشمیر میں مسئلے کی پوری تصویر بھی سامنے نہیں آتی ۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کا طویل المدتی حل تلاش کرنے کےلئے ہ میں پاکستان کی حمایت کو کمزور اور تشدد کے جاری واقعات کو قابو کرنے کی کوششوں کے علاوہ سول آبادی اپنی توجہ مرکوز کرنا ہوگی اور اس سے پہلے کہ کوئی میری طرف سے ‘دہشت گردی کی بجائے ‘شورش’ کا لفظ استعمال کرنے پر کوئی اعتراض کرے، میں واضح کرنا چاہوں گا کہ دہشت گردی بھی شورش میں استعمال ہونے والا ایک ہتھیار ہی ہے ۔ انسدادِ شورش کو اکثردل و دماغ کا کھیل قرار دیا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان آپریشنز میں دل سے زیادہ دماغ کا کام ہوتا ہے ۔ آج کی دنیا میں جہاں اطلاعات، پروپیگنڈہ اور فرضی خبر کی بہتات ہے، تنازعات میں اصل مقابلہ لوگوں کے دماغ کو اثر انداز کرنے کا ہے ۔ ہ میں ان لوگوں کی باتوں میں ہرگز نہیں آنا چاہیے جو فوج کے ہاتھ کھول دئیے جانے اور کشمیری آبادی پر بمباری کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ طاقت کا اضافی استعمال اکثر ایسے حالات پیدا کرتا ہے جس میں دہشت گردوں کے لیے مزید بھرتی کرنے کا ماحول تیار ہوجاتا ہے ۔ بعض تنظی میں بھارت کے انسانی حقوق کے معاملات سے نپٹنے میں شفافیت ہونے سے انکار کرتی ہیں ۔ گویا کہ قومی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا ہے لیکن ہ میں مختلف اختلافی آوازوں کو سرسری طور دبانا بھی نہیں چاہیے ۔ ان معاملات سے نپٹنے میں شفافیت کی وجہ سے سرکار کی اعتباریت میں اضافہ ہو سکتا ہے ۔ حکومت کومقبوضہ جموں و کشمیر میں اطلاعات کے مقابلے کو جیتنے کے لیے سنجیدگی سے اقدامات پر غور کرنا چاہیے ۔ اس کے لیے لگن رکھنے والی ایک تنظیم، جس میں سوشل میڈیا اور دیگر مواد کا مفصل جائزہ لینے اور مقامی، علاقائی، قومی اور بین الاقوامی سطحوں پر نافذ کی جانے والی حکمتِ عملی مرتب کرنے کی اہلیت رکھنے والے ماہرین کا عملہ ہو، اس کی ضرورت ہے ۔ جموں و کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے اور اسکی آزادی کےلئے ایک لاکھ سے زائد لوگوں نے جانوں کی قربانی دی ۔ جبکہ ہزاروں بچے یتیم ہو گئے ۔ ماؤں بہنوں کی عصمتیں لٹ گئیں ۔ لاکھوں بے گناہ شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے اور وہاں کے عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ۔ لوگوں کو اب بھی بلاوجہ گرفتار کیا جارہا ہے ۔ حراستی اموات، گرفتار کے بعد لاپتہ کردینے، شہریوں کے مکانات نذر آتش کردینے اور چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کرنے کے واقعات برابر جاری ہیں ۔ لارڈ ماوَنٹ بیٹن نے اکتوبر 1947 میں کہا تھا کہ تقسیم ہند میں کسی ریاست کے ساتھ زیادتی نہیں کی جائے گی ۔ اگر کسی ریاست کی بھارت یا پاکستان میں شمولیت پر تنازع پیدا ہوا تو وہاں کے عوام سے رائے لی جائے گی ۔ جو فیصلہ عوام کریں گے وہی قابل قبول ہوگا ۔ لہٰذا ریاست جموں و کشمیر کے بارے میں کہا گیا کہ برٹش گورنمنٹ کی خواہش ہے کہ ریاست سے دہشت گردوں کے انخلا کے بعد حالات معمول پر آنے پر عوام کی رائے عامہ لی جائے گی او ر اس کی بنیاد پر الحاق کا فیصلہ ہوگا ۔ آج 72 برس بعد بھی کشمیریوں کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے نہیں دیا گیا ۔ کیا یہ برٹش گورنمنٹ کا فرض نہیں بنتا تھا کہ اپنے ہی وضع کردہ قانون کوریاست جموں و کشمیر میں لاگو کرے جبکہ تقسیم ہند کے وقت برطانوی وائسرائے ہی بھارت کا حکمران تھا ۔ مسئلہ کشمیر کا آبرومندانہ حل ہی اس خطے کو دہشت گردی کی زد سے باہر نکال سکتا ہے کیونکہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی بھی ردعمل کے طور پر دہشت گردی کو جنم دے رہی ہے ۔ اور اس کا واحد حل یہی ہے کہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جائے ۔ پاکستان کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا حامی جب کہ بھارت انکاری ہے ۔ یہ مسئلہ اگر ابتدا ہی میں حل ہوجاتا یا سلامتی کونسل کی قراردادوں کو سامنے رکھتے ہوئے کشمیریوں کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے دیا جاتا تو آج جنوبی ایشیا ایک پر امن خطہ ہوتا لیکن نہ تو اقوام متحدہ نے اس طرف کوئی دلچسپی لی اور نہ ہی بھارت نے اپنی ہٹ دھرمی چھوڑی ۔ اور آج تک یہ مسئلہ جوں کا توں ہی ہے ۔ اقوام متحدہ اس پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔ مسئلہ کشمیر کے بارے میں بڑی طاقتوں نے بھی کبھی اپنا مثبت اور صحیح کردار ادا نہیں کیا ۔ یہی وجہ سے کہ ہندوستان اپنی پوری طاقت کے ذریعے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو کچل دینا چاہتا ہے ۔ ہندوستانی حکومت عالمی رائے عامہ کو یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات پر امن مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتی ہے ۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہندوستانی حکمران پاکستان پرکشمیر میں دہشت گردی کا بے بنیاد الزام عائد کر رہے ہیں ۔ ہندوستانی حکمرانو ں کو معلوم ہونا چاہیے کہ جب کوئی قوم آزادی کے حصول پر تل جائے تو دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی اس کو آزادی کے حصول سے نہیں روک سکتی ۔ کشمیری آزادی کی تلاش میں سرکردہ ہیں اور وہ اس مقصد کےلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں ۔ اس میں بڑے تو بڑے جوان، عورتیں ، بچے سبھی شامل ہیں ۔ ہندوستان اپنی آٹھ لاکھ فوج استعمال کرنے کے باوجود کشمیریوں کی تحریک آزادی کو روک نہیں سکا اور وہ زیادہ دیر تک طاقت کے استعمال سے کشمیریوں کو غلام نہیں رکھ سکتا ۔