- الإعلانات -

بھارتی دفاعی اخراجات میں اضافہ

چین اور پاکستان کے مابین دوستی کے بڑھتے تعلقات نے جہاں امریکا کوگہری تشویش میں مبتلا کیا ہے وہاں جنوبی ایشیا میں اس حوالے سے بھارت بہت زیادہ بدحواسی کاشکار ہوکرپاگل پن کی حد تک تقریباً بوکھلاتا ہوا نظرآرہا ہے لے دیکے امریکا کے پاس اب کوئی اور چارہ باقی نہیں رہا امریکا نے اپنے طور پرسفارتی شوریدہ سری کی دیوانگی کی کیفیت میں چین اور پاکستان کا وہ اورتوکچھ بگاڑنے کی پوزیشن میں نہ رہا تو اْس نے پہلی فرصت میں اسرائیل کا پورا جھکاو بھارت کے پلڑے میں ڈالنے کا اپنا مذموم سوچا سمجھا منصوبہ پوری طرح سے آزمانے کافیصلہ کرلیا ہے اب ہم یوں سمجھیں کہ اسرائیل اور بھارت نام کے دوملک سہی، لیکن ان دونوں مسلم دشمن دنیا کے ٹارگٹ اور مسائل ایک جیسے ہی نہیں برسبیل تذکرہ اس موقع پر یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ اسرائیل اور بھارت جب ایک پیج آکھڑے ہوئے ہیں تو ایک لحاظ سے بحیثیت مسلمان ملک ہونے کے ناطے ایران پر ایسی کون سی افتادآن پڑی ہے کہ وہ تادم ِتحریر اپنی انتہائی اسٹرٹیجک اہمیت کی حامل چہابہار بندرگاہ سے بھارت کا معاہدہ کیئے بیٹھا ہے وہ اس معاہدہ پر ’’ری ویزٹ‘‘کیوں نہیں کرتا ایسے بہت سے علاقائی معاہدات کے سوالات مشرق وسطیٰ کے مسلم ممالک سے جڑے ہوئے ہیں ہاں تو بات ہورہی تھی بھارت کی انتہا درجہ کی بدحواسی اورسراسیمگی کی ،جس کا اظہارماہ فروری میں پیش کیئے جانے والے بھارت کے مالی سال 2020;245;21 کے لئے 66;46;9 بلین ڈالر کے دفاعی بجٹ کا جو اعلان ہوا، نئی دہلی نے نئے سال کے اپنے بجٹ میں 2019 کے مقابلے میں 9;46;4 فیصد اضافے کے حساب سے حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 15;46;49 فیصد لگایا ہے، جس کی تفصیلات کھل کرجب سامنے آئیں تو پتہ چلا کہ بھارت نے اپنے دفاعی بجٹ میں 6 فیصد اضافہ کرتے ہوئے آئندہ مالی سال کےلئے لگ بھگ 34 کھرب بھارتی روپے دفاعی اخراجات کےلئے مختص کیئے ہیں ، بڑا ڈھول پیٹا جارہا ہے کہ بھارت فوجی اخراجات کی عالمی درجہ بندی میں دنیا میں اب چوتھے نمبر پرآگیا ہے بے ہنگم شور مچانے والے اس پر بھنگڑے ڈالنے والے آرایس ایس کے ’’گودیوں ‘‘کوئی ذرا بھی فکر نہیں ہے کہ بھارت میں بھوک، ننگ، افلاس، مفلوک الحالی اوردیگر انسانی ضروریات سے جڑی ایسی سہولیات نام کو کہیں نظرنہیں آرہیں ،چین اورپاکستان کے نام نہاد خطرے کی آڑ میں لگ بھگ 34 کھرب بھارتی روپے کا بھاری بھرکم خزانہ مودی سرکار نے بھارتی جنرلوں کی نذر کردیا، بڑی ’’جھک‘‘ مارلی گئی کوئی پوچھنے والا نہیں ہے مودی جی کو ،وجہ یہ کہ بھارت میں آرایس ایس نے’چپ کی خوفناکی‘ کا ڈراونا ماحول بنادیا ہے کہ دیش میں سرکار سے سوال پوچھنے کی کوئی ہمت نہیں کرتا ،چاہے مقبوضہ وادی میں ناجائز آئینی اقدامات اْٹھانے کا انسانی معاملہ ہو، اس سے قبل نوٹ بندی کے غیر متوقع اعلان کا سوال ہو، دیش میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے دینی اجتماعات پر آرایس ایس کے مسلح گروہوں کے حملوں کا موقع ہو،مسلمانوں کے گھروں اور مساجد پر آتش گیر مادے کے حملے ہوں اورشہریت ترمیمی بل کے خلاف لب کشائی کرنے والوں کی سرعام پٹائیاں کی جارہی ہوں حالیہ کورونا کی مہلک وبا سے نمٹنے کےلئے مودی جی ’’تھالیاں اور تالیاں ‘‘پیٹنے کے ساتھ راتوں کو دئیے جلانے جیسی سیاسی فائدہ مندی کی غرض سے سیاسی ’کرزمہ‘‘ بنانے کی کوشش کی ہوں زیادہ خطرناک نا اہلیت کا مقام یہ کہ جب ہر طرف سے بْری طرح کی ناکامیاں سامنے آئیں تو مودی جی نے یکایک ’’ٹائم فریم‘‘ دئیے بنا ء پورے دیش میں ’’لاک ڈاون‘‘کا اعلان کردیا تو آج دوماہ سے زیادہ عرصہ گزر گیا بھارت بھر کے کروڑوں عوام واپس اپنے گاوں جانے کےلئے پیدل ہی نکل پڑے، اْن کی حالتِ زار بیان کرنے کےلئے ہمارے پاس الفاظ نہیں دیش کے نئے مالی سال کے بجٹ میں بھارت میں کویڈ19سے متاثرہ کروڑوں عوام کو اب تک پائی بھی نہیں ملی بھارت ایک ارب پینتیس کروڑ کی آبادی کا ملک ایک اندازے کے مطابق پچاس سے ساٹھ فی صد آبادی خطہ غربت سے کئی درجے نیچے اپنی زندگیوں کی بمشکل سانسیں لینے پر مجبور‘ مودی جی کے نئے مالی سال کے بجٹ پراب ہم ذرا بھارتی اپوزیشن کے جائز اعتراضات کاجائزہ لیتے ہیں وہ کہتے ہیں مثلاً بی جے پی حکومت کو سمجھ میں نہیں آرہا کہ جب آمدن کے وسائل مہیا نہیں ہونگے، تو کوئی کیسے ٹیکس دے پائے گا;238;کانگریس کے رہنما راہول جی نے بجٹ کے بعد کہا کہ ’آج بھارت کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ روزگار اورمعیشت کا بن گیا اور اس کے لیے بھارتی اپوزیشن جماعتوں کو کوئی مربوط مرکزی منصوبہ نظر نہیں آرہا بہت سارے ٹیکنیکل منصوبے ضرور ہیں مسٹر گاندھی نے کہا کہ اگر ہم اقتدار میں آتے تو انکم ٹیکس سروسنزکو آسان بناتے،جبکہ اسے مزید پیچیدہ تر کر دیا گیا یہ بجٹ حکومت کو اچھی باتیں بنانا سیکھا رہا ہے باتیں خوب کو عمل کرنے نہیں ضرورت نہیں ’’سپریم کورٹ کے وکیل اور کانگریس کے ترجمان جے ویرشیرگل نے بجٹ کے بارے میں اپنی ٹوئیٹ میں لکھا ;39;بجٹ 2020 کےلئے غلط ڈاکٹر،غلط تشخیص،غلط نسخہ،غلط سرجری،اور اب ’’انڈین معیشت نامی مریض‘‘ یا تو پوری طرح سے مر جائے گا، یا پھرلوگ ڈاکٹر کوبدل کرملک کو بچا لیں گے‘‘تازہ بجٹ میں پانچ سمارٹ سٹی بنانے کی بات کہی گئی،جس پرسوشل میڈیا صارفین کہہ رہے ہیں کہ 2014 میں 100 سمارٹ سٹی بنانے کی بات کہی گئی تھی جبکہ ’’صفر سمارٹ شہر’’ بنا، اب 2020 کے بجٹ میں پانچ سمارٹ سٹی کی بات کی جا رہی ہے;238; اور پھر بھی یہ نا اہل حکومت سوچتی ہے کہ لوگ ان کے جھوٹ اور دھوکے میں آجائیں گے;23839;جبکہ دوسری جانب سابق وزیر خزانہ پی چدامبرم نے کہا ہے کہ حکومت نے معیشت کی احیا ء یا ترقی کی رفتار کو تیز کرنے یا نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کی کوشش ہی چھوڑدی ہے، بھارت نے اپنے دفاعی بجٹ میں 6 فیصد اضافہ کرتے ہوئے آئندہ مالی سال کےلئے لگ بھگ 34 کھرب بھارتی روپے ( 70 کھرب پاکستانی روپے) مختص کر دیئے ہیں ، رواں برس فروری میں کوروناوائرس نے دنیا کے خطہ پر موت کی دستک دینی شروع کردی تھی اور اسی موقع پر امریکا اور چین کے مابین یہ چپقلش نمایاں ہوئی کہ یہ مہلک وائرس چین نے تیار کیا;238;، جبکہ چین کا کہنا تھا کہ امریکا نے ووہان چین میں منعقد ہونے والی ’’ملٹری گیمز‘‘ میں شرکت کےلئے امریکا سے آنے والوں نے یہ وائرس ووہان میں چھوڑا، تاہم لفظوں کے تبدلوں کی دوطرفہ یہ مہم جاری ہے امریکا کے تیور بہت بدلے ہوئے دکھائی دیتے ہیں سی آئی اے والوں نے ماضی کی ایسی کئی مشکوک عالمی بدحالیوں ، تباہیوں اوربربادیوں کو پھیلانے میں کافی بدنامیاں اپنے نام کی ہوئی ہیں بھارت کی جانب سے کویڈ19 کی نازک صورتحال میں اپنا دفاعی بجٹ بڑھادینا ثابت کرتا ہے کہ امریکی شہ پر نئی دہلی نے غالباً پاکستان اور چین کو خوف ذدہ کرنے کےلئے یہ انتہائی قدم اْٹھایاہو;238; کٹھ پتلیوں کو علم نہیں ہوتا کہ ڈوریاں کھینچنے والے کیا سوچتے ہیں اْن کا کام تو ’’تماشا‘‘دکھانا ہوتا ہے، نئی دہلی کے حکمرانوں نے جو کرنا تھا وہ کرگزرے، علاقائی تزویراتی ماحول کے بارے میں سمجھ بوجھ پر کافی سوچ بچار کرنی ہوگی اب ’’عدم مطابقت اور مقابلے پر مبنی دفاعی پالیسی‘‘کے اہم فیصلے پاکستان اور چین نے باہم مل کر کرنے ہوں گے، بھارت کومیدان میں کھلی چھوٹ دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، خطہ میں طاقت کے توازن کو بگاڑنے کے اس بھارتی عمل نے یہ نئی سوچ ضرور پیدا کردی ‘ وہ یہ اگر اب بھارتی عمل کے جواب میں پاکستان یا چین اپنے تحفظ اور اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کےلئے کوئی اور حساس اہم قدم اْٹھالیں تو کسی کو معترض ہونے یا حیران اور فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیئے،اپنے دفاعی اخراجات میں چھ فی صد اضافہ معمولی بات نہیں خطہ میں ایسا ماحول بھی نہیں تھا، پھر بھی بھارت نے پہل کی اورخطہ کو طاقت کے عدم توازن سے دوچار کرنے کی کوشش پرعمل کرڈالا جس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے آخری سطروں میں عرض یہ کہ ’’امریکا، بھارت اوراسرائیل کے باطل پرستانہ اتحاد‘‘ سے کسی صورت صرف ِنظرنہیں کیاجاسکتا ، بھارت اوراسرائیل کی بڑھتی ہوئی قربتیں پاکستان کےلئے آلارمنگ سچوئیشن ہے، پاکستانی قوم حکمرانوں سے بجا توقع کرتی ہے کہ کسی تاخیر کے بغیر چین اور ترکی کو اعتماد میں لے کر انقلابی سفارتی ودفاعی تعلقات کوعملی صورت دینے میں بالکل تاخیر نہ کی جائے ۔