- الإعلانات -

وفاقی کابینہ کا اجلاس،سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمدکاعزم

کوروناوائرس کی وباء کے تدارک کے لئے لگائے گئے لاک ڈاءون سے عوامی مسائل میں اضافہ ہوا،ایک طرف کوروناکاخوف ہے تودوسری طرف لوگوں کو بھوک سے بچانے کی فکرہے ۔ ایسی صورتحال میں ایس او پیز کے تحت وقفے وقفے سے لاک ڈاءون میں نرمی کی گئی اورمختلف شعبے کھولے گئے مگر زیادہ رش والی مارکیٹوں اورشاپنگ مالزکوبندرکھاگیا ۔ ایسے میں سپریم کورٹ نے ازخودنوٹس لیکرتمام کاروباری مراکزکھولنے کاحکم دیا ۔ اسی تناظر میں گزشتہ روز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ لاک ڈاءون سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے سے ان ہزاروں لاکھوں افراد کے جذبات کی عکاسی ہوتی ہے جو کورونا کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا کیونکہ نچلی سطح کے لوگ بری طرح متاثر ہو رہے ہیں اورخط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد میں خوفناک حد تک اضافہ ہورہاہے ۔ عام ;200;دمی کیلئے دو وقت کی روٹی اور مشکل ہو رہی ہے تو ایسی صورتحال میں معیشت کا پہیہ چلانے اور کاروباری زندگی کی بحالی کیلئے حکومتی اقدامات یقینا قابل ستائش ہیں ، تاہم حفاظتی نکتہ نظر سے احتیاطی اقدامات کی پابندی عوام پر فرض ہے تاکہ کرونا وائرس کے دوران بھی کاروبار زندگی چلایا اور قومی معیشت کو استحکام کی منزل کی جانب گامزن کیا جاسکے ۔ چنانچہ ہ میں اجتماعی سوچ اور قومی اتفاق رائے کی بنیاد پر کورونا کے چیلنج سے عہدہ برآ ہونے کی ٹھوس حکمت عملی طے کرنے کی ضرورت ہے ۔ سپریم کورٹ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے یکساں پالیسی طے کرنے کا تقاضا کیا تھا ۔ اگر پالیسی کے تحت احتیاطی اقدامات پر مکمل عملدر;200;مد کرا کے معمولات زندگی بحال ہوجائے تو اس سے بیک وقت کورونا وائرس اور اقتصادی مسائل کے چیلنجز سے عہدہ برآ ہوا جا سکتا ہے اور زندہ قو میں ;200;زمائش کے ایسے مراحل میں ہی سرخرو ہوا کرتی ہیں ۔ حکومت کو کورونا کے حوالے سے پیدا ہونیوالی غیریقینی صورتحال میں یقینا احتیاطی اقدامات کا تسلسل بھی برقرار رکھنا ہے اور یہ بھی یقینی بنانا ہے کہ عوام بے روزگاری اور فاقہ کشی کا شکار نہ ہوں ۔ اس کیلئے وفاق اور صوبوں میں مثالی یکجہتی کی فضا پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ نیز وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے شبلی فراز نے کہاکہ وفاقی کابینہ نے بین الاقوامی معیار کی خدمات و سہولیات کی فراہمی کےلئے ایئرپورٹس کے انتظامات نجی شعبہ میں دینے کے حوالے سے وفاقی وزیر ہوا بازی کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی ہے صوبوں کے مابین پانی کی منصفانہ تقسیم کےلئے ٹیلی میٹری نظام وضع کیا جائے گا ، چینی اسکینڈل کی رپورٹ عید سے پہلے آجائے گی اپوزیشن لیڈر اپنی قسمت پر صبر کریں شہباز شریف احتساب سے بچنے کےلئے نئے الیکشن کا ڈھونگ رچانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں ، عوام اب دھوکے میں نہیں آئیں گے ،شہباز شریف احتساب سے فرار چاہتے ہیں ، اس بار انہیں جانے نہیں دینگے لیگی صدر کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا معاملہ زیر غور ہے شہبازشریف الیکشن کے مطالبے سے پہلے شہزاداکبر کے سوالوں کا جواب دیں موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایئرپورٹس کے انتظامات نجی شعبہ میں دینے کے حوالے سے 30 جون تک قانونی طریقہ کار وضع کیا جائےگا ۔ اجلاس میں سیکورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن کے بورڈ کے سربراہ کی تعیناتی کی منظوری دی گئی، ایس مسعود اختر کو بورڈ کا نیا چیئرمین بنایا گیا ہے جبکہ سابق چیئرمین خالد مرزا کو بورڈ کا ممبر بنا دیا گیا ہے ۔ وفاقی کابینہ نے اسلام آباد ہیلتھ کیئر کمیشن کے بورڈ کے ممبران کی بھی منظوری دی ۔ کابینہ نے لائن آف کنٹرول پر رہنے والے متاثرین کےلئے ریلیف پیکج دیا ہے ۔ بلاشبہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کڑے احتساب کے دعوءوں کے تحت ہی اقتدار میں ;200;ئی ہے ۔ کرپشن کے کے حوالے سے وہ کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے پر تیار نہیں ۔ یہ وقت سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا نہیں بلکہ حکومت اورحزب اختلاف کی جماعتوں کے درمیان ہم ;200;ہنگی کا متقاضی ہے ۔ اس مشکل وقت میں ;200;ج ہ میں عام ;200;دمی کی اقتصادی مشکلات کا احساس کرنا اور قومی سطح پر ایثار و یکجہتی کی مثالی فضا ہموار کرنی ہے جس کیلئے من حیث القوم سب کو کردار ادا کرنا ہوگا ۔

بلوچستان میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعات

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز پر دہشت گردوں کے2حملوں میں 7اہلکار شہید ہوگئے ۔ آئی ایس پی آر نے بتایا کہ مچھ کے علاقے پیرغائب میں ایف سی کی گاڑی کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ بیس کیمپ سے معمول کی پیٹرولنگ کے بعد واپسی آرہی تھی ۔ حملے میں جونیئر کمیشنڈ آفیسر (جی سی او)اور ایک سویلین ڈرائیور سمیت 6 اہلکار شہید ہوگئے ۔ شہید ہونے والوں کی شناخت نائب صوبیدار احسان اللہ خان، نائیک زبیر خان، نائیک اعجاز احمد، نائیک مولا بخش، نائیک نور محمد اور ڈرائیور عبدالجبار شامل ہیں ۔ دوسرا واقعہ کیچ کے علاقے میں مند کے قریب پیش آیا، جہاں فائرنگ کے تبادلے میں ایک سپاہی امداد علی نے جام شہادت نوش کیا ۔ پاکستان کوگزشتہ دو دہائیوں سے سامناہے اور اس میں ہونیوالے جانی اور مالی نقصانات کا اندازہ اس امر سے ہی لگایا جا سکتا ہے کہ اب تک ملک کے 80 ہزار کے قریب شہری جن میں دس ہزار سے زائد ہماری سکیورٹی فورسز کے افسران اور جوان بھی شامل ہیں جو دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ کر شہادت پاچکے ہیں جبکہ ہماری سکیورٹی فورسز نے ;200;خری دہشت گرد کے مارے جانے اور ملک میں امن کی مکمل بحالی کے عزم کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمہ کی جنگ جاری رکھی ہوئی ہے اور دفاع وطن کی ذمہ داریاں ہمہ وقت چوکس رہ کر نبھا رہے ہیں ۔ بلوچستان میں پاک فوج کی بھرپور قربانیوں کی وجہ سے جو امن و استحکام آیا ہے وہ دشمنوں سے برداشت نہیں ہو رہا ۔ دہشت گردی کی اس جنگ میں پوری قوم اپنے فوجی جوانوں کی قربانیوں پر انہیں سلام اور خراج عقیدت پیش کرتی ہے ۔ امید کی جانی چاہئے کہ صوبے سے پاک فوج جلد دہشت گردوں کا جڑسے صفایا کر دےگی ۔

بھارت کانیا ڈومیسائل قانون غیر آئینی ہے

پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کا نیا ڈومیسائل قانون سختی سے مسترد کردیا ہے ، ترجمان دفترخارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ;34;جموں و کشمیر گرانٹ آف ڈومیسائل سرٹیفکیٹ 2020 کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو مزید محروم کرنے کی بھارتی حکومت کی کوششوں کی سختی سے مذمت اوراسے مسترد کرتا ہے ۔ نیا ڈومیسائل قانون غیر قانونی ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون بشمول چوتھے جنیوا کنونشن اور پاکستان اور بھارت کے درمیان باہمی معاہدوں کی واضح خلاف ورزی ہے، قانون کا مقصد مقبوضہ جموں وکشمیر کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنا اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو آزادانہ اور غیرجانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے حق خودارادیت کے عمل کو ناکام بنانا ہے ۔ ہم اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ جموں و کشمیر کو اقوام متحدہ اور عالمی برادری نے متنازعہ تسلیم کیا ہے اس طرح کے اقدامات نہ تو متنازعہ نوعیت کو تبدیل کرسکتے ہیں اور نہ ہی وہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کو دبا سکتے ہیں ۔ اقوام متحدہ نے بھارت میں نفرت انگیزتقاریراوراقلیتوں سے امتیازی سلوک میں اضافے کی اطلاعات پرتشویش ظاہرکی ہے ۔ بھارت کاشہریت ترمیمی ایکٹ مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کےلئے امتیازی نوعیت کا حامل ہے اور یہ خصوصاً عدم امتیاز کے بارے میں انسانی حقوق کے عالمی قانون کے قطعی برعکس ہے ۔ عالمی برادری میں یہ تو عیاں ہوچکاہے کہ مودی سرکار کے دور میں بھارت کا ہندو انتہا پسند ریاست کا چہرہ مکمل بے نقاب ہوگیاہے ۔ مودی کی پاکستان اور مسلمانوں کے ساتھ دشمنی بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی چنانچہ اب اقوام عالم میں عالمی قیادتوں اور نمائندہ عالمی اداروں کی جانب سے مودی سرکار کی ہندو انتہا پسندی پر مبنی پالیسیوں اور اقدامات پر کھل کر اختلاف رائے کا اظہار کیا جارہا ہے جو اس بات کاثبوت ہے کہ مودی اپنے مذموم ہتھکنڈوں کے باوجودکشمیریوں کی آوازکودبانے میں مکمل طورپرناکام ہوچکاہے ۔ پاکستان کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا حامی جبکہ بھارت اس سے انکاری ہے ۔ کشمیریوں کی آوازپوری دنیا میں گونج رہی ہے اوریہ تحریک کشمیریوں کی آزادی تک جاری رہے گی ۔