- الإعلانات -

;34;دیوار مہربانی;34; سے ;34;نیکی کی ٹوکری;34; تک ۔

ہمارے ہاں چند سال قبل ۔ ۔ دیوار مہربانی ۔ ۔ کا خوبصورت ;200;ئیڈیا متعارف ہوا، شاید یہ ترکی یا کسی اسلامی ملک سے بھائی چارے کا ایک اچھا نمونہ سامنے ;200;یا تھا، پھر دیکھتے ہی دیکھتے ہمارے ارد گرد کچھ مقامات پر لوگوں نے اپنے استعمال شدہ فالتو کپڑے، جوتے، ہینڈ بیگز وغیرہ دیواروں کے ساتھ ۔ ۔ دیوار مہربان ۔ ۔ کا ٹاءٹل دے کر رکھنے اور ضرورت مندوں نے اٹھانے شروع کر دیئے، نہ کسی سے کوئی سوال کرتا نہ جواب کی ضرورت پڑتی، غریب پروری،اخوت و محبت کا یہ پودا ;200;ہستہ ;200;ہستہ مضبوط جڑیں پکڑنے لگا اور پھر دیکھا گیا کہ کھلی دیواروں کے ساتھ ساتھ کچھ مقامات پر لوگوں نے چھوٹے چھوٹے کھوکھے سے بنا دیئے جس سے ان میں پڑی اشیا رات دن موسمی حالات جیسے بارش وغیرہ سے محفوظ ہو گئیں ۔ اسکی ایک واضح مثال ہمارے پڑوس میں فوجی فاونڈیشن ہسپتال راولپنڈی سے ملحقہ ایک سی این جی اسٹیشن ہے جسکی ۔ ۔ دیوار مہربان ۔ ۔ اب باقاعدہ ایک ۔ ۔ کیبن نما ۔ ۔ بڑی الماری کی شکل اختیار کر چکی ہے جسے مالکان نے باقاعدہ ایک محفوظ جگہ دے دی ہے جس پر جلی حروف میں لکھا ہے، ۔ ۔ ۔ ۔ حسب ضرورت لے جائیں ، زائد ضرورت چھوڑ جائیں ۔ ۔ ۔ اور یوں سالوں سے وہاں دینے والے دے جاتے اور لینے والے بلا روک ٹوک لے جاتے ہیں اور کسی حد تک غریب لوگوں کی وہاں سے ضرورتیں بھی پوری ہو رہی ہیں ، بعض اوقات تو ڈھیر اتنا بڑھ جاتا ہے کہ اسکا کچھ لوگ ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں ، کچھ ویگن والے وہاں سے کپڑے اٹھا کر صفائی کے لیے استعمال کر لیتے ہیں ، گو یہ اس نعمت کا کچھ حد تک ضیاع ہے، لیکن انہیں بھی اگر ضرورت مندوں کی فہرست میں شامل کر لیا جائے تو پھر بھی یہ کھوکھا کبھی خالی نہیں ہوا ۔ بلاشبہ ضرورت مندوں کی خاموشی سے امداد کا یہ بہترین طریقہ ہے جو روز بروز بڑھتا ہی جا رہا ہے اور مجھے یقین ہے کہ وہ ایک دن ضرور ;200;ئیگا جب لوگ عید، بقر عید، کرسمس یا دیگر تہواروں کے مواقع پر یہاں نئے سے نئے کپڑے رکھ جائیں گے اور نادار و غریب لوگ بغیر کوئی تصویر بنوائے اور بغیر کیمروں کے سامنے تماشہ بننے کے، چپکے سے اپنا اپنا حصہ اٹھاتے جائیں گے ۔

کرو مہربانی تم اہل ز میں پر

خدا مہربان ہو گا عرش بریں پر

سوشل میڈیا جہاں ;200;دھا سچ ہوتا ہے، لیکن بعض اوقات اس تیز ترین میڈیم سے اتنی خوبصورت مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں کہ انسان کیلئے وہ مشعل راہ بن جاتی ہیں ۔ حال ہی میں ترکی ہی کی ایک ۔ ۔ ویڈیو کلپ ۔ ۔ نے درد دل رکھنے والے بہت سے لوگوں کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے اور ہزاروں لاکھوں انسانوں کو خدمت کے جذبے سے گرما دیا ہے ۔ وڈیو میں تندور پر کسی کو روٹیاں لگاتے دکھایا گیا، گاہک اس سے روٹیاں خریدتے اور اسی تندور کے ایک کونے میں لٹکتی ۔ ۔ ٹوکری ۔ ۔ جو دراصل روٹی فی سبیل اللہ ہوتی ہیں ، میں ایک دو روٹیاں ڈالنے کا کہتے ہیں ، روٹیاں لگتی رہتی ہیں ، لوگ ;200;تے جاتے روٹیاں خریدنے کے ساتھ ساتھ ایک ;200;دھ روٹی اس ۔ ۔ ٹوکری ۔ ۔ میں بھی ڈالنا نہیں بھولتے اور ۔ ۔ اللہ کے حصے کی یہ روٹیاں اللہ ہی کے کچھ غریب لوگ ;200; کر وہاں سے بلا جھجک اٹھا کر لے جاتے ہیں ، اخوت کی کیا اعلی مثال ہے جو ترکی سے ;200;ئی ہے، کوئی کہتا ہے یہ خلافت عثمانیہ کے دور کی روایت ہے کوئی کہتا ہے یہ ;200;ج کل بھی وہاں ہو رہا ہے، جناب یہ جو کچھ ہے، بہت ہی اعلی ہو رہا ہے، نہایت ہی عمدہ و ارفع عمل ہے جو اسی طرح اگر پوری دنیا میں رواج پا جائے تو مجھے یقین ہے کہ اس دھرتی پر کوء ایک بھی بھوکا ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گا ۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس رمضان شریف میں اسلام ;200;باد بنی گالہ، لاہور اور کراچی وغیرہ سے بھی کچھ ۔ ۔ ۔ اللہ والوں ۔ ۔ نے اس ;200;ئیڈیا کو اپنا کر باقاعدہ چند تندوروں پر ۔ ۔ نیکی کی ٹوکریاں ۔ ۔ رکھوا دی ہیں ، صرف پہلی دفعہ اس میں اپنے جیب سے شاید کچھ ڈالا گیا ہو، پھر بتایا گیا ہے یہ ۔ ٹوکریاں ۔ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے کبھی خالی نہیں ہوئیں ۔ ایک رپورٹ تو یہ ہے کہ لوگ اب تندوروں پر پیسے دے جاتے ہیں اور ضرورت مندوں کی مدد کیلئے اس ۔ ۔ ٹوکری ۔ ۔ کو بھرے رکھنے کا کہتے ہیں ۔ تندور والوں کیلئے بھی دیانتداری اب ایک بڑا امتحان ہے ۔ روزی دینے والی تو صرف اللہ تعالی کی ذات ہے، انسان کو تو وہ صرف ;200;زماتا ہے اور انسان کا ہر نیک عمل تو دراصل اس کی اپنی ہی نجات کا ذریعہ بنتا ہے ۔ کسی نے کیا خوب کہ ہے

غریبوں کی سنو وہ تمہاری سنے گا

تم ایک پیسہ دو گے وہ دس لاکھ دے گا

بھلے یہ روایات کسی اسلامی ملک کی ہیں ، یورپی یا کسی افریقی ملک کی، لیکن ہے یہ بہت لاجواب اور اس سلسلے کو اب ہمارے ہاں رکنا نہیں چاہیے یہ سلسلہ چلتا رہنا چاہیے، یہ صدقہ ہے، اور کہا جاتا ہے کہ صدقہ ہزار بلاوں کو ٹالتا ہے ۔ اللہ کے راستے میں ۔ ۔ اللہ ہی کی ٹوکری ۔ ۔ کو بھرنے سے وہ ٹوکری نہیں بھرتی دراصل ;200;پ کا اپنا نامہ اعمال بھرتا جاتا ہے اور یہ انسان ہوتا کون ہے اللہ کی ٹوکری کو بھرنے والا جب تک اللہ تعالی کی اس میں مدد شامل نہ ہو، ;200;پ کا ایک ایک پیسہ ;200;پ ہی کے نیک اعمال میں کء گنا اضافہ کا سبب ہو رھا ہوتا ہے اور اللہ کے ساتھ یہ سودا بالکل مہنگا نہیں ۔ کوشش کریں کسی تندور پر ۔ ۔ نیکی کی ٹوکری ۔ ۔ اگر ;200;پ کو لٹکتی نظر نہ ;200;ئے تو ;200;پ یہ سمجھیں یہ اللہ کی طرف سے اس نیک کام کے ;200;غاز کیلے ;200;پ کو چن لیا گیا ہے ۔ سورہ بقرہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ ترجمہ(ان کی مثال جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس دانے کی طرح ہے جس نے اگائیں سات بالیں ، ہر بال میں سو دانے اور اللہ اس سے بھی ذیادہ بڑھائے جسکے لئے چاہے اور اللہ وسعت والا اور علم والا ہے ،وہ جو اپنے مال سے خرچ کرتے ہیں رات میں اور دن میں ، چھپے اور ظاہر، اسکے لئے نیک ہے ان کے رب کے پاس،ان کو نہ اندیشہ ہے نہ غم ۔ سورہ منافقون میں ارشاد ہوا:-اور ہمارے دیئے میں سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرو قبل اسکے تم میں سے کسی کو موت ;200;ئے پھر کہنے لگے اے میرے رب تو نے مجھے تھوڑی دیر تک مہلت کیوں نہ دی کہ میں صدقہ دیتا اور نیکوں میں ہوتا ۔