- الإعلانات -

عید کی خو شیوں میں غریبوں کو شامل کر لیں

پہلے بھی مجھے کچھ کچھ گمان تھا لیکن اب یقین ہو تاجا رہا ہے کہ یہ کالم کہیں پالیسی سازوں اور ذمہ داروں کی نظر سے ضرور گزرتے ہیں اسلئے کہ جو کچھ ان میں بیان ہو تا ہے جلد یا بدیر ان پر عمل درآمد بھی ہونے لگتا ہے گزشتہ کالموں میں مشورہ گریز حکمرانوں سے گزارش کر تا رہا کہ کورونا کے نام پر بے ہنگم لاک ڈاءون کو آسان بنائیں اور کورونا کو بھگانے کی خواہش میں عام آدمی کو بےروزگاری اور بھوک سے مارنے سے گریز کیا جائے اور وزیراعظم کی بھی پہلے دن سے یہ سوچ تھی کہ لاک ڈاءون اسکا حل نہیں لیکن گومگو کی پالیسیاں آڑے آتی رہی بھلا ہو چیف جسٹس پاکستان اور لارجر بنچ کے لارڈز ججز کا کہ جنہوں نے عوام کی بے بسی محرومیوں نچلے اور درمیانے درجے کے تاجروں کے علاوہ دیگر کاروباریوں کی اصل صورتحال کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنے زبر دست عوام دوست فیصلے میں حکومت اور حکومتی اداروں کی کارکر دگی اور کورونا کے نام پر ہونے والے اربوں روپے کے اخراجات کی کلی کھول کر وہ بھی پوچھ لیا جو ان کالموں میں پوچھا جاتا تھا کہ کیا حکومت نے کورونا سے کوئی وقت اور دن کی ڈیل کر رکھی ہے جو ہر روز پانچ بجے کے بعد اور جمعہ ،ہفتہ اتوار ہمارے بازاروں پر قبضہ کر لیتا ہے لارڈ چیف جسٹس کے سوالات اور ریمارکس اور عدالتی حکم میں جو کچھ پوچھا اور کہا گیا ہے اس میں بائیس کروڑ عوام کی سوچ شامل ہے اور اس حکم سے عوام کو جو اطمنان ملا ہے وہ لفظوں میں بیان کر نا مشکل ہے بس اس قدر کہا جا سکتا ہے کہ دو ماہ سے اُجڑے پجڑے معاشی بد حالوں کے چہروں پر رونق آگئی ہے ۔ حکومت اور حکومتی ادروں میں اگر تھوڑی سی بھی عوامی محبت ہو تو اس حکم کی روشنی میں آئندہ کیلئے عید کے بعد بھی بازاروں مارکیٹوں کو کھلا رکھنے اور نو سے پانچ بجے تک کی پابندی کو مزید بڑھا کر مزید آسانیاں بھی پیدا کر سکتے ہیں اور اپنی غلطیاں بھی درست کر سکتے ہیں جس سے ملکی صنعت و تجارت دوبارہ اپنے پاءوں پر کھڑا ہو کر آگے بھی بڑھ سکتی ہے ۔ ٹھیک ہے کہ کورونا دوسرے ممالک میں بھی تھا کورونا نے انڈیا کی ترقی 7فیصد سے 6پر چین کی گیارہ سے نو فیصد پر امریکا کی 24سے 21فیصد پر آئی لیکن ہماری جو 7 فیصد تر قی کر نا تھی ایک ڈیڑھ پر جا گری ہے اور ہم پھر سے دو دہائیاں پیچھے جا پڑے ہیں قوم اس معیشت کو سہارا دےکر آگے لے جائے گا کچھ کہنا مشکل ہے عدالتی حکم نے کرڑوں لوگوں کا مدوا کر کے زندگی کا پھر سے چلا یا ہے لیکن پھڈے بازی میں اپنا خاص مقام رکھنے والوں کو کون سمجھائے کہ عید سر پر ہے لوگوں نے خوشی غمی میں جانے معمو لات زندگی کو چلانے عید پر اپنے آبائی علاقوں میں جانا ہے لیکن ٹرانسپورٹر سے حکومت بگاڑ بنا کر پریشان کر رکھا ہے اچھی حکومتیں عام آدمی کی سہو لت کے مسئلے پر نہ مذاکرات میں دیر کرتی ہے نہ فیصلے کر نے میں اور نہ جائز مطالبات ماننے سے گریز کرتی ہے مگر حکومت کی ٹرانسپورٹرز ہڑتال پر خامو شی عام آدمی کیلئے تکلیف کا باعث ہے یہی نہیں گزشتہ کالموں میں باور کرانے بلکہ سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ گند م خریداری کے معاملے میں فلور ملز مالکان کے تحفظات کو دور کیا جائے ورنہ گندم کا آٹا مہنگا ہو نے کے علاوہ فلور ملز مالکان ہڑتا ل پر بھی جاسکتے ہیں اور وہی ہوا جس کا خدشہ تھا فلور ملز مالکان نے مہنگی گندم خرید کر سستا آٹا فروخت کر نے سے انکار کر تے ہوئے ہڑتا ل کر دی ہے اور بیس کلو آتے کا تھیلابیس سے چالیس روپے تک مہنگا ہو گیا ہے پہلے ہی آٹا اور چینی کے بحران کے ذمہ دار وں کی انکوائری کھڈے لائن لگی ہوئی ہے اور اب نیا آٹا چینی بحران سر اُٹھا رہا ہے کون ہے جو ہر روز حکومت کیلئے آسانیاں پیدا کر نے کی بجائے مشکلات لا رہا ہے اور کون ہے جو ان مشکلات میں اضافوں کو دیکھ کر اطمنان محسوس کر رہا ہے ظاہر ہے حکومت کے اندر ہی کو ئی بڑی طاقت یہ سب کر رہی ہے ٹڈی دل پر بہت پہلے اس کالم میں ذمہ داروں کو آگاہ کیا تھا مگر کچھ نہ ہوا اور اب یہ عالم ہے کہ ملک کے ترپین اضلاع میں کروڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں اور باغات ٹڈی دل کے رحم و کر م ہے شاید اسی لئے اعلیٰ عدالت نے متعلقہ اداروں سے پوچھا ہے کہ کیا ٹڈی دل آئندہ سال فصلیں ہو نے دیگا یہاں تک تو بات حکمرانوں اور اداروں کی ہے لیکن غور کریں تو ہم عام آدمی بھی معاملات کر نے میں کسی سے کم نہیں رمضان المبارک سے قبل جو سبزیاں پھل اور دیگر اشیائے خوردونوش کچھ مناسب نرخوں پر دستیا ب ہوا کرتے تھے پہلی سحری کیساتھ ہی اُنکی قیمتوں کو پر لگ گئے کمال ہے ہم روزے بھی رکھتے ہیں نماز تراویح بھی پڑھتے ہیں خیرات کر نے میں بھی سب سے آگے ہیں اور روز رات کو حضور ﷺ کی زیارت کے بھی امیدوار ہوتے ہیں اور اس ماہ مقدس میں ایک نیکی کے بدلے ستر گنا ثواب کے بھی امیدوار رہتے ہیں لیکن ساتھ ساتھ ٹوکہ مارنے سے بھی گریز نہیں کر تے تو پھر رحمت خداوندی کی طلبگاری کس حوالے سے کر تے ہیں آپ خلیجی ممالک سے یورپی ممالک تک نگاہ دو ڑایں وہ جنہیں ہم کافر کہتے ہیں رمضان المبارک کےساتھ ہی مسلمانوں کیلئے رعایتی رمضان کاءونٹر کھول کر آسانیاں پیدا کر نے میں کمال کرتے ہیں اور ایک ہم ہیں آخری عشرہ کے ان آخری مبار ک دنوں اور کچھ نہیں تو اپنے اردگرد رہنے والے اپنے نادار ،غریب اور مستحق رشتہ داروں عزیزوں پیاروں میں عید کی خوشیاں بانٹنے میں ہی فراخ دلی دکھا لیں اور کو شش کریں کے ان غریبوں کے بچوں کی عید خوشیوں اور اطمنان سے گزرے اور ایسا نہ ہو کہ کو ئی بے بس و بے کس مجبور اپنے بچوں کیلئے عید کی خوشیاں خریدنے میں ناکامی پر خود کشی کر لے یہ میری آپکی سب کی مذہبی اور اخلاقی ذمہ داری ہے جس پر غور کر نا اور سوچنا ہی مسلمانی ہے ۔