- الإعلانات -

کوروناوائرس،،،،مشترکہ عالمی کوششوں کی ضرورت

کوروناکی وباء اس وقت پوری دنیا میں جاری ہے اوراس کاتاحال کوئی علاج دریافت نہیں ہوسکاگوکہ اس حوالے سے مختلف ممالک دعوے کررہے ہیں لیکن خاطرخواہ نتیجہ سامنے نہیں آرہا، کوئی بھی ملک اس کاتنہا مقابلہ نہیں کرسکتا اس بات کی نشاندہی وزیراعظم نے عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس کی صدار ت کرتے ہوئے کی ۔ انہوں نے مزید کہاکہ جب تک ویکسین تیارنہیں ہوتی ہ میں کورونا کے ساتھ ہی رہناپڑے گا اوردنیابھر کے ممالک کو اس حوالے سے ملکر مشترکہ لاءحہ عمل بھی طے کرنا چاہیے ۔ وزیراعظم کے ویژن میں کوئی شک نہیں دنیابھی عمرا ن خان کوفالوکرتی ہے پھراقتصادی فورم کی صدارت کرنابھی کسی اعزاز سے کم نہیں ۔ بات دراصل یہ ہے کہ پاکستان معاشی اعتبارسے ایک کمزورملک ہے اور اس کورونا کے باعث ہمارے دوسے اڑھائی کروڑ لوگ بےروزگار ہوگئے یہ وہ لوگ ہیں جو دیہاڑی دارمزدورتھے ۔ یقیناً جب تمام کاروباربند ہوں گے توپھرمحنت مزدوری کیونکرمل سکے گی ۔ اب جبکہ حکومت نے اس سلسلے میں لاک ڈاءون کوختم کیاہے تو ہمارا فرض ہے کہ ہم نہ صرف اپنے لئے بلکہ آنے والی نسلوں کی زندگیوں کےلئے بھی احتیاطی تدابیرپرعمل کریں ۔ اس کےلئے لازمی ہے کہ قوم ایک باشعور قوم ہونے کاثبوت دے مگر ابھی تک اس طرح کا ایسادیکھنے میں نہیں آیا ۔ ملک بھرکے بڑے بڑے بازاروں اورشاپنگ مالز میں ہوشربا رش ہے کہ تل دھرنے کی جگہ نہیں ہے ۔ اگر اسی طرح کے حالات رہے تو پھرحکومت کو کوئی نہ کوئی فیصلہ کرناپڑے گا ۔ یوں بھی یہ بات سامنے آرہی ہے کہ جون کے مہینے میں کوروناکے پھیلنے کے بہت زیادہ امکانات ہیں لہٰذا ہ میں اقبل ازوقت ہی حفاظتی تدابیرپرتوجہ دیناہوگی ۔ جس طرح امریکہ ،برطانیہ، اٹلی میں کورونانے تباہی مچاہی ہے اس طرح سے پاکستان میں کوروناکا حملہ کم ہوا ہے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ایک خاص کرم ہے لیکن اگرہم اسی طرح بے احتیاطی کرتے رہے تو پھرقوم کو خود ہی نوشتہ دیوارپڑھ لیناچاہیے ۔ وزیراعظم نے اقتصادی فورم سے مزیدخطاب کرتے ہوئے کہاکہ ترقی پذیرممالک میں جس صورتحال کاہ میں سامنا ہے وہ یورپ اورامریکہ سے مختلف ہے ہ میں لاک ڈاءون کے دوران غریب طبقے کی بڑھتی مشکلات کو بھی دیکھناہے ان تمام حالات کامقابلہ کرنے کےلئے جب پوراملک ایک پلیٹ فارم پرمتحدہوتو دنیاکوبھی لامحالہ مشترکہ کاوشیں ہی کرناپڑیں گی ۔ وزیراعظم عمران خان نے خطاب کے دوران مزید کہاکہ پاکستان کو کورونا وائرس کے ساتھ غربت کا بھی سامنا ہے ۔ کورونا وبا کے باعث ہمارے ملک میں ڈھائی کروڑ خاندان بے روزگار ہوئے جو یومیہ اجرت پر کام کرتے تھے ۔ ہمارے لیے سب سے بڑا چیلنج لاک ڈاءون سے عوام پر پڑنے والے اثرات سے نمٹنا ہے ۔ رواں سال پاکستان کیلئے بہت ہی مشکل ثابت ہو رہا ہے ۔ پاکستانی حکو مت نے کورونا وائرس کی وباء سے متاثرہ لوگوں کےلئے احساس کیش پروگرام شروع کیا اور ایک کروڑ سے زائد خاندانوں کی مدد کر چکے ہیں جبکہ ان کی مدد کیلئے رضاکار فورس بھی میدان میں اتاری ۔ کروڑوں لوگوں کو بھوک سے بچانے کیلئے معیشت کو کھولنا بہت ضروری ہے ۔ طبی سہولتوں کی بہتری کیلئے مالی وسائل کی ضرورت ہے ۔ عالمی قرضوں کے باعث ترقی پذیر ملک طبی سہولیات پر خرچ نہیں کر سکتے ۔ نیزوزیر اعظم عمران خان نے اپنے سوشل میڈیا اکاءونٹ پر کہا کہ بھارت کے9 لاکھ عسکری اہلکار کشمیریوں پر ستم ڈھا رہے ہیں ، گزشتہ روز قابض فوجیوں نے سری نگر میں 15 گھر نذر آتش کر دیئے تھے ۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری قتل ِعام سے دنیا کی توجہ ہٹانے کیلئے بھارت جعلی کارروائی کرسکتا ہے ۔ ہندوتوا پر ایمان رکھنے والی قابض مودی سرکار چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آبادی کا تناسب بدلنے کیساتھ مقبوضہ کشمیر میں جنگی جرائم کی مرتکب ہے ۔ دوسری جانب پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روزنیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ورلڈ اکنامک فورم کی صدارت کرنا وزیراعظم عمران خان کےلئے اعزاز کی بات ہے،وزیراعظم عمران خان کاپوری دنیا میں نام ہے،دنیا وزیراعظم عمران خان کے سوشل ورک کو تسلیم کرتی ہے ۔

وادی میں بھارتی کالے قوانین،،،اوآئی سی کی مذمت

اسلامی تعاون تنظیم کے ہیومن راءٹس کمیشن نے ہندوستانی حکومت کے متنازع ڈومیسائل قانون جموں و کشمیر گرانٹ ;200;ف ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کو مسترد کرتے ہوئے اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر زور ددیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے بین الاقوامی تنازعہ کے حل کےلئے اپنا کردار ادا کریں ۔ ہیومن راءٹس کمیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جب پوری دنیا موذی وباء کورونا وائرس سے نبرد آزما ہے تو بھارتی حکومت نے اس موقع پر مقبوضہ کشمیر میں مسلم اکثریت کی ;200;بادیاتی ساخت کو غیر قانونی طور پر تبدیل کرنے کےلئے متنازع اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈومیسائل قانون نافذ کیا تاہم ماضی کی طرح کشمیری عوام نے اس قانون کی سختی سے ایک اور غیر قانونی اقدام کی مذمت کی اور بھارتی قبضے کے ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کے عزم کا اظہار کیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام کواپنے وطن کے اندر اقلیت میں تبدیل کرنے کی مذموم کوششیں انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے جس کی ضمانت بین الاقوامی انسانی حقوق کے متعدد معاہدوں کے تحت حاصل کی گئی ہے جس میں چوتھے جنیوا کنونشن کے ;200;رٹیکل 27 اور 49 شامل ہیں ، جو تنازعہ والے علاقوں یا متنازعہ علاقے میں ;200;بادی کی غیر قانونی منتقلی کو واضح طور پر غیر قانونی قرار دیتے ہیں ۔ اگست 2019سے ، ہندوستانی حکومت ، اقوام متحدہ ، او ;200;ئی سی اور انسانی حقوق کے دیگر اداروں کی طرف سے وسیع پیمانے پر عالمی مذمت کے باوجود ، مقبوضہ جموں و کشمیر میں شیطانی سیاسی ، معاشی اور مواصلاتی ناکہ بندی کے ذریعے کشمیری مسلمانوں پر منظم ظلم و ستم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے ۔ تاہم ساڑھے پانچ لاکھ سے زیادہ سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کے باوجود ، ہندوستانی حکومت کشمیریوں کی حق خودارادیت کےلئے جائز جدوجہد کو ناکام بنانے میں ناکام رہی ہے ۔ ;200;رمڈ فورسز اسپیشل پاور ایکٹ اور پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے کالے قوانین بے گناہ کشمیریوں کے انسانی حقوق پامال کرنے کےلئے بھارتی سیکیورٹی فورسز کو مکمل تحفظ فراہم کرتے ہیں ۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری بھارت مقبوضہ کشمیر میں استصواب رائے کرانے ، کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دلانے ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد ، مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاءون ختم کرنے ، مقبوضہ کشمیر کی بین الاقوامی قوانین کے تحت آئینی حیثیت بحال کرنے، مقبوضہ کشمیر میں امتیازی قوانین کے خاتمے کےلئے بھارت پر دباءو ڈالتے ہوئے اپنا کردار ادا کریں ۔

ایس کے نیازی کی کاوشیں رنگ لے آئیں

سی پی این ای کے نائب صدرایس کے نیازی کی کاوشیں رنگ لے ;200;ئیں ۔ وزیراعظم کی ہدایت پرمیڈیا انڈسٹری کے اشتہارات کی مد میں بقایاجات کے چیک ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں کے حوالے کئے گئے ۔ پی ;200;ئی اوشہیراشاہدنے سی پی این ای کے نائب صدرایس کے نیازی کی موجودگی میں چیک ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں کے حوالے کئے ۔ ایس کے نیازی نے حکومت سے اشتہارات کی مد میں بقایاجات اورمیڈیاورکرز کوعیدسے پہلے تنخواہوں کی ادائیگی کامطالبہ کیا تھا اس لئے پی ;200;ئی اوشہیراشاہد نے ایس کے نیازی کوپی آئی ڈی کے دورہ کی دعوت دی اوران کی موجودگی میں چیک تقسیم کیے ۔ اس موقع پر پی آئی اوشہیراشاہد نے ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں کو ہدایت کہ میڈیامالکان کو چیک دیتے وقت ورکرزکی تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنوائیں ۔ شہیرا شاہد نے ایس کے نیازی کویقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ میڈیاورکرزکی عیدسے پہلے تنخواہوں کی ادائیگی کویقینی بنایاجائےگا ۔ ایس کے نیازی میڈیاورکرزکی ;200;وازہیں ،وہ ہمیشہ ورکرز کے حقوق اور تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے ;200;وازاٹھاتے رہتے ہیں ۔ میڈیا انڈسٹری کے مسائل حل کرنے اور ورکرز کی تنخواہوں کی ادائیگی کی یقین دہانی کرانے پرسی پی این ای کے نائب صدرایس کے نیازی نے شہیراشاہد کے فعال کردارکی تعریف کی ۔ میڈیامالکان میڈیاورکرزکوفیملی ممبرز سمجھیں ، میڈیاورکرزکے چولہے ٹھنڈے نہیں پڑنے چاہئیں ۔ ایس کے نیازی کایہ خاصارہاہے کہ انہوں نے ہمیشہ ورکرزکے حق میں بات کی ہے اور وہ اپنے ادارے میں ملازمین کوہمیشہ بروقت تنخواہیں اداکرتے ہیں ۔