- الإعلانات -

قرآن کا معاشی نظام

انسان کی بنیادی صفت ہی یہی ہے کہ وہ محبت اور آشتی سے ایک دوسرے کی کمیوں کو پورا کریں ، تاکہ آپ کو نظر آجاے کہ دنیا میں جنت کی زندگی کیا ہوتی ہے ۔ مگر جو ں جوں آبادیاں پھیلتی گئیں ۔ انسانی حرص نے فطرت کے قوانین کو اُلٹ پلٹ کر رکھ دیا ۔ ذاتی مفادات کا جن نمودار ہوا ہے ، جذبات پرستی اور طاقتور ہونے کا احساس پیدا ہوا یہ سمجھنے لگا کہ اگر ’’ذخیرہ ‘‘نہ کیا گیا تو ہماری نسلیں کسی ’’آفت‘‘ کے آجانے سے مشکل میں نہ پڑ جائیں ۔ یہ وہ پہلا تصور تھا جس نے ’’تیری میری‘‘عزت اور افلاس کی کثرت نے ’’کمزور طبقات ‘‘کوذلت کی زندگی دی ۔ یہ سب کچھ انسان ہی کی ہوس طاقت نے کر کے دکھایایو ں آج دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ۔ آج دنیا کی کثیر آبادی غربت اورمحرومی کا شکارہے کل کے طاقتور اور آج کے سرمایہ دار نے دولت اور سرمایہ کاری کی بدولت ملکوں کے سیاسی نظام وضع کیے جمہوریت ،اشتراکیت ’’یہ وہ سیاسی نظام وضع ہوئے جس کا مقصد ’’سرمایہ وار ‘‘اور سرمایے کو تحفظ دینا تھا ۔ سوا انکی امید کا مقام ستارہ افلاک پر اور محروم زمین پر کیڑے مکوڑوں کی طرح رینگے رہے ہیں ۔ اسی بدا عتدالی اور مفاد پرستی نے اس امن کے گہوارے کو جینے کے لائق ہی نہیں چھوڑا ۔ اب معاملہ اور بھی سنگین ہو گیا ۔ بلکہ’’ نفسیاتی عوارض ‘‘نے امیر اور غریب دونوں کو ایک ہی ;67;hamber میں قید کر لیاہے ۔ غریب زیادہ تر بھوک اور بے عزتی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے ۔ اگر اس کو 5ہزار خیرات میں دیئے جائیں تو ہ محرومی دور کرنے والے کو ’’رزق کا ذریعہ یا نعوذ باللہ خدا تصور کر لیتا ہے یہ جانے بغیر کہ ’’اللہ خیرالرزقین ‘‘ہے یعنی اللہ کا نظام اور قرآنی تعلیم میں زمین سے آسمان تک اس اکیلے نظام کا ’’خالق ‘‘وہی ہے ۔ انسان کو یہ جدید تعلیم دی گئی ہے ۔ کہ اپنی مرضی مت کرو بلکہ وہ نظام قائم کرو جسے ’’اقیم الصلوۃ‘‘یعنی قرآن کا سیاسی نظام کہتے ہیں ، قائم کرو تاکہ زمین پر ’’عدل و انصاف ‘‘قائم ہو سکے ۔ جب حکم صرف اللہ کا ہوگا ۔ صلاحیتوں کی بنیاد یعنی ;77;erit ;83;ystemاس حکم کی اطاعت میں ہے تو جمہور کا نام لینے سے کوئی نظام عوامی ہو یا جمہوری پیش ہونام کوئی بھی ہو اگروہ ’’وحی کامل ‘‘کی تعلیم سے ہم آہنگ نہ ہو تو سمجھ لو یہ مکر ہے ۔ جو کاریگرسیاستدانوں ، حکمرانوں اور مذہبی پیشے نے اپنے ذاتی مفاد کےلئے وضع کیا ہے چونکہ مفلس اور محروم تعداد میں کثیر ہوتے ہیں ۔ لہٰذا اس نفسیاتی نکتے سے فیض اٹھاتے ہوئے ان سے چکنے چیڑے وعدے کر کے انکے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑنے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں ۔ یورپ نے چونکہ ’’پادری‘‘کو سیاسی نظام سے دیس نکالا کیا، سو وہاں پر مولوی کا کردار صرف کلیساءوں تک محدود ہو کر رہ گیا مگر باوجود اس کے عقلی اور انسانی بنیادوں پر انہوں نے ’’ویلفیئرریاست ‘‘قائم کئے ۔ جن کا مقصد محروم طبقات کی ضرورتیں پوری کرنا ہے ۔ یہ غفلت بندی یہ مادہ پرستی باجود اس کے وہاں کے سرمایہ داردونوں طرح کے فائدے لے رہے ہیں ایک انسان کی قدر جابر ہو مگر اس کو معلوم ہوتا ہے کہ تجارت کا واحد حل یا پھینک دینا بھی ہے ۔ دوسری طرح مشرق خصوصاًاسلامی ممالک نے بھی ’’خدا کا عملی تصور‘‘سے تیاگ لیا، ہر خاص و عام نے خدا کو اپنے لئے نجات کا آخری حل اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں ۔ انکو یقین ہے کہ ’’جنت ‘‘غریبوں کےلئے تیار پڑی ہے ۔ سرمایہ دار اس توہم کا شکار ہے کہ اپنی چوری کی کمائی سے فلاحی ادارے قائم کرنا اور خیراتی کاموں سے انکی ’’جنت‘‘بھی محفوظ ہوتی ۔ اس باطل تصور نے خاص طور پر اسلامی تشخص کو مسخ کر کے رکھ دیا ہے ۔ یورپ نے اپنے مسائل عقل کی بنیاد پر پیش کئے ہیں مگر مشرقی اقوام نہ عقل استعمال کرتے ہیں نہ ہی عمل کی قوتیں اجاگر رکتے ہیں ۔ بس تسبیح ومناجات کے منکے پہن کر پیروں اور فقیروں کے آستانوں پر جا کرمراد وندی کی اپلیں کرتے ہیں ۔ آج چونکہ 21ویں صدی کے نظریات کا طوطی بول رہا ہے اوریہ 21ویں صدی’’ سرمایے‘‘ کا دور ہے ۔ میڈیا ہے جیساسامری اپنا قائدہ بھی لے اڑتا ہے ۔ اور بے علم انسانوں کو ’’سحر ‘‘ میں مبتلا کر دیتے ہیں ریاست کا ڈھانچہ موجود ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ کچھ کاغذی قسم کا ہے چند افراد کے سوا حکومتیں اپنے پر فرض کئے گئے ہیں میراس جمہوری نظام کی قبا میں چھپے ہوتے ہیں ۔ جادوگر اپنی مرضی اور فسوں کا ری سے عالمی نظام جمہوریت کے اس باطل تصور کے غلام بن کر امیر و غریب ملک ،آقا اور غلام کی حیثیت سے اپنی بین الاقوامی سطح پر آبادیوں کی زندگی اور مستقبل کا بیوپار جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ اس وقت دنیا کی منڈی پر امریکہ اور یورپ چھایا ہوا ہے اسکی سرمایہ دارانہ سوچ کو خطرہ لاحق ہوتا ہے تو غریب ممالک میں افرا تفری پیدا کر لیتے ہیں ۔ معاشی استحصال شروع کر دیتے ہیں ۔ ورلڈبینک اور آئی ۔ ایم ایف کے ذریعے دنیا کے ان ممالک جہاں غربت رقصاں ہوتی ہے، اپنے چھوٹے چھوٹے سرمایہ دار منتخب کر کے ’’;70;ranchised‘‘ کر لیتے ہیں ۔ لہٰذا یہ تمام سرمایہ مرکزی ساہوکار کی جیب میں جاتا ہے ۔ ان غریب ممالک کا پرسان حال کوئی نہیں رہتا ۔ محرومی محتاجی ہی سہارا رہ جاتی ہے کہ چارہ ہی یہی رہتا ہے ۔ کس قدر باطل ہے یہ فکری، رویہ جس نے بدترین معاشی نظام کو استحکام بخشا ہے ۔ ’’خدا کے نظام‘‘کا پہلا اصول یہ ہے ،کہ کوئی بھی بھوکا ، بغیر چھت کے نہ رہے ۔ سرمایہ متوازی حیثیت سے محروموں کی ضرورتوں کو پورا کر کے اللہ کی حاکمیت قائم کریں ۔ کسی انسان کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ حاکم بن جائے ۔ حاکم اور محکوم دونوں اللہ کے بندے ہیں ،وہ اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کریں گے تاکہ ’’نظام ربوبیت کا اثر ‘‘دنیائے عالم تک وسعت پالے ۔ اس نظام کا مقصد یہی ہے کہ سرمایہ دارکےلئے اس میں کوئی جگہ نہیں ، ضرورت سے زائددولت مرکزی حکومت کو دی جائے گی جسکا کام یہ ہو گا کہ وسائل ریاست کو دریافت کریں گے اور عوام کے ساتھing ;83;harکے ذریعے ’’عدل پر مبنی نظام ‘‘کا احیاء ہو سکے گا ۔ جہاں ’’تیری میری‘‘ نہیں بلکہ ایک ایسا ’’معاشی نظام ‘‘قائم ہو گا جو ہر انسان کی صلاحیتوں کی راہنمائی کر ے گا ۔ جس سے انکے ہاں نہ خوف اور نہ ہی حزن ہوگا ، بلکہ علم النفسیات کے مطابق جس معاشرے میں بنیادی ضرورتیں بلا تعل متحرک ہوں وہاں خوف نہ ہوگا ۔ بلکہ ترقی اورنشونما کا ’’ایک مستقل نظام ہو گا ۔ جو تکریم انسانیت کے بل پر ذمہ دارانہ انداز زیست متعین کرےگا ۔