- الإعلانات -

جس رنگ کا جوتا اس رنگ کا ماسک

حیثیتِ قوم ہم بہت ہی زندہ دل واقع ہوئے ہیں ، جب جب ہم پر ;200;زمائش یا امتحان کا وقت ;200;یا، نا صرف اسے خندہ پیشانی سے برداشت کیا بلکہ غم کو خوشی اور تکلیف کو سکھ میں بدلنے میں ذرا دیر نہیں لگائی اور کہتے ہیں برائی ہمیشہ اچھائی کے تعاقب میں رہتی ہے اسی لئے ہمارے ہاں ہم میں بھی ایک اور خاص مخلوق گھاٹے کو منافع میں بدلنے والی بھی پائی جاتی ہے، جسکا کھوٹا سکہ بھی چلتا ہے، مٹی کو سونا انکی ایک چٹکی کا کام اور روئے ز میں پر شاید ;200;پ کو اسکے توڑ کی کوئی چیزکہیں اور نہیں مل سکتی ۔ دیکھا گیا ہے کہ مشکل کو اگر مشکل سمجھ لیا جائے تو معمولی سے معمولی پریشانی بھی پہاڑ بن جاتی ہے اور اگر اسی میں سے خیر کا کوئی پہلو نکال لیا جائے تو صورتحال نہ صرف قابل برداشت ہو جاتی ہے بلکہ ایک غیر سود مندچیز الٹاسود مند ثابت ہو سکتی ہے ۔ بقول غالب:-

رنج سے خوگر ہو انساں ، تو مٹ جاتا ہے رنج

مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی، کہ ;200;ساں ہو گئیں

کچھ لوگ ;200;جکل کروناپازیٹیو رزلٹ ;200;نے کے بعد جب سیلف قرنطینہ میں رہنے کے واقعات میڈیا پر ;200; کر بیان کرتے ہیں تو ان لوگوں کے لازوال ارادے اور بے مثال ہمت کو داد دینی پڑتی ہے جو ان لوگوں کیلئے حوصلہ ;200;س اور امید کا درجہ رکھتی ہے جو اس مشکل دور سے ;200;جکل گذر رہے ہیں ،کوئی کہتا ہے اس نے اپنے ;200;پ کو اس دوران اعتکاف میں سمجھا، کسی نے لاتعداد کتابیں پڑھ ڈالیں اور کسی نے پورا قر;200;ن شریف ختم کیا یا با ترجمہ پڑھا، غرض انہوں نے وہ بڑے بڑے کام اس تنہائی میں رہ کر کئے جو عام حالات میں انکے بس کی بات نہ تھی ۔ یہ تو تھی ایک مثبت مثال، اب ذرا قوم کے حالیہ کرونے کے خلاف جنگ میں عمومی کردار پر بات کریں تو اس عالمی جان لیوا وبا کے زمانے میں بھی ہماری قوم کے کچھ طبقات بجائے پریشان ہونے کے اس صورتحال سے بھی بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔ اسکی دو واضع مثالیں موجود ہیں ، اول، لاک ڈاون کے ساتھ ہی شہروں میں سڑکوں پر دونوں اطراف ہزاروں نام نہاد بے روزگار دیہاڑی دار ہاتھوں میں بیلچے کدالیں ،مسکینوں کا روپ دھارے، اکٹھے ہو گئے اور جو گاڑی ذرا سی ;200;ہستہ ہوتی اس پر دھاوا بول دیتے، دینے والے بھی بہت ;200;ئے لیکن افسوس،لینے والے روز بروز بڑھتے ہی گئے،جو مزدور عام حالات میں سات ;200;ٹھ سو روپے اپنی مزدوری کرنے کے بعد حاصل کرتا وہ اس چھینا جھپٹی میں سامان خوردونوش کےساتھ ساتھ ہزاروں کی دیہاڑیاں لگاتے رہے اور ;200;ج بھی باز نہیں ;200; رہے، لاک ڈاون کے دوران میں نے خود ان کے پاس جا کر مزدوری پر ;200;نے کا کہا تو وہاں سے کوئی ہلنے کو تیار نہ تھا، اگر کسی نے حامی بھری بھی تو ڈبل دیہاڑی مانگی جس سے ثابت ہوا کہ ان میں بھوکا بے روزگا شاید کوئی ایک بھی نہ تھا، تقریباً سب پیشہ ور بھکاری،غیرمستحق اور کرونا جیسی مصیبت کومال غنیمت میں تبدیل کرنے والے چالباز اور مکار تھے ۔ ;200;پ نے امدادی سامان کے تھیلے بازاروں میں بکتے تو ضرور دیکھے ہوں گے ۔ ادھر بظاہر دوکانیں بند تھیں لیکن سودا ہر ایک کو مل جاتا تھا طریقہ واردات یہ تھا کہ یہ حضرات یا انکے کارندے دوکانوں کے باہر کھڑے ہوتے، غرض مند گاہک کو پہچان کر اشارہ کرتے،شٹر اٹھا کر اندر لے جاتے اور مجبوری کے اس عالم میں جہاں اسکی ضروت پوری کرتے وہیں کھنڈی چھری سے ذبح کرتے، کسی کو بولنے کی جرات ہی نہ ہوتی ۔ دس روپے کی چیزپچاس میں ، بہانہ پیچھے سے سپلائی بند ہے، یا شکر کریں یہ بھی مل رہا ہے ۔ عام ;200;دمی پر اس دفعہ مہنگائی کے دو دو پہاڑ ٹوٹے، ایک کرونا دوسرا رمضان المبارک کے دنوں میں تاجر حضرات کی ڈبل خدا خوفی، یعنی بسم اللہ کر کے روزے کے ساتھ اصل قیمت سے دگنا تگنا منافع اور پھر اس دن دگنی رات چوگنی ترقی کرنے پر عام لوگوں میں جب بات کر نا تو بیت اللہ شریف میں پابندی پر ہائے ہائے کرنا اور اس دفعہ بچوں سمیت عمرہ حج پر نہ جانے کے غم کا اظہار کرنا ۔ جناب انور مقصود اس موقع پر کیا خوب بولے’’ رات دس دس بجے اذانیں دینے سے کرونا بھاگے نہ بھاگے تاجر اپنا منافع دس دس روپے کم کر دیں تو یہ ضرور بھاگ جائیگا‘‘کرونا کی جعلی ادویات جعلی سینیٹائزر اسکی تازہ مثال ہیں جو ہمارے تاجر طبقے کے ماتھے کا ہمیشہ جھومر رہیں گے ۔ ;200;ٹھ سو والا مٹن ساڑھے بارہ سو ، پانچ سو والا بیف ;200;ٹھ سو میں اور مرغی ہر دوکان پر وافر دستیاب لیکن چار گنا قیمت پر بیچی جا رہی ہے، وجہ پوچھو تو مال شارٹ ہے، پیچھے سے مہنگا ہے، کون جانے یہ پیچھے والے کون ہیں اور ان بکھیڑوں میں پڑنے کا کسی کے پاس وقت ہی کہاں ہے ۔ عید کے فوراً بعد ایک فروٹ والے سے فروٹ خریدا، ہر چیز کی قیمت میں واضح کمی، خود انکا ارشاد تھا کہ جناب جو کیلا ;200;ج ;200;پ 150 درجن کا لے کر جا رہے ہیں یہ رمضان میں ہم 200 درجن بیچتے رہے ہیں ۔ ماشاللہ کیا سچائی ہے اور میں انکی وضاحت پر چکرا گیا ۔ ہاں ، اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ کچھ تاجر حضرات نے لوٹ مار کرنے کے بجائے ضرور خدا خوفی کا دامن پکڑے رکھا ہو گا، لیکن شاید لاکھوں میں ایک والی بات ہے، جو ڈھونڈیں تو چراغ لے کر بھی نہ ملیں ۔ رات ایک چینل پر کچھ خواتین و حضرات اینکرز کرونا سے بلا خوف و خطر عیدگپ شپ میں مصروف تھے، ایک خاتون کہہ رہی تھیں کہ مارکیٹ میں اب میچنگ ماسک بھی دستیاب ہیں ۔ پہلے ہم چیری بلاسم والوں سے سنتے تھے جس رنگ کا جوتا اس رنگ کی پالش اور اب پیش ہے جس رنگ کا جوتا اس رنگ کا ماسک ۔ اب یہ نیاکرونیائی زمانہ ہے کیونکہ کہا جا رہا ہے کہ اب ہم نے لمبے عرصے تک جب تک کوئی نیا وائرس متعارف نہ کروا دیا جائے اسی کرونا کے ساتھ ہی ہم نے رہنا ہے تو ہو سکتا ہے کہ بڑے بڑے برینڈاب اس منافع بخش کاروبار میں اپنابرینڈڈ ماسک بھی متعارف کروادیں ، ریشمی مارک، پھولدار جھالر والے ماسک،کھڈی ماسک یا امپورٹڈ وولن ماسک اور یہ بھی جلد ممکن ہے کہ ;200;پ کو میڈیا پر اب ماسک کے رنگ برنگے اشتہارات بھی چلتے نظر ;200;ئیں اور جتنا بڑا برینڈ اتنی ذیادہ قیمت ۔ خیر ہماری قوم قیمت سے نہیں گھبراتی بس مقابلہ کرنا ہے کہ ان سے فیشن میں کوئی ;200;گے نہ نکل جائے ۔ ماسک جسکا اصل مطلب تو جراثیم کو روکنا تھا ہماری قوم میں بطورفیشن وائرس اب پوری طرح داخل ہونے کو تیار ہے ۔ کیونکہ ہمارے ہاں پائی جانے والی وہ خاص مخلوق ان خاص حالات میں بھی مال بٹورنے اور منافع کمانے میں زرا دیر نہیں لگاتی، خبر یہ ہے کہ اس نے یہ کار خیر بھی سر انجام دے ڈالا ہے ۔ اسلئے میں نے اپنے ایک سابقہ کالم میں لکھ دیا تھا کہ کرونا تو کیا کرونا کا باپ بھی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔ کرونا بھلے پوری دنیا میں کوئی بڑی بیماری ہو گی لیکن ہم نے تو اسے اب باقاعدہ ایک فیشن کا روپ دینا شروع کر دیا ہے اگر یقین نہ ;200;ئے تو کسی بھی شاپنگ مال کے باہر ;200;پ دس پندرہ منٹ کھڑے ہو کر لوگوں کے خصوصا خواتین کے کپڑے اور ماسک کا موازنہ کر کے دیکھ لیں گے;200;پکو اندازہ ہو جائیگا گا ہم کرونا سے کتنے ڈرے ہوئے، فکرمند اور کس قدر خوفزدہ ہیں ۔