- الإعلانات -

گھروں میں قید کشمیری

کورونا لاک ڈاوَن سے کشمیر میں لاکھوں افراد پھنسے ہوئے ہیں جو خوراک اور پانی کی تلاش میں جدوجہد کر رہے ہیں ۔ بدقسمتی سے ان افراد کو کرونا وائرس کی مہلک وبا سے اتنا زیادہ خطرہ نہیں جتنا خطرہ بھارتی فورسز سے ہے ۔ بھارتی حکومت کو اس وبا سے نمٹنے کیلئے طاقت کے وحشیانہ استعمال کی بجائے عوام دوست اقدامات کرنے چاہئیں ۔ بھارت کو قرنطینہ میں رکھے گئے افراد کے حقوق کا احترام اور تحفظ کرنا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ مناسب پناہ گاہ ، خوراک ، پانی اور صفائی ستھرائی جیسی ان کی بنیادی ضروریات پوری ہوں ۔ بھارتی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ وادی کے لوگوں کو مہلک وبا سے بچائے تاہم اس دوران انسانی حقوق کا خاص خیال رکھا جانا چاہیے ۔ بین الاقوامی قانون کے تحت بھارت پابند ہے کہ وہ قیدیوں کی جسمانی ، دماغی صحت اور تندرستی کو یقینی بنائے ۔ حفظان صحت کے حالات اور ناکافی صحت کی سہولیات کے علاوہ تنگ ہندوستانی جیلیں کورونا وائرس کے پھیلاءوکیلئے بڑا خطرہ ہیں ۔ سینکڑوں کشمیری نوجوان‘ صحافی‘ سیاسی رہنما اور انسانی حقوق کے کارکن 2019ء میں گرفتار ہوئے ۔ سینکڑوں کشمیری اب بھی کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں تین جیلوں میں قید 18 افراد کو نظربند کرنے کے احکامات منسوخ کردیئے گئے ۔ ان میں سے 16 سنٹرل جیل سری نگر اور ایک ایک کوٹ بھلوال جیل جموں اور پلوامہ جیل میں بند ہیں ۔ کرونا وائرس پھیلنے کے بعد رہا ہونے والے پی ایس اے کے حراست میں لئے گئے افراد کی تعداد 65 ہوگئی ہے ۔ گذشتہ ہفتے، علاقے کی ہائی کورٹ نے ہائی پاور کمیٹی کو قیدیوں کی رہائی کی ہدایت کی تھی ۔

گزشتہ برس اگست میں جب نریندر مودی کی حکومت نے پارلیمنٹ میں جموں کشمیر کی تشکیل نو کا اعلان کرکے کشمیر اور لداخ کو دو الگ الگ مرکز کے انتظام والے علاقوں میں تقسیم کردیا تو عوامی ردعمل کو روکنے کے لیے سبھی سیاسی رہنماؤں سمیت ہزاروں لوگوں کو گرفتار کیا گیا ۔ انٹرنیٹ اور فون رابطوں پر پابندی عائد کی گئی جو چھ ماہ بعد نرم کی گئی ۔ ابھی بھی کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں شروع نہیں ہوئی ہیں ۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں رواں سال 2020 میں اب تک بھارتی فوج نے مختلف آپریشنز میں 26 واقعات میں 45 نوجوانوں کو شہید کیا ہے ۔ جن میں جنوری میں 22،فروری میں 11اور مارچ میں 8افراد شہید کئے گئے ۔ بھارتی فوج نے مقبوضہ وادی کو 8 ماہ سے چھاوَنی بنا رکھا ہے ۔ ان 8 ماہ کے دوران بھارتی فوج کی بربریت سے 87 کشمیری شہید ہو چکے ہیں ۔ بھارتی فوج کی جارحیت سے 956 کشمیری زخمی ہوئے ۔ مقبوضہ وادی میں ہزاروں کشمیری جیلوں میں قید و بند کی تکالیف سے گزر رہے ہیں ۔ گزشتہ روز ضلع کلگام میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے مزید 4 کشمیری شہید ہو گئے ہیں ۔ بھارتی فوج، پولیس نے کولگام کے منڑگام گاؤں ہارڈمنڈ گوری میں مشترکہ سرچ آپریشن شروع کیا ۔ جس کے دوران گھروں میں گھس کر خواتین سے بد تمیزی بھی کی گئی ۔ بھارتی فوج نے تین کشمیریوں کو شہہید کیا ہے ۔ جن کی شناخت اعجاز احمد ناءکو ساکنہ چندر، شاہد صادق ملک ساکنہ کھل نور آباد اور عادل احمد ٹھوکر ساکنہ پمبئی کولگام کے طور پر ہوئی ہے ۔ بھارت پاکستان کے خلاف بھی جارحانہ عزائم رکھتا ہے ۔ بھارت نے ایل او سی کی 3 ہزار خلاف ورزیوں کیں اور 3 سو شہریوں کو نشانہ بنایا ۔ بھارت نے ایل او سی کے 5 سیکٹرز میں مذموم عزائم کے تحت باڑ کو بھی جزوی طور پر ہٹا دیا ہے جبکہ ایل او سی پر براہموس میزائل رجمنٹس، اینٹی ٹینک میزائل اور سپائس میزائلز نصب کر دیے ہیں ۔ بھارت کسی بھی وقت جعلی بنیادوں پر کوئی فوجی آپریشن کر سکتا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کے حالات کے سات ساتھ شاہ محمود قریشی نے مقبوضہ کشمیر میں ڈومیسائل کے نئے قانون پر سلامتی کونسل کو خط لکھ کر توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ حالیہ بھارتی اقدام سے کشمیریوں میں خوف پیدا ہوگیا ہے ۔ بھارتی عمل سے مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل ہونے کا خطرہ ہے ۔ بیرون کشمیر سے بڑی تعداد میں لوگوں کی کشمیر میں سکونت کا خدشہ ہے ۔ موجودہ عالمی وبا کے حالات میں بھارتی اقدام قابل افسوس ہے ۔ بھارت عالمی برادری کی کورونا پر توجہ سے فائدہ اٹھانےکی کوشش کر رہا ہے ۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری کو جنرل 5 اگست 2019 سے بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی مظالم سے متعلق زمینی حقائق سے مسلسل آگاہ کرتے آئے ہیں جس سے جنوبی ایشیاکی سلامتی اور استحکام کو خطرات لاحق ہیں ۔ نومارچ 2020کو بھجوائے گئے اپنے حالیہ خط میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں حالات ٹھیک ہونے کے جھوٹے بھارتی بیانیہ کو مسترد کرتے ہوئے بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف کے کشمیری نوجوانوں کے لئے ڈی ریڈیکلائزیشن کیمپس قائم کرنے کے قابل مذمت بیان کی طرف توجہ مبذول کرائی ۔ اپنے خط میں وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و سلامتی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک تنازعہ کشمیر کا مستقل اور منصفانہ حل نہیں ہوگا ۔ سلامتی کونسل کے پاس یہ معاملہ ہنوز موجود ہے اور سلامتی کونسل اپنی متعلقہ قراردادوں کے مطابق جموں کشمیر کے عوام کو ان کا پیدائشی، ناقابل تنسیخ استصواب رائے کا حق دلانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے ۔ بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اورمظالم کو دنیا کے سامنے لانے کے لئے جاری کوششوں کے تحت وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر اور سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کو پھر خطوط لکھ کر ان کی توجہ بھارتی جبرو تسلط اور ظالمانہ کارروائیوں کی طرف دلائی ہے ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کو خط میں مقبوضہ جموں و کشمیر، لائن آف کنٹرول کی خطرناک صورتحال سمیت بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں سے آگاہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں مقامی اور بین الاقوامی میڈیا کو رسائی نہیں جبکہ بھارت حالات معمول پر آنے کی غلط اطلاعات پھیلا کر دنیا کو گمراہ کر رہا ہے ۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرش نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی موجودہ صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی ہے ۔ بھارت نے ان کی ثالثی کی پیش کش مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن مسائل پر دو طرفہ بات چیت ہوسکتی ہے ان پر کسی دوسرے یا تیسرے فریق کی ثالثی کا کوئی کردار نہیں ہے ۔