- الإعلانات -

مودی حکومت کو کب ہوش ئے گا

پاک فوج نے لائن ;200;ف کنٹرول پر پاکستانی حدود میں داخل ہونے والے ایک اور بھارتی جاسوس ڈرون کو مار گرایا ہے ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بھارتی جاسوس ڈرون کنزلوان سیکٹر سے ;200;یا تھا جسے ایل او سی کے نیکرون سیکٹر میں گرایا گیا ۔ یہ بھارتی جاسوس ڈرون 700 میٹر پاکستان کی حدود میں ;200;گیا تھا ۔ بھارتی دراندازی کا یہ 48 گھنٹے میں دوسرا واقعہ ہے ۔ دو روز قبل بھی پاک فوج نے لائن آف کنٹرول کے قریب پاکستانی حدود میں داخل ہونے والے بھارتی کواڈ کاپٹر (ڈرون) کو مار گرایا تھا ۔ یہ جاسوس ڈرون ایل او سی کے ساتھ رکھ چکری سیکٹر میں گرایا گیا تھا ۔ اسی طرح گزشتہ ماہ بھی پاک فوج نے ایل او سی کے سانکھ سیکٹر میں داخل ہونے والے بھارتی ڈرون کو مار گرایا تھا ۔ بھارت کی لائن ;200;ف کنٹرول پر شر انگیزی کا سلسلہ مختلف صورتوں میں وقفے وقفے سے جاری رہتا ہے کبھی بلا اشتعال گولہ باری اور کبھی جاسوس ڈرونز کی دراندازی کی شکل میں ۔ مکار دشمن یہ سمجھتا ہے کہ شاید پاکستان اپنے دفاع سے غافل ہے لیکن اسے ہر بار منہ کی کھانا پڑتی ہے ۔ ابھی ایک دن کے وقفے کے بعد پاکستانی حدود میں دراندازی کرنے والے دو ڈرونز مار گرائے تو ایک ماہ قبل بھی دشمن کی کوشش نا کام بنائی گئی تھی ۔ گزشتہ سال بھی پاک فوج نے بھارت کے 3 ڈرون مار گرائے تھے، اس میں پہلا کواڈ کاپٹر سال کے پہلے دن یعنی یکم جنوری کو باغ سیکٹر میں گرایا گیا تھا ۔ ایک روز بعد ہی بھارت نے دوبارہ پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی تھی جسے پاک فوج نے ناکام بناتے ہوئے ستوال سیکٹر میں ڈرون مار گرایا تھا ۔ فروری 2019 میں پلوامہ واقعے کے بعد بھی بھارت نے فضائی جارحیت کا خوب مزا چکھا تھا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے ۔ 27 فروری 2019 کو پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے پر مگ 21 طیارے کو مار گرایا جبکہ مگ 21 چلانے والے بھارتی پائلٹ ابی نندن کو حراست میں لے لیا تھا جسے بعد ازاں پاکستان نے جذبہ خیرسگالی کے تحت رہا کردیا تھا اور انہیں واہگہ بارڈر پر بھارتی حکام کے حوالے کیا گیا تھا ۔ اس فضائی جھڑپ میں سبکی اور ہزیمت کے بعد ہونا تو یہ چاہئے تھا مودی حکومت ہوش کے ناخن لیتی لیکن وہ شرارت سے باز نہ ;200;ئی اور کچھ روز بعد ہی بھارت کا ایک جاسوس ڈرون پاکستانی حدود میں 150 میٹر گھس آنے پر ایل او سی کے رکھ چکری سیکٹر میں گرادیا گیا تھا ۔ حالیہ تین چار سال میں پاکستان اور بھارت کے مابین تعلقات کی بد ترین صورت دیکھی جا رہی ہے، اس کی بنیادی وجہ مودی انتظامیہ کی پڑوسی ممالک کے حوالے سے شر انگیز پالیسیاں ہیں خصوصا پاکستان کے خلاف ان کے ذہنوں میں مذموم منصوبہ بندی چلتی رہتی ہے حالانکہ عمران خان نے اگست 2018 میں وزارت عظمی کا منصب سنبھالنے کے بعد بھارت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات استوار کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا لیکن بھارت کی جانب سے مثبت جواب نہ دیا گیا ۔ خطے کے دیگر ممالک چین نیپال سری لنکا وغیرہ ہر کسی سے مودی حکومت الجھ رہی ہے ۔ چین کے ساتھ لداخ میں بھارت ہزیمت اٹھا رہا ہے ۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول کی شیطانی سوچ پورے خطے کو جنگ میں جھونک دے گی ۔ ادھر یہ بھی شنید ہے کہچین کیساتھ لداخ کے معاملے پر جاری کشیدگی پر بھارتی فوجی قیادت کا کہنا ہے کہ اجیت ڈوول ہم سب کو مروادے گا ۔ بھارتی مشیر قومی سلامتی کی غلط پالیسیوں نے بھارت کو بند گلی میں لا کھڑا کیا ہے ۔ بھارتی میڈیا میں بتایا جا رہا ہے کہ بھارتی فوج نے کہا ہے کہ سول قیادت کشیدگی کو ختم کرنے میں ناکام ہوگئی ہے ۔ چین مسلسل لداخ میں اپنی فوج کی تعداد بڑھا رہا ہے جبکہ بھارتی فوج کوشش کے باوجود چینی فوج کو متنازع حدود سے پیچھے ہٹانے میں ناکام رہی ہے ۔ بھارتی مبصرین بھی کہہ رہے ہیں کہ مودی کی کشمیر پالیسی بری طرح ناکام ہو گئی جبکہ چین نے بھارتی ملٹری کی نام نہاد طاقت کو بے نقاب کر دیا ہے، ڈوول پالیسیوں کی وجہ سے بھارتی فوج اپنے ہی میڈیا کی تنقید کی زد میں ہے اور دوسرا کارگل کا طعنہ دیا جا رہے ۔ ادھر نیپال نے بھی بھارت کو آنکھیں دکھانا شروع کردی ہیں اور اپنی سرزمین پر بھارت کی طرف سے متنازعہ علاقے میں سڑک کی تعمیر کی مذمت کرتے ہوئے اسے جارحیت قرار دیا ہے ۔ چین سے متعلق پالیسی اور جھوٹ پر جھوٹ نے مودی حکومت کی ہٹ دھرمی کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں ، اب بھارت اقوامِ عالم میں تنہا ہو رہا ہے جبکہ پاکستان امن پسند پالیسیوں کی وجہ سے بین الاقوامی برادری میں اہمیت اختیار کر چکا ہے ۔

یو این پیس کیپنگ مشنز میں پاکستانی خواتین کا قابل قدر کرادر

اقوام متحدہ نے دنیا بھر میں شورش زدہ علاقوں میں قیام امن کے لئے پیس کیپنگ مشنز کا سلسلہ 1948 سے شروع کر رکھا ہے ۔ ان مشنز میں صرف مرد ہی نہیں خواتین سکیورٹی اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد بھی حصہ لیتی ہے ۔ پاکستان 1960 میں امن مشن کا حصہ بنا اور دیکھتے ہی دیکھتے سب سے بڑا پارٹنر بن گیا،اس دوران پاکستان کے 24 افسران سمیت 157 سیکیورٹی اہلکاروں نے دنیا میں امن کی خاطر شہادت پائی ۔ یہی نہیں کہ پاکستان امن مشن میں خواتین بھیجنے والا پہلا ملک ہے،بلکہ کانگو جیسی خطرناک جگہ پر خواتین دستے بھی پاکستان کی جانب سے ہی بھیجے گئے،عالمی امن مشن میں پاکستانی خواتین کی خدمات کا اعتراف امریکی نائب معاون وزیر خارجہ ایلس ویلز اور سکریٹری جنرل اقوام متحدہ بھی کر چکے ہیں ۔ پاکستان کی خواتین پیس کیپرز اقوام متحدہ کے مشنز میں اپنی شناخت بنارہی ہیں ، گزشتہ 60سالوں میں پاکستان 2 لاکھ سے زائد اقوام متحدہ پیس کیپرز تعینات کرچکا ہے ۔ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پیس کیپرز کی یاد میں پاکستان عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے ۔ اس سال کا مرکزی خیال امن وسلامتی کے قیام میں خواتین امن کارروائیوں میں خدمات انجام دینے والی خواتین کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کرتا ہے ۔ امن و سلامتی کے لئے پرعزم پاکستانی خواتین اپنی شناخت بنا رہی ہیں ۔ پاکستان نے 15 فیصد خواتین افسران عملہ کی تعیناتی کا ہدف حاصل کرلیا ہے ۔ پاکستان جس پر مغربی ذراءع میڈیا ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت نام نہاد الزامات کے ساتھ اس کے تشخص کو متاثر کرنے کے لئے متحرک رہتا ہے لیکن ان پہلوں کو وہ عمدا فراموش کر دیتا ہے کہ اس وقت پاکستان اقوام متحدہ کے دنیا بھر میں جاری پیس آپریشنز کے لئے پیس کیپرز کی تیسری بڑی تعداد مہیا کرنے والا ملک ہے اور پاکستان ہی دنیا کا وہ تیسرا ملک ہے جس نے اقوام متحدہ کے پیس آپریشنز کے دوران سب سے زیادہ انسانی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ۔

افغانستان کے لئے گوادر پورٹ کے دروازے کھل گئے

گوادر پورٹ کے فنکشنل ہونے کے بعد اس کے ثمرات کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے اور یہاں سےتجارتی سرگرمیوں میں تیزی ;200;نے کے بعد دوسرے ممالک بھی فائدہ اٹھانے لگے ہیں ۔ اس سلسلے میں پاکستان افغانستان ٹرانزٹ معاہدے کے تحت گوادر پورٹ کو افغان ٹرانزٹ تجارت کے لیے کھول دیا گیا ہے ۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا سامان سے بھرا پہلا بحری جہاز گوادر پورٹ پر لنگر انداز ہوا ہے بحری جہاز میں 16ہزار میٹرک ٹن فرٹیلائز لوڈ ہے ۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کو گوادر سے بذریعہ سڑک افغانستان روانہ کیا جائے گاپاکستان چین اقتصادی راہداری اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو سے علاقائی اقتصادی تعلقات کو فروغ حاصل ہوگا ۔ جبکہ گوادر بندرگاہ سے بڑی سطح پر تجارتی سرگرمیاں شروع ہوگئی ہیں اس میں دونوں ملکوں کے کاروباری حلقوں نے اس پیش رفت کو تجارت کے فروغ کے لیے اہم قدم قرار دیا ہے گودار بندرگاہ کے ذریعے افغانستان کے لیے چینی، کھاد اور گندم کی برآمدات کی ترسیل سر بمہر ٹرکوں کے ذریعے کی جائے گی ۔ یہ بندر گاہ خطے کی واحد بندر گاہ ہے جس سے تمام ممالک برابر مستفید ہو سکتے ہیں ۔ سی پیک سے منسلک ہونے کی وجہ سے خطے کی کوئی دوسری پورٹ اس کے ہم پلہ نہیں ہے ۔