- الإعلانات -

پاکستانی ایٹم بم کے اصل خالق کون تھے

28مئی یوم تکبیرکے حوالے سے کچھ لکھنا چاہتا تھا، میں کسی خاص سچ کی تلاش میں تھا، ٹی وی ;200;ن کیا تو ہر چینل پر اس روز بڑھ چڑھ کر تقاریر سننے کو ملیں ، ایک سے ایک مقرر اپنے سیاسی ;200;قاوں کو خوش کرنے کیلئے زبردستی کریڈٹ لینا چاہتا تھا کہ وہی اصلی اور سچے ایٹم بم بنانے والے ہیں ، ایک جماعت تو ایسے بیانیہ پیش کر رہی تھی جیسے انہوں نے پوری دنیا کی دھمکیوں کو ٹھکرا کر بازار سے ایک بڑا ساپٹاخہ یا گولہ خریدا اور بیچ چوراہے اسے پھوڑ دیا ، نہیں جناب، یہ بچوں والی بات نہیں ہے، یہ شرلی، پٹاخوں کا کھیل نہیں ہے، یہ سردھڑ کی وہ بازی تھی جو تمام دنیا کی مخالفت کے باوجود، اربوں ڈالروں کی پیشکشوں کو ٹھکرانے، را موساد اور سی ;200;ئی اے جیسی سراغ رساں تنظیموں کو چکمہ دینے کے بعدایٹمی طاقت کا یہ وہ حصول تھا جو دھائیوں پیچھے سائنسدانوں اور ہمارے قابل انجینئرز کی رات دن کی مسلسل کاوشوں کے بعد بال;200;خر28 مئی 1998 کو کامیابی سے ہمکنار ہو کر جس نے پوری دنیا کو سکتے میں ڈال کر دشمنان اسلام کی ;200;نکھوں کو چندھیا دیا اور پاکستان کو ناقابل تسخیر بنا ڈالا اور یہ وہ عظیم لمحہ تھا جب پاکستان کا تو سر اونچا ہونا ہی ہونا تھا پورے عالم اسلام میں ایک جشن کا سماں تھا اور مجھے خود بھی یاد ہے، اس دن شاید پہلی دفعہ مجھے اپنا ہونے اور ایک پاکستانی ہونے پر اپنے اوپر فخر محسوس ہو رہا تھا اور میرا دل ایک طاقتور احساس سے لبریز تھا کہ اب ہم محفوظ ہیں ، اب ہمارے ازلی دشمن ہمارے خلاف ایک ایک قدم سوچ سمجھ کر اٹھائیں گئے، اب ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے قابل ہو چکے ہیں کیونکہ یہ وہ پرانا نہیں اب ہم ایٹمی طاقت سے ۔ بھرپور نئے پاکستان کے باسی ہیں ۔ عشروں سے ایٹمی پروگرام کا سہرا ہر کوئی اپنے نام کرنا چاہتا ہے اور دعوے بھی بڑے بڑے ہر سال کئے جاتے ہیں اور ہر سال اس موقع پر عام عوام کو ہر کوئی اپنے نام کا دھوکہ دے کر کنفیوز ہی کرتا رہتا ہے، تاہم 26 سال پہلے ایک ناممکن کو ممکن بنانے والے ملکی سلامتی کے اس دفاعی چیلنج کو 28 مئی1998کو پائیہ تکمیل تک پہنچانے کا قرعہ اسوقت کی ن ۔ لیگ کے نام نکلا جس کا یہ جماعت ;200;ج بھی کریڈٹ لیتی چلی ;200;رہی ہے، ظاہر ہے اسوقت کی وہ منتخب جمہوری حکومت تھی اور پروٹوکول کے مطابق اسی کے سربراہ کو یہ اعزاز جاتا تھا کہ وہ اپنا فیصلہ بھی سنائے اور بٹن بھی دبائے ۔ اگر کوئی اور حکومت ہوتی تو ممکن ہے اسی کا سربراہ یہ فریضہ سرانجام دیتا ۔ تاہم اس حکومت کو چاہے حالات جو بھی تھے اس دن دھماکے کروانے اور اس روز کا نام یوم تکبیرکا بہترین انتخاب کرنے کا کریڈٹ ضرور جاتا ہے اور اسکے دو تین وزرا خصوصا ًگوہر ایوب خان کا اسوقت چٹان کی طرح کھڑے ہو کر دھماکوں کی راہ ہموار کرانا بھی زبردست خراج تحسین کا مستحق ہے اور خاص طور پر نام تجویز کرنیوالی وہ ہستی تو خصوصی داد کی مستحق ہے جس نے قومی غیرت اور حمایت کے جذبے سے سرشار ہو کر جب نام ذہن میں تجویز کیا ہو گا تو لگتا یوں ہے کہ وہ صاحب اپنے خیالوں خیالوں میں تمام دشمننان اسلام کے گلے پر جیسے چھری چلا رہے ہوں ۔ تو میں عرض کر رہا تھا کہ میں کسی سچ کی تلاش میں تھا اور اسی سچ کی کھوج میں مجھے ڈاکٹر بھٹہ صاحب یاد ;200; گئے جنہوں نے ہ میں یہ کہانی اول سے ;200;خیر تک اپنی زبانی سنائی ہوء تھی ۔ ڈاکٹر سخی محمد المعروف ڈاکٹر ایس ایم بھٹہ، ایک سچا کھرا انسان ،جسکی ;200;نکھیں دو ہی مواقع پر بھیگ جاتیں ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سنتے ہی یا اپنے ملک کی حالت زار پر وہ ہمیشہ روتے ۔ ساری زندگی اس ملک سے لوڈ شیڈنگ کے اندھیرے دور کرنے پر کام کرتے رہے، ;200;خری عمر تک پریکٹیکلی ;200;پ انرجی کا مضمون ہی پڑھاتے رہے اور درس و تدریس کا یہ سلسلہ اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام ;200;باد میں ;200;خر تک جاری رہا ۔ میرا ان سے ذاتی عقیدت کا رشتہ تھا، وہ مجھے سپریم کورٹ میں میرے کالا باغ ڈیم کے حوالے سے دائر از خود نوٹس کیس کی وجہ سے بہت عزت دیتے اور جگہ جگہ ٹیکنیکل رہنمائی سے نوازتے رہے ۔ ڈاکٹر صاحب ذہین اور قابل لوگوں کو ایوارڈ بھی دیتے اور میری موجودگی میں چترال انجینئرنگ ٹیکسلا کے اخترچوہدری کوہائیڈل ٹیکنالوجی میں گرانقدر خدمات پرڈاکٹر ایس ایم بھٹہ ایوارڈ سے دو دفعہ نوازا گیا ۔ میری لائبریری میں انکی ایک کتاب ;34; گل سے گلدستہ نے میری اس سچ کی تلاش میں حائل تمام مشکلات دور کر دیں جو قارئین کرام کی نظر انتہائی اختصار کے ساتھ کرتا ہوں جس سے ;200;پ کو اندازہ لگانے میں دیر نہیں لگے گی کہ اصل ماجرا کیا تھا اور کون تھے وہ لوگ جو ان ایٹمی رازوں کے سچے امین اور خالق تھے ۔

کتاب کے باب چہارم کا عنوان ہے’’ پاکستان ٹوٹنا اور ایٹم بم بنانے کا اعلان‘‘ملک ٹوٹنے کے مفصل اسباب بیان کرنے کے بعد ;200;پ لکھتے ہیں کہ جب مجھے شکست کا علم ہوا تو میں روتا ہوا سابق وزیراعظم چوہدری محمد علی صاحب کے گھر گیا جو کراچی میں میرے پڑوس میں رہتے تھے، چوہدری صاحب نے مجھے حوصلہ دیا اور کہا کہ تم اٹامک انرجی کمیشن میں ہو اس لئے رونے کی بجائے ایٹم بم بناو کیونکہ ہم نے تم جیسے نوجوانوں کیلئے ہی اٹامک انرجی کا محکمہ بنایا تھا ۔ لکھتے ہیں ، صدر منتخب ہونے کے بعد جناب ذوالفقار علی بھٹو نے20جنوری1972 کو ملتان میں اٹامک انرجی کمیشن کے سائنسدانوں اور انجینئرز کی کانفرنس منعقد کی ۔ خود بھٹو صاحب نے تین گھنٹے تک اس اجلاس کی صدارت کی، تمام سینئر سائنسدانوں خاص طور پر ڈاکٹر عبدالسلام نے ایٹم بم بنانے کی مخالفت کی اس پر جو ہم پچھلی نشستوں پر بیٹھے تھے بہت پریشان ہوئے اور ہم نے ہاتھ کھڑے کر دیئے ۔ بھٹو صاحب کی کمال مہربانی کہ انہوں نے ہ میں بھی سٹیج پر ;200;نے کی دعوت دی، مجھ نا چیز کو بھی موقع ملا تو میں نے عرض کیا کہ سانحہ ڈھاکہ کی دوسری وجوہات کے علاوہ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے پاس دفاع کے لیے اعلی ہتھیار نہیں تھے، چونکہ ;200;جکل جنگ پرانے ہتھیاروں اور ٹینکوں کی نہیں ہے، اس لئے ہ میں اپنے دفاع کی خاطر ایٹم بم بنانا چاہیے اور ہم ایٹم بم بنا سکتے ہیں ۔ میں نے با اصرار کہا: ;34;ہم ایٹم بم بنا سکتے ہیں ;34; اسکے ساتھ ہی میں نے صدر پاکستان کو انٹرنیشنل اٹامک انرجی کی ایک کتاب پیش کی جس میں ہر قسم کی وضاحت کی گئی تھیں کہ ایٹم بم بنانے کیلئے کسی قسم کے پلانٹ اور سامان کی ضرورت ہوتی ہے ۔ میں نے کہا کہ ہم یہ پلانٹ خود بنا سکتے ہیں چونکہ ان میں سے 2 پر میں نے کام کیا ہے اور تیسرا ابھی بن رہا ہے ۔ ماحول کی سیفٹی کے مد نظر ہم خفیہ طریقے سے پلوٹونیم کی افزودگی اورری پروسیسنگ سے یہ کام سرانجام دینا چاہتے ہیں ، میں خود امریکہ سے پڑھ کر ;200;یا ہوں اور مجھے اعلی قسم کے ری ایکٹر پر کام کرنے کا تجربہ بھی ہے، بس;234; صدر صاحب;234; ;200;پ کی اجازت چاہیے، ہم ;200;پ سے پیسے بھی نہیں مانگتے، اس کا بھی انشا اللہ انتظام کر لیں گے ۔ (بقیہ صفحہ 10پر)