- الإعلانات -

ڈیگ ہیمرز گولڈ ا ےوارڈ ۔ ۔ ۔ !

امن رضاکاروں کے عالمی دن کے موقع پرسپاہی عامراسلم کو اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر نےوےارک میں ڈیگ ہیمرز گولڈ ا ےوارڈ سے نوازا گےا ۔ اقوام متحدہ کے سےکرٹری جنرل انتو نےو گو ترس نے اقوام متحدہ کے امن مشن میں اہم خدمات سر انجام دےنے کے اعتراف میں پاکستان کے فوجی سپاہی عامر اسلم کو ڈےگ ہیمرز گولڈ مےڈل عطاکےا گیا ۔ اقوام متحدہ کے امن مشن میں افواج پاکستان نے کانگو،مغربی نےو گنی ،کوےت،بوسنےا، صومالیہ،مشرقی سلووےنےا، ہیٹی ، مشرقی تےمور، سیرا لیون، برونڈی، لائبےرےا سمےت دےگر ممالک میں اہم خدمات سرانجام دیں اور ثابت کیا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور دنےا میں امن کےلئے خواہاں ہے ۔ پاکستانی فوج کو پہلی مرتبہ اگست1960ء سے مئی 1964ء تک اقوام متحدہ کے امن مشن کےلئے کانگو میں تعےنات کیا گےا تھا ۔ بےلجیم کی نوآبادےاتی قوتوں کے مستحکم انخلا اور کانگو میں انتقال اقتدارکی منتقلی کو ےقےنی بنانے کےلئے کام کیا ۔ اکتوبر1962ء تا اپریل1963ء مغربی نےو گنی سے ڈچ نو آبادیاتی فوجوں کے انخلاکو ےقینی بنانے کےلئے تعےنات تھیں ۔ مارچ 1991 ء میں خلیج جنگ کے بعد پاکستانی فوج کے انجےنئر کور نے کوےت سٹی کے شمال میں واقع ببےان جزےرے پر بحالی مشن انجام دیا ۔ مارچ 1992ء تامارچ1996ء بوسنےا میں تعےنات رہی ۔ اقوام متحدہ کی مختلف اےجنسےوں ، تنظےم اور وہاں کام کرنے والے اہلکاروں کو تحفظ فراہم کیا اور مقامی آبادی کو طبعی اور دےگر امداد فراہم کی ۔ اپرےل1992ء تا مارچ1995ء صومالیہ میں انسانی ہمدردی کے مشن کےلئے تعےنات رہے اور صومالی ملیشےا کے حملے میں 29 پاکستانی امن فوجی شہید ہوئے ۔ موگادےشو میں امرےکی فوج کو بچانے کےلئے بھی اہم کردار ادا کیا ۔ مئی 1996ء تا اگست 1997ء مشرقی سلووےنےا میں سربوں اور کروٹوں کے مابےن جنگ کوروکنے کے مشن پر تعےنات رہی ۔ مارچ1995ء تا 1998ء ہیٹی میں امن مشن کےلئے خدمات سرانجام دیں ۔ جنوری 2001 ء تاجنوری2004ء مشرقی تےمور خانہ جنگی کے بعد تعمےر نو کے کاموں میں انجینئرکورکے جوانوں نے حصہ لیا ۔ جون 2003ء سے دسمبر 2004ء تک سیرا لیون میں پاکستانی فوجےوں نے قےام امن کےلئے اپنا رول ادا کیا ۔ جنوری 2005ء تا دسمبر2006 برونڈی میں ہمارے فوجی جوانوں نے خدمات سرانجام دیں ۔ مئی 2006ء لائبےرےا میں اقوام متحدہ کے امن مشن کا حصہ رہے ےعنی افواج پاکستان کے اقوام متحدہ کے امن مشن کےلئے خدمات کی طوےل تارےخ ہے اور انکے خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ ہمارے افواج نے وطن عزےز پاکستان کےلئے ہر محاذ پرجرات اور بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا ۔ افواج پاکستان نے مختلف جنگوں میں عظےم قربانےاں دیں اور دشمنوں کے ناپاک عزائم خاک میں ملائے ۔ دہشت گردی کی جنگ میں بھی افواج پاکستان کے جوانوں نے اپنا لوہا منواےا اور دہشت گردوں کو شکست سے دوچار کیا ۔ زلزلہ ہو ےا سیلاب ےا بھل صفائی ےا کورونا ،ہر موقع پر افواج پاکستان نے جان فشانی سے کام کیا اور عوام کو سکھ پہنچاےا ۔ سی پیک جو کہ اس خطے کی ترقی کا اہم منصوبہ ہے ،اس منصوبے میں افواج پاکستان اپنا کردار ادا کررہے ہیں ۔ مدعا ےہ ہے کہ افواج پاکستان کا ہر آفےسر اور جوان وطن عزےز بلکہ دنےا بھر کی امن اور ترقی کےلئے کوشاں ہے ۔ ےہی وجہ ہے کہ ہر جگہ افواج پاکستان کو تحفظ کا ضامن سمجھا جاتا ہے ۔ ان کے جانبازوں کوخراج تحسےن پیش کیا جاتا ہے اور ہر ملک کا نمائندہ چےف آف آرمی سٹاف اور تےنوں افواج پاکستان کے سربراہان سے ملنے کا اشتیاق رکھتا ہے ۔ ےہ افواج پاکستان کی قابلےت، دےانت اور جسارت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ سپاہی عامر اسلم کا تعلق کوٹلی آزاد کشمےر سے ہے ۔ سپاہی عامر اسلم کے اےوارڈ سے مقبوضہ کشمےر کے جوانوں میں نےا حوصلہ پیدا ہوا ۔ انھوں نے کشمےر کی تارےخ کو اپنے لہو سے تحرےر کیا ۔ گذشتہ دس ماہ سے مقبوضہ کشمےر میں کرفےو کا سماں ہے لیکن اس کے باوجود ہر شہری کی زبان اوردل سے آزادی، آزادی اور کشمےر بنے گا پاکستان کی صدائےں بلند ہورہی ہیں ۔ امت مسلمہ ،اقوام متحدہ اور دےگر ممالک کو مقبوضہ کشمےر میں قتل وغارت اور مظالم کو روکنے اور کشمےرےوں کو استصواب رائے کاحق دےنے کےلئے عملی دوڑ دھوپ کرنی چاہیے ۔ جبر اور بربرےت کے اس باب کو ہمیشہ کےلئے بند کرنا چاہیے اورکشمےرےوں کو جےنے کا حق دےنا چاہیے ۔ قارئےن کرام! ڈیگ ہیمرز گولڈ ا ےوارڈپرسپاہی عامر اسلم ،ان کے رفقا ، والدےن ،افواج پاکستان اور آزاد کشمےر کے خواتےن وحضرات مبارک باد کے مستحق ہیں ۔ پاکستانی قوم کو اپنے سپوتوں پر فخر ہے اور ان کےلئے دعاگو ہیں ۔