- الإعلانات -

چین سے سبکی کاغصہ پاکستان کے سفارتی عملے پر

چین کے ہاتھوں ہزیمت اور سبکی اٹھانے کے بعد نریندر مودی حکومت نے اس سارے معاملے سے اپنی عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے اب سفارتی سطح پر پاکستان کیخلاف مزید اشتعال انگیز سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے جسکی ابتداء اتوار کو نئی دہلی میں متعین پاکستانی ہائی کمیشن کے دو اہلکاروں کو حراست میں لے کر کیا گیا ہے ۔ اگرچہ پاکستانی ہائی کمیشن کی فوری مداخلت کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا لیکن دونوں سفارتکاروں پرمبینہ طور پر جاسوسی کا الزام لگا کر انھیں 24 گھنٹے میں ملک سے نکل جانے کا حکم دیا ہے ۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے، جب سے سطحی سوچ کے مالک اور انتہا پسند نریندر مودی وزیراعظم بنے ہیں نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے خلاف بے بنیاد الزام تراشی کی روایت چل پڑی ہے ۔ قبل ازیں 2016 میں بھی نئی دہلی میں بھارتی حکام نے پاکستانی سفارتخانے کے ملازمین پر پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں ;200;ئی ایس ;200;ئی کے لیے کام کرنے کا الزام عائد کیا تھا جس کے بعد پاکستان نے اپنے چھ اہلکاروں اور عملے کے ارکان کو واپس بلایا تھا ۔ دفتر خارجہ پاکستان نے اپنے سفارتی اہلکاروں کو بھارت سے نکالے جانے کے اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ناپسندیدہ عمل قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستانی سفارتی عملے کو بھارت سے نکالنا ویانا کنونشن کی خلاف ورزی ہے ۔ ترجمان نے کہا ہے کہ انڈیا کی جانب سے یہ اقدام میڈیا کے ذریعے چلائی گئی سوچی سمجھے مہم کے بعد کیا گیا ہے جو پاکستان مخالف پروپیگنڈا کا حصہ ہے ۔ نئی دلی میں پاکستانی سفارتی عملہ واضح طور پر بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے اور سفارتی قواعد کے مطابق کام کر رہا ہے اور انڈیا کی جانب سے کیا جانے والا اقدام پاکستانی سفارتخانے کے کام کو محدود کرنے کی کوشش ہے ۔ پاکستانی اہلکاروں کو جھوٹے الزامات پر اٹھایا گیا، الزامات قبول کرانے کے لیے ان پر تشدد کیا گیا، دباوَ ڈالا گیا اور دھمکیاں دی گئیں ۔ پاکستان ان اراکین کے حراست میں لیے جانے اور ان پر کیے جانے والے تشدد کی بھی شدید مذمت کرتا ہے ۔ ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے کہا کہ بھارتی اقدام پاکستانی ہائی کمیشن کی سفارتی سرگرمیوں کو روکنے کی کوشش ہے ۔ بھارت ان اقدامات سے اندرونی اور بیرونی مسائل سے توجہ نہیں ہٹا سکتا اور نہ ہی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پردہ ڈال سکتا ہے ۔ بھارت نے سفارتی اخلاقیات کی دھجیاں بکھیر تے ہوئے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے 2 اہلکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے ۔ پاکستانی ہائی کمیشن کے ناظم الامور کو بھجوائے گئے مراسلہ میں مودی سرکار نے الزام لگایا ہے کہ دونوں اہلکار سفارتی آداب کے برعکس سرگرمیوں میں ملوث تھے، اس لیے دونوں اہلکاروں کو 24 گھنٹے میں بھارت سے جانا ہوگا، مراسلہ میں دونوں اہلکاروں کی کسی بھی غیر اخلاقی یا غیر سفارتی سرگرمی کا ذکر نہیں کیا گیا ۔ بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے اس اقدام کے جواز میں ان دونوں پاکستانی سفارتکاروں پر جاسوسی کا الزام لگاتے ہوئے ان کی سرگرمیوں کو سفارتی آداب کے منافی قرار دیاگیا ہے جو سرا سر لغو الزام ہے، بھارتی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ان دونوں افراد کو عین اس وقت گرفتار کیا گیاجب وہ مبینہ طور پر غیرسفارتی سرگرمیوں میں مصروف تھے،یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستانی ہائی کمیشن میں کام کرنے والے دونوں افراد نے اپنی جعلی ہندوستانی شناخت کو بھی قبول کرلیا ہے جسے غلط مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا تھا ۔ بھارتی الزامات کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مودی حکومت نے چین سے جاری کشیدگی اور شرمندگی سے توجہ ہٹانے کے لئے یہ ڈرامہ رچایا ہے تاکہ عوامی پریشر کم ہو ۔ چین کے معاملے میں بھارتی حکومت کو شدید عوامی دباوَکاسامناہے ۔ بھارتی میڈیا اوراپوزیشن مودی انتظامیہ کے خوب لتے لے رہی ہے ۔ چین افواج نے لداخ اور دیگر علاقوں میں بھارتی دراندازی اور پیش قدمی کو کچل کر رکھ دیا ہے ۔ ادھر نیپال کے ساتھ بھی کشیدگی بڑھ رہی ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر تو بھارت کے پیروں پر ایسا;200;بلہ ہے جو اسے کبھی سکھ کا سانس نہیں لینے دے گا ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب بھی داخلی مسائل بھارتی حکومت کے ناک میں دم کرتے ہیں وہ مقبوضہ کشمیر یا لائن کنٹرول پر شر انگیزی تیز کر دیتی ہے یا پھر بھارت میں پاکستان کے سفارتی عملہ کے خلاف کوئی افسانہ تراش لیتی ہے ۔ گزشتہ روز کی حرکت بھی اس کے سوا کچھ نہیں کہ مودی حکومت اپنے داخلی ایشوز سے توجہ ہٹانا چاہتی ہے لیکن اس کا یہ ڈرامہ ماضی کے ڈراموں کی طرح کامیاب نہیں ہو گا ۔

حکومت کا پٹرولیم مصنوعات کی مد میں بڑا ریلیف

وفاقی حکومت نے عوامی توقعات پر پورا اترتے ہوئے ایک بار پھر اسے پٹرولیم مصنوعات کی مد میں بھاری ریلیف دیا ہے جس کے بعدماہ جون کیلئے پٹرول 7روپے 6پیسے ، مٹی کا تیل11 روپے 88پیسے اور لاءٹ ڈیزل 9روپے 37پیسے سستا ہو گیا ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں معمولی اضافہ کیا گیا ہے ۔ قیمتوں میں ردوبدل کے بعد پٹرول 74روپے52پیسے، مٹی کا تیل 35روپے 56پیسے اور لاءٹ ڈیزل 38روپے 14پیسے فی لٹر ہوگیا ،5پیسے اضافہ کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 80 روپے 15 پیسے مقرر کی گئی ہے ۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب ساءٹ پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ہم نے پٹرول، لاءٹ ڈیزل آئل اور مٹی کے تیل کو مزید سستا کردیا ہے ۔ جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں اب ہمارے ہاں ایندھن کم ترین نرخوں پر دستیاب ہے ۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ خطے دیگر ممالک میں تیل مقابلتاً ابھی مہنگا ہے ۔ بھارت میں پاکستان کے مقابلے میں دوگنا مہنگا ہے جبکہ بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال وغیرہ میں اس کے نرخ ہم سے 50سے 75فیصد تک زیادہ ہیں ۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود عوام کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے ذریعے ریلیف فراہم کیا ہے جو کہ لائق تحسین اقدام ہے ۔ لیکن یہاں جو اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ حکومت نے ریلیف دے دیا لیکن عوام تک اس کے اثرات اسی طرح منتقل نہیں ہو رہے جیسے چند روپے قیمت بڑھنے پر اشیائے خوردونوش اور ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھا دیئے جاتے ہیں ۔ دیکھا گیا گیا ہے کہ ٹرانسپورٹر حضرات اسی طرح من مانے کرائے وصول کر رہے ہیں حتیٰ کہ عید کے موقع پر دوگنے کرائے وصول کئے گئے اور ابھی تک یہی صورتحال ہے ۔ حکومت کو اس کا بھی نوٹس لینا چایئے ۔ مارکیٹ میں سبزی اور پھل فروش منہ مانگے داموں لوٹ رہے ہیں نہ دودھ فروش اب ریلیف دے رہے ہیں ۔ صوبائی حکومتیں اپنی ضلعی انتظامیہ کو متحرک کرے،ٹرانسپورٹ کرائے سمیت ہر چیز کی کڑی نگرانی کرے،ورنہ وفاقی حکومت کا عوام کے لئے دیا گیا یہ بڑا ریلیف خاک میں مل جائے گا ۔

امریکہ میں نسلی تعصب کے خلاف مظاہرے

ایک ویڈیو کلپ کے منظر عام پر ;200;نے کے بعدامریکہ کے شہر مینیاپولس سمیت متعدد مقامات پر غم و غصہ پھوٹ پڑا ہے ۔ اس ویڈیو کلپ میں ایک سفید فام پولیس ;200;فیسر ایک غیر مسلح جارج فلوئیڈ نامی سیاہ فام ;200;دمی کی گردن پر گھٹنے ٹیکتا ہوا نظر ;200;تا ہے ۔ اس واقعے کے چند منٹ بعد 46 سالہ جارج فلوئیڈ کی موت ہو جاتی ہے ۔ جارج مرنے سے قبل پولیس افسر کے گھٹنے کے نیچے بار بار کہتا ہے کہ پلیز، ;200;ئی کانٹ بریدیعنی میں سانس نہیں لے پا رہا ہوں ۔ پولیس افسر ڈیریک چاون کو جارج کی گردن پر گھٹنا رکھے دیکھا گیا ہے اور انھیں اس کے قتل کے الزام میں گرفتار بھی کر لیا گیا ہے لیکن ان کے فعل نے امریکہ میں آگ لگا دی ہے ۔ اس ویڈیو کے منظر عام پر ;200;نے کے بعد بہت سے لوگ غصے میں ہیں جبکہ منی سوٹا شہر سمیت امریکہ کے متعدد علاقوں میں مظاہرے ہورہے ہیں ۔ امریکی پولیس کی بربریت کے ختم نہ ہونے والے سلسلے کے خلاف لوگوں کا غم و غصہ بڑھتا جارہا ہے ۔ نیشنل ایسوسی ایشن فار ایڈوانسمنٹ ;200;ف کلرڈ پیپل نامی تنظیم نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے ان کے اعمال نے ہمارے معاشرے میں سیاہ فام لوگوں کے خلاف ایک خطرناک مثال قائم کی ہے جو نسلی امتیاز، زینو فوبیا اور تعصب پر مبنی ہے ۔ اس واقعے کے بعد ایک بر پھر امریکہ میں نسلی تشدد کی تاریخ پر بحث شروع ہوگئی ہے ۔