- الإعلانات -

’’تخلیق ایوارڈ‘‘ کی آٹھویں تقریب

صاحبو، ایک تھا اظہر جاوید ۔ اگر آپکو ادب و صحافت سے تھوڑی سی بھی دلچسپی ہے تو یقیناً آپ جانتے ہوں گے کہ اظہر جاوید افسانہ نگار، کالم نگار،شاعر، صحافی، امروز جیسے اخبار کے ادبی ایڈیشن کا انچارج اوربہت ہی زندہ دل شخص، یاروں کا یارتھا ۔ اس نے ۹۶۹۱ء سے’ تخلیق ‘ کے عنوان سے ایک ادبی جریدے کا اجرا کیا، اور بیشمار مشکلات کے باوجود ۲۱۰۲ء میں اپنی وفات تک کسی نہ کسی طرح ‘تخلیق‘ کی اشاعت جاری رکھی ۔ اب ہم آتے ہیں اظہر جاویدکے بیٹے سونان اظہر جاویدکی جانب، جسے والد کی وفات تک تو ادب سے کوئی دلچسپی نہ تھی مگر اظہر جاوید کے انتقال پر اس نے یہ عزم کیا کہ وہ اپنے والد کا نام زندہ رکھنے کےلئے اسکے جاری کردہ ادبی جریدے کو جاری رکھے گا ۔ چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ ۲۱۰۲ء سے یہ جریدہ پہلے سے بھی زیادہ عمدگی اور باقاعدگی کے ساتھ شاءع ہو رہا ہے اور سونان یقیناً ہمارے خراجِ تحسین کا حقدار ہے کہ اس نے ’تخلیق‘ کےساتھ ساتھ اظہر جاوید کو بھی پوری طرح زندہ رکھا ہوا ہے ۔ سونان اظہر کی ادارت کے آٹھ سال شامل کر کے ماشاء اللہ اب ’تخلیق‘ کی مسلسل اشاعت کایہ ۱۵ واں سال ہے ۔ اور یہی نہیں ، سونان اظہر نے ایک قدم مزید آگے بڑھ کرملک کے ادیبوں کی کاوشوں کا اعتراف ان کی زندگی میں ہی کرنے کی ایک خوبصورت رسم کی بناء ڈالی، اور ہر سال ایک مکمل طور پرغیر جانبدار پینل کی جانب سے نامزد ہونے والے ایک ادیب کو ایک بہت ہی معیاری اور بڑی تقریب میں ’’تخلیق ایوارڈ‘‘ پیش کیا جاتا ہے جس میں لاہور کے علاوہ بہت سے شہروں سے بیشمار ادیب شرکت کرتے ہیں ۔ یوں ۲۱۰۲ء سے آغاز ہونے والے ’تخلیق ایوارڈ‘ کو گذشتہ سات سال میں حاصل کرنے والوں کی فہرست میں علیٰ الترتیب شفیع عقیل (کراچی)، ڈاکٹر انور سدید (لاہو ر،محترمہ بانو قدسیہ (لاہور)، محترمہ نیّر جہاں (امریکہ)، محترمہ عذرا اصغر (کراچی) ،پروفیسر حسن عسکری کاظمی (لاہور)اور محترم سرفراز سید (لاہور) شامل ہو چکے ہیں ۔ ۰۲۰۲ء کا ایوارڈ جس سینئیرادیبہ کو پیش کیا گیا وہ ناول نگار، افسانہ نگار، شاعرہ ہونے کے ساتھ ساتھ پنجاب اسمبلی کی ممبربھی رہ چکی ہیں اور بہترین مقررہ بھی ہیں ۔ حسبِ سابق اس سال کی تقریب بھی لاہور کے ایک پوش علاقے کے ;6570797283; کلب کے بڑے ہال میں منعقد ہوئی جس میں سونان اظہر نے لاہور کے تقریباً سبھی قابلِ ذکر ادیبوں صحافتی شخصیات کےساتھ ساتھ، شو بزنس، اور تجارتی حلقوں کی بہت سی شخصیات کو بھی مدعو کیا جبکہ اسلام آباد اور راولپنڈی سے بھی اظہر جاوید کے دوستوں کو شرکت کی خصوصی دعوت دی ۔ اس کالم کی محدود گنجائش میں سب کے نام لکھنا ممکن نہیں ۔ اس یادگار تخلیق کی صدارت سینئیر دانشور اور قلمکار ڈاکٹرخواجہ محمد زکریانے کی ، نظامت کے فراءض معروف صحافی اور ادیب نواز کھرل نے کمال عمدگی سے ادا کیے ۔ مہمانانِ خصوصی میں پروفیسرحسن عسکری کاظمی، غلام حسین ساجد، عطاء الحق قاسمی، بشری رحمن اور نامور آرٹسٹ اور خطاط اسلم کمال شامل تھے ۔ تقریب سے خطاب کرنے والے درجنوں افراد نے ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ بشریٰ رحمٰن کے ساتھ ساتھ اظہر جاوید کی ادبی خدمات کو بھی زبردست خراج ِتحسین پیش کیا ۔ مقررین کا نام دیتے چلیں ۔ ناصر بشیر، تسنیم کوثر، حسین مجروح، سرفراز سید، جمیل احمد عدیل، بشریٰ اعجاز، بینا گوئندی، نسیمِ سحر، مظہر برلاس، پرویز کلیم، صوفیہ بیدار، طاہر منظور، آغا سلمان باقر، ریحان اظہر، سلمیٰ اعوان، عاصم بخاری، ڈاکٹر ایوب ندیم، عذرا اصغر، طفیل اختر، ڈاکٹر قیصر رفیق، عطاء الحق قاسمی، غلام حسین ساجد، حسن عسکری کاظمی، اسلم کمال، بشری رحمن اور صاحب صدر ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا ۔ اس تمام تر تقریب کے روح ِرواں سونان اظہر نے بہت سے مہمانوں کو ادبی اور دیگر خدمت کے اعتراف میں شیلڈیں بھی پیش کیں اور گلدستے بھی ۔ ایسا ہی سونان اظہر کی محبت اور اظہر جاوید کی یادوں سے مہکتا ہوا ایک گلدستہ ہمارے ساتھ راولپنڈی آیا ۔ اس تقریب کی خاص بات تخلیق اور ;6570797283;کلب کے تمام متعلقہ سٹاف کی محنت اور خوش اخلاقی کے ساتھ تقریب کے شرکاء کا خوش اسلوبی سے استقبال کرنا اور انہیں سیٹوں پر بٹھانا بھی تھا ۔ سونان اظہر نے ایک اچھی روایت شکنی یہ کی کہ تقریب کے آغاز میں جب کچھ تاخیر ہونے لگی تو اچھی سی چائے کا دَور بھی چلا دیا جبکہ تقریب کے اختتام پر تو ’’ہائی ٹی‘‘ کا بہت ہی عمدہ انتظام تھا ۔ سونان اظہر نے ادبی میدان میں اظہر جاوید کانام زندہ رکھنے کے ساتھ ساتھ ادیبوں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک اور اہم قدم ’’ تخلیق فاوَنڈیشن ‘‘ قائم کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی ہے جس کا مقصد ان لکھاریوں کو تعاون فراہم کرنا ہے ۔ اسکے علاوہ مستحق شاعروں اور ادیبوں کی معاونت بھی شامل ہے ۔ اسکے ساتھ ہی ’’تخلیق پبلی کیشنز ‘‘ کے زیرِ اہتمام اشاعتی سرگرمیوں کا آغاز بھی حمیرا اظفر کا شعری مجموعہ ’’ میں اور میرا ہمدم‘’‘ بھی شاءع کر دیا گیا ہے اور یہ عمدہ انداز میں شاءع ہونے والی کتاب تقریب کے تمام شرکاء کوتحفتاً پیش بھی کی گئی ۔ اب کچھ ذکر بشریٰٗ رحمٰن کا ہو جائے جن کو آٹھواں ’’تخلیق ایوارڈ‘‘ صدرِ تقریب ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا، سونان اظہر اور کلب کے سی ای او ڈاکٹر قیصر رفیق نے پیش کیا ۔ جس کے بعد بشریٰ رحمٰن نے بہت ہی جذباتی انداز میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں انہیں بلبلِ پاکستان، دخترِ پاکستان کے خطاب اور ستارہَ امتیاز بھی مل چکا ہے لیکن تخلیق ایوارڈ ملنے کے بعد وہ اپنے آپ کو فخریہ انداز میں پاکستان کی سب سے بڑی ادیبہ کہہ سکتی ہیں ۔ توصاحبو، امید ہے کہ سونا ن اظہر جو اپنے بزنس کی مصروفیات میں سے بہت ساوقت نکال کر تخلیق کی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ، وہ اظہر جاویداور تخلیق کا نام زندہ رکھنے کےساتھ ساتھ اشاعتی سرگرمیاں اور ادیبوں کی فلاح و بہبود کے کام بھی جاری رکھیں گے کہ ہمارے خیال میں اظہر جاوید ہوں یا سونان اظہر جاوید، اصل میں دونوں ایک ہیں ۔