- الإعلانات -

سیکولرازم کاقبرستان

بھارت وقت کے ساتھ ہندو انتہا پسندی کی خطرناک حدیں پار کر رہا ہے ۔ نام نہاد سیکولیرزم کا لبادہ اوڑے بھارت بے نقاب ہو چکا ہے ۔ دنیا بھارت کو ایک ہندو انتہا پسند فاشسٹ ملک کے طور پر جاننے لگی ہے ۔ بھارت میں آر ایس ایس اور بی جے پی مسلمان دشمنی میں کھل کر سامنے آ چکے ہیں ۔ عالمی میڈیا بھارت کی ہندو انتہا پسند پالیسیز کی عکاسی کر رہا ہے ۔ امریکی کمیشن نے بھارت میں مذہبی آزادی پر پابندیوں میں خطرناک رجحانات کی کھل کر عکاسی کی ہے ۔ بھارتی فوج، عدلیہ اور میڈیا آر ایس ایس کے معاون اور اہلکار بن چکے ہیں ۔ بھارت کورونا وائرس کی آڑ میں اپنے ہندوتا کے اہداف حاصل کرنے میں مصروف ہے ۔ گزشتہ چند دنوں میں بھارت نی درجنوں نہتے کشمیریوں کو شہیدکر دیا ہے ۔ بھارتی مسلمانوں اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے ۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد کشمیری مسلمانوں پر جو بیت رہی ہے وہ سب کے سامنے ہے مگر دوسری طرف بھارتی مسلمان بھی چین سے نہیں ۔ انتہا پسند ہندووَں نے بھارت میں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے ۔ نہ صرف مسلمان بلکہ عیسائی، سکھ اور دلتوں کی زندگی اتنی اجیرن کر دی ہے کہ وہ زندہ رہنے کے مقابلے میں موت کو گلے لگانے کو تیار ہیں ۔ آر ایس ایس نے اپنی انتہا پسندی دکھانے کےلئے غیر ہندووں پر زندگی تنگ کر دی ہے ۔ دراصل حالیہ تشدد کی لہربھی اسی کا ایک حصہ ہے ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کی گئی تقریر میں دنیا پر آر ایس ایس کی اصلیت واضح ہوگئی ۔ وزیراعظم نے بھارتی وزیر اعظم سے متعلق کہا کہ مودی آر ایس ایس کے رکن ہیں جو ہٹلر اور مسولینی کی پیروکار تنظیم ہے ۔ آر ایس ایس کے نفرت انگیز نظرئیے کی وجہ سے گاندھی کا قتل ہوا ۔ آر ایس ایس بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کررہی ہے اور بھارت میں مسلمانوں اور عیسائیوں سے نسل پرستی کی بنیاد پر قائم ہوئی ۔ اسی نظریے کے تحت مودی نے گجرات میں مسلموں کا قتل عام کیا ۔ تاریخی ثبوت و شواہد اس امر کے غماز ہیں کہ آ ر ایس ایس اپنے عزائم کی تکمیل کے لیے دنگا فساد کرانے سے لے کر نسل پرستی سمیت ہر قسم کے منفی ہتھکنڈے کو اختیار کرنے میں وہ عار محسوس نہیں کرتی ہے خواہ وہ فوجیوں کا قتل عام ہی کیوں نہ ہو;238;

بھارت میں برسر اقتدار بی جے پی کی بنیاد انتہا پسند ہندو جماعت راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ المعروف ’آر ایس ایس‘ ہے جو بالکل اسی طرح بھارت میں کسی دوسرے مذہب کے پیروکار یا عقیدت مند کو زندہ رہنے کا حق دینے کے لیے تیار نہیں ہے جس طرح ایک زمانے میں ’نازیوں ‘ کے نزدیک جرمن قوم کے علاوہ کسی دوسری قوم کو زندہ رہنے کے لیے ان حقوق کی قطعی ضرورت نہیں تھی جو جرمنی کے لوگوں کے لیے بنیادی ضرورت تھے ۔ آر ایس ایس کی ذیلی شاخ دھرم جاگرن سمنوے سمیتی کے رکن راجیشور سنگھ نے اپنی جماعت کی انتہا پسندی کا ثبوت دیتے ہوئے کہا کہ 31 دسمبر 2021 تک ہم اور ہمارے ساتھی اس ملک سے مسلمانوں اور مسیحوں کا خاتمہ کر دیں گے اور سب کو ہندو بنا دیں گے ۔ یہ صرف ایک دھمکی نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے جس پر بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے بھی خبردارکرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں کو جرمنی میں یہودیوں کی طرح چن چن کر نشانہ بنایا جائے گا ۔ بی جے پی اپنی ناکامیوں اور خرابیوں سے پیدا ہونے والی معاشی بحران سے نمٹنے کے لئے یہ حربے اختیار کرے گی ۔ ملک کی معاشی حالت بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے اور اس کا غصہ مسلمانوں پر نکالا جائے گا ۔ بھارت میں آر ایس ایس کے نظریات اور اس کے خیالات سے اتفاق کرنے والی دیگر تمام تنظیموں کو عمومی طور پر ’سنگھ پریوار‘ کہا جاتا ہے ۔ نفرت انگیز جرائم میں خطرناک حد تک اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سپریم کورٹ کے رہنما اصولوں پر عمل درآمد نہ ہونا احتساب کے عمل میں امتیاز اور استثنیٰ کو جنم دیتا ہے ۔ 2016ء سے اپنی کرائم ان انڈیا رپورٹ جاری نہیں کی ہے ۔ ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کے رہنما کرشن گوپال نے اعتراف کیا کہ مودی، بھارت اور آر ایس ایس ایک ہی ہیں ۔ ہاں ہم دہشتگرد ہیں اور بھارت ہمارا حصہ ہے ۔