- الإعلانات -

مقبوضہ کشمیر:بربریت کی نئی تاریخ رقم ہونے لگی

مقبوضہ کشمیر میں نریندر مودی کی جلاد فوج کے ہاتھوں گزشتہ24گھنٹوں کے دوران 15کشمیریوں کی شہادت پر پاکستان نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان کی بربریت کشمیری عوام کے عزم کو نہیں توڑ سکتی ہے ، ہر کشمیری کی شہادت کشمیریوں کے بھارتی قبضے سے آزادی کے عزم کو مزید تقویت بخشے گی ، پاکستان کی قیادت اور عوام ان کے حق خود ارادیت کی مکمل حمایت کے اپنے عہد سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے‘‘ ۔ گزشتہ ماہ مئی میں بھی بھارتی فورسز کے ہاتھوں 16کشمیریوں کو شہید کردیا گیا تھا ۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر عائشہ فاروقی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو مقبوضہ کشمیر میں جعلی انکانٹرز میں کشمیری نوجوانوں کے قتل عام اور نام نہاد انسداد دراندازی ;200;پریشنز پر سخت تحفظات ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جہاں اس وقت بین الاقوامی برادری عالمی وباء کووڈ 19 سے لڑ رہی ہیں وہیں بھارت اس دوران کشمیریوں پر ظلم و ستم تیز کرنے میں مصروف ہے ۔ ایک ہی روز میں پندرہ کشمیریوں کا ماورائے عدالت قتل بھارتی حکومت کے انسانیت کے خلاف جاری جرائم کا عکاس ہے ۔ ان جرائم کو چھپانے کے لیے بھارتی حکام متعدد بار کشمیری حریت پسندوں کی تربیت اور دراندازی کے بے بنیاد الزامات کا سہارا لیتے رہے ہیں ۔ ترجمان دفتر خارجہ نے بھارت پر واضح کیا کہ’’ اس کے اس بے بنیاد پروپیگنڈے کی بین الاقوامی برادری میں کوئی ساکھ نہیں ہے ۔ ;200;ر ایس ایس اور بی جے پی کا انتہا پسند ہندوتوا کا ایجنڈا اور غیرانسانی و غیرقانونی کارروائیوں کا مشترکہ نظریہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہوگیا ہے ۔ بھارتی مظالم نہ تو کشمیری عوام کے حوصلے کو پست کرسکتے ہیں اور نہ اس کا پاکستان مخالف ایجنڈا مقبوضہ کشمیر میں جاری ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹا سکتا ہے ۔ کشمیری کی شہادت کشمیریوں کے بھارتی قبضے سے ;200;زادی کی جدوجہد کو مزید تقویت دے گی، کشمیری عوام اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے تحت اپنے ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور پاکستانی عوام کشمیریوں کے لیے اپنی مکمل حمایت جاری رکھیں گے‘‘ ۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور کوئی اپنی شہ رگ کو زیادہ دیر کسی کے قبضے میں برداشت نہیں کر سکتا ، کشمیری اور پاکستانی یک جان دو قالب ہیں ۔ ترجمان دفتر خارجہ نے درست اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کشمیریوں کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھے گا ۔ بھارت جس دیدہ دلیری سے کشمیریوں کی نسل کشی کر رہا ہے اس پر لازم ہے کہ بین الاقوامی برادری کشمیری عوام کے خلاف سنگین بھارتی جرائم کو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے ۔ کیا دنیا میں صرف مغربی اور یورپی عوام کے حقوق ہیں ،مظلوم کشمیریوں کیا خلائی مخلوق ہیں جس پر دنیا نے مودی کے سامنے چپ سادھ رکھی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کا ظلم و ستم پون صدی سے جاری ہے تاہم 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ وادی کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد سے اس میں شدت ;200;گئی ہے ۔ 5 اگست کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرتے ہوئے اسے 2 حصوں میں تقسیم کردیا تھا، ساتھ ہی وہاں مکمل لاک ڈان اور کرفیو نافذکرتے ہوئے اضافی فوج تعینات کردی تھی ۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں رواں سال2020 میں 52واقعات میں 96 کشمیریوں کو شہید کیا گیا ۔ جن میں جنوری میں 22،فروری میں 12، مارچ میں 13، اپریل میں 33 اور مئی میں 16کشمیریوں کو شہید کیا گیا ۔ جبکہ اس عرصہ کے دوران 62مختلف واقعات میں 127افراد کو گرفتار کیا گیا ۔ مقبوضہ وادی میں جتنا جبر و ستم بڑھایا جاتا ہے اتنا ہی رد عمل زیادہ دیکھنے میں ;200; رہا ہے ۔ پڑھے لکھے نوجوان قلم چھوڑ کر مزاحمت پر مجبور ہو رہے ہیں ۔ خود بھارتی تجزیہ نگار لکھ رہے ہیں کہ مودی سرکار کی مدت حکمرانی کے دوران کشمیر میں نوجوانوں کے عسکریت پسندی کےساتھ وابستہ ہونے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے ۔ 2013 میں 16 سے یہ تعداد بڑھ کر 2018 میں 191 تک جا پہنچی ہے جس کا مطلب12گنا اضافہ ہے ۔ پانچ برسوں میں عسکریت پسندی اختیار کرنے والے نوجوانوں میں 12 گنا اضافہ مودی حکومت کی ;200;نکھیں کھول دینے کےلئے کافی ہے اگر وہ ;200;نکھیں رکھتا ہے ۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، بی جے پی کے صدر امیت شاہ اور قومی سکیورٹی مشیر اجیت دوول پر مشتمل تکون کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ یہ کشمیر کے مسئلے کو سیاسی سمجھنے کے بجائے اسے میدان جنگ سمجھتے ہیں ۔ بھارتی ماہرین مانتے ہیں کہ مودی حکومت کی نظریاتی بنیادوں پر قائم ضد کے باعث کشمیر کے متعلق تباہ کن پالیسی بنی اور اس نے نئی دہلی کی اس تھوڑی بہت نیک نامی کو ختم کر دیا جو اس نے 2002 کے بعد حاصل کی تھی ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ ضد کب تک چلتی ہے اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے،تاہم نوشتہ َ دیوار تو سب کے سامنے ہیں کہ کشمیری بھارت سے چھٹکارہ چاہتے ہیں ۔

تیل کی شارٹیج،نیا بحران،بروقت تدارک کیا جائے

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہونے پر جہاں عوام نے سکھ کا سانس لیا ہی تھا کہ وہاں اس کے لئے نئی مصیبت کھڑی کر دی گئی ہے اور ملک بھر سے تیل غائب ہونے کی اطلاعات آنے لگی ہیں ۔ یہ کیا ماجرہ ہے،خدا بہتر جانتا ہے یا پھر انتظامیہ ۔ کہا جا رہا ہے کہ اس کی وجہ ;200;ئل مارکیٹنگ کمپنیاں اور متعلقہ حکام کی مقررہ ڈپو پر لازمی اسٹاک کو یقینی بنانے میں ناکامی ہے ۔ قواعد کے تحت تمام تیل کمپنیوں اور ریفائنریز لائسنس کے لیے پابند ہیں کہ وہ ہر وقت پیٹرولیم مصنوعات کے کم سے کم 21 دن کے استعمال کا احاطہ یقینی بنائے چاہے ملک حالت جنگ میں ہو یا امن میں ۔ بدقسمتی سے80سے 90 تیل پیداواری کمپنی اور ریفائنریز میں سے کسی نے بھی اس لازمی ضرورت کو پورا نہیں کیا اور گزشتہ چند دنوں سے ملک کا پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کا تقریبا ًمجموعی اسٹاک اوسطاً 11 دنوں سے زیادہ کا نہیں تھا ۔ اسے انتظامیہ کی نا اہلی کہا جائے یا پھر غفلت کہ کئی بحرانوں سے نبرد آزما ملک میں ایک نیا بحران سراُٹھانے لگا ہے ۔ اس معاملے کا فوری نوٹس لے لیا گیا ہوتا تو یقیناً یہ نیا بحران پیدا نہیں ہوتا،ضرورت اس امر کی ہے کہ اس معاملے کو فوری اور ہنگامی بنیادوں پر حل کیا جائے اور غفلت کے مرتکب افراد کو کڑی سزا دی جائے جو حکومت کی ساکھ کو بٹا لگانے کا موجب بنے ہیں ۔

بچت سکیموں پر بھی کٹ،غریب کھاتے دار کہاں جائے

حکومت نے قومی بچت کی اسکیموں پر شرح منافع میں کمی کا اعلان کر کے چھوتی چھوٹی بچتوں پر گزارہ کرنے والوں پر بجلی گرا دی ہے ۔ وزارت خزانہ کے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹ پر شرح منافع 8;46;54فیصد سے کم کر کے 8;46;05فیصد کردیا گیا، سیونگ بنک اکاءونٹ پر شرح منافع 7فیصد سے کم کر کے 6;46;50فیصد ، ریگولر انکم سرٹیفکیٹ پر 8;46;28فیصد سے کم کر کے 7;46;44فیصد کر دیا گیا ، پنشنرز بینفٹس اکاءونٹس ، بہبود سیونگ سرٹیفکیٹ اور شہدا فیملی ویلفیئر اکاءونٹس پر شرح منافع 10;46;32فیصد کم کر کے 9;46;84فیصد کر دیا گیا ، اسپیشل سیونگ سرٹیفکیٹ پر شرح منافع 8;46;10فیصد سے کم کر کے 7;46;1فیصد کر دی گئی ، نئی شرح کا اطلاق 2جون سے ہوگیا ہے ۔ نیشنل سیونگز کے زیادہ تر کھاتے دار متوسط اور نچلے طبقے سے ہوتے ہیں جو اپنی پنشن اور دوسری معمولی بچت سے یہاں کھاتے کھلواتے اور گھریلو بجٹ کو چلاتے ہیں مگر اب ان کی بچتوں پر بھی بھی بھاری کٹ لگا دیا گیا ہے جو کہ نا مناسب ہے اس معاملے پر نظر ثانی کی جائے تاکہ ایک غریب اور متوسط طبقے کے ان کھاتہ داروں کے چولہے ٹھنڈے نہ ہونے پائیں ۔