- الإعلانات -

حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

فضائی نظام میں ایک ایسا سسٹم اور قانون ہیں جو حادثات ہونے نہیں دیتے ۔ اس لئے دنیا میں فضائی حادثات بہت کم ہوتے ہیں لیکن اسکے باوجود دنیا میں فضائی حادثات ہوئے لیکن ان کی تعداد بہت کم ہے ۔ جس ملک کی ایئر لائنز کا یہ فضائی حادثات پیش آتا ہے اس پر ساری دنیا کی نظریں لگ جاتی ہیں ۔ دنیا جاننا چانتی ہے کہ اس حادثے کی کیا وجہ بنی ہے ۔ کون اس کا ذمہ دار ہے ۔ کیا جس کمپنی کا طیارہ تھا وہ اس حادثے کی ذمہ در ہے یا جس ملک کا طیارہ تھا جو اس کو چلا رہے تھے وہ اس کے ذمہ دار ہیں ۔ یہ تو طے ہے کہ کوئی نہ کوئی اس حادثہ کا ذمہ دار ہوتا ہے ۔ یہ جاننے کےلئے کہ یہ حادثہ کیسے ہواکیوں کر ہوا اور کون اس کا ذمہ دار ہے ۔ اس پر دنیا ساری کے ممالک میں انکوئری کمیٹی تشکیل دی جاتی ہیں تا کہ اس حادثے کی وجہ معلوم ہو سکے تاکہ اس کی خامی کو دور کیا جا سکے اور آئندہ ایسے حادثات نہ ہوں ۔ فی الحال وہ حالات جن کی نشان دہی سابق ائر مارشل اور سابق ڈی جی سول ایویشن یوسف چوہدری اور سابق ونگ کمانڈر اور فلائنگ انسٹرکٹر یوسف گل نے ایک روز چینل کے ٹاک شو میں مشہور ٹی وی اینکر عائشہ مسعودسے باتیں کرتے ہوئے کچھ نشان دہی کیں ہیں ۔ وہ آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں ۔ ان باتوں پر فوری عمل ہونا چائیے ۔ 1985 میں جاپان ائیر لائنز کا طیارہ بوئنگ 747 میں عملے سمیت 524 افردسوار تھے ۔ طیارہ ٹوکیو سے اوساکا جانے کےلئے ابھی فضا میں بلند ہی ہوا تھا کہ زمین پر آگرا تھا ۔ جس میں سوائے چار افراد زندہ بچے باقی سب ہلاک ہو گئے تھے ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ حادثہ ہوا بازی کی تاریخ کا سب سے بڑا اور بد ترین حادثہ تھا ۔ انکوائری سے پتہ چلا کہ اس طیارے کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا جیسے ہمارے ہاں اکثر مریض اپنی بیماری کو سنجیدہ نہیں لیتے اور یہ بیماری بڑھتے بڑھتے لاعلاج ہو جاتی ہے اور پھراس کا شکار مریض دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے ۔ اس لئے کہا جاتا ہے خواہ انسان خود ہو یا اس کی کار یا ہوائی جہاز خرابی کو ابتدا ہی میں ٹھیک کرا لے تو وہ جان سے اور حادثے سے بچ سکتا ہے ورنہ نہیں ۔ جاپان کے اس جہاز میں سات سال قبل اس کی دم میں کوئی خرابی پیدا ہوئی تھی جسے وقتی طور پر ٹھیک کرا لیا گیا تھا مگر اس کی خامی کو دور نہیں کرایا گیاتھا اور یوں ہی یہ طیارہ اپنا سفر جاری رکھے ہوئے تھا اور یہ خرابی بڑھتی گئی اور ایک دن یہ طیارہ حادثے کا شکار ہو گیا ۔ راقم ان دنوں نیویارک میں تھا ۔ وہاں کا ہر چینل تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد بریکنگ نیوز دے رہا تھا ۔ ہر کوئی جاپان سے کسی اعلی افسر کے استعفیٰ دینے کی خبر سننا چاہتا تھا ۔ اس حادثے سے جاپان پر ہر طرح کا پریشر تھا کہ اسے ڈوب مرجانا چاہیے ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جاپان ائیر لائنز کے صدر نے استعفیٰ دیا ۔ منٹینس منیجر نے خود کشی کر لی تمام ہلاک ہونے والے مسافروں کو چھ اعشاریہ سات ملین ڈالر کا ہرجانہ ادا کیا گیا ۔ اس فلاءٹ کا نمبر اس کے بعد جاپان کی کسی ائیر لائنز نے استعمال نہ کیا ۔ بوئنگ747 کی جگہ بوئنگ 767 اور777 کے نام لکھے جانے لگے ۔ اس کے بعد سے آج تک کوئی طیارہ جاپان ائیر لائنز کا ہو یا اس کی فوج کا طیارہ فضائی حادثے کا شکار نہیں ہوا ۔ پی آئی اے کے طیارے اور ائیر فورس کے طیارے حادثات کا شکار رہتے ہیں مگر کسی نے کبھی بھی شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے استفعیٰ نہیں دیا ۔ سب قصور وار پائلٹ کو ٹھہرا کر خود بری الزمہ ہو جاتے ہیں ۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ دیتے ہیں قدرت کو یہی منظور تھا ۔ ا;203; ا;203; خیر سلہ ۔ باقی سب اچھا لکھ کر پھر کسی دوسرے حادثے پر آنکھ کھولتے ہیں ۔ اب ہ میں جان لینا چاہیے کہ اس کراچی کے حادثے کے بعد ہمارے پاس مزید غلطی کی گنجائش نہیں ہے ۔ یہ نہ ہو ہماری ائیر لائز کو دنیا والے بند کر د یں ۔ اس میڈیا کی وجہ سے جو معلومات عوام کو مل چکی ہیں اس کے مطابق جہاز کے پائلٹ نے لینڈنگ کرنے کی کوشش کی تو اس کے ویل نہ کھل سکے ۔ ویل نہ کھلنے سے طیارہ زمین پر رگڑ کھاتا ہوا دوبارہ فضا میں بلند ہو گیا جس سے اس کے انجنوں میں خرابی پیدا ہوئی ،آگ لگ گئی اور طیارہ حادثے کا شکار ہو گیا ۔ راقم کا ایک کلائنٹ جو کہ پی آئی اے بوئنگ کا پائلٹ یاسین صاحب تھے ۔ اپنے فیملی کیس کرنے کراچی سے اسلام آباد آیا جایا کرتے تھے ۔ لہٰذا اکثر آپ سے تفصیلی گپ شپ رہتی ۔ آپ کہا کرتے تھے کہ ہ میں روز طیارے کے ا ڑان میں دو مقام مشکل لگتے ہیں ۔ ایک جہاز کا رن وے سے فضا میں بلند ہونا ۔ دوسرا جب ہم طیارے کی لینڈنگ کر تے ہیں ۔ جب فضا میں طیارہ بلند ہو جاتا ہے اور جب طیارہ لینڈ کر جاتا ہے تو سکون محسوس کرتے ہوئے ا ;203; کا شکر ادا کرتے ہیں ۔ مسکراتے ہوئے کہا ہم پائلٹ حضرات ہمیشہ خدا کے قریب رہتے ہیں ۔ ان دنوں میڈیا پر بہت سے ٹاک شوز دیکھنے کو ملے جس سے بہت سی معلومات سنے کو بھی ملیں ۔ ان معلومات کی روشنی میں دل خون کے آنسو بھی رویا ۔ ایک تفصیلی کالم انکوئری کے آ جانے کے بعد لکھوں گا ۔ ہمارے سابق ممبر سروس ٹریبونل رفیق شاہ صاحب ایک سائیکل کا قصہ سنایا تھا جو آج تک میری سمجھ میں نہیں آیا ۔ کہا یہ قصہ اس لئے آپ کو سمجھ نہیں آ رہا کہ یہ صرف سرکاری ملازمین کے لئے ہے ۔ اسے سرکاری ملازم ہی سمجھ سکتے ہیں ۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ ایک سرکاری ملازم نے لون لیکر سائیکل خریدی ۔ گھر لے کر آیا تو دیکھا کہ اس کے پیچھے کیریئر نہیں ہے ۔ اس نے اپنے بیٹے کو ڈیلر کے پاس بھیجا کہ اس پر کیرئیر لگا کر لائے ۔ جب سائیکل واپس آئی تو اس نے دیکھا کہ اس کا کیریئر تو اس نے لگا دیا ہے مگر اب اسٹینڈ نہیں ہے ۔ اس نے جا کر ڈیلر سے پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے ۔ اب اس کا اسٹینڈ کیوں نہیں ہے ۔ ڈیلر نے کہا با بو جی سرکار کی نوکری میں ایک چیز ہی مل سکتی ہے ۔ کیرئیر یا اسٹینڈ ، اگر اسٹینڈ لو گے تو کئیریر ختم اور اگر کیرئیر بنا نا ہے تو کبھی اسٹینڈ مت لینا ۔ لگتا ہے اسی فارمولے پر نوکری پیشہ لوگ عمل جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن یہ فارمولا اب زیادہ دیر چلے گا نہیں ۔ اس میں عوام کا اور ملک کا اداروں کانقصان ہی نقصان ہے ۔ دنیا میں انہی لوگوں کے نام زندہ ہیں جھنوں نے اپنی سروس کے دوران اپنے کیرئیر کو نہیں ملکی مفاد کو سامنے رکھا ۔ وقت کرتا ہے پرورش برسوں ِ حا دثہ ایک دم نہیں ہوتا ۔