- الإعلانات -

سرحدی تنازعات ترقی میں بڑی رکاوٹ

پاک افواج کے سالار اعلیٰ نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیاء میں دیر پا امن کے قیام کےلیے ضروری ہے کہ دیرینہ تنازعات کے حل کی جانب موثر اور نظر آنے والی پیش رفت ہو ۔ پاک آرمی چیف نے ان خیالات کا اظہار یکم جون کو کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوءٹہ کے دورے کے دوران کیا ۔ اس موقع پر ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ہر ممکن کوشش کر رہا ہے کہ امن و سلامتی کو تقویت ملے مگر تاحال بھارت اس بابت سنجیدگی کا مظاہرہ نہےں کر رہا ۔ غیر جانبدار مبصرین نے اس بابت پاکستانی موقف کو صیح قرار دیتے کہا ہے پاکستان کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ اپنے سارے پڑوسیوں کےساتھ اچھے تعلقات قائم رکھے،اسی وجہ سے1985 میں جنوبی ایشیائی ملکوں پر مشتمل علاقائی تعاون کی تنظیم’سارک‘کے قیام کے بعد سے پاکستان نے پھرپور کوشش کی کہ سارک تنظیم ،آسیان کی مانند جنوبی ایشیاء میں باہمی ترقی کو حقیقی معنوں میں تقویت دے سکے مگر شائد اسے اس خطے کی بد قسمتی قرار دینا چاہے کہ بھارت کی سرحدیں جنوبی ایشیاء کے سارے ملکوں سے متصل ہےں یعنی نیپال،بنگلہ دیش، بھوٹان،مالدیپ اور سری لنکا بھارت کے پڑوس میں واقع ہےں اور حجم اور آبادی کے لحاظ سے خطے کا سب سے بڑا ملک ہونے کی وجہ سے بھارت نے توسیع پسندی کو اپنی روش بنا رکھا ہے جس کے نتیجے میں تاحال جنوبی ایشیاء خاطر خواہ ڈھنگ سے ترقی نہےں کر پایا ۔

اس ضمن میں یہ امر بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ اب گزشتہ 12برسوں سے افغانستان بھی سارک کا رکن ہے اور چین کو بھی مبصر کی حیثیت حاصل ہے ۔ یاد رہے کہ گزشتہ عشرے میں چین نے خطے کے ساتھ ساتھ تجارتی حجم کو کئی گنا بڑھا دیا ہے ۔ امریکہ کے معروف تحقیقی ادارے ’’بروکنگ انسٹی ٹیوٹ ‘‘ کے مطابق جنوبی ایشیاء کے ملکوں کے درمیان تجارت ان ملکوں کی مجموعی عالمی تجارت کے مقابلے میں محض 6;46;5 فیصد ہے ۔ مبصرین متفق ہےں کہ چین آنے والے دنوں میں ہر معاملے میں بھارت کو پیچھے چھوڑنے کی اہلیت رکھتا ہے اور اگر بھارتی حکمرانوں نے اپنی روایتی ہٹ دھرمی کو ترک نہ کیا تو جنوبی ایشیاء میں ٹھوس ترقی کا بھارتی خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہےں ہو سکتا ۔

بھارت کا خطے میں تجارتی حجم اس کی عالمی تجارت کے مقابلے میں 7;46;1فیصد اور 8;46;3 فیصد کے درمیان رہا ہے ۔ چین جو جغرافیائی طور پر خطے کی دو بڑی معیشتوں یعنی بھارت اور پاکستان سے جڑا ہوا ہے اس نے اپنی برآمدات کو مسلسل بڑھایا ہے جو 2018 کے آخر تک 52 ارب ڈالر سے زائد ہو گئیں تھی ۔ اس رپورٹ کو مرتب کرنے والے ماہرین کے مطابق خطے میں تجارتی حجم میں کمی کی کئی وجوہات ہیں جن میں سے تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹیں ، سیاسی اختلافات اہم وجوہات میں شامل ہےں ۔ اب جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ وہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلاء اس سال مکمل کرنا چاہتے ہیں تو ماہرین کے مطابق کابل حکومت اور طالبان مذاکرات کے بعد افغانستان میں دیرپا امن کے سلسلے میں خطے کے اقتصادی روابط اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ۔

لیکن خطے میں اقتصادی تعاون کا خواب کیسے حقیقت بنے گا جبکہ بھارت اور چین اور پاکستان اوربھارت میں کشیدگی مسلسل برقرار ہے اور ابھی افغان جنگ کے اختتام پر بھی کوئی واضح تصویر سامنے نہیں آئی کہ بین الاقوامی برادری افغانستان کے بہتر مستقبل کے لیے اقتصادی تعاون کے کسی ٹھوس معاہدے پر راضی اور عمل پیرا ہوجائے ۔ دوسری طرف دنیا کے اکثر ممالک اس وقت کرونا وائرس کی زد میں ہےں ان حالات کے پس منظر میں یہ بات بھی اہم ہے کہ امریکہ نے نائن الیون کے دہشت گرد حملوں کے بعد شروع ہونے والی اس جنگ کے دوران افغانستان میں کئی ترقیاتی منصوبے مکمل کیے ہےں اور تعلیم اور صحت کی سہولیات کو ممکن بنایا،ماہرین کے مطابق افغانستان سے امریکی فوج کا انخلاء ٹرمپ کے سیاسی منشور کا حصہ ہے اور طالبان سے کئے گئے معاہدے اور فوجوں کی واپسی کے ذریعے وہ اپنا وعدہ پورا کر رہے ہیں کرونا وائرس کا چیلنج بھی امریکی افواج کے انخلا کے محرکات میں شامل ہے ۔

ظاہری طور پر ٹرمپ زیادہ تر وسائل امریکی عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کا اصل ایجنڈا نومبر 2020کے پہلے ہفتے میں ہونے والے امریکہ کے صدارتی انتخابات میں دوبارہ جیت حاصل کرنا ہے ۔ یاد رہے افغانستان کو معاشی طور پر چلانے کے لئے بین الاقوامی برادری بالخصوص خطے کے ممالک کو چاہئے کہ وہ اقتصادی اور تجارتی تعاون کے ذریعے افغانستان کو اقتصادی لحاظ سے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی کوششوں میں حصہ لیں ۔

چین کی پاکستان میں سرمایہ کاری سے مکمل ہونے والے منصوبوں سے افغانستان کو فائدہ پہنچ سکتا ہے ۔ ماضی کے مقابلے میں اب حالات کسی حد تک مختلف ہیں اور ایسے میں خطے کے ممالک یہ نہیں چاہیں گے کہ افغانستان پھر سے عدم استحکام اور جنگوں میں گھر جائے ۔ 40 سال سے زائد کی جنگوں اور تنازعات کے بعد افغانستان کے بہتر مستقبل کا موقع موجود ہے کیونکہ وہاں اب پارلیمنٹ بھی ہے ایسے میں جنگ بندی اور امن قائم ہونے کے بعد پاکستان تجارتی اور اقتصادی لحاظ سے افغانستان کی بھرپور مالی مدد کر سکتا ہے ۔ افغانستان کو چمن کے راستے کے ذریعے تجارت کرنے کا آسان اور قریبی راستہ میسر ہوسکتا ہے، پاکستان بھی افغانستان کے ساتھ روابط سے فائدہ اٹھا سکتا ہے کیونکہ افغانستان کے ذریعے وسطی ایشیائی ممالک سے آنے والی بجلی اور گیس پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرسکتی ہے ۔ گزشتہ کئی سالوں سے ترقیاتی منصوبے جاری ہونے کی وجہ سے پاکستان افغانستان بارڈر کی دونوں جانب ترسیل کے راستے بھی تجارت کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوں گے ۔

چین کی افغانستان میں سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبوں میں بہتری کی امید کی جاسکتی ہے لیکن دوسری جانب خطے میں جاری تنہا اور کئی دہائیوں سے جاری تنازعات کے باعث اجتماعی تعاون کی بات افسانوی سی لگتی ہے ۔ افغانستان اور پاکستان کے تعلقات میں اعتماد کی کمی ،پاک بھارت تنازعات اور بھارت اور چین میں جاری تناؤ اور بھارت کے اپنے ہمسایہ ممالک سے اختلافات کی وجہ سے ایسا دکھائی نہیں دیتا کہ خطے کے ممالک کسی جادو کے زیر اثر یکدم تعاون کرنے پر آمادہ ہو جائیں ۔

ایسا دکھائی دیتا ہے کہ افغانستان میں عدم استحکام جاری رہے گا حالانکہ یہ بات بھی درست ہے کہ تمام ممالک کے تعاون سے اقتصادی ترقی کی شرح بڑھ سکتی ہے ۔ خطے میں دوطرفہ تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے اگر ہم کھلے انداز سے حالات کا جائزہ لیں تو پھر جنوبی ایشیا کے ممالک کو آپس میں اقتصادی طور پر یکجا کرنے کے لئے بہت بڑے پیمانے پر رہداریوں اور توانائی کے منصوبوں کی ضرورت ہوگی ۔ یہاں یہ بات خاص طور پر مدنظر رہنی چاہیے کہ حالیہ دنوں میں جس طرح بھارت نے نیپال اور چین کے خلاف پروپیگنڈہ مہم تیز کی ہے اس کے منفی اثرات بہر صورت پورے خطے کو متاثر کر سکتے ہےں ۔