- الإعلانات -

پاکستان کا نمبر ون مسئلہ آبادی ہے

ا کستا ن کے جغرا فیا ئی ،موسمیاتی، ثقا فتی ، اقدار کے تناظر میں دیکھا جا ئے تو پا کستان من حیث القوم خود کشی پر آ ما دہ آ گے بڑھے جا رہا ہے ۔ پا کستا ن کی آ با دی اس وقت 22 کر وڑ ہے جو یقینا ایک الارمنگ صورتحال ہے ۔ یہاں افسوسناک پہلو یہ ہے سب سے زیادہ نظرانداز ہونے والا ایشو بھی یہی ہے ۔

اس ملک کے مر کزی چار مو سم ہیں ۔ پاکستان کی ;84;opography مختلف النوع ہے ۔ شکل وصورت، صحت ، آب وہوا اور ما حو ل کا اثر ان مختلف التو ع انسا نو ں پر رہتا ہے ۔ کہیں مو سم گر م ا ورمر طوب ، کہیں منطقے میدا نی کو ئی پہاڑی اورسر سبز و شا دا ب علا قوں پر مشتمل ہیں ۔ پسما ندگی، محر ومی اور رویے ان سب میں مشترک ہیں ۔ چند شہروں میں معاشی سر گر میا ں جا ری رہتی ہیں ۔ اکثر یت صحت اور تعلیم کی سہو لیات سے محروم ہیں ۔ لہٰذا ان کا ;66;ehaviour بھی پسما ندہ ہے ۔ وہ اس قابل نہیں کہ اپنے مستقبل کا منصوبہ بنا سکیں ۔ اسی ما یو سی میں ان کا سارا دھیا ن بچے پیدا کر نے میں صرف ہوجا تا ہے ۔ 5 سے 10 ہزار روپیہ کما نے والے کے اوسطا ً 5بچے ہوتے ہیں ۔ ظاہر ہے نہ یہ پڑھ سکتے ہیں ۔ 10،12 سا ل کی عمر تک پہنچ کر ان کے رنگ پھیکے پڑ جا تے ہیں ۔ آ پ دیکھ لیجئے ، کہ 22 کرو ڑ کی آ با دی میں 70 فی صد سے زا ئد افرا د کی صحت نا قص ، آ لو دگی ، خوارک کی کمی ;77;alnutrition کی وجہ سے کند ذہن اور جسمانی طور لاغر بچے پیدا ہو رہے ہیں ۔ ماں کے پیٹ سے آلو دہ خوراک اور غیرصحت مند آب وہوا کے اثرات نو مو لو د بچو ں کا مقدر بن جا تی ہے ۔ یعنی پیدا ہو تے ہی انکی دفاعی قوت کمزور ہوتی ہے ۔

ما ہر ین نفسیا ت پریشان ہیں کہ نفسیاتی امراض میں شدت سے اضا فہ ہو رہا ہے ۔ اس وقت دنیا میں ڈپیر یشن نمبر 1 بیما ری بن چکی ہے ۔ کیو نکہ معا شی اور بھا گم بھا گی نے انسا نو ں کو اپنی ذہنی صحت اور جسما نی صحت سے بے فکر کر دیا ہے ۔ امیر مما لک میں چونکہ افراد یا شہری قوانین یا نظام کی پابندی کر تے ہیں ۔ لہٰذا انکی جسما نی صحت درست رہتی ہے ۔ مگر ہم معیشت کے پہاڑ تلے دبے رہتے ہے ۔ اگر سرمایہ دارانہ معاشی نظا م ، ایک مشین ہے تو انہی پرزوں کی مدد سے وہ اس مشین کی حر کت کا با عث ہیں ۔ یہ پرزے مشین کے لیے آکسیجن فراہم کرنے والے اہم پرزے ہو تے ہیں ۔ مگر جب یہ پرزے جسمانی یا طبعی عمرکی ضعیفی تک پہنچتے ہیں تو اس کو نکال باہر کیا جاتا ہے ۔ اور اس کی جگہ نیا پرزا یعنی نئی ٹیکنالوجی متعارف ہو جاتی ہے ۔ یوں امریکہ اور یورپ میں اس سے بیکاری اور اندیشوں کے باعث انسان نہایت پریشانی سے دو چار ہے ۔ ہم ہر معاملے میں مغرب کی نقالی کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں لیکن جب بات ہوتی ہے ملکی مفاد کی وہاں پیچھے ہٹ جاتے ہیں ۔ پورے مغرب نے آبادی کے حوالے سے بہت محتاط رویہ اپنایا اور ایک ہم ہیں بس کیا بحث کی جائے ۔ چونکہ یورپ میں کوئی ایسا اخلاقی نظام نہیں جس سے ناجائز بچے یا بچوں کی کفالت یا ان کے مستقبل کی ذمہ داری کوئی نہیں لیتا اس معاشرے سے ;77;ogogamy کا تصور غائب ہو گیا ہے ۔ ہم اسے بد لگامی کہہ سکتے ہیں لہٰذ ا نفسیاتی امراض کا یورپ میں بھی راج ہے ۔ انکی ذہنی صحت شدت سے متاثر ہو رہی ہے ۔ مشرق ہو یا مغرب دونوں کے ہاں توازن بگڑ چکا ہے ۔ پاکستان معاشرت ایک مضبوط خاندانی نظام کے تصور کو ساتھ ساتھ لئے جا رہا ہے یہاں ;73;nterdependence کا نظام صدیوں سے اقدار کا حصہ ہے ۔ مگر کمزور معاشی صورتحال سے ان خاندانوں میں ہی breaks آ رہے ہیں ۔ اور یہ ایک ایسے المیے کو جنم دے رہا ہے کہ جس کا نتیجہ ہولناک ہے کیونکہ تعلیم ، شعوراور ;85;nit ;83;ystem نہ ہونے کی وجہ سے اور ;70;rustration میں بے ہنگم آبادی بڑھ رہی ہے ۔ ہم نے ساری پاکستانی معیشت سماج اور اقدار کو ایسا ایٹم بم بنا دیا ہے ۔ اور کسی بھی وقت یہ د ھماکہ خیزمواد پھٹ سکتا ہے ۔ ہم روک تھام ، احتیاط یا حیاتیاتی اصولوں کے برعکس آگے کی طرف رواں دواں ہیں ۔ اس قدر اہم مسئلہ جس کا تعلق پیش آمدہ مجموعی انسانی المیے سے ہے ۔ نہ غور ہے نہ ہی ان اسباب پر تفکر کیا جاتا ہے ۔ اس وقت حکومتیں یا سیاستدان یا ریاست دیگر چھوٹے چھوٹے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں ۔ سنجیدگی کی کوئی کرن نظر نہیں آتی ۔ درست ہے کہ جن مسائل سے حکومت یا ریاست نبرد آزما ہے ، یقینا اہمیت کی حامل ہیں ۔ مگر ترجیحی بنیادیں یا بصیرت کی بے حد کمی نظر آتی ہے ۔ پانی کا مسئلہ یا بحران 10-5 سال میں آشکار ا ہو جائیگا ۔ 5% اشرافیہ تو پانی ;73;mport کر سکتے ہیں ۔ کیا 95% فی صد آبادی شدید پیاس فصلوں اورآبی ضرورت کو پورا کرنے کے قابل ہو سکیں گے;238; پاکستانی معاشرت پچھلے 70 سال سے ;68;ecline پر ہے ۔ یعنی قیام کے بعد یہ قوم ;34; اترانگ ;34; پر ہے ۔ آج تک ایسا حامل بصیرت راہنما ، پیدا نہ ہو سکا جو اس زوال کے اسباب کا ;34; رک ;34; کر جائزہ لیتا یا قوم کو ارتقا کے اصولوں کے مطابق یکسو کر تا ۔ مفاد خویش کے محافظ ;34; راہنماءوں ;34; نے آج 70 سال کے گند کو 95% آبادی تک پھیلا دیا خود وسائل پر قابض ہوئے ۔ بحر حال اس وقت عمران خان ایک ایسا وزیر اعظم ہے جس کی نیت اور ارادہ دونوں تعین منزل کے نشان کی کھوج لگا رہا ہے ۔ اب نصب العین (کام کرنے کا) کو مستحکم کر کے ٹارگٹ تک پہنچنا ہے ۔ تمام سیاسی پارٹیوں کو پسند نا پسند سے نکل کر قومی وحدت کا ثبوت دیں ۔ 5% اس غلط فہمی سے نکل آئیں ۔ ایک کورونا نے تمام ;77;yths ختم کر دیئے ۔ شاید یہ قدرت کی طرف سے ;87;ake up call ہے ۔ آبادی سنگین مسئلہ بلکہ نمبر 1 مسئلہ بن چکا ہے ۔