- الإعلانات -

محسن پاکستان ڈاکٹر قدیر خان کا ایس کے نیازی کےساتھ مفصل انٹرویو

اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت صرف اور صرف ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور اس کی ٹیم نے بنایا ۔ اسی وجہ سے پاکستان کا بچہ بچہ انہیں محسن پاکستان کے نام سے یاد کرتا ہے اور رہتی دنیا تک انہیں اسی نام سے یاد رکھا جائے گا ۔ اس عظیم کارنامے پر پاکستانی قوم ان سے بے پناہ محبت کرتی ہے اور دل سے دعائیں دیتی ہے ۔ خدانخواستہ ملک ایٹمی پاور نہ ہوتا تو مودی جیسے شیطان صفت بھارتی وزیراعظم کی موجودگی میں پاکستان کی سالمیت ہمیشہ ہمیشہ کے لئے گروی رکھی جا چکی ہوتی لیکن دوسری طرف بدقسمتی سے جب بھی 28 مئی کا دن ;200;تا ہے بعض عناصر ملک میں یہ بحث چھیڑ دیتے ہیں کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت کس نے بنایا ۔ پھر کریڈٹ لینے کی ایک دوڑ لگ جاتی ہے ۔ اگرچہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس ملک کو ایٹمی طاقت بنانے کا خواب کس نے دیکھا اور کس نے اس خواب کو حقیقی تعبیر دی تاہم پھر بھی اس حوالے سے پاکستان گروپ ;200;ف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے اپنے معروف پروگرام سچی بات میں حقائق سے کنفیوژن کی گرد خود ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی زبانی جھاڑنے کی کوشش کی ہے جسکے بعد اس بحث کو ختم ہو جانا چاہیے ۔ پاکستان گروپ ;200;ف نیوز پیپرز اور روز نیوز ڈاکٹر قدیر خان کا تہہ دل سے مشکور ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں انہوں نے ہمیشہ اپنا قیمتی وقت دیا اور عوام کو ببانگ دہل حقائق سے ;200;گاہ کیا ۔ ہر بار کی طرح گزشتہ روز بھی انہوں نے ایس کے نیازی سے اس حوالے سے سیر حاصل بات چیت کی اور بتایا کہ ایٹمی پروگرام کا خواب کس طرح دیکھا گیا،کس طرح ;200;گے بڑھا اور کس کس کے کردار کی بدولت یہ کارنامہ انجام پذیر ہوا ۔ یہ ایک طویل ترین انٹرویو تھا جس میں انہوں نے جہاں قوم کی محبتوں کا شکریہ ادا کیا وہاں انہوں نے اپنی ٹیم کو بھی کریڈٹ دیا جس نے ان کے ساتھ دن رات ایک کر کے اس فریضہ کی ادائیگی میں پورا پورا کردار ادا کیا ۔ انہوں نے حکومت وقت کو کچھ مشورے بھی دیئے کہ وہ کس طرح قوم کی فلاح و بہبود کے کام کرے ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر نے کہا کہ قوم کو معلوم ہے میں نے انہیں سکیورٹی مہیا کی ہندووَں کے شر سے بچایا اسی وجہ سے عوام مجھے دعاءوں میں یاد رکھتے ہیں ۔ ایس کے نیازی نے پروگرام سچی بات میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ;200;پ کی محنت اورکارنامے کی وجہ سے یہ ملک قائم و دائم ہے ۔ میں ;200;پکی عظمت کو سلام کرتا ہوں ۔ یوم تکبیر کے بعد ایک بحث چل پڑی ہے کہ ایٹمی دھماکہ کس نے کیا، لوگ اس موقع پر محسن پاکستان کی بات سننا چاہتے ہیں کہ جس نے ایٹم بم بنایا ہے ۔ ڈاکٹر قدیر نے کہا کہ نیازی صاحب بات یہ ہے کہ اگر کسی کو شوق ہے کہ ایٹم بم اس نے بنایا تو وہ اسکا کریڈیٹ لے لے لیکن ;200;پ عوام کو دھوکہ نہیں دے سکتے ، عوام کو سب معلوم ہے کہ میرے ;200;نے سے پہلے کیاصورتحال تھی اور میرے ;200;نے کے بعد کس طرح ملک کا دفاع مضبوط ہوا ۔ بلاوجہ لوگ اس بات کے پیچھے پڑے ہیں ۔ ہم تو اپنے سر پر تختی لگائے نہیں پھررہے کہ ایٹم بم ہم نے بنایا جو بنایا تھا سو وہ بنا دیا ، ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا ۔ میں نے ہمیشہ یہ کہا میں نے اور میرے رفقا کار نے ایٹم بم بنایا ۔ نیازی صاحب میں لوگوں کو بتا دوں کہ میرے ;200;نے سے پہلے ایسی کوئی ;200;رگنائزیشن نہیں تھی کہ جو اس قابل ہوتی اور نہ ہی قیامت تک اس ملک میں کوئی ایسی ٹیم بنے گی کہ وہ ایسے کام کر سکے ۔ لوگوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ ہمارے یہاں سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ بنا دیتے ہیں ۔ میاں نواز شریف وزیر اعظم تھے ان کی بغیر اجازت کے یہ کام ہو ہی نہیں سکتا تھا ۔ انہوں نے اجازت دی تب ہی یہ کام ہوا ۔ وزیر اعظم کی حیثیت سے انہیں یہ کریڈیٹ جاتا ہے ۔ بم کی تیاری کے مراحل کے حوالے سے بتایا کہ وہ وقت مشکل تھا ،ہماری جانوں کو خطرہ تھا جب ہم ایٹم بم بنانے والے تھے مغربی ممالک کو پتہ تھا کہ اس پراجیکٹ میں کون کون شامل ہے ۔ ہم سب جان کی پرواہ کیے بغیر باہر جاتے تھے لوگوں سے ملتے تھے سامان لاتے تھے ۔ ہم نے 83اور 84کے شروع میں ایٹم بم بنا لیا تھا اور جنرل ضیا کو لکھ دیا تھا کہ ایک ہفتے کے نوٹس پر ہم دھماکہ کر سکتے ہیں ،ہ میں 100فیصد یقین تھا ، ہم نے کولڈ ٹیسٹ کیے ہوئے تھے ۔ یہ تومیری اور پاکستان کی خوش قسمتی تھی کہ میں ایسی جگہ کام کر رہا تھا جہاں یورونیم کو افزودہ کرنے کی صلاحیت ;200; گئی تھی اور میں نے سیکھ لی تھی ورنہ اگر یہ صلاحیت نہ ہوتی تو قیامت تک بھی ایٹمی پاور نہیں بن سکتے تھے ، اسکے لیے جو ٹیکنالوجی تھی جو میں لے کر ;200; گیا اور میں نے سیکھ لیا مجھے اچھی طرح یاد ہے اور اللہ تعالی کا کرم ہے کہ مجھے یاد رہا کیونکہ میں تو چھٹی پر ;200;یا تھا ذوالفقار علی بھٹو نے مجھے روک لیا میرے کاغذات سب وہیں تھے ۔ ہم تو ایک سلپ بھی ساتھ نہیں لائے تھے لیکن انہوں نے کہا کہ اب ;200;پ واپس نہ جائیں میں نے کہا کہ میں کاغذ وغیرہ لے ;200;ءو تو انہوں نے کہا کہ ;200;پ نے یہ کام کیا ہے ;200;پ کو یاد ہو گا انہوں نے بہت بڑی ذمہ داری میرے اوپر ڈال دی تھی ۔ ڈاکٹر عبدالقدیرخان نے بھارتی دھمکیوں کے حوالے سے کہا کہ بھارت کچھ کر ہی نہیں سکتا کیونکہ اس کو معلوم ہے کہ اگر اس نے گڑ بڑ کی تو اس کو بہت سخت جواب ملے گا ۔ مسلح افواج ہر طرح کے ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں ۔ انہوں نے حکمرانوں کو مشورہ دیا کہ ان کو چاہیے وہ عوام کا خیال رکھیں ملک بہت اچھا ہے اس میں لا تعداد مواقع ہیں ذراءع ہیں جو بھی حکومت ;200;تی ہے وہ انہی چکروں میں پڑ جاتی ہے کہ اس کو برا کہنا اس کو برا کہنا یہ حکومت ;200;ئی تھی ہم نے سوچا تھا یہ کام میں لگ جائے گی ۔ کبھی ;200;پ نے سنا ہے کہ امریکہ نے انگلینڈ میں فرانس میں کوئی لیڈر سابقہ لیڈروں پر الزام لگاتا ہو جب وہ جیت گیا تو وہ سمجھ گیا کہ سابقہ لیڈر کو عوام نے مسترد کر دیا ہ میں موقع دیا کہ ہم کام کریں تو ;200;پ کام کریں بجائے اس کے صبح سے شام تک الزام تراشیوں میں لگے رہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ہ میں بے تحاشہ ذراءع دیے ہیں صرف پانی دیکھیں جو بوتل 30روپے کی ;200;تی ہے ہم اس سے زیادہ پانی ہم سمندر میں ضائع کر دیتے ہیں اسی طرح غلہ ہمارے پاس وافر مقدار میں موجود ہے گندم چاول غرض کی ہر چیز وافر مقدار میں موجود ہے لیکن بد انتظامی کی وجہ سے ٹماٹر تک ہ میں باہر سے خریدنے پڑتے ہیں ۔ اس موقع پر ایس کے نیاز ی نے سوا ل کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی ہم نے صوبوں کو اختیارات دیئے 18ویں ترامیم دی اس وقت میں سپریم کورٹ میں 17ججز کے سامنے پیش ہوا 18ویں ترامیم دی اور کہا کہ وفاق کا قائم رہنا بہت ضروری ہے اور میری کسی نے نہیں سنی ;200;پ قوم کو کیا کہیں گے کہ قوم ایک ہو کر رہے وفاق کو حیثیت دے ۔ اسکے جواب میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ سب بٹ گئے ہر ایک اپنی من مانی کرتا ہے تعلیم کا نظام بہت خراب ہو گیا اور اسی طرح صنعتیں بھی تباہ ہیں کچھ چیزیں وفاق کے انڈر ہو نی چاہیں اور وہیں سے سنٹر لائز ہوں تاکہ پورے ملک کا نظام چلے لیکن ہمارے یہاں یہ ہے کہ جسکی مرضی میں جو ;200;ئے وہ کرتا ہے ۔ ایس کے نیازی نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب ;200;پ نے تعلیم کے حوالے سے ایک ڈرافٹ تیار کیا تھا جو احسن اقبال کو بھی بھیجا تھا لیکن کوئی سنوائی نہیں ہوئی ، اس میں جو بھی خدو خال تھے وہ فیڈرل پر ہی ;200; کر ختم ہو تے تھے ۔ لیکن وہ چیزیں نہیں ہوئیں یہ بھی بد قسمتی ہے ہمارے ملک کی محسن پاکستان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پانچ سو یونیورسٹیز میں ہماری کوئی رینکنگ نہیں ہے ہم پسماندہ ہیں ہم ہانگ کانگ اورسنگا پور سے بھی پیچھے چلے گئے ہیں میں نے یونیورسٹی کا پرپوزل بڑی محنت سے بنایا تھا وہ میں نے پہلے کاپی احسن اقبال کو بھیجی وہ کہنے لگے کہ ملی نہیں ایس کے نیازی نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب ہمت نہیں ہارنی اور پاکستان کے لیے سوچتے رہنا ہے اور ہمارا سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ اورچیف جسٹس جسٹس گلزار احمد ان چیزوں کو سمجھنے والے ہیں ;200; پ ہمیشہ مجھے کہتے ہیں کہ وزیراعظم پاکستان کےلئے میں نرم گوشہ رکھتا ہوں میری کتاب حلقہ احباب میں یہ بات ;200;پ نے لکھی ہے ، وزیراعظم محب وطن اور دیانتدار ہیں لیکن ان سے معاملات اس طرح نہیں چل رہے جس طرح چلنے چاہئیں ۔ وزیراعظم ہماری اپیل پر بھی غور کریں گے ;200;پکی خدمات کا کوئی انکار نہیں کرسکتا ۔ محسن پاکستان کا یہ انٹرویو نہایت فکر انگیز ہے،جس میں کئی اہم گوشوں پر بات چیت ہوئی اور کئی ابہام بھی دور ہوئے ۔ حکومت پاکستان کو جوانہوں نے مشورے دیئے ہیں اسے چایئے کہ وہ ان سے گائیڈ لائن لے کر ملکی مفاد کے لئے کام کرے ۔ ڈاکٹر قدیر خان پوری پاکستانی قوم کے محسن ہیں ۔ انکی صحت اب ایسی نہیں رہی کہ وہ مزید پابندیاں سہہ سکیں حکومت کو اس حوالے سے نظر ثانی کرنی چاہئے ۔