- الإعلانات -

اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے !

جون ایلیا نے بہت عرصہ پہلے جو نشاندہی کی تھی لگتا ہے کہ دنیا اس سے دو چار ہے اور وہ وقت آگیا ہے کہ انسان کو انسان سے خطرہ محسوس ہوگا ہے ۔ انہوں نے کہا تھا ۔

عیش امید ہی سے خطرہ ہے

دل کو اب دل ہی سے خطرہ ہے

اب نہیں کوئی بات خطرے کی

اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے

آج کل فرصت کے باوجود لکھنے کا عمل مشکل ہو رہا ہے ہزار کوشش کے باوجود عنوان کورونا سے مربوط ہو جاتا ہے ۔ پوری دنیا حالت جنگ سے دوچار ہے اور ہر طرف افرا تفری اور خوف ہے ۔ یہ اپنی نوعیت کا مکمل لاک ڈاءون ہے جس نے پوری دنیا میں ہر نوعیت کی سرگرمیوں پر جمود طاری کردیا ہے ۔ چین کے شہر ووہان سے نکلنے والے کورونا وائرس نے دنیا کے تقریبا تمام ممالک کو متاثر کیا ہے اور موجودہ حالات کو تیسری عالمی جنگ سے تعبیر کیا جارہا ہے ۔ کورونا وائرس کی روک تھام کے لئے جس بات پر سب سے زیادہ زور دیا جارہا ہے وہ ہے سماجی فاصلے کو برقرار رکھنا ہے ۔ اسکے نتیجے میں کاروبار زندگی ٹھپ ہے ۔ کورونا وائرس کے بعد پیدا ہونے والے صورت حال نے جہاں دنیا کو پریشان کیا ہے وہاں ماحول پر اس کے اچھے اثرات پڑے ہیں ۔ انسان نے آلودگی کی انتہا کر دی تھی لاک ڈاءون کی وجہ سے ماحول پاک اور صاف ہوگیا ہے ۔ گاڑیوں کا دھواں کارخانوں کی آلودگی ختم ہوگئی ہے اور قدرت کا حسن نمایاں ہو گیا ہے ہر طرف پاک اور شفاف منظری کشی کا نظارہ کیا جاسکتا ہے ۔ دوسری طرف کورونا کے خوف نے دوسری بیماریوں کو بھی دبا دیا ہے اور لوگ پیچیدہ بیماریوں کو بھی بھول گئے ہیں ۔ اس دوران ہ میں دور دراز سفر کا موقع ملا جس میں ضلع طور غر (کالا ڈھاکہ) کا سفر بھی شامل ہے اور یہ جاننے کا موقع ملا کہ دور دراز لوگ کس پریشانی سے دوچار ہیں ۔ مزدوروں ، غریب اور متوسط طبقات کے پریشانیوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے ۔ پھر روزگار سے محرومی کے ساتھ ساتھ سماجی دوری کے اصول نے ملک میں افرا تفری کی کیفیت پیدا کردی ہے ۔ ذراءع حمل و نقل پر پابندی عائد کئے جانے کے بعد سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ ملک کے مختلف علاقوں میں پھنسے رہے اور انہیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور بعض اپنی زندگیوں سے محروم بھی ہوگئے ۔ اس دوران مخیر حضرات اور رضاکارانہ تنظیموں کا کردار مثالی رہا ہے جنہوں نے ان غریبوں دیہاڑی دار مزدوروں کے کھانے پینے کا بندوبست کیا ہے اور دور دراز علاقوں میں تنظی میں بے سہارا لوگوں کی مدد کررہی ہے ۔ ان مشکل حالات میں جو مخیر لوگ غریبوں اور ضرورت مندوں کی مالی مدد کر رہے ہیں یقینا ان کا کر دار مثالی ہے ۔ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کہ حکومت خصوصی طیاروں کے ذریعہ بیرون ممالک مقیم اہل وطن کو واپس لاتی رہی لیکن اندرون ملک ہی پھنسے غریب لوگوں کو سہولیات پہنچانے میں بالکل ناکامی کا کاسامنا ہے ۔ دیہاتوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں لوگ جن میں اکثریت غریب دیہاڑی دار ہیں کورونا کے حالات سے پہلے بغرض مزدوری شہروں میں مقیم تھے ۔ کاروبار بند ہونے کی وجہ سے وہ بے روزگار ہیں اور پبلک ٹریفک بند ہونے کی وجہ سے سخت ترین مشکلات کا شکار ہیں ۔ ایک طرف گھر کی پریشانی ، بےروزگاری اور کورونا کا خوف ۔ نہ جائے رفتن نی جائے مانندن ۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بہ نسبت شہر والوں کے دیہاتیوں نے کورونا وائرس کےخلاف لاک ڈاءون پر سختی سے عمل در آمد کیا ہے لیکن اس بحران کے دوران غریب شہریوں کےساتھ اچھا سلوک نہیں کیا ۔ مزدور جسمانی اور جذباتی طور پر بے گھر ہوگئے ہیں اور وہ انتہائی کسمپرسی کی زندگی گذاررہے ہیں یہاں تک کہ بھوک کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں ۔ عام آدمی کسی طور بھی لاک ڈاون کے خلاف نہیں ہے اورہر کسی کو لاک ڈاون کے ناگزیر ہونے کا احساس ہے ۔ ملک میں موجود غریبوں کےلئے ٹرانسپورٹ کا انتظام مکمل نہیں ہو سکا ہے ۔ غریب اور مزدوروں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں ہونا چاہئے کہ وہ کوئی گداگر ہوں اور ہم انہیں خیرات دے رہے ہیں ۔