- الإعلانات -

آپریشن بلیو سٹار ، سکھ نسل کشی

لگتا یہی ہے کہ آر ایس ایس نے ذہنی طور پر سکھوں کو کبھی قبول نہیں کیا ۔ تبھی تو چند روز قبل بھارتی ریاست میگھالے کی راجدھانی ’’شلانگ‘‘ میں ایک سکھ لڑکی کی بے حرمتی کے بعد سکھ کش فسادات پھوٹ پڑے تھے ۔ مبصرین نے آپریشن بلیو سٹار سے عین دو روز قبل ان فسادات کی ٹائمنگ کو اہم قرار دیتے کہا ہے کہ اسے محض سرسری واقعہ قرار دینا نامناسب ہو گا کیونکہ آر ایس ایس کے موجودہ چیف موہن بھاگوت کچھ عرصہ قبل مظفر پور میں کہہ چکے ہیں کہ آر ایس ایس بھارت سے غیر ہندوءوں کے خاتمے کے لئے تین دن سے ایک ہفتے کے اندر لاکھوں سویم سیوکوں ’ہندو رضاکار‘کی ایسی فوج تیار کر سکتی ہے جو ایک اشارے پر کچھ بھی کر سکتی ہے ۔ انھوں نے کہا تھا کہ بھارتی فوج کو ایک جوان تیار کرنے میں 6 سے 7 ماہ لگ جاتے ہیں لیکن آر ایس ایس کی لاکھوں کی فوج چند روزکے اندر اکھنڈ بھارت اور رام راجیے کے قیام کا کام پورا کر سکتی ہے ۔ یاد رہے کہ بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے سکھ کش فسادات پر شدید تشویش ظاہر کرتے میگھالے کے وزیراعلیٰ کونراڈ سنگما کو فون کیا اور ان فسادات کی فی الفور روک تھام کا مطالبہ کیا ۔ انھوں نے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم بھی میگھالے بھجوا دی ہے ۔ قابلِ ذکر ہے کہ یکم جون کی صبح شروع ہوئے ان فسادات کے بعد علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ۔ انٹرنیٹ اور موبائیل سروسز بند کر دی گئیں ۔ اس دوران بھارتی فوج کی بھاری نفری صورتحال کو قابو کرنے میں مصروف رہی ۔ بھارتی کثیر الاشاعت ہندی روزنامے دینک بھاسکر کے مطابق تین جون کو کرفیو میں تھوڑی نرمی کی ہی گئی تھی کہ فسادات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا اور جنونی ہندو گروہوں نے سکھوں کے خلاف اشتعال انگیزی شروع کر دی ۔ اس دوران بھارتی فوج نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا ۔ واضح رہے کہ میگھالہ شمال مشرقی بھارتی صوبہ ہے ۔ واضح ہو اس کی سرحدیں بنگلہ دیشی اضلاع (سابقہ مشرقی پاکستان) میمن سنگھ، رنگپور اور سہلٹ سے اور بھارتی ریاست آسام سے متصل ہیں ۔ اس کی راجدھانی شلانگ ، آبادی تقریباً بتیس لاکھ اور رقبہ 22,429 مربع کلومیٹرہے ۔ دوسری جانب دنیا بھر میں رہنے والے سکھوں کی بہت بھاری تعداد نے سانحہ گولڈن ٹیمپل کی 36ویں برسی کے موقع پر احتجاج کیا اور بھارت کی ریاستی دہشتگردی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ’’بھارت مردہ باد‘‘ اور ’’خالصتان زندہ باد‘‘ کے نعرے لگائے ۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ بھارت میں بر سراقتدار آر ایس ایس نے سکھ نسل کشی کا سلسلہ عرصہ دراز سے کسی نہ کسی شکل میں شروع کر رکھا ہے ۔ اقلیتوں کے خلاف بھارتی ریاستی دہشتگردی کی ایک طویل تاریخ ہے جس میں جون 1984 کے پہلے ہفتے کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے جب مسز اندرا گاندھی کے دور میں بھارتی فوج نے36 سال قبل تین سے آٹھ جون تک سکھوں کے متبرک مقام ’’ گولڈن ٹیمپل ‘‘ کی حرمت کو بری طرح پامال کیا اور محض ایک ہفتے کے اندر ہزاروں افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔ آپریشن بلیو سٹار کے نام سے انڈین آرمی کی اس سفاکانہ مہم میں سنت جرنیل سنگھ’’ بھنڈرانوالہ‘‘ سمیت بہت سے سکھ رہنما ہلاک کر دیئے گئے ۔ امرتسر میں واقع ’’ گولڈن ٹیمپل ‘‘ اور ’’ دربار صاحب ‘‘ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی اور بھارت سے علیحدگی کے خواہشمند سکھوں پر اتنے غیر انسانی مظالم ڈھائے گئے جن کی مثال اس سے پہلے کی انسانی تاریخ میں بہت کم ملتی ہے ۔ اس کے نتیجے میں بھارتی سکھوں میں دہلی سرکار کے خلاف نفرت کے جذبات اتنی شدت اختیار کر گئے کہ انڈین آرمی کی بہت سی سکھ یونٹوں نے اجتماعی طور پر بغاوت کر دی مگر بھارتی حکمرانوں نے اپنی بے پناہ فوجی قوت کے بل بوتے پر سکھ قوم کی اس مزاحمت کو وقتی طور پر تو کچل دیا ۔ مگر سکھ عوام و خواص میں دہلی کے مرکزی اقتدار کے خلاف نفرت اس قدر شدید تھی کہ محض چار ماہ بعد ہی یعنی 31 اکتوبر 1984 کو انڈین وزیر اعظم اندرا گاندھی اپنے دو سکھ محافظوں ’’ ستونت سنگھ ‘‘ اور ’’ بے انت سنگھ ‘‘ کے ہاتھوں قتل ہو گئیں ۔ اندرا گاندھی کے قتل کے فوراً بعد پورے بھارت میں بالعموم اور دہلی میں بالخصوص سکھ قوم کے خلاف اونچی ذات کے ہندوءوں نے ایک قیامت برپا کر دی اور صرف تین دن کے اندر چھ ہزار سے زیادہ سکھ خواتین اور بچوں کو تہ تیغ کر دیا گیا ۔ اس صورتحال کا افسوس ناک پہلو یہ بھی تھا کہ اس وقت کے مرکزی وزراء ’’ جگدیش ٹاءٹلر ‘‘ ، ’’ ایچ کے ایل بھگت ‘‘ اور ’’ سجن کمار ‘‘ سمیت بہت سے حکومتی رہنماءوں نے بذاتِ خود سکھوں کی نسل کشی کے عمل میں حصہ لیا اور پورے بھارت میں سکھوں کی جان و مال اس قدر غیر محفوظ ہو گئیں کہ ’’خشونت سنگھ ‘‘ اور جنرل ’’ جگجیت سنگھ اروڑا ‘‘ (جو سانحہ مشرقی پاکستان میں انڈین آرمی کی ایسٹرن کمانڈ کے سربراہ تھے ) کی سطح کے سکھوں کو بھی اپنی جان بچانے کے لئے ایک غیر ملکی سفارت خانے میں پناہ لینی پڑی مگر مسز گاندھی کے جانشین اور بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی نے ان ہزاروں سکھ خواتین اور بچوں کے قتلِ عام کو جائز ٹھہراتے یہاں تک کہا کہ جب کسی بڑے درخت کو کاٹ کر گرایا جاتا ہے تو اس کی دھمک سے ارد گرد کی زمین میں کچھ تو ارتعاش پیدا ہوتا ہی ہے اور درخت کی زد میں آنے والی گھاس پھوس ختم ہو جاتی ہے ۔ اس حوالے سے یہ امر بھی اہم ہے کہ آپریشن بلیو سٹار کے اس وقت انڈین آرمی چیف ’’ جنرل اے ایس ویدیا ‘‘ جو 31 جولائی 1983 تا 31 جنوری 1986 انڈین آرمی کے تیرھویں آرمی چیف کے طور پر کام کرتے رہے ، وہ دس اگست 1986 کووَ دو سکھ نوجوانوں کے ہاتھوں قتل ہو گئے ۔ علاوہ ازیں بلیو سٹار آپریشن کی کمانڈ کرنے والے ’’لیفٹیننٹ جنرل ’’ کلدیپ سنگھ براڑ ‘‘ اور ان کی اہلیہ پر 30 دسمبر 2012 کو لندن میں قاتلانہ حملہ ہوا جس میں وہ شدید زخمی ہوئے ۔ اس امر کا تذکرہ بھی بے جا نہ ہو گا کہ دنیا بھر میں رہنے والے سکھوں نے اس بھارتی بربریت کو کبھی فراموش نہیں کیا اسی وجہ سے وہ بھارت سرکار کے خلاف انتہائی منظم انداز میں مہم چلا رہے ہیں ۔ امریکہ میں قائم سکھ حقوق کی تنظیم ’’ ;83;ikhs ;70;or ;74;ustice‘‘ نے 31 اکتوبر 2013 کو مسز گاندھی کے قتل کی برسی کے موقع پر دس لاکھ سکھوں کے دستخطوں پر مبنی رٹ پٹیشن اقوامِ متحدہ کے ادارے ;8578728267; ( یونائیٹڈ نیشن ہیومن راءٹس کونسل ) میں داخل کرائی جس میں اس عالمی ادارے سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ بھارتی حکومت کے ہاتھوں ہونے والے سکھوں کے قتلِ عام کو عالمی سطح پر سکھوں کی نسل کشی ڈکلیئر کیا جائے اور اس انسانی المیے کے ذمہ دار بھارتی رہنماءوں کو خصوصی ٹربیونلز قائم کر کے قانون و انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے ۔ علاوہ ازیں 6 جون 2014 کو اسی سکھ تنظیم نے عالمی سطح پر انٹر نیٹ کے ذریعے دنیا بھر میں بسنے والے سکھوں کے دستخط حاصل کرنے کے لئے ایک مہم چلا رکھی ہے جس کو سکھ ریفرنڈم 2020 کا عنوان دیا گیا ہے ۔ اس کے مطابق 2020 میں بھارت کے باہر بسنے والے 50 لاکھ سکھ ایک ریفرنڈم کے ذریعے اس امر کا فیصلہ کریں گے کہ بھارت کے زیر قبضہ پنجاب کو بھارت سے آزادی حاصل کر لینی چاہیے یا بھارتی غلامی کو ہی اپنا مقدر سمجھنا چاہیے ۔ اس تمام صورتحال کا جائزہ لیتے انسان دوست حلقوں نے رائے ظاہر کی ہے کہ اسے اس خطے کی بد قسمتی ہی قرار دیا جانا چاہیے کہ ہندوستانی حکمرانوں نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور اپنے ماضی کے مظالم پر نادم ہونے کی بجائے انھوں نے اپنے یہاں بسنے والی مذہبی اور لسانی اقلیتوں کے ساتھ ساتھ اپنے پڑوسی ممالک کا جینا بھی محال کر رکھا ہے ۔