- الإعلانات -

آزاد اورخود مختارمیڈیا کا طرہ ِامتیاز

شعورسے ماورا،مادرپدرآزادمطلب یہ کہ وجود کے ہونے کونہ یقین کرنے والے میڈیا کی حیثیت‘اْس کی سچائی ’پرفارمنگ آرٹ‘ہی تسلیم کی جائے گی، ایسے میڈیا کی خبریں چاہے کتنی ہی سنسنی خیزی سے سنائی اور دیکھائی جائیں دیکھنے والے کو تصوری گمان پر مبنی معلوم دیں گی،حقیقتوں کا ایسی خبروں سے دورپرے کا بھی کوئی تعلق نہیں ہوتا کیونکہ زمینی حقائق کھل کھل کر گمانوں میں گھتی ہوئی ایسی خبروں کا پہلے ہی پوسٹ مارٹم کرچکے ہوتے ہیں جبکہ یہ خبریں ماضی کے حکمرانوں کی کرپشنزوارداتوں کا بوجھ لادے ہوئے ہوں توپھران سبھی خبروں کا کچا چھٹا اوراْن کی جزوئیات کی تفصیلات کسی سے مخفی نہیں رہتیں رواں سال کے شروع میں ملک میں جب ایک ساتھ اچانک ’’آٹے اورچینی‘‘کا بحران عوام کو جھیلنا پڑا بازاروں سے یکدم آٹاغائب ہوا اور چینی کے دام آسمان کو چھونے لگے یہی نہیں بلکہ تھوک بازاروں کے گوداموں سے چینی کا اسٹاک اٹھا لیا گیا چینی ملک میں نایاب ہوگئی تووزیراعظم پاکستان عمران خان نے خوراک کی کمیابی اورنایابی پر اپنے سخت ردعمل کا اظہارکیا اور اْنہوں نے ایف آئی اے کے ڈائریکٹرجنرل کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیشن قائم کیا جس کی رپورٹ عید سے قبل وزیراعظم پاکستان کو پیش کردی گئی یہ اہم رپورٹ مزید شفافیت کے عمل سے گزارنے کے لئے ’فرانزک‘ کرائی گئی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار موجودہ حکومت کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اْس نے عوام سے کیئے گئے اپنے وعدے پر عمل درآمدکردکھایا اب جبکہ عوام خوب اچھی طرح سے جان چکے ہیں کہ ماضی کے ایک سابق وزیراعظم نے پپیرارولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے سیاسی حکمران خاندان کی شوگرملزکو مالی فائدے پہنچانے کے لئے قومی خزانہ سے بیس ارب روپے کی خطیر سبسڈی دینے کی سمری منظور کرکے اپنے مقتدراعلیٰ ترین عہدے کے حلف کی خلاف وزری کی ہے ایف آئی اے کی تفتیشی رپورٹ جس رپورٹ کی فرانزک تفتیش بھی ہوچکی ہے جس کے بعد یہ کہنے اور ماننے میں کسی کو کوئی عار نہیں ہونا چاہئے کہ’’سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کانام بطور سہولت کارچینی بحران معاملہ میں ایک کردار سامنے آیا ہے ۔

راقم کا مدعا یہاں صرف اتنا ہے یہ بڑی حیران کن بدقسمتی کا مقام ہے ملکی میڈیا کے کچھ حصہ نے (جن میں روزٹی وی اور روزنامہ پاکستان کے علاوہ چند ادارے اور ہونگے) زیادہ ترمین اسٹریم میڈیا نے چینی بحران کی رپورٹس کے مندرجات پر عید کے دنوں میں اور بعد کے شوز قومی خزانہ کو بے دریغ نقصان پہنچانے والوں کے نام جب فرانزک رپورٹ میں سامنے آچکے تھے اْن پر تبصرے کرتے تجزئیے پیش کیئے جاتے عوام کا مال لوٹنے والوں کو بے نقاب کیا جاتا یہ سبھی میڈیاعید کی چھٹیوں کے دوران وزیراعظم پاکستان کے پیچھے پڑا رہا ۔ وزیراعظم اپنے اہل خانہ کے ہمراہ نتھیاگلی تشریف لے گئے تھے اْنہیں پوائنٹ آوَٹ کرتا رہا وہ کہاں کہاں گئے اْنہوں نے کیسا لباس زیب تن کیا ہوا تھا یہ سب تذکرہ اور خوش گپیاں ہوتی رہیں کوئی بات اگر نہیں ہوئی تو چینی بحران کی فرانزک رپورٹ پر کوئی بات کرنا’’تنقید برائے تنقید‘‘کے اینکرپرسنز عادیوں نے گوارا نہیں کی،چینی کےاس تمام قضیہ میں صرف سابق وزیراعظم کے تذکرے کے علاوہ شوگر انڈسٹری کے دوسرے اہم اورنامور افراد کے نام بھی شامل تھے اومنی گروپ کے اْن ملزمان کے نام بھی تھے جنہوں نے گزشتہ دس برسوں کی حکمرانی کے دور میں باہمی جوڑتوڑ کے حکومتی ذراءع استعمال کیئے تھے اور گمنام ٹی ٹیز کے ذریعہ ملکی دولت کو منی لانڈرنگ کے ذریعے مال مفت دل بے رحم سمجھ کر خوب لوٹا تھا جیسے اوپربیان ہوا اس میں ’’مخصوص میڈیا ہاوسنز‘ ‘نے تاحال اپنا رویہ تبدیل نہ کرنے کی جیسے کوئی قسم اْٹھا رکھی ہوہر صورت میں موجودہ حکومت پر تنقید کرنا ہرحکومتی فیصلہ کو شکوک وشبہات کے ساتھ مبہم جہتوں سے عوام کے سامنے پیش کرنے کے ان ’مخصوص میڈیا ہاوسنز‘چلن بدلتے فی الحال نظرنہیں آرہے ۔ قیاسات پر گمانوں پر یقین کیئے رکھنے والا یہ عجب میڈیا ہے جس کی کل سیدھی ہوکے دیتی نظرنہیں آرہی ایسا آخر ہے کیوں ;238;صرف وزیراعظم عمران خان کی شخصیت سے بیر رکھنا کیا یہی ان سب میڈیا والوں کی انا ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ ماضی کے حکمرانوں کے پاس ایسی کون سی’’گیدڑ سنگھی‘‘تھی جو وہ جب چاہتے ان’مخصوص میڈیا والوں ‘کو سنگھا دیتے تھے دوسال گزر گئے آج تک یہ میڈیا والے مین اسٹریم میڈیا پر اور اپنے اپنے جاری کردہ ذاتی یوٹیوبز چیلنز پر ڈیسک اسٹوریاں گھڑ کر ایڈیٹ کی گئی تصاویر کو تازہ کرکے موجودہ حکومت اور خصوصاً وزیراعظم عمران خان کو درمیان میں گھسٹ لیتے ہیں اور زہراگلتی کمنڑیاں کرتے رہتے ہیں کوئی اِنہیں پوچھنے والا نہیں ہے ۔ آخر یہ سلسلہ کب تک یونہی جاری رہے گا ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ آف پاکستان سے فیصلے صادر ہونے کے بعد تسلیم کیوں نہیں کیا جاتا کہ دونوں سابق حکمرانوں کے سربراہ ہوں یا اْن کے قریبی رفقا سیاسی وغیر سیاسی تجارتی پارٹنرز اْن سب کے دامن کرپشنزآلود ثابت ہوچکے ہیں حیرت ہے اْنہیں اب تک ہمارے معاشرے میں ایک ایسا طبقہ بھی موجود ہے جو ایسوں کو اپنا سیاسی قائد اور رہنما مانتا ہے;238;یہاں یہ بھی ہ میں مان لینا چاہیئے کہ جیسے بعض سننے میں آتا ہے کہ گزشتہ تیس پینتس برسوں کی بیوروکریسی کے افسران کو آل شریف خاندان نے اور بھٹوز خاندان نے بطور اپنے وفادار رہنے کی بنیادپر بھرتی کیا وہ اب موجودہ نئے سسٹم کو چلنے نہیں دینا چاہا رہے ہیں کیا ویسے ہی گزشتہ دس برسوں میں یہ جو’’میڈیا کے ادارے‘‘ہیں ان کا موازانہ اْن کے ساتھ کیا جائے تو پھر کیاغلط ہوگا;238; اب بھی وقت ہے کہ میڈیا کے سبھی ادارے متعصبانہ رویہ ترک کرکے غیر جانبدارانہ کردار ادا کریں حکومت پر جائز تنقید ضرور کریں لیکن حکومت احسن اقدامات کو احسن پیشہ ورانہ طریقہ سے عوام تک پہنچانے کا اپنا اہم فریضہ بھی ادا کریں ذراءع ابلاغ خواہ اخبار ہوں یا ریڈیو،ٹیلی ویڑن چینلز ہوں یا سوشل میڈیا یا انٹرنیٹ نیوزویب ساءٹس ہوں اْنہیں کسی کے ذاتی اثررسوخ سے دب کر کام کرنے سے انکار کردینا چاہیئے،کسی کے ذاتی مفاد اوراپنے طمع کی وجہ سے کسی جھکاوَ اور یک گونہ رجحان کا شائبہ تک اْن میں نظر نہیں آنا چاہیئے یہی ایک آزاد اورخود مختار میڈیا کا طرہ امتیاز ہوتا ہے اور ایسے ہی خود دار اور غیر جانبدار میڈیا تاریخ میں ہمیشہ امر رہتے ہیں ۔