- الإعلانات -

صحافیوں کےلئے بھی خطرناک ملک

ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکمرانی میں بھارت صحافیوں کےلئے دنیا کے سب سے خطرناک ترین مقامات میں سے ایک ہے کیونکہ مودی کی حکمرانی کے 6 سال کے دوران انفرادی طور پرصحافیوں پر کم از کم 200 سنگین حملے ہو چکے ہیں جس کے نتیجے ان میں سے 40 کی ہلاکت ہو گئی ہے ۔ واشنگٹن پوسٹ کے ایک مضمون میں ہندوستان کو صحافت کے لئے خطرناک ملک بتایا گیا ہے ۔ بھارت میں صحافت کو انتہائی مخدوش حالات کا سامنا ہے ۔ متعدد صحافیوں کو قتل کیے جانے جیسے متعد واقعات رونما ہوئے ہیں ۔ حد تو یہ ہے کہ گزشتہ 18 ماہ کے دوران دنیا کی اس سب سے بڑی نام نہاد جمہوریت میں 7صحافیوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے ۔ اس کے علاوہ بھارتی صحافیوں کو پولیس، سیاستدانوں ، افسر شاہی اور جرائم پیشہ گروہوں کی جانب سے ڈرانے دھمکانے کے واقعات میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ رپورٹرز ود آوَٹ بارڈرز ( آر ایس ایف)نامی تنظیم نے بھارت میں صحافی کو قتل کیے جانے جیسے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزادی صحافت کی فہرست میں بھارت تیزی سے نیچے کی جانب جا رہا ہے جس پر ہ میں شدید تحفظات ہیں ۔ بھارتی حکومت کو اس ضمن میں اقدامات کرنا ہوں گے بصورت دیگر عالمی قوانین کے تحت کاروائی عمل میں لائی جائیگی ۔ کامن ویلتھ ہیومن راءٹس انیشئیٹیو کے بینر تلے سینئر بھارتی صحافیوں نے حالیہ دنوں میں بہار اور مدھیہ پریش میں تین صحافیوں کے قتل کی مذمت کی ہے ۔ اس سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ صرف مارچ کے مہینے میں صحافیوں پر پولیس کے تشدد کے کم ازکم چار واقعات درج کیے گئے ہیں ۔ صحافیوں کے خلاف پولیس کے بڑھتے ہوئے تشد د کے واقعات اس لیے اور بھی تشویشناک ہیں کہ ان میں پولیس اہلکار ہمیشہ سزا سے بچ جاتے ہیں ۔ تنظیم کے ایشیا پیسیفک کے سربراہ ڈینئیل بسٹرڈکا کہنا ہے کہ بھارت میں صحافیوں کے خلاف پولیس نے جس نوعیت کا مخالفانہ ماحول بنا رکھا ہے وہ ناقابل برداشت ہے ۔ لہذا ہم حکام سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ صحافیوں کے خلاف پولیس تشدد کی تفتیش کرائے اور جو اس کے ذمے دار ہیں انہیں مناسب سزا دے ۔ اس سے بھی اہم یہ کہ وزارت داخلہ پولیس کو یہ واضح ہدایت جاری کرے کہ پورے ملک میں صحافیوں کے تحفظ اور ان کے کام کا احترام کیا جائے ۔ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ یعنی سی پی جے کے بھارتی نمائندے آیوش سونی نے بتایا کہ گذشتہ دس برس میں ملک میں 33 صحافی مارے گئے ہیں ۔

سی پی جے نے صحافیوں کے قتل کے معامالات میں متعلقہ افراد کو سزائیں نہ ملنے والے ملکوں کی عالمی فہرست میں بھارت کو تیرہویں مقام پر رکھا ہے ۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ گذشتہ دس برس میں ملک میں ایک بھی صحافی کے قتل کا معاملہ حل نہیں ہوا ۔ حالیہ دنوں میں جو تین صحافی مارے گئے ان میں ایک مدھیہ پردیش اور دو صحافی ریاست بہار میں مقامی اخباروں اور ویب ساءٹوں کے لیے کام کر رہے تھے ۔ آزادی صحافت کے معاملے میں بھارتی صورت حال روزبروز تشویش ناک ہوتی جا رہی ہے ۔ آزادی صحافت کے عالمی انڈیکس میں بھارت کو دو درجے کا نقصان ہوا ہے ۔ بھارت اب 138 ویں مقام پر ہے ۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے لیے کام کرنے والی ٹرول سینا صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بناتی ہیں ۔ پچھلے سال صحافی گوری لنکیش پر ہوئے حملے کے بعدبھارت کو نقصان اٹھاناپڑا ہے ۔ رپورٹ میں اس بات کی بھی وضاحت کی گئی ہے کہ سال 2014 میں نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد صحافیوں پر ہونے والے حملوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ سخت گیر ہندو تنظی میں صحافیوں کو زیادہ نشانہ بنا رہی ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ کشمیر میں صحافیوں کے خلاف ہونے والے تشدد پر بھی خاموشی اختیار کرنےکی بات کہی گئی ہے ۔ کشمیر میں بیرونی صحافیوں کو جانے اورخبریں رپورٹ کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے ۔ اس کے علاوہ انٹر نیٹ کی خدمات بھی اکثر معطل کر دی جاتی ہیں ۔ ابھی گزشتہ ماہ رمضان میں مقبوضہ کشمیر میں امن کے سفیر اور متوازن مزاج کے حامل ’ رائزنگ کشمیر کے چیف ایڈیٹر شجاعت بخاری کو افطار پر جاتے ہوئے بھارتی فوج کی طرف سے نشانہ بنایا گیا ۔ فائرنگ سے شجاعت بخاری کا سیکرٹری بھی شہید ہوگیا ۔ بھارت میں صحافت کے حالات یہ ہیں کہ مقامی اخباروں میں چھوٹے چھوٹے قصبوں اور شہروں میں کم تنخواہوں پر کام کرنے والے صحافی زیادہ خطرے میں رہ رہے ہیں ۔ مقامی مافیا، جرائم پیشہ افراد، کرپٹ سیاستدانوں اور بدعنوان اہلکاروں سے انہیں ہر وقت خطرہ رہتا ہے ۔ صرف چھوٹے اخبارات اور چھوٹے شہروں میں ہی نہیں بلکہ بڑے شہروں اور بڑے صحافتی گروپز کے لیے کام کرنے والے صحافیوں کو بھی خطرات کا سامنا رہتا ہے ۔ سوشل میڈیا کی وجہ سے صحافیوں پر حملوں کے واقعات اب عوام کے سامنے آنے لگے ہیں ۔ بڑے اخباروں ، ٹی وی چینلوں اور غیر جانبدار ویب ساءٹس پر دباوَ بہت بڑھ گیا ہے اور بیشتر مدیر اس دباوَ کے آگے جھک گئے ہیں ۔ حکومت پر سنجیدہ تنقید اور اس کی کارکردگی کا غیرجانبدارانہ جائزہ مشکل ہو چکا ہے ۔ مدیر اور مالکان کوئی خطرہ نہیں مول لینا چاہتے ۔ بھارت میں تقریباً سبھی صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بھارت میں صحافیوں اور میڈیا پر بڑھتے ہوئے حملے سے ملک میں آزادانہ صحافت کو خطرہ پیدہ ہو گیا ہے ۔ صحافی اب فون پر بات کرتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں کہ کہیں ان کا فون ٹیپ نہ کیا جارہا ہو ۔ صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم ;39;انٹر نیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس;39; نے بھارت میں صحافتی آزادی کو دبانے کی کوششوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں صحافیوں اور میڈیا پر بڑھتے ہوئے حملے سے ملک میں آزادانہ صحافت کو خطرہ پیدہ ہو گیا ہے