- الإعلانات -

ڈی جی آئی ایس پی آر کا بھارت کو بروقت مسکت جواب

چین کے ہاتھوں اٹھائی جانے والی ہزیمت کے بعد اس بات کے خدشات کا اظہار کئی دنوں سے ہو رہا ہے کہ بھارت اپنے عوامی دباوَ کا رخ موڑنے کےلئے ،پاکستان یا کشمیر میں کوئی اشتعال انگیز حرکت کر سکتا ہے ،جس کا اظہار گزشتہ روزڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی ایک میڈیا ٹاک میں کیا ہے،تاہم انہوں نے بھارت کو بروقت آگاہ کیا ہے کہ اس مہم جوئی کے سنگین نتاءج ہوں گے جنہیں کنٹرول کرنا ممکن نہیں ہوگا، پاکستان کی مسلح افواج ویسا ہی جواب دیں گی جس کا مظاہرہ بھارت پچھلے سال دیکھ چکا ہے، بھارت نے پلواما ٹو کا ڈراما بھی کرلیا ۔ بھارت کا ان ساری کارروائیوں کا مقصد پاکستان کیخلاف مہم جوئی کیلئے اسٹیج تیار کرنا ہے، ہمارے وزیراعظم اور آرمی چیف بہت پہلے کہہ چکے کہ بھارت فالس فلیگ آپریشن کرنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے ۔ بھارت کو چین، نیپال، معیشت اور کورونا سمیت کئی محاذوں پر ہزیمت کا سامنا ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھی بھارت کے اقدامات بیک فائر کرگئے، بھارتی قیادت اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کا ذریعہ پاکستان کیخلاف مہم جوئی کو سمجھتی ہیں ۔ بھارت نے جارحیت کا ارتکاب کیا تو بھرپور جواب دیا جائے گا، بھارت نے پاکستان پر عجیب و غریب قسم کے الزامات لگائے جو جھوٹے ثابت ہوئے ۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ مودی اور کے گرد موجودانتہا پسندٹولہ یہی کچھ کرتا آرہا ہے حتی کہ مودی کو دوسری بار منتخب کرانے کے لئے بھی ایسے اوچھے ہتھکنڈے اختیار کرنے سے دریغ نہیں کیا گیا ۔ رواں سال فروری میں جو کچھ ہوا اس کا مقصد انتہا پسند ووٹ بنک کو محفوظ بنانا تھا ۔ مودی کے دوسری بار اقتدار میں آنے کے بعد ایل او سی پر کشیدگی کم نہیں ہو رہی اور بار بار خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں ۔ ترجمان آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار لائن آف کنٹرول پر رواں سال ہونے والی بھارتی خلاف ورزیوں سے آگاہ کرتے ہوئے بتا یاکہ بھارت کی طرف سے 1229مرتبہ سیز فائر خلاف ورزی کی جاچکی ، ایل او سی پر 22سویلین شہید اور 90سے زائد زخمی ہوئے ۔ پاکستان نے حال ہی میں بھارتی کواڈ کاپٹر ز مار گرائے ہیں ، سینئر بھارتی فوجی قیادت بار بار مبینہ لانچ پیڈ سے دراندازی کی بات کرتی ہے ، دراندازی کی یہ بات بھارتی فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیت پر بھی سوالیہ نشان چھوڑتی ہے ۔ دنیا کے سب سے زیادہ ملٹرائز زونز میں شامل علاقے میں کوئی کیسے دراندازی کررہا ہے، بھارت نے اپنی آرٹلری مقبوضہ کشمیر کے سول علاقے میں تعینات کی ہے تاکہ جوابی کارروائی ہو تو سویلین کو بھی نقصان پہنچے ۔ میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ پاکستان کی فوج بہت بہتر طریقے سے بھارتی جارحیت کا جواب دے رہی ہے، ہماری پوری کوشش ہوتی ہے جوابی کارروائی میں ایل او سی کے پار شہری آبادی کو نقصان نہ پہنچے ۔ بھارت نے پاکستان پر عجیب و غریب قسم کے الزامات کی بوچھاڑ کی، بھارت نے اپنے ملک میں کورونا پھیلنے کا الزام پاکستان پر لگا دیا، بھارت نے پلواما ٹو کا ڈرامہ بھی کرلیا ، اس ڈرامے میں بھارت نے رات کو ایک گاڑی پکڑی جس میں بقول ان کے دھماکا خیز مواد بھی تھا ۔ بھارت کا کہنا ہے ایک شخص گاڑی سے نکل کر فرار بھی ہوگیا، ساری رات گاڑی کھڑی رکھی گئی اور اگلے دن سورج کی روشنی میں آبادی کے اندر اس گاڑی کو تباہ کردیا گیا تاکہ کوئی ثبوت نہ مل سکے ۔ وزیراعظم اور آرمی چیف کئی بار کہہ چکے ہیں بھارت فالس فلیگ آپریشن کی منصوبہ بندی کررہا ہے،پلواما ٹو سے چند دن پہلے وزیراعظم کا بیان آیا تھا کہ ایک فالس فلیگ آپریشن کی منصوبہ بندی ہورہی ہے ۔ بھارت کے حوالے سے ماہرین کے درمیاں جو ان دنوں خدشات سر اٹھا رہے ہیں اسی جانب متوجہ کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ بھارت کو کئی محاذوں پر شرمندگی کا سامنا ہوا جس سے توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان کیخلاف مہم جوئی کی جارہی ہے، بھارت کو چین، نیپال، معیشت اور کورونا سمیت کئی محاذوں پر ہزیمت کا سامنا ہے ۔ اسے چین کے ساتھ لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے معاملہ پر سخت شرمندگی کا سامنا ہے، چینی فوج وہاں تین کلومیٹر اندر چلی گئی ہے ۔ بھارت نیپال سرحد پر نقشوں میں بھی بھارت کو بڑی شرمندگی ہوئی ہے، کورونا بھارت بھر میں بری طرح پھیل رہا ہے معیشت کو دھچکے لگ رہے ہیں ، مقبوضہ کشمیر میں بھی پانچ اگست کے بعد بھارت کے اقدامات بیک فائر کرگئے ۔ متنازع شہریت قانون کے بعد بھارت میں اسلامو فوبیا کی اٹھنے والی لہر کو پوری دنیا نے محسوس کیا ہے، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے ہر فورم پر اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، بھارتی قیادت اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کا ذریعہ پاکستان کے خلاف مہم جوئی کو سمجھتی ہے ۔ آخر میں انہوں نے ایک بار پھر مودی سرکار کو ببانگ دہل کہا کہ پاک فوج کے ترجمان کی حیثیت سے میں یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ بھارت کی پاکستان کے خلاف کسی بھی جارحیت کا پوری طاقت کے ساتھ جواب دیا جائے گا اور اس بات میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے، ہم تیار ہیں ، ہم جواب دیں گے اور پوری طاقت سے جواب دیں گے ۔ پاک فوج کے ترجمان کا حوصلہ افزاء بیان پوری پاکستانی قوم کے دل کی آواز ہے اور قوم کو پورا اعتماد ہے کہ دشمن اگر پھر کو اوچھی حرکت کرتا ہے تو 26فروری والی تاریخ دوہرانے میں دیر نہ لگائی جائے ۔ یہاں عالمی برادری پر بھی لازم ہے کہ وہ بھارت کی شر انگیزی کا بروقت نوٹس لے،کورونا وائرس کی وجہ سے خطہ پہلے ہی کئی طرح کے بحرانوں سے دوچار ہے اور اگر ایسے میں کوئی مس ایڈونچر ہوتا ہے تو پھر معاملات سنبھلنے نہیں پائیں گے ۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے اثرات کہاں گئے

وزیراعظم عمران خان نے اس بات کا نوٹس لے لیا ہے کہ تیل کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود مہنگائی کیوں کم نہیں ہو رہی ۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومتیں مہنگائی کے خلاف کسی بھی قسم کے سخت ایکشن سے گریزنہ کریں ۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے اثرات عوام تک منتقل نہ ہونے پروزیراعظم عمران خان نے سخت نوٹس لیتے ہوئے وزرائے اعلیٰ، چیف سیکرٹریزکوقیمتوں وکرایوں میں کمی کے معاملات خود مانیٹرکرنے کی ہدایت کردی ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے اثرات اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی کی صورت میں سامنے ;200;نے چاہئیں ۔ وزیراعظم نے نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کوہفتہ واربنیادوں پر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی ہے ۔ دوسری جانب وزیراعظم ;200;فس کی جانب سے صوبوں کے وزرائے اعلی، چیف سیکرٹریز اورچیئرمین نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کو مراسلہ بھی جاری کردیا گیا ہے ۔ مراسلے کے مطابق گزشتہ مہینوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں واضح کمی ;200;ئی ہے، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی کے بجائے اضافہ دیکھنے میں ;200;رہا ہے، حال ہی میں گندم کٹائی مکمل ہوئی، ;200;ٹے کی قیمتوں میں اضافے کا کوئی جواز نہیں ، صوبائی حکومتیں روزانہ کی بنیاد پر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی مانیٹرنگ کریں اور نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی صوبوں کے ساتھ ملکر مہنگائی کے خاتمے کے لیے میکنزم بنائے ۔ یکم مارچ سے قبل پیٹرول 116;46;60روپے، ہائی اسپیڈ ڈیزل 127;46;26، لاءٹ ڈیزل 84;46;51اور مٹی کا تیل 99;46;45روپے فی لیٹر فروخت ہو رہا تھا جس سے ملک بھر میں مجموعی مہنگائی بھی بلندی کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی تھی مگر اب جبکہ پیٹرول 42;46;08، ہائی اسپیڈ ڈیزل 47;46;11، لاءٹ ڈیزل فی لیٹر سستا ہو چکا ہے تو توانائی سے لیکر ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اسی لحاظ سے کمی آنی چاہئے تھی لیکن ایسا نہیں ہو رہا ہے ۔ مٹن، بیف اور چکن سمیت پھل، سبزی کی قیمتیں کم نہیں ہو رہی ہیں ،د وتین روز قبل آٹا اور گندم کی دوسری مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے ۔ وفاقی و صوبائی حکومتوں کو بلاتاخیر اس ساری صورتحال کو قابو رکھنا ہو گا اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے تناسب سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو بھی کم کروانا چاہئے ۔ تاجر برادری کو کچھ خود بھی خوف خدا کر لینا چاہئے کہ وہ عوام کے ساتھ کیا کر رہے ہیں ۔