- الإعلانات -

وقت کم ہے اور مقابلہ سخت

آجکل میں اس سوچ اور حیرت کا شکار ہوں کہ وقت پہلے سے زیادہ تیز رفتاری سے گزر رہا ہے سال مہینے میں مہینہ ہفتے میں اور ہفتہ دن میں تبدیل ہو چکا ہے عید کے بعد یہ پہلا کالم ہے عید کیا تھی کورونا نے انسانی زندگیوں کو اس طرح تبدیل کیا ہے کہ مصافحہ سے لیکر معانعقہ تک اور بوفے سے لیکر ہاتھ ملانے قریب آنے گلے ملنے تک سبھی تک پابندی نے عید کو روکھا پھیکا کر دیا تھا ایسے میں ہوائی جہاز کے دلخراش بلکہ خوفناک حادثے نے پوری قوم کورُلا دیا کتنی قیمتی جانیں کس بے دردی اور کسمپرسی سے ایک ساتھ اللہ کو پیاری ہوئی اور کتنے ہی خاندان پل کے پل میں اُجڑ گئے کونسی بد انتظامی تھی اور کس کا قصور تھا سب کو معلوم ہے لیکن کوئی کھل کر بات کر نے کو تیا ر نہیں قومی ائیر لائنز جو کبھی دنیا کی بہترین ائیر لائنز میں شمار ہوتی تھی آج جس حال میں اس کے احوال دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے دیگر قومی اداروں کی طرح اسے بھی تقریباً تقریباًتما م سیاسی پارٹیوں نے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق جس طرح لُو ٹا اور سفارشوں کی بناپر نا اہلوں کو بھرتی کیا یہ اسکا خمیا زہ ہے کہ مختصر عر صہ میں پانچ ہوائی حادثوں میں کتنے ہی قیمتی اور خوبصورت لوگ ہم سے بچھڑ گئے اور ظلم کی بات یہ ہے کہ کسی بھی حادثے کی نہ تو کوئی رپورٹ سامنے آئی اور نہ ہی کوئی سزا وار ٹھہرا ۔ حالیہ حادثہ میں بھی پرانا طریقہ کار اختیار کیا جارہا ہے وقت گزارنے والی پالیسی ہے عام آدمی بہت جلد اس سانحے کو بھول جائے گا البتہ جن کے عزیز بچھڑے ہیں وہ قیامت تک نہ بھول پائیں گے کس کس کا رونا روئے اور کس کس کا ماتم کریں ہر طرف افراتفری اور نفسہ نفسی کا عالم ہے کون کس وقت بچھڑ جائے کوئی پتہ نہیں نہ یقین ہے ۔ وطنِ عزیز اس وقت بُری طرح اس افراتفری اور نفسہ نفسی کا شکار ہے مہنگائی ، بیروز گاری ،رشوت اور لوُٹ مار سے ستائے ہوئے عوام بڑی آس اور امیدوں کےساتھ تبدیلی لائے تھی انکا خیا ل تھا کہ دو بڑی سیاسی جماعتوں نے طویل عرصہ تک حکومتیں کرتے کرتے عام آدمی کو محکومی سے غلامی تک پہنچ دیا ہے شاید نئی پارٹی لُوٹی ہوئی دولت واپس لانے اور لوٹنے والوں کو کیفر کرادار تک پہنچانے اور ملک کو دوبارہ ترقی کی نہج پر لانے میں کامیاب ہو گی اور دراصل یہی تحریک انصاف کا نعرہ تھا لیکن دو سالوں میں پکڑ لو پکڑ لو کے علاوہ کچھ نہیں ہو سکا مقدمات بھی بنے گرفتاریاں بھی ہوئیں احتساب کا نعرہ بھی گونجا مگر نتیجہ پہلے سے زیادہ مہنگائی بیکاری اور بےروزگاری کی شکل میں نکل رہا ہے جس سے عام آدمی ایک مرتبہ پھر نئی سمت اور نئی راہوں کی طرف دیکھنے پر مجبور ہے ۔ بدبودار بوسیدہ اور کرپٹ نظام اس قدر مضبو ط ہو چکا ہے کہ کوئی بھی کوشش کامیاب ہوتی نظر نہیں آرہی کونسی نئی تبدیلی اسے درست کرے گی اور کب عام ا ٓدمی سکھ کا سانس لے سکے گا وثوق سے کچھ نہیں کہا جاسکتا آٹا اور چینی چوروں کی رپورٹ اور اسکے بعد فرازک رپورٹ آنے کے بعد بھی کچھ نہیں ہوا البتہ چینی کی فی کلو قیمت میں بیس روپے کا اضافہ ضرور ہو گیا ہے بات صرف چینی تک ہی محدود نہیں گندم کا آٹا جو عام آدمی کی ضرورت ہے کہ بارے ڈیڑھ ماہ قبل اسی کالم میں خدشہ ظاہر کیا تھا کہ گند م کی خریداری میں بد نظمی آٹے کی قیمت میں اضافے کا سبب بنے گی لیکن مشورہ گریز حکمرانوں نے تو جہ نہ دی اور آج بیس کلو آٹے کی قیمت میں ڈیڑھ سے دوسو روپے اضافہ میں عام آدمی کیلئے روٹی کا امتحان کھڑا کر دیا ہے حالات بتاتے ہیں کہ اگر صورتحال یہی رہی تو آٹا ہزار روپے تک جا پہنچے گا ۔ آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے بعد تندور اور ہوٹل مالکان نے بھی روٹی اور نان کی قیمت میں اضا فہ کی دھمکی دی ہے اور ساتھ ہی اضافہ بھی کر دیا ہے جبکہ دوسری طرف ٹڈی دل کی تباہکاریوں کا بھی گزشتہ کالموں میں ذکر کرتے ہوئے حکمرانوں کو باورکرانے کی کو شش کی تھی کہ یہ ٹڈی دل کورونا 19سے بھی بڑا خطرہ ثابت ہو سکتا ہے اور یہی بات اب بزنس مین پینل کے سیکرٹری جنرل فیڈرل احمد جواد بھی کر رہے ہیں کہ اگر ٹڈی دل کو بروقت کنٹرول نہ کیا گیا تو غذائی عدم تحفظ شہریوں کیلئے عذاب ثابت ہو گا احمد جواد کا کہنا تھا کہ مکئی ،کپاس ،گنا ،ٹماٹر ،آم ،چارہ اور دیگر فصلیں اسکی زد میں ہیں اور صحرا میں پیدا ہوکر ایک ہی دن میں تباہی کے قابل ہو جانے والا یہ عذاب ایک دن میں 149کلو میٹر کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے اپنی راہ میں آنے والی ہریالی ختی ٰ کہ درختوں کے چھال اور بیچ تک بھی چٹ کر جاتا ہے اور سپریم کورٹ میں بھی ٹڈی دل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عدالت نے پوچھا تھا کہ کیا ٹڈی دل اگلے سال فصلیں ہونے دے گا کافی وقت تھا کہ اس بلا کے خاتمے کیلئے فوری اقدامات کئے جاتے لیکن کچھ نہ ہوا اور متعلقہ ادارے اس وقت فصلوں پر سپرے کرنے میں لگے ہوئے ہیں جبکہ ٹڈی دل ساٹھ سے زیادہ اضلاع کی کروڑوں ایکڑ زمین پر تباہی و بر بادی کی داستان لکھتا ہوا اوکاڑہ تک آ ن پہنچا ہے جون ہی میں ٹڈی دل کے لشکر افریقہ اور ایران سے بھی آرہے ہیں کاشتکا ر اور کسان تو پہلے ہی بد حال تھے ٹڈی دل کے حملے کے بعد انکی تباہی و بر بادی کتنے کھاتے پیتے گھروں کو بینظیر انکم سکیم بیت المال اور احساس پروگرام کاممبر بنا دے گی اس بارے کچھ لکھتے ہوئے دل کانپتا ہے آنے والے دنوں میں سیلاب بھی ایک قیامت بن کر سامنے آسکتا ہے حکومتی اداروں کو ان بلاءوں اور وباءوں کو موثر طریقے سے کنٹرول کر نے اور انکی پیش بندی کرنے کیلئے سخت سے سخت اقدامات کر نے ہوگے اسلئے کہ وقت کم ہے اور مقابلہ سخت