- الإعلانات -

بھارت آزادی اظہار پر پابندی لگانے کا مرتکب

اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے چین، بھارت، بنگلادیش اور دیگر ایشیائی ملکوں سے کہا ہے کہ وہ کورونا بحران کا بہانہ بنا کر آزادی اظہار کو دبانے اور سنسرشپ کی گرفت مضبوط تر کرنے سے گریز کریں ۔ اس کے ساتھ ہی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے بھارت کو کورونا بحران کے دوران اپنے ملک میں آزادی اظہار کو دبانے کا مجرم قرار دیا ۔ اقوا متحدہ کی ہائی کمشنر نے کہا کہ وہ عوام کی صحت کی حفاظت کے لیے غلط معلومات کا پھیلاوَ روکنے یا اقلیتوں کے خلاف نفرت آمیز رویے کے ذریعے لوگوں کو بھڑکانے کے خطرے کے پیش نظر پابندیوں کی ضرورت کو سمجھتے ہیں لیکن اس کا نتیجہ بامقصد سینسرشپ کے طور پر نہیں نکلنا چاہیے ۔ غلط معلومات کے پھیلاوَ کو روکنا حکومت کے مفاد میں ہے لیکن یہ سب کچھ آزادی اظہار رائے کو یقینی بناتے ہوئے کیا جانا چاہیے اور کورونا وائرس کے بحران کو آزادی اظہار پر پابندی یا سینسرشپ کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے ۔ بھارت میں کورونا وائرس کی آڑ میں ملک کی سب سے بڑی اقلیتی مسلمانوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور ہندو انتہا پسند مسلمانوں کو کورونا وائرس کا ذمہ دار قرار دے کر ان کی املاک کو نقصان پہنچارہے ہیں ۔ دہلی میں بھی کچھ ایسے واقعات سامنے آئے ہیں ۔ شمال مشرقی دہلی میں گزشتہ دنوں فساد سے متاثرہ مسلمانوں کو کرونا وائرس کی وجہ ایک اور مصیبت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ مصطفی آباد کے مسلمانوں پر پولیس نے کورونا وائرس پھیلانے کا الزام عائد کر دیا اور نوجوانوں کی اندھا دھند گرفتاریاں شروع کر دیں ۔ مصطفیٰ آباد کی خواتین کا کہنا ہے کہ دہلی تشدد کے بعد ابھی ہم سنبھلے ہی نہیں تھے کہ اب پولیس نے کرونا کو لے کر ہ میں ہراساں کرنا شروع کر دیا ہے ۔ پولیس نے الزام عائد کیا ہے کہ یہاں کے مسلمان دہلی میں کرونا پھیلا رہے ہیں اس لئے سب کو جیل میں ڈالا جائے گا ۔ خواتین نے مودی سمیت دیگر حکام سے اپیل کی کہ مسلم نوجوانوں کی گرفتاریوں کو روکا جائے اور جو نوجوان گرفتار کئے گئے ہیں ان کو رہا کیا جائے ۔ بھارتی ذراءع ابلاغ نے اپنی رپورٹس میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ دہلی میں جاری مسلم کش فسادات میں مسلمانوں کے گھر جلائے جانے سے پہلے لوٹ مار کی گئی ۔ گھر جلانے سے پہلے ٹی وی ،فریج سمیت جو گھریلو سامان لوٹا جاسکتا تھا ہندو دہشت گرد بلوائی لوٹ کر ساتھ لے جاتے تھے ۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ فسادات کے دوران لوٹے گئے گھروں کو آگ لگا کر علاقے کے دوسرے گھروں پر دھاوا بولا گیا ۔ بھارت میں انتہا پسندوں کا نشانہ بننے والے 22 سالہ محمد شاہ کا کہنا تھا کہ ان کے گھر میں شرپسندوں کے حملوں کے دوران ایک چٹائی رہ گئی تھی جو اب بارش کے پانی میں ڈوب گئی ہے ۔ بھارت میں ہندو دہشت گردوں کے حملوں میں 47 مسلمان شہید اور سیکڑوں زخمی ہوگئے ۔ ممبئی کے چھیاسٹھ سالہ اقبال حسین صدیقی بھی مودی سرکار کی مسلمان دشمنی کا شکار ہونے والوں میں شامل ہیں جنہیں ہیلتھ ورکرز نے ہاتھوں پر مہر لگاکر گھر کے ایک ایسے ہی الگ کمرے میں بند رہنے کا کہا ہے ۔ کمرے میں وینٹی لیٹر تک نہیں ہے اور اسی طرح تمام مسلمان مریضوں کو جان بوجھ کر طبی سہولیات سے عاری جگہوں پر رکھا جارہا ہے ۔ کورونا وائرس سے متاثرہ اقبال حسین انڈے بیچ کر اپنا گزارا کرتے ہیں اور وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کسی مناسب جگہ سے علاج کی سکت نہیں رکھتے ۔ مودی حکومت کووڈ 19کی آڑ میں مسلمانوں کا ڈیٹا جمع کررہی ہے اور یہ ڈیٹا مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کیلئے استعمال کیاجارہاہے ۔ ارون دھتی رائے نے کرونا کی موجودہ صورتحال میں بی جے پی اور آر ایس ایس کے راز فاش کرتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس تنظیم سے وزیراعظم مودی کا بھی تعلق ہے اور یہی آر ایس ایس حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے پیچھے فعال اصل طاقت ہے ۔ آرایس ایس عرصے سے بھارت کو ایک ہندو ریاست بنانے کی خواہشمند ہے ۔ اسی لیے اس تنظیم کے نظریہ ساز بھارتی مسلمانوں کو ماضی کے جرمنی میں یہودیوں سے تشبیہ دے چکے ہیں ۔ جس طرح بھارت میں کووِڈ نائنٹین کو استعمال کیا جا رہا ہے ۔ یہ طریقہ کار ٹائیفائیڈ کے اس مرض جیسا ہے، جسے استعمال کرتے ہوئے نازیوں نے یہودیوں کو ان کے مخصوص علاقوں میں ہی محصور کردیا تھا ۔ کرونا وائرس کو بہانہ بناکر بھارتی حکومت نوجوان طلبہ کی گرفتار یوں میں مصروف ہے ۔ وکلاء، سینیئر مدیران، سیاسی اور سماجی کارکنوں اور دانشوروں کے خلاف مقدمات درج کئے گئے جبکہ متعدد کو جیلوں میں ڈالا جاچکا ہے ۔ اس وقت پوری دنیا میں عالمی وبا کرونا وائرس پھیل چکی ہے ۔ بھارت میں اس وبا کی آڑ میں جو صورت حال پیدا ہو رہی ہے اس پر پوری دنیا کو نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ بھارتی بھی اس صورتحال کو معمولی نہ سمجھیں ۔ بھارت میں کورونا سے متاثرہ مسلمانوں کو ہندو مریضوں سے علیحدہ کردیا گیاحال ہی میں جب تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد میں مہلک وائرس کی تشخیص ہوئی تو بھارت کے متعصب میڈیا نے آسمان سرپر اٹھاتے ہوئے ملک میں کورونا پھیلنے کی تمام تر ذمہ داری مسلمانوں پر عائد کردی تھی ۔ بھارت میں مسلمانوں سے نفرت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ بھارتی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد کے ایک سرکاری اسپتال میں کورونا وائرس کے 40 مسلمان مریضوں کو وبا کے شکار 110 ہندووَں سے علیحدہ کردیا گیا تھا ۔ احمد آباد سول اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کا کہنا ہے کہ انہیں حکومت کی طرف سے ایسا کرنے کی ہدایات ملی ہیں ۔