- الإعلانات -

ٹِڈی دَل سے نمٹنے کے لئے موثراقدامات کی ضرورت

ٹڈی دل ہو یا کورونا یہ تمام اللہ تعالیٰ کی جانب سے بھیجے گئے عذاب ہوتے ہیں لامحالہ ہمارے گناہوں کی وجہ سے یہ نازل ہوتے ایسے میں اللہ تعالیٰ سے توبہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہم یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا ہم اللہ اوراس کے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکامات سے دورہوگئے ہیں ، جن کاتدارک صرف اللہ کے حضورسربسجودہونے سے اورگڑگڑاکرمعافی مانگنے سے ہی ہو سکتاہے ۔ تاہم دیگردنیاوی اسباب بھی کرنے لازمی ہیں اسی سلسلے میں ;200;رمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملک میں فوڈ سیکورٹی کو یقینی بنانے اور معیشت کو منفی اثرات سے بچانے کی خاطر ٹڈی دل پر کنٹرول کیلئے موثر ;200;پریشن کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ ;200;ئی ایس پی ;200;ر کے مطابق ;200;رمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یہ بات راولپنڈی میں انسداد ٹڈی دل سینٹر کے دورے کے موقع پر کہی ۔ بری فوج کے انجینئرنگ چیف لیفٹیننٹ جنرل معظم اعجاز نے صورتحال پر بریفنگ دی ۔ ;200;رمی چیف نے ٹڈی دل کے خاتمہ کیلئے کوششوں کو قومی کاوش کے ساتھ مربوط کرنے کے ضمن میں اس مرکز کی کوششوں کو سراہا ۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ٹڈی دل پر قابو پانے کی خاطر، فوج، سول انتظامیہ کی مدد کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے گی ۔ ادھروزیر اعظم عمران خان نے کورونا ریلیف ٹائیگر فورس سے مزید محاذوں پر بھی خدمات لینے کا فیصلہ کیاہے ۔ وزیراعظم نے کہاکہ ٹائیگر فورس سے مزید محاذوں پر بھی خدمات لی جائیں ۔ نوجوانوں کو قومی سطح پر خدمات کا بھر پور موقع دیا جائے گا اور یہ نوجوان رضا کار مستقبل میں بھی قومی معاملات میں معاونت کریں گے ۔ ٹائیگر فورس سے کورونا کے ساتھ ٹڈیوں کے خاتمے، ممکنہ سیلابی صورتحال اور کلین اینڈ گرین مہم میں بھی خدمات لی جائیں گی ۔ ماضی میں ٹڈی دل کی وجہ سے انسان کو کئی دفعہ قحط کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ صحرائی علاقوں میں رہنے والی یہ ٹڈیاں دیکھنے میں بے ضرر معلوم ہوتی ہیں اور اپنی زندگی کے ابتدائی ایام الگ تھلگ رہ کر گزارتی ہیں ۔ ماحولیاتی تبدیلیوں اور خوراک کی کمی کے باعث ان ٹڈیوں سے ایک خاص فیرامون خارج ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ اکٹھے ہوکر لشکر کی صورت اختیار کر لیتی ہیں ۔ ایک لشکر میں اوسطاُ 5کروڑ ٹڈیاں ہوتی ہیں جو ایک دن میں 200 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرسکتی ہیں ۔ یہ لشکر ہوا کے رخ پر سفر کرتا ہے اور راستے میں آنے والی تمام سرسبز فصلوں کو چٹ کرجاتا ہے ۔ دو گرام کی ایک ٹڈی اپنے وزن کے برابر کھاسکتی ہے اور ایک اوسط ٹڈی دل ایک دن میں 35ہزار آدمیوں کی خوراک چٹ کرجاتا ہے ۔ گزشتہ سال برسات میں ٹڈی دل ایتھوپیا سے اٹھ کر عمان اورایران میں تباہی مچاتا ہوا پاکستان میں داخل ہوگیا ۔ 1993;247;ء کے بعدیہ ٹڈی دل کا پہلا حملہ تھاجس نے بلوچستان، سندھ اور جنوبی پنجاب میں گندم،چنا اور سرسوں کو شدید نقصان پہنچایا ۔ وزیر اعظم عمران خان نے ٹڈی دل سے نمٹنے کےلئے نیشنل ایمرجنسی کا اعلان کیا لیکن اس اہم مسئلہ پر بھی وفاق اور صوبوں میں اختلاف دیکھنے میں آیا ۔ سندھ حکومت کا اعتراض رہا کہ وفاق نے انہیں ٹڈی دل کے معاملے میں لاوارث چھوڑ دیا ہے جبکہ وفاقی حکومت اسے صوبائی مسئلہ قرار دیتی رہی ۔ اس لڑائی کا فائدہ ٹڈی دل کو ہوا اور وہ فصلیں چٹ کرنے کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے سازگار موسم میں اپنی نسل بھی بڑھاتے رہے ۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ٹڈیوں کی دوسری نسل جوان ہوچکی ہے اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں حملے دیکھنے میں آرہے ہیں ۔ خطرہ ہے کہ اگر ان ٹڈیوں کو لشکر بننے سے نہ روکا گیا تو پورا ملک اس کی لپیٹ میں آجائے گا ۔ خوراک اور زراعت کے عالمی ادارے ایف اے او کے مطابق اگر ٹڈی دل کیخلاف موثر اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان کو رواں سال 669 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑسکتا ہے ۔ ٹڈی دل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے صرف دو ہی کام ہیں ;234; کھانا اور اپنی نسل بڑھانا ۔ اگر حالات سازگار ہوں تو صرف تین ٹڈیاں کروڑوں کا لشکر بنانے کےلئے کافی ہوتی ہیں ۔ ان کی شرح افزائش اتنی تیز ہے کہ تین ماہ میں ان کی تعداد میں 20گنا اضافہ ہوجاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان پر قابو پانا بہت مشکل ہے ۔ ٹڈی دل پرقابو پانے کےلئے روایتی طریقوں کے علاوہ زیادہ تر کیڑے مار ادویات کا سپرے کیا جاتا ہے ۔ لیکن اس طریقہ سے ٹڈی دل کے ساتھ ماحول کو بھی نقصان پہنچتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کیڑے مار ادویات کا استعمال کم کرتے ہوئے دنیا اس وقت بائیولوجیکل کنٹرول کی طرف بڑھ رہی ہے ۔ حال ہی میں ٹڈی دل پر قابو پانے کےلئے ایسی ماحول دوست سپرے متعارف ہوئی ہے جس میں پھپھوندی کو استعمال کیا گیا ہے ۔ ہ میں عالمی اداروں کے تعاون سے اس سپرے کی مطلوبہ مقدار فوری طور پر منگوانے کی ضرورت ہے ۔ اس مسئلہ سے نمٹنا کسی ایک ملک کے بس کی بات نہیں ہے ۔ عالمی اداروں کے مطابق ٹڈ ی دل کے حملہ سے پاکستان اور بھارت کے تین لاکھ مربع کلو میٹر رقبہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے ۔ پاکستان میں ٹڈی دل سے نمٹنے کےلئے صوبوں کے درمیان ہم آہنگی کی اشد ضرورت ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ وفاقی سطح پر ایک آن لائن انفارمیشن سیل قائم کرے جس کے ذریعے عوام کو ٹڈی دل سے متاثرہ علاقوں ، متوقع حملے اور احتیاطی تدابیر سے باخبر رکھا جائے ۔ یہ کام صرف حکومتی اداروں کے بس کی بات نہیں ہے ۔ اس مقصد کےلئے ضلعی سطح پر ٹی میں تشکیل دی جائیں جن میں زرعی گریجویٹس کو شامل کیا جائے ۔ یہ ٹی میں کاشتکاروں کے ساتھ ملک کرٹڈی دل کے خلاف فرنٹ لائن فورس کے طور پر کام کرسکتی ہیں ۔ ٹڈی دل کے متوقع حملے سے نمٹنے کےلئے کاشتکاروں کی نہ صرف تربیت کی جائے بلکہ انہیں سپرے مشینیں بھی فراہم کی جائیں ۔

دنیا کشمیری بچوں پر جاری بدترین ظلم وستم کا نوٹس لے

جارحیت کا نشانہ بننے والے معصوم بچوں کے عالمی دن کے موقع پر جاری کردہ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے گزشتہ برس 5 اگست کے بعد سے 13000 سے زائد کم عمر بچوں کو غیر قانونی حراست میں لیا ۔ یہ اعداد و شمار نیشنل فیڈریشن آف انڈین ویمن کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے کے بعد پیش کئے گئے اور جسے مغربی ذراءع ابلاغ کے کئی حصوں کی جانب سے انٹرنیشنل ڈے آف انوسینٹ چلڈرن وکٹمز آف ایگریشن کے دن کی مناسبت سے شاءع کئے گئے ۔ جنوبی کشمیر میں بھارتی فضائیہ کےلئے ایک ایمرجنسی رن وے تعمیر شروع کر دی گئی ہے ۔ فورس کے جی او سی میجر جنرل اے سنگپتا نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں سری نگر جموں شاہراہ کے ساتھ ایک ایمرجنسی رن وے تعمیر کی جاری ہے ۔ رن وے کی تعمیراتی کمپنی کے فیلڈ منیجر سجاد احمد شاہ کے مطابق پروجیکٹ پر چار سے ساڑھے چار سو کروڑ کی لاگت سے تعمیر کیا جائے گا جس کو چھ سے ;200;ٹھ ماہ کے اندر مکمل کرنے کا ہدف دیا گیا ہے ۔ کولگام میں فوج کی فائرنگ سے شہری زخمی: بانڈی پورہ میں مسلمانوں نے پنڈت خاتون کی آخری رسومات ادا کر کے بھائی چارے کی مثال قائم کر دی ۔ ادھروفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے جارحیت کا شکار بچوں کے عالمی دن کے موقع پراپنے ٹوئیٹ پیغام میں کہاکہ دنیا کشمیری بچوں پر جاری بدترین ظلم وستم کا نوٹس لے ۔ انسانیت کے خلاف بھارتی جرائم میں بچوں کی قید اور ان کی شہادتیں عالمی ضمیر پر سوالیہ نشان ہیں ۔ پیلٹ گنز کے بے رحم استعمال نے بچوں کی بصارت چھین لی ہے ۔ وادی جنت نظیر میں غیر انسانی اور تاریخ کا طویل ترین لاک ڈاءون جاری ہے، جہاں بچے بھی قید وبند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں ۔ خوراک، ادویات اور بچوں کیلئے دودھ تک نہیں پہنچ پا رہا ۔ قابض افواج کے جرائم پر انہیں کٹہرے میں کھڑا کیا جائے ۔ مقبوضہ کشمیر میں مسلسل لاک ڈاءون کی وجہ سے گھروں میں بند کشمیری خواتین نفسیاتی بیمار یوں کا شکار ہو گئی ہیں ۔ کورونا وائرس جیسی وباء بیماری سے نہ صرف لوگ اقتصادی طور پر کمزور ہوگئے ہیں بلکہ بیشترخواتین گھروں میں ہی محصور ہونے کی وجہ سے نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہو گئیں ہیں ۔ دو دہائیوں سے کشمیری تاجر اور عوام3000دنوں سے بھارتی لاک ڈاءون میں ہیں ۔ 5اگست2019 سے اب تک مسلسل لاک ڈاءون کی وجہ سے تجارتی حلقوں کو تقریبا 30ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے، کشمیری تاجر شدید مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں ۔ 30کے قریب تجارتی ، سیاحتی وصنعتی انجمنوں کے متحد ہ اتحاد جوائنٹ آرگنائزیشنز آف انڈسٹریز ٹریڈ اینڈ کامرس نے وادی میں اقتصادی بحالی کیلئے مضبوط و مستحکم منصوبہ بندی پر زور دیا ہے ۔