- الإعلانات -

انصاف و احتساب ۔ سب کےلئے کیوں ضروری

اس امر میں کوئی شبہ نہےں کہ کسی بھی معاشرے میں نا انصافی اگر حد سے بڑھ جائے تو اس سوساءٹی کےلئے مسائل پیدا ہونا فطری سی بات ہے ۔ شائد یہی وجہ ہے کہ وطن عزیز میں بھی حکومت اور عوام کی خواہش اور کوشش کے باوجود عام آدمی کو انصاف کے حصول میں ہر قدم پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اس حوالے سے یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ تیسری دنیا کے اکثر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی ہر شخص انصاف اور احتساب کا طلب گار تو ہے مگر اس کے ساتھ ہی اس کی خواہش یہ بھی ہے کہ اس کی اپنی ذات اور قریبی عزیزوں و اقارب کو چھوڑ کر باقی سب کا احتساب ہو ۔ ظاہر سی بات ہے کیوں کہ عملی طور پر ایسا ہونا ممکن نہےں اسی وجہ سے معاشرے میں با لعموم انصاف و احتساب کی فراہمی پر بہت سی مشکلات قدم قدم پر پیش آتیں ہےں کیوں کہ کسے معلوم نہےں کہ اچھے کام کا آغاز انسان کی اپنی ذات سے شروع ہوتا ہے ۔ اس بات سے بھی ہر شخص واقف ہے کہ رسول پاکﷺ نے واضح الفاظ میں فرمایا تھا کہ’پہلی قو میں اسی وجہ سے زوال پذیرہوئیں کہ جب کوئی طاقت ورجرم کرتا تو اسے چھوڑ دیا جاتا اور اگر کوئی کمزور غلطی کرتا تو اس کو سخت سز ا دی جاتی ‘ ۔ جیسا کہ سبھی جانتے ہےں کہ ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ آج پوری قوم کی آواز ہے ۔ کیوں کہ بدعنوانی نہ صرف ملک کو مالی طور پر نقصان پہنچاتی ہے بلکہ بدعنوان عناصر معاشرے میں بھی عزت و احترام کی نگاہ سے نہیں دیکھے جاتے ۔ بدعنوانی کے ملکی ترقی و خوشحالی پر مضر اثرات کے پیش نظر قومی احتساب بیورو کا قیام عمل میں لایا گیا تھا تا کہ بدعنوان عناصر سے لوگوں کی حق حلال کی کمائی ہوئی لوٹی گئی رقم برآمد کر کے قومی خزانے میں جمع کروا کر انہےں قانون کے مطابق سزا دلوائی جا سکے ۔ یاد رہے کہ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے اپنی تعیناتی کے بعد قومی احتساب بیورو کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے اور اسے ایک فعال ادارہ بنانے کے لئے ;786566; میں بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے زیرو ٹالرینس اور خود احتسابی کی پالیسی اپنانے کا اعلان کیا تھا اور کسی بھی دباوکو خاطر میں نہ لاتے ہوئے میرٹ، شواہد اور قانون کے مطابق عوام کو لوٹنے والوں کو گرفتار کرنے اور انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کا عزم کیا ۔ یاد رہے کہ موصوف نے اپنی تعیناتی سے ابتک ;786566; کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کیلئے بہت سی نئی اصلاحات متعارف کروائی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ قومی احتساب بیورو پرپلڈ اٹ کی رپورٹ کے مطابق عوام کا اعتماد نیب پر 42 فیصد ہے جبکہ دوسرے تحقیقاتی اداروں جن میں پولیس شامل ہے پر 30 فیصد ہے ۔ مزید برآں ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل، ورلڈاکنامک فورم، پلڈ اٹ اور مشال پاکستان نے نیب کی کارکردگی کو بھی کئی مرتبہ سراہا ہے ۔ نیب نے شکایات کو جلد نمٹانے کیلئے اپنے ڈھانچے اور کام کرنے کے طریقہ کار میں جہاں بہتری لائی وہاں شکایات کی تصدیق سے انکوائری اور انکوائری سے لے کر انویسٹی گیشن اور احتساب عدالت میں قانون کے مطابق ریفرنس دائر کرنے کےلئے تقریباً (10) دس ماہ کا عرصہ مقرر کیا تھا اور اس کے مثبت نتاءج برآمد ہو رہے ہیں ۔ یاد رہے کہ اس ادارے کے اس وقت ملک کی احتساب عدالتوں میں 1229 بدعنوانی کے ریفرنسز زیر سماعت ہیں جس کی کل مالیت تقریبا 900 ارب روپے سے زیادہ ہے اور نیب نے تقریباً 178 ارب روپے بدعنوان عناصر سے بلا واسطہ اور بالواسطہ برآمد کر کہ قومی خزانہ میں جمع کروائے ہیں ۔ وا ضح ہو کہ پاکستان واحد ملک ہے جس کے ادارے قومی احتساب بیورو کے ساتھ چین نے انسداد بدعنوانی کے ایم او یو پر دستخط کیے ہیں جو کہ یقینا پاکستان سمیت نیب کے لئے اعزاز کی بات ہے ۔ چیئرمین نیب نے انسداد بدعنوانی کی جو حکمت عملی ترتیب دی اس کو مبصرین نے کسی حد تک موثر حکمت عملی کے طور پر تسلیم کیا ہے ۔ اس ادارے نے گزشتہ 28 ماہ میں جو اقدامات اٹھائے ان کی وجہ سے آج کا نیب ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے معتبر اور موثر ادارہ سمجھا جانے لگاہے ۔ نیب سربراہ نے گزشتہ 28 ماہ کے اندر جہاں مختلف شکایات کا نہ صرف نوٹس لیا بلکہ تحقیقات کے بھی احکامات صادر کئے ۔ جن میں پنجاب میں پبلک لمیٹیڈ 56 کمپنیوں ،435 آف شور کمپنیر، فیک کرنسی اکاونٹس شوگر، چینی اور ادویات کی قیمتوں میں اضافہ شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ جعلی نجی ہاوسنگ سوساٹیوں ;223;کوآپریٹو سوساءٹیوں کی طرف سے عوام کی لوٹی گئی اربوں روپے کی لوٹی گئی رقوم کی واپسی شامل ہے ۔ اسکے علاوہ مضاربہ;223;مشارکہ سکینڈل میں 45 ملزمان کی گرفتاری کے علاوہ اشتہاری اور مفرور افراد کی گرفتاری شامل ہے ۔ اس معاملے میں یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ تا حال اگرچہ اس ادارے کی کارگرگی خاصی بہتر رہی ہے مگر اسے کسی بھی طور مکمل طور پر قابل اطمینان قرار نہےں دیا جاسکتا اور اس میں بہتری کی بہت زیادہ گنجائش موجود ہے ۔ اس ضمن میں غیر جانبدار حلقوں نے رائے ظاہر کی ہے کہ مالم جبہ ،ہیلی کاپٹر اور ;668284;پشاور کے معا ملے ایسے ہےں جن پر باوجوہ خاطر خواہ ڈھنگ سے توجہ نہےں دی جاسکی جس کے نتیجے میں ناقدین کا ایک خاصا بڑا حلقہ مطالبہ کر تا آیا ہے کہ اس طرف مزید توجہ مرکوز کی جائے تاکہ یہ واضح پیغام دیا جا سکے کہ نیب سیاسی پسند اور نا پسند سے بالا تر ہو کر کام کر رہی ہے ۔ یاد رہے کہ ایک معروف کام نگار نے چند ما ہ قبل چیئرمین نیب سے انٹرویو کرتے ہوئے جن معاملات کی نشان دہی کی تھی اس کی وجہ سے اس ادارے کی ساکھ کو خاصا نقصان پہنچ چکا ہے ۔ اسلیے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس تاثر کا موثر ڈھنگ سے ازالہ کیا جائے تاکہ اس قومی ادارے کی ساکھ مکمل طور پر بحال ہو سکے ۔ امید کی جانی چاہیے کہ حکومت اور دیگر سبھی متعلقہ حلقے اس ضمن میں اپنا کرادار بھرپور طریقے سے انجام دیں تاکہ قوموں کی برداری میں ملک عزیز کو اور اس کے قومی اداروں کو مزید پذیرائی مل سکے اور قومی یک جہتی و قومی سلامتی اور ملکی معیشت کو درپیش چیلنجز کا مزید بہتر ڈھنگ سے مقابلہ کیا جا سکے ۔