- الإعلانات -

احتساب سب کا مگر موَثر ہونا چاہیے

اسلامی معاشرے میں احتساب کو مرکزی حیثیت حاصل ہے ۔ قانون کی نظر میں سب ایک ہیں ۔ کسی امیر غریب میں کوئی فرق نہیں ۔ اسی سلسلے میں حضور;248; کا واضح فرمان ہے کہ اگر فاطمہ;230; بھی چوری کرتی تو اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیا جاتا ۔ خلفاء راشدین کے زمانے میں محض یکساں اور موَثر احتساب کی وجہ سے لاکھوں لوگ مسلمان ہوئے ۔ جب حضرت عمر;230; اور حضرت علی;230; قاضی وقت کے پاس پیش ہو سکتے ہیں تو ہماری کیا حیثیت ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے ریاست مدینہ میں عدل و انصاف کا مثالی نمونہ پیش کیا جس پر عمل کرکے انسانیت مسائل سے نجات اور دنیا کو امن کا گہوارہ بنا سکتی ہے ۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ آئین اور قانون کی نظر میں سب پاکستانی برابر ہیں ۔ کوئی شخص قانون سے بالاتر نہیں ۔ ماضی میں احتساب کے نام پر عوام سے ووٹ حاصل کئے گئے ۔ جن لوگوں نے قومی دولت لوٹی اور بیرون ملک اپنی تجوریاں بھریں ان سے حساب لینے کا وعدہ کیا گیا مگراقتدار میں آنے کے بعد ان کا موَثر احتساب نہ ہوا ۔ اگر شروع دن سے ہی احتساب کا صحیح استعمال کیا جاتا اور ہر ادارہ و شخص پر اس یکساں اور موَثراحتساب کا اطلاق ہوتا اور لوٹی ہوئی دولت وطن واپس آتی تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ پاکستان آج ترقی یافتہ ممالک میں کھڑا ہوتا ۔ نیب کے معرض وجود میں آنے سے پہلے ہی تعزیرات پاکستان میں ہر طبقہ اور ہر ادارہ کےلئے حدود مقرر کی گئیں ہیں ۔ لہذا عوام کے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمین، بیوروکریٹس ، اراکین اسمبلی، سیاستدان، فوج ، صحافیوں اور خود عدلیہ غرض ہر شخص پر احتساب لاگو ہوتا ہے ۔ ملک کے صدر اور وزیر اعظم کو آئین میں کچھ حد تک استثناء حاصل ہے ۔ صدر مملکت کو یہ استثنیٰ حاصل ہے کہ صدر کے عہدے سے ہٹنے کے بعد ان کا احتساب ہوگا ۔ وزیر اعظم کے خلاف بھی اگر کوئی فوجداری مقدمہ دائر ہوتا ہے تو ان کو عدالت میں پیش ہونا پڑے گا ۔ جس طرح سابقہ وزیراعظم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہوئے اور مقدمات کا سامنا کیا ۔ ان کو سزا بھی ہوئی ۔ ضروری نہیں کہ احتساب کےلئے کسی خاص محکمہ یا شخص کو مقرر کیا جائے بلکہ آئین کے مطابق کم حیثیت کا عہدیدار بھی حکمرانوں کا احتساب کر سکتا ہے ۔ دنیا بھر میں اس کی مثالیں ہیں ۔ بھارت میں ایک ایس ایچ او نے وزیر اعظم نرسہما راوَ کا احتساب کیا اور ان کو سزا ہوئی ۔ اسی طرح لندن اور دیگر ممالک میں بھی حکمرانوں نے عدالتوں کا سامنا کیا ۔ جمہوریت کا یہ بنیادی اصول کہ قانون کی نظر میں ریاست کے تمام شہری یکساں ہیں ۔ آج کل بھی ایک جج کے متعلق مقدمہ اعلیٰ عدلیہ میں زیر سماعت ہے ۔ حکومت کو برطانیہ سے معزز جج صاحبان کی مبینہ جائیدادوں کی تصدیق شدہ دستاویزات موصول ہوچکی ہیں اور انہی کی بنیاد پر آئین کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل کو ریفرنس بھیجا گیا ہے ۔ کچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ جج کے آباوَاجداد نے تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ تحریک پاکستان میں حصہ لینے والوں کو قانون سے بالاتر قرار دے کر انہیں کسی بھی ملک میں اپنے غیر ظاہر شدہ اثاثے رکھنے کی اجازت بھی دے دی جائے;238; جب کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے سینیئر جج کی دیانت ناقابل مواخذہ ہے;238;‘‘ تو کیا ان کی مراد یہ ہے کہ کچھ لوگ اس قدر مقدس ہوتے ہیں کہ انہیں قانون اور احتساب سے بالاتر قرار دیا جاسکتا ہے;238;اسی دوران میں حزب مخالف کی جماعتیں یہ معاملہ میدان سیاست میں بھی کھینچ لائی ہیں ۔ اس معاملے کو جس طرح آگے بڑھایا گیا ہے کسی طرح اس انداز کو ضابطوں کے مطابق قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ حقیقت یہ ہے کہ کم از کم اس مرحلے پر ریفرنس کی خبر ظاہر نہیں ہونی چاہیے تھی ۔ اس خبر کو پھیلانے والوں کی نشاندہی اور جوابدہی ہونی چاہیے ۔ اصل نکتہ یہ ہے کہ انصاف کا معیارکیا ہے ۔ کیا امیر و غریب کےلئے انصاف کے تقاضے مختلف ہیں ۔ جنہوں نے قومی دولت لوٹ کر اپنی تجورریاں بھری ہیں وہ اپنے خلاف مقدمے میں بڑے بڑے مہنگے وکیل کر کے بچ جاتے ہیں ۔ باہر بھاگ جاتے ہیں ۔ مگر ایک غریب شخص جس کے پاس وکیل کی فیس ادا کرنے کےلئے بھی پیسے نہیں ہوتے ، سالوں مقدمات کا سامنا کرنے کے باوجود ہار جاتے ہیں ۔ سزا ہوجاتی ہے ۔ چھوٹی چوری کرنے والے کو سزا دی جاتی ہے جبکہ بڑی چوری کرنے والے کی عزت کی جاتی ہے ۔ کیا عوام ایسا نظام عدل چاہتے ہیں ;238; جج کے خلاف دائر ہونے والے ریفرنس کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے ۔ لیکن اس اقدام سے یہ بات واضح ہوگئی کہ کوئی بھی فرد قانون سے بالاتر نہیں اور ہر ایک قانون کے سامنے جواب دہ ہے ۔ یہ جمہوریت اور نظام انصاف کا بنیادی ترین اصول ہے ۔ جو فرد جتنے اعلیٰ آئینی منصب پر ہو اسے اپنی جوابدہی کے لیے اتنا ہی تیار رہنا چاہیے ۔ اس عمل کو شفاف بنانے کےلئے ضروری ہے کہ احتساب کا آغاز اوپر سے شروع ہونا چاہیے اور پہل ان لوگوں سے ہونی چاہیے جو خود انصاف کی فراہمی کے ضامن ہیں ۔ فوج میں بھی احتساب کا عمل جاری ہے ۔ بلاخوف ہر چھوٹے بڑے کا احتساب کیا جا رہا ہے ۔ اسی طرح عدلیہ میں مذکورہ کیس ، عدلیہ کی خود احتسابی کا مظہر ہے ۔ موَثر احتساب کی بدولت ہم لوٹی ہو ئی دولت کو واپس لا سکتے ہیں ۔ اسی لوٹی ہوئی دولت کی وجہ سے ہم ترقی پذیر ممالک کی صف میں بھی کافی نیچے کھڑے ہیں ۔ ملکی وسائل کو لوٹ کر چند لوگوں نے اپنی تجوریوں میں بھرلیا اور ملک کو دیوالیہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ۔ آج کل کورونا کے حوالے ہماری معیشت مزید تنزلی کا شکار ہے ۔ اگر ہم موَثر احتساب کے ذریعے اپنی ہی لوٹی ہوئی دولت واپس لانے میں کامیاب ہوگئے تو کوئی شک نہیں کہ اس ابتلا کے دور میں بھی ہم دنیا میں سر اٹھانے کے قابل ہو جائیں گے ۔ سپریم کورٹ کو بھی اس مقدمہ کے تناظر میں ایسی ہدایات جاری کرنی چاہیءں کہ آئندہ کسی کو قومی دولت لوٹنے اور اپنی جیبیں بھرنے کی ہمت نہ ہو ۔ عدالت عظمیٰ اس سلسلے میں ایک حد مقرر کرے کہ آئندہ ایسے مقدمات میں ایک معیار قائم ہو سکے ۔