- الإعلانات -

لا ک ڈاءون مسائل کاحل نہیں ، احتیاطی تدابیرپرعمل کیاجائے

وزیراعظم عمران خان کوعوام کے مسائل کا مکمل ادراک ہے اس لئے وہ لاک ڈاءون کے حق میں نہیں ہیں کیونکہ ملک میں کورونا وائرس کی وباء کا پھیلاءو روکنے کیلئے احتیاطی اقدامات کے باعث مہنگائی ، غربت، بے روزگاری میں مزیداضافہ ہوتا جارہاہے، غریب عملاً فاقہ کشی پرمجبورہیں ۔ گزشتہ حکمرانوں کی مبینہ لوٹ مار سے قومی معیشت کو سخت دھچکا لگا ہے جسے دوبارہ اپنے پاءوں پر کھڑا کرنے کیلئے موجودہ حکومت کو سخت مالیاتی اصلاحاتی پالیسیاں اختیار کرنا پڑیں ۔ کورونا وائرس کے باعث صنعتی تجارتی اور زرعی سرگرمیاں بند ہونے کے بھی معیشت پر بہت برے اثرات مرتب ہوئے ہیں ۔ افسوس تو اس بات کاہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود پبلک ٹرانسپورٹ اورریلوے کے کرائے جوں کے توں برقرار ہیں جبکہ ناجائز منافع خوروں نے مختلف ہتھکنڈوں سے ملک میں مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ اس وقت موجودہ حکومت کو بہت سے چیلنج کاسامنا ہے ۔ وزیراعظم تو پُرامید ہیں کہ وہ مسائل پرقابوپالیں گے اوروہ انتھک کوششیں بھی کررہے ہیں مگرحکومتی صفوں میں موجود بعض عناصروزیراعظم کے مہنگائی کم کرنے کے احکام پر عملدر;200;مد ہونے دیتے ہیں نہ انکے جاری کردہ ریلیف پیکیجز کے ثمرات حقیقی معنوں میں عوام تک پہنچنے دیتے ہیں چنانچہ عوام اسی طرح مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں اور ان کیلئے اقتصادی مسائل گھمبیر سے گھمبیر تر ہورہے ہیں ۔ اب وقت کاتقاضا یہی ہے کہ مافیا کا گٹھ جوڑ توڑا جائے اور حکومتی ریلیف عوام تک پہنچایاجائے ۔ وزیراعظم عمران خان نے کورونا ٹائیگر فورس کے رضا کاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ مساجد سے کورونا نہیں پھیلا،عوام کو کورونا وائرس سے متعلق آگاہی فراہم کرنے کےلئے رضاکاروں کی ضرورت ہے، ایس او پیز پر عمل درآمد کرانا ٹائیگر فورس کی ذمہ داری میں شامل ہے، ٹائیگر فورس کے رضاکاروں کو باقاعدہ کارڈز جاری کئے جائیں گے، ٹائیگر فورس مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کےلئے بھی معلومات دے گی ،ٹڈی دل کے خاتمے کےلئے بھی ٹائیگر فورس کے رضاکار کام کریں گے، کلین اینڈ گرین پاکستان مہم میں بھی رضاکار فورس اپنا کردار ادا کرے گی، آگے مزیدچیلنجز آنے والے ہیں ،پاکستان مزید لاک ڈاءون کا متحمل نہیں ہو سکتا ،ہم لاک ڈاون کی طرف واپس نہیں جاسکتے ،ہ میں پتا تھا کہ لاک ڈاءون کھلے گا تو کورونا پھیلے گا،وائرس کو پھیلنا ہے ہم لوگوں کو کمرے میں بندنہیں کرسکتے تاہم زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں کو سیل بھی کیا جاسکتا ہے، ایس اوپیزکی خلاف ورزی پر کاروبار بند کردیں گے، لاک ڈاءون نے غریب ملکوں میں تباہی مچادی ہے ، حکومت کے ساتھ عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ایس او پیز کی مکمل پاسداری کرے ۔ لاک ڈاءون میں نرمی کے باعث عوام کی طرف سے ایس او پیز کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزیاں دیکھنے میں آرہی ہیں جس سے کوروناکے مریضوں میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے اوراموات کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے ۔ لاک ڈاءون میں نرمی کایہ مطلب نہیں کہ ایس او پیز کی دھجیاں بکھیری جائیں ۔ بازاروں میں ایسا لگتا ہے جیسے کرونا ختم ہو گیا ہے اس طرح کا رحجان خوفناک نتاءج کو جنم دے سکتاہے ۔ اگراسی طرح سے ایس او پیز کی دھجیاں بکھیری جاتی رہیں تو ایک بارپھر سخت لاک ڈاءون ہوسکتا ہے ۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ ایس اوپیزکی مکمل پاسداری کریں تاکہ کوروناوائرس مزیدنہ پھیلے ۔ کورونا کی وجہ سے ٹیکس محاصل میں 800 ارب روپے کی کمی ہوئی ہے، سابقہ حکومتوں کے قرضوں پر سود کی مد میں 5 ہزار ارب روپے ادا کر چکے ہیں ،مہنگائی تیزی سے بڑھ رہی ہے، حکومت کوآئندہ بجٹ میں بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑسکتاہے ۔ کورونا وائرس کی وباء کی وجہ سے معیشت کو استحکام دینے اور ترقی کی راہ پر ملک کو گامزن کرنے کی کوششیں متاثر ہوئی ہیں ،حکومت ان شعبوں کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے جن سے معاشی عمل کو فروغ ملے اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں ، غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی لانا اور اصلاحات کے عمل کو تیز کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ کورونا وباء کی وجہ سے ہر طبقہ متاثر ہوا ہے غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی لانا خصوصا غیر ضروری حکومتی اخراجات میں کٹوتی موجودہ حکومت کی روز اول سے ترجیح رہی ہے موجودہ صورتحال میں اس مقصد کو آگے بڑھانے پر خصوصی توجہ وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ حکومت کی جانب سے دی جانے والی سبسڈی درحقیقت عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ ہے ۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پیسے کے بہترین اور موثر استعمال کو یقینی بنایا جائے تاکہ جہاں مطلوبہ مقاصد کا حصول ممکن بنایا جا سکے وہاں حقداروں تک ان کے حق کو پہنچانے کے عمل کو بھی یقینی بنایا جا سکے موجودہ معاشی حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ اصلاحات کے عمل کی رفتار کو تیز کیا جائے تاکہ عوام پر پڑنے والے غیرضروری بوجھ کو کم سے کم کیا جا سکے اور ان کو ریلیف فراہم کیا جا سکے ۔

پاک فوج نے بھارت کا ایک اور جاسوس ڈرون مار گرایا

پاک فوج نے سرحدی خلاف ورزی کرنے والا بھارت کا ایک اور جاسوس ڈرون مار گرایا ہے ۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بھارتی جاسوس ڈرون لائن آف کنٹرول عبور کرکے پاکستان کی سرحد میں 500 میٹر اندر تک آگیا تھا جہاں خنجر سیکٹر میں اسے مار گرایا گیا ۔ رواں برس پاک فوج نے بھارت کا یہ آٹھواں ڈرون مارگرایا ہے اس سے قبل گزشتہ ماہ بھی بھارتی جاسوس کواڈ کاپٹر کی سرحدی خلاف وزریوں کا سلسلہ جاری رہا جس کے جواب میں پاکستان نے ایک ہفتے کے دوران دو چاسوس ڈرون ماراگرائے تھے ۔ بھارتی ڈرون گرا کر پاکستان نے بتا دیا کہ پاک فوج ہمہ وقت تیار ہے ۔ بھارت نے حماقت کی تو اس کا جواب ان شا اللہ 27 فروری 2019 سے بھی بڑھ کر دیاجائے گاجب جارحیت کی نیت سے پاکستان میں داخل ہونے والے دو بھارتی فاءٹر طیارے مار گرائے تھے ۔ ان میں سے ایک کا پائلٹ ابھی نندن گرفتار ہوا جبکہ دوسرا جہاز میں جل مرا تھا ۔ ان رسوائیوں کے باوجود بھارت اپنے جارحانہ عزائم سے باز نہیں ;200;رہا ۔ اگر بھارت اقوام عالم کے کسی احتجاج اور تشویش پر ٹس سے مس نہیں ہو رہا اور اس نے توسیع پسندانہ عزائم ;200;گے بڑھانے کا سلسلہ برقرار رکھا ہوا ہے تو علاقائی اور عالمی امن کی خاطر عالمی قیادتوں اور نمائندہ عالمی اداروں کو بھارتی ہاتھ بزور روکنے کا اقدام بہرصورت اٹھانا ہوگا ورنہ بھارت کے ہاتھوں علاقائی اور عالمی تباہی بعیداز قیاس نہیں ۔ بھارت کو اندرون اور بیرون محاذوں پر جب بھی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اور دنیا کی توجہ بھارت پر مبذول ہوتی ہے تو وہ توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان کیخلاف زیادہ سرگرم ہوجاتا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں اس کی پالیسی ناکام ہوچکی ہے ۔ ;200;ج وادی میں سخت ترین کرفیو ہے مگر کشمیریوں کے بھارتی فورسز کی بربریت اور سفاکیت کے باوجود جذبہ حریت میں کمی نہ ;200;ئی ۔ ان کو جب بھی موقع ملتا ہے وہ تمام پابندیاں توڑ کر احتجاج اور مظاہرے کرتے ہیں ۔ وہ بھارتی مظالم کو خاطر میں نہیں لاتے ۔ بھارت کے رویے ہٹلر اور مسولینی کے فاشزم سے زیادہ خطرناک ہیں ۔ بھارت مقبوضہ وادی میں کشمیری حریت جدوجہد کے سامنے بے بس ہوچکاہے ۔ وہ اس ہزیمت پر بوکھلا کر پاکستان کیخلاف کوئی مہم جوئی کرسکتا ہے ۔ اس کیلئے پاک افواج اور قوم پوری طرح تیار ہے ۔

صحابہ کرام;230; کی شان کیخلاف لکھی جانیوالی کتابوں پرپابندی کی قراردادمنظور

پنجاب اسمبلی نے حضور اکرم ﷺ،ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ;230;، حضرت عثمان غنی;230; اور حضرت علی;230; کی شان اقدس کے خلاف لکھی جانے والی تین کتابوں پر فوری طور پر پابندی عائد کرنے کی قرارداد منظور کرلی ۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کی جانب سے اسمبلی میں قرارداد پیش کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ باعث ندامت ہے کہ اس سرزمین پر ایسی کتب بھی موجود ہیں جن میں لکھا گیا مواد برداشت کرنا کسی مسلمان کیلئے ممکن نہیں ۔ قرار داد کے متن کے مطابق یہ ایوان حکم دیتا ہے کہ متعلقہ محکمہ تینوں کتب پر فوری پابندی عائد کرے اورمارکیٹ میں موجود تمام کاپیوں کو ضبط کرکے اسی اجلاس میں اگلے جمعے تک نوٹیفکیشن پیش کرے ۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کے بعد ایوان نے بازاروں میں موجود تینوں کتابوں کو ضبط کرنے اور نوٹیفکیشن ایوان میں پیش کرنے کا حکم دیا ۔