- الإعلانات -

بلا امتیاز عدل و انصاف اور احتساب

بار بار ہ میں مختلف مواقع پر چرچل کے وہ تاریخی الفاظ سننے کو ملتے ہیں جب اس نے کہاتھا ’’اگر انگلستان کی عدالتیں عوام کو انصاف فراہم کر رہی ہیں تو دشمن انہیں کبھی شکست نہیں دے سکتا‘‘ ۔ بات اس زمانے کے لحاظ سے بالکل سو فیصد درست تھی اور کسی بھی ملک یا قوم کا اپنے نظام انصاف پر اس سے پختہ عقیدہ کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا کہ اگر صرف اس قوم کے جج صحیح طور پر میرٹ پر فیصلے کر رہے ہیں تو اس ملک کے عوام کسی بھی دشمن قوت کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہو سکتے ہیں ;234; اپنے اس شاندار ملک اور اس کے مثالی نظام کے دفاع کی خاطر ہم بھی اسی انگلستان کی ایک طویل مدت تک کالونی رہ چکے ہیں اور ہمار نظام انصاف بھی اینگلو انڈین طرز کا ہی ہے، سب کچھ انگریز کا لکھا ہوا،ہر اہم قانون،ضابطے، پروسیجرل لاز، سب انہی کا دیا ہوا تو ہے، ہمارا نظام انصاف انہیں کی طرز پر فنکشن کرتا ہے، ہمارے ججز کو بھی اعلیٰ عدالتوں میں مائی لارڈ، یور لارڈشپ کے خطاب سے نوازا جاتا ہے، تاکہ ججز کی عظمت، عزت و توقیر سب سے بڑھ کر سامنے ;200;ئے اور عدالت کا مرتبہ زیادہ سے زیادہ بلند ہو، یہ راڈ ;200;ف جسٹس، اونچی اونچی کرسیاں ، سب وہی کے وہی طور اطوار تو ہیں جو تاج برطانیہ کے زیر سایہ تھے جو ;200;زادی کے بعد ہماری عدالتوں نے یہ سارے شان و شوکت ورثے میں پائے اور ;200;ج تک قائم و دائم چلے ;200; رہے ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ سب کچھ یہاں پر موجود ہے، لیکن انصاف کے متلاشی پھر بھی ہ میں اکثر انصاف کی بلند و بالا عمارتوں کی راہداریوں میں بھٹکتے دیواروں سے سر ٹکراتے نظر ;200;تے ہیں ۔ دادا کیس کرے گا تو شاید پوتے کو فیصلہ مل پائے،یہ ہماری عدالتوں کی شان میں پڑھے جانے والے قصیدوں میں سے ایک ہے ۔ کیا یہ ہمارے نظام انصاف کا نام چڑانے کیلئے کافی نہیں ہے;238200;خر کیوں یہ سب کچھ ;200;ج بھی یہاں موجود ہے یہ ;200;زادی ہم نے انہی برائیوں سے چھٹکارا پانے کیلئے حاصل کی تھی تاکہ عدل و انصاف پر مبنی معاشرہ تشکیل پائے اور انصاف کمزور اور طاقتور کی تمیز کئے بغیر سب کو یکساں مل پائے ۔ بانی پاکستان کی تمام مساعی جلیلہ کا محور و مرکز قانون اور ;200;ئین کی حکمرانی ہی تو تھا ۔ وہ خود بھی اس کا عملی نمونہ تھے ۔ پھر اس سے بڑھ کر یہ کہ اسلامی تعلیمات میں ہ میں یہی سبق ملتا ہے کہ معاشرے کا ہر فرد چاہے وہ جتنا طاقتور ہووہ ;200;ئین اور قانون سے بالا دست نہیں ہے ۔ خلفائے راشدین کے ادوار میں کتنی ایسی مثالیں ملتی ہیں جب ایک عام شہری اٹھ کر سوال کردیتا تھا کہ اے خلیفہ وقت یہ کپڑے کہاں سے ;200;ئے اور کیسے یہ جوڑا سلوا لیا ۔ سچی بات ہے کہ ;200;ئین اور قانون کی حکمرانی سے ہی ملک میں حقیقی جمہوریت پھل پھول سکتی ہے ۔ تاریخ بھری پڑی ہے کہ وہ قو میں تاریخ کے صفحات سے مٹ گئیں جنکے ہاں نظام عدل کمزور کےلئے اور طاقتور کےلئے اور رہا ۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارا نظام انصاف اسلام کے سنہری اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر پروسیجرز کی بھول بھلیوں سے اٹا پڑا ہے ۔ ایک ایک سیکشن ;200;ف لا سے چار چاردرخواستیں نکلتی ہیں اور پھر انکے لمبے طویل جوابات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ چل نکلتا ہے ۔ زیادہ فیصلے ٹیکنیکل ناک ;200;وٹس پر ہوتے ہیں جبکہ اصل گریوینس پر کوئی توجہ نہیں دیتا ۔ نظریہ ضرورت بلکہ بار بار نظریہ ضرورت جیسی مثالیں بھی تو ہمارے نظام عدل کا حصہ ہیں ۔ کوئی ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ جس میں نظریہ ضرورت کا کلیہ مفاد عامہ یا عام ;200;دمی کےلئے اپنایا گیاہو بلکہ اب تک نظریہ ضرورت کے تحت ہونے والے فیصلے بھی طاقتوروں کے مفاد میں رہے ۔ بے شک عدالتی اصلاحات وقت کا تقاضا ہیں لیکن اگر بلا امتیاز احتساب اور عدل انصاف کے تمام تقاضے پورا ہونے لگیں کمزور اور طاقتور کی تفریق مٹا دی جائے تو پھر یہ اصلاحات کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی ۔ کتنی بار ایسی کوششیں ہوتی رہی ہیں ۔ بڑی بڑی تحریکیں بھی اس نظام میں کوئی بہتری نہ لا سکیں ، بلکہ بحالی عدلیہ تحریک بالکل غیر سود مند ثابت ہوئی جسکا ;200;ج کوئی نام لینا بھی پسند نہیں کرتا جبکہ اس میں متعدد وکلا کا خون بھی شامل ہے ۔ سپریم کورٹ حملہ کیس عدالتی تاریخ کے نام پر بدنما داغ ہے، جسٹس سجاد علی شاہ صاحب کے ساتھ اسکے اپنے برادر بھائیوں نے جو کچھ کیا وہ زیادہ پرانی بات نہیں ہے ۔ اگر تب کسی مجرم کو نشان عبرت بنا دیا جاتا تو ایک عام شہری کا اعتماد بحال ہوتا ۔ اسے یہ شکوہ نہ ہوتا کہ یہ نظام عدل صرف طاقتور کےلئے ہے ۔ چرچل نے ویسے ہی نہیں کہہ دیا تھا کہ عدالتیں انصاف فراہم کر رہی ہیں تو پھر اسے کوئی شکست نہیں دے سکتا یعنی اسے حالت جنگ میں بھی ;200;ئین کی بالا دستی کی فکر تھی ۔ وطن عزیز کو بھی اگر بحرانوں سے نکالنا ہے تو پھر بلا امتیاز احتساب اور عدل و انصاف کی حکمرانی قائم کرنا ہو گی ۔ جج صاحبان کے فیصلوں سے معاشروں کی تقدیر بدلتی ہے وہ انصاف کرتے ہیں وہ خود نہیں بولتے بلکہ انکے فیصلے بولتے ہیں ۔