- الإعلانات -

قانون کی حکمرانی کب قائم ہو گی

بات تو کوئی ایسی خاص نہیں تھی کہ جس پر جلسے جلوس ،ریلیاں ،ہنگامے ،توڑ پھوڑ ، مار دھاڑ کی جاتی اور پورے ملک میں صورتحال اس نہج پر پہنچائی جاتی کہ کر فیو لگا کر فو ج بلا کر امن و امان کی صورتحال بحال کر نا پڑتی ایسے واقعات تو ہم جیسے ترقی پذیر ممالک میں ہر روز ہوتے ہیں بیچارے کمزور اور بے بس لوگ پولیس کے ہاتھوں جرم بے گناہی میں گرفتار بھی ہوتے ہیں اور تفتیش کے نام پر کئی کئی روز تشدد کا شکار ہو کر ہسپتالوں میں بھی پہنچتے ہیں اور اپاہج بھی ہو جاتے ہیں اور کبھی پولیس مقابلے کے نام پر زندگی کی بازی بھی ہاڑ جاتے ہیں ایسے واقعات کی اطلاعات کبھی میڈیا تک پہنچ جائے تو بڑے افسران محکمہ کی عزت بچانے کی خاطر ایسے کسی ہتھ چھٹ افسریا اہلکار کو معطل بھی کر دیتے ہیں لیکن نہ ایسے واقعات ختم ہوتے ہیں اور نہ ہی ہتھ چھٹ افسران ہی باز آتے ہیں اور ہم افسوس کے چند ا الفاظ کہہ کر اسے قسمت کا لکھا سمجھ کر خاموش ہا جاتے ہیں اور یوں ہمارے محکمہ پولیس کی انسان دوست کاروائیاں بھی جاری رہتی ہیں اور جرائم کی شرح میں بھی روز بروز اضافہ ہوتا رہتا ہے ایسا ہی ایک واقعہ ایک سیاہ فام امریکی شہری جارج فلو ییڈکیساتھ بھی چند روز قبل پیش آیا وہ کسی سٹور میں بیس ڈالر کی خریداری کرنے گیا سٹور مالک کو شک گزرا کہ کر نسی نوٹ جعلی ہے اس نے پولیس کو اطلاع دی پولیس نے جارج کو پکڑا اور سڑک کنارے پولیس وین کے پاس زمین پر گرا کر اسکی گردن پر گھٹنا رکھ کر تفتیش کر نے لگا جارج کی گردن پر دباءو زیادہ ہو اتو وہ پکاڑنے لگا کہ مجھے سانس نہیں آرہی مگر سفید فام پولیس والا گھٹنے سے دباءو بڑھاتا رہا اور جارج بے ہو ش ہو گیا اور ہسپتال جاتے ہوئے زندگی کی بازی ہاڑ گیا ہو سکتا ہے کہ یہ واقعہ منظر عام پر نہ آتا لیکن کسی ذمہ دار راہگیر نے اپنے موبائل سے یہ ویڈیو بنائی اور پھر قانون کی بالادستی پر یقین رکھنے والا شہری ہو نے کا ثبوت دیتے ہوئے اسے وائرل کردیا اور چند ہی منٹوں کے بعداس ڈیڑھ دو منٹ کے کلپ نے ہائیڈروجن بم کی طرح پھٹ کر پورے امریکہ میں آگ لگا دی ۔ کالے ،گورے ،گندمی رنگوں کے لوگ مجھے سانس نہیں آرہی کہ نعرے لگاتے پلے کارڈ اُٹھائے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے حکمرانوں نے مظاہرے روکنے کی کوشش کی تو عوام اور بھپر گئے امریکہ بھی کمال کا ملک ہے دنیا بھر کے لوگوں کو امریکی حکو متوں کی پالیسیوں پر ہمیشہ اعتراضات رہتے ہیں لیکن اسکے باوجود لوگ امریکیوں سے پیار کرتے ہیں وجہ یہ ہے کہ امریکی شہری قانون کی بالادستی کیساتھ ساتھ انسان اور انسانیت سے محبت کی پالیسی پر زندگی گزارتے ہیں اور انسان سے محبت میں وہ بس انسان کو مد نظر رکھتے ہیں اور یہی جارج کے واقعہ میں ہوا ۔ مظاہروں کی خبریں دیگر ریاستوں تک پہنچی تو لاکھوں امریکیوں نے دس ریا ستوں کے ساٹھ شہروں میں ظلم کی سانس روک دی حکومت نے سانس بحال کر نے کیلئے فوج نیشنل گارڈ بلوا لی آنسو گیس لاٹھی چارج کا بے دریغ استعمال کیا لیکن ناکام رہے اور مجھے سانس نہیں آرہی کے حامیوں نے امریکی معاشرے کی سانس بحال کر نے کیلئے دس جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور لاتعدادزحمی ہو کر ہسپتالوں میں بھی پہنچے مگر قانون کی حکمرانی انسان سے محبت اور قانون کے غلط استعمال کے خلاف بات کو اس حد تک بڑھا دیا کہ پورا امریکہ جام ہے اور مظاہرے کینیڈا ،بر طانیہ ،آسٹریلیا ،جرمنی، ہالینڈ سے ہو تے ہوئے پوری دنیا تک پھیل گئے ہیں گزشتہ آٹھ دنوں سے امریکہ میں ان پر ہجوم پر تشدد مظاہروں کو دیکھنے اور غور کر نے کے بعد میں ایک نقطہ پر رک گیا ہوں کہ ملکوں اور قوموں کی ترقی صرف حکمرانوں اور حکو متوں کی پالیسوں سے ہی نہیں ہو تی بلکہ بیدار ،ذمہ دار اور سمجھدار شہریوں کی سوچوں اور عمل سے ممکن ہوتی ہے سمجھدار اور زمہ دار شہری جہاں اپنی ملکی سلامتی اور استحکام کو ملحوظ رکھتے ہیں وہاں وہ اپنے شہریوں کے تحفظ اور عزت نفس کو اس سے بھی زیادہ مقدم رکھتے ہیں اور انسانی حقوق کی پاسداری پر حکومتوں اور حکومتی اداروں سے بھی ٹکرانے سے باز نہیں آتے اور یہی جارج فلائیڈ میں ہوا آٹھ روز کے مظاہروں کے بعد حکومت کو گٹھنے ٹیکنے پڑے اور واءٹ ہاءو س کے ساتھ والی سڑک کو جارج سے منسوب کر نے کے علاوہ پولیس رولز میں تر میم کرتے ہوئے زیر حراست شحض کی گردن دبوچنے اور اس پر گھٹنارکھنے کی نہ صرف پابندی لگا دی گئی ہے بلکہ پولیس ٹریننگ کالجز میں اسے نصاب سے بھی نکال دیا گیا ہے جارج فلائیڈ مظاہروں کے بعد امریکی کریمنل جسٹس سسٹم میں اور کیا کیا تبدیلیاں آئیں گی اور زیر حراست شحض کو کون کونسی رعاءتیں ملے گی ان سب کا کریڈٹ امریکی عوام کو جاتا ہے ۔ جب میں یہاں تک پہنچا تو مجھے سانحہ ماڈل ٹاءون یا د آگیا جس میں کتنے ہی مر دو زن سفاکی اور بے دردی سے پولیس کے ہاتھوں شہید اور زخمی ہو نے باوجود آج تک انصاف کے متلاشی ہیں ۔ اگر سانحہ ماڈل ٹاءون پر ذمہ داروں کو مثالی سزائیں ملتی تو شاید سانحہ ساہیوال نہ ہو تا کہ جس کے تما م ملزمان نہ صرف آزاد بلکہ اپنی نوکریوں بھی براجمان ہیں اور اگر سانحہ ساہیوال میں ملزمان سزا یا ب ہوجاتے تو اسکے بعد سے آج تک کے ان گنت پولیس مقابلے غریب لوگوں کے گھروں میں پھوڑیاں نہ بچھا تے لیکن اس میں قصور کس کا ہے صرف ہتھ چھٹ پولیس والوں کا یا انصاف کر نے والوں کا اگر سچی بات سننا پسند کریں تو اس میں ہم سب کا قصور ہے جو ایسے واقعات دیکھ کر خاموشی میں مصلحت سمجھتے ہیں ہم امریکی عوام کی طرح اس ظلم و زیادتی کو ختم کر نے کیلئے اپنا کام گھر بار چھوڑ کر میدان میں نہیں آتے ہم داد فریاد کرنے میں بھی کنجوسی دیکھاتے ہیں ہم ایسے سانحے کو یہ سمجھ کر اپنے ہونٹ سی لیتے ہیں کہ مظلوم کونسا ہمارا رشتہ دار یا عزیز دوست تھا ہم کیونکر اداروں اور اہلکاروں سے دشمنی ڈالے اور ہماری یہی سوچ ہ میں امریکیوں سے الگ کرتی ہیں اور ہم ہر وقت یہ سوچنے میں پڑے رہتے ہیں کہ امریکیوں نے ترقی کس طرح کر لی ملکوں اور قوموں کی ترقی محض حکمرانوں اور اداروں سے نہیں بلکہ عوام کی مضبو ط سوچ اور بھر پور ایکشن سے ہوتی ہے ۔ جب عوام جاگتے ہیں تو حکمرانوں اور اداروں کو پالیسیاں بنانے اور اہلکاروں کو ان پر عمل درآمد کرتے ہوئے سو بار یاد رکھنا پڑتا ہے کہ عوام اپنے حقوق کیلئے جاگ چکے ہیں ہم نے اگر ذرہ بھر بھی عوامی مفاد کے خلاف کام کیا تو یہ بپھر کر سڑکوں پر نکل آئیں گے احتجاج کرینگے جس سے منظر اقتدار سے لیکر منظر اختیار تک بہت سی تبدیلیاں وقت سے پہلے ہو جائےں گی ۔ اور جب حکمرانوں کو جاگے ہوئے عوام کا علم ہو جائے تو راتوں رات آٹا چینی اور دیگر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے نہیں ہوتے نہ ہی نیپرا گھر بیٹھے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کر سکتا نہ ہی پٹرول سستا ہو نے پر مہنگے داموں لائنوں میں لگ کر خریدنا پڑتا ہے اور نہ ہی مصیبت زدہ بلکہ فاقہ زدہ لوگوں کے کندھوں پہ سوار ہو کر اسمبلیوں میں آنےوالے عوام دوست ممبران چند منٹوں کے اندر اپنی تنخواہوں معاوضوں اور مراعات میں اضافے کی جرات کرتے ہیں نہ ہی عوام کے ٹیکسوں پر پلنے والے افسروں و اہلکار عوام کیساتھ ظلم و زیادتی کر سکتے ہیں ۔ عوام جاگ جائےں تو عدالتیں بھی دلیری کیساتھ فیصلے کر نے میں دیر نہیں کرتی لیکن کیا کرے کہ جس ملک میں انصاف کیلئے عوام در بدر ہوں اور خواص کو گھر بیٹھے انصاف مل جائے وہاں دھونس دھاندلی ظلم و ستم لوٹ مار اور ان جیسی تمام مصیبتیں اور آفات ہم ترقی پذیر ممالک کے مجبور مقہور مظلوم محکوم عوام کا مقدر رہتی ہیں اور احتساب اور تبدیلی کے نام پر آنے والے بھی کچھ نہ کر نے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور یہی وہ نقطہ ہے کہ جس پر ہ میں سوچنا ہے کہ ہم کس طرح کسی جارج فلائیڈ کی موت پر کسی مصلحت کے تحت اپنی آنکھیں بند رکھنا ہے یا امریکی عوام کی طرح آنکھیں کھول کر انسان اور انسانیت کو بچانا ہے ۔ قانون کی بالادستی اور انصاف کی فراہمی محض عدالتوں اور قانون کی کتابوں میں لکھے ہوئے ضابطوں سے ملنا ہوتی تو ہم کب کی حاصل کر چکے ہوتے ۔ ہمارا آئین جو کچھ کہتا ہے وہ عملی طور پر جب تک نہیں ہو گا ۔ پھر معاشرہ اسی طرح کرب سے گزرے گا ۔ قانو ن کی بالادستی اور انصاف کی فراہمی کیلئے ملکی قانون کی روح کے مطابق قوانین کا نفاذ وقت کا تقاضا ہے چاہے کوئی چھوٹا ہو یا بڑا ۔