- الإعلانات -

پی ٹی ایم کی لاک ڈاوَن کے منافی سرگرمیاں

آج کل کورونا وائرس نے پاکستان میں جس طرح پنجے گاڑے ہوئے ہیں اس بنا پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس جلد ختم نہیں ہوگا ۔ نہیں معلوم کہ ہ میں اس کے ساتھ مزید کتنا عرصہ رہنا پڑے لیکن احتیاطی تدابیر اختیار کرنا اشد ضروری ہے کیونکہ ابھی تک اسکی کوئی ویکسین تیار نہیں ہوئی ہے ۔ شروع شروع میں حکومتی لاک ڈاوَن اور عوامی احتیاط کی وجہ سے اس وباء سے بچت رہی مگر جیسے ہی لاک ڈاوَن کھولا گیا اور عوام نے بھی ایس او پیز سے روگردانی کی ، تو مریضوں کی تعداد لاکھوں میں اور شہیدوں کی تعداد ہزاروں میں جا پہنچی ۔ جہاں حکومت کورونا سے بچاوَ کے طریقے بتا رہی ہے ۔ ایس او پیز بنا رہی ہے تاکہ عوام ان پر عمل کر کے موذی وباء سے بچ سکیں وہیں بعض عناصر اس وبا ء سے متعلق من گھڑت باتیں کرکے اپنی سیاست چمکا رہے ہیں ۔ وہ پاکستانی سماج میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ ان کے سیاسی ایجنڈے کو تقویت مل سکے ۔ اس ضمن میں پی ٹی ایم سب سے آگے ہے ۔ پی ٹی ایم نے بے بنیاد الزام عائد کیاہے کہ کورونا کے مریضوں کو باقاعدہ طورپر سابق فاٹا کے علاقوں میں بھیج کروائرس کو یہاں دانستہ طورپر پھیلایا گیا ہے ۔ اس سلسلے میں وہ من گھڑت دلائل اور واقعات بھی تشکیل دے رہے ہیں ۔ اول تو کورونا کے مریض پشاور یا پھر خیبرپختونخواہ کے بعض علاقوں میں اگر موجود ہیں تو ان کا وہیں علاج کیاجارہاہے ۔ ان کو سابق فاٹا کے علاقے میں بھیجنے کا کوئی جوا ز نہیں ہے ۔ کیونکہ فاٹا میں کوئی بھی ایسا جدید ہسپتال نہیں اور نہ ہی قرنطینہ مرکز ہے جہاں ان مریضوں کو رکھا جائے ۔ پی ٹی ایم اس قسم کے لغوبیانات دے کرہمیشہ کی طرح اپنے منفی ذہنیت کی عکاسی کررہی ہے ۔ اس کے بیشتر ارکان بھارت اورافغانستان میں موجود پاکستان دشمن عناصر کے ساتھ ملے ہوئے ہیں ۔ را سے فنڈنگ کا ثبوت بھی مل چکا ہے ۔ یہ اراکین بیرونی عناصر کے اشاروں پر کچھ بھی کر سکتے ہیں ۔ ابھی کچھ عرصہ قبل ہی پی ٹی ایم کے اراکین قومی اسمبلی افغان صدر کی تقریب حلف برداری میں گئے جہاں ان کا سرکاری طورپر استقبال ہوا ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی ایم کو افغان حکومت اور بھارت کی پشت پناہی حاصل ہے ۔ پی ٹی ایم لسانی بنیادوں پرمنافرت پھیلا رہی ہے ۔ اس کی قیادت پاکستان کے خلاف بیان بازی کر کے غداری کی مرتکب ٹھہری ۔ پی ٹی ایم اراکین کا صرف ایک ہی کام ہے کہ کس طرح پاکستان کو بدنام کرکے عوام کے درمیان انتشار پیدا کیاجائے اور قومی سلامتی اور یکجہتی کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہچانے کی مذموم کوشش کی جائے ۔ قیام پاکستان کے وقت ایسے ہی کچھ لوگوں نے پختونستان کا نعرہ لگا کر پاکستان کو توڑا چاہا تھا مگر خان عبدالقیوم خان اور سردار عبدالرب نشترکی قیادت میں ہونے والے ریفرنڈم میں ان عناصر کو شکست فاش ہوئی ۔ پی ٹی ایم بھی ایسی ہی ایک جماعت ہے جس میں قیام پاکستان کے وقت کی غدار نسلیں موجود ہیں ۔ یہ لوگ پاکستان کے خلاف گمراہ کن بیانات دے کرنوجوان نسل کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ پشتون تحفظ موومنٹ نے اپنے قیام کے وقت سے ہی الزام تراشی کا سلسلہ شروع کردیا جس میں انہوں نے ان تمام اداروں کو براہ راست نشانہ بنایا اور ابھی تک بنا بھی رہے ہیں جو فاٹا کے عوا م کے حق میں بہتری کیلئے کام کررہے ہیں ۔ پشتون تحفظ موومنٹ کو بھارتی، امر یکی و افغان میڈیاسمیت سوشل میڈیا پر بھی حمایت حاصل ہے ۔ ان تنظیم کی آڑ میں کئی تنگ نظر دیسی لبرل اپنے مقاصد اور ایجنڈا دوسروں تک پہنچا رہے ہیں ۔ پشتون بیلٹ کے کچھ اور ملک دشمن عناصر نے بھی پشتون تحفظ موومنٹ کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے اپنے پاکستان مخالف ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانا شروع کردیا ہے ۔ اس تنظیم کے سرکردہ رہنماؤں کو افغان صدر، پارلیمنٹیرین اور خفیہ ایجنسیوں کی بھی حمایت حاصل ہے ۔ دوسری طرف تحریک طالبان جنوبی وزیرستان کے ترجمان عظمت محسود نے بھی پشتون تحفظ موومنٹ کی حمایت کا علان کر تے ہوئے انہیں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرادی ہے ۔ ان سب باتوں کومدنظر رکھتے ہوئے یہ چیز بالکل واضح ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ پشتونوں کے حقو ق کیلئے لڑنے والی تنظیم نہیں بلکہ ایک ملک دشمن ایجنڈے پر چلنے والاپاکستان مخالف گروہ ہے ۔ ہمارے دشمن تو چاہتے ہیں اور اسی کوشش میں ہیں کہ پاکستان کے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پاک فوج اور حکومتی اداروں کے خلاف کیا جائے بلکہ ہوسکے تو لوگوں میں فوج سے ٹکراوَ کی کیفیت پیدا کی جائے ۔ افغانستان چاہتا ہے کہ افغان سرحد پر تعمیر ہونے والی باڑ کو ہر صورت روکا جائے ۔ تاکہ دہشت گردوں کو با آسانی پاکستان میں داخل کیا جا سکے ۔ افغانیوں کی واپسی کا عمل روکا جائے ۔ افغانیوں کی بھیس میں دہشت گردی کی جائے ۔ سرحدی علاقوں میں فوجی چیک پوسٹوں کی تعداد کم یا ختم کی جائے تاکہ دہشت گردوں اور جاسوسوں کے لیے نقل و حرکت میں آسانی ہو ۔ تحریک طالبان پاکستان کے احسان اللہ احسان کو سزا جبکہ کل بھوشن کو رہا کرایا جائے ۔ کیونکہ دونوں بھارت اور افغانستان کے پول کھول رہے ہیں ۔ دشمن کا مقصد ہے کہ پاک فوج کا مورال گرانے کے لیے ان کے خلاف مختلف طرح کی قانونی کاروائیاں کی جائیں ۔ اگر یہ سب ہو تو پاکستان میں ہاری ہوئی پراکسی کو دوبارہ جیتا جا سکتا ہے ۔ جہاں تک فاٹا کا تعلق ہے تو فاٹا اور سرحدی علاقوں کے لوگوں نے گزشتہ 15 سال سے جنگ دیکھی ہے وہ لوگ دکھی ہیں اور اس جنگ سے ان کے اپنے متاثر ہوئے ہیں ۔ اب فاٹا کا الحاق کے پی کے سے ہوا ہے تو فاٹا ترقی کی راہ پر گامزن ہو گیا ہے ۔ یہاں خوشحالی آرہی ہے ۔ سڑکوں ، سکولوں اور ہسپتالوں کا جال بچھانے کا پروگرام طے ہو رہا ہے ۔ ایسے وقت میں عوام کی قربانیوں کو صوبایت اورلسانیت کارنگ دے کر ان کے جذبہ حب الوطنی کو مشکوک بنانے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے ۔ کورونا سے متعلق بیان دے کر پی ٹی ایم کی پاکستان دشمن ذہنیت کی عکاسی ہوتی ہے ۔ اب اس بات میں بھی کوئی شک نہیں رہا کہ پی ٹی ایم غیر ملکی ایجنسیوں کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے ۔ اس کی حرکات، نظریات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ پی ٹی ایم اپنے لئے نہیں بلکہ افغانستان کےلئے پالیسی چلا رہی ہے اور اسی کی آڑ میں پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے ۔ اس لئے ہ میں پی ٹی ایم کا مکروہ چہرہ صاف نظر آ رہا ہے ۔